اب تو ججز بھی۔۔۔۔

اب افواج پاکستان کی پاکستان کے بیشمار اداروں میں مداخلت کوئی ایسی بات نہیں رہ گئی ہے جو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو یا پوشیدہ رکھنے کی کوئی کوشش سچ سمجھی جائے۔ سیاست ہو یا عدالت، کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نظر نہیں آرہا جس کو کسی بھی قسم کی مداخلت سے آزاد خیال کیا جائے۔ پہلے تو دبے دبے یا واشگاف الفاظ میں سیاستدان ہی اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے جس کو سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کر بھی دیا جاتا تھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ویب کی سماجی سائیڈ، کچھ اخبارات کے ایڈیٹوریل پیج، کچھ تجزیہ نگار، کچھ مبصر حضرات، کچھ اینکرز یا بین الاقوامی میڈیا ہی مداخلت کی شکایاتٓ کرتے نظر آتے تھے لیکن اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عدالتیں اور عدالتوں کے ججز بھی کھل کر اس بات کو کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کو دباؤ میں لیا جاتا ہے۔ دباؤ کے تحت اپنی مرضی کے “بینچ” بنوائے جاتے ہیں۔ جب بینچ میں بھی پسند اور ناپسند کے معاملات اٹھائے جاتے ہوں اور عدالتوں سے بصد اصرار ایسا کرنے کو کہا جاتا ہو تو یہ کیونکر ممکن نہیں کہ فیصلے بھی اپنی ہی مرضی کے کئے جانے پر زور دیا جاتا ہو۔ ماضی خود اس بات کا گواہ ہے کہ مارشل لاؤں کے دوران بھی عدالتوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی نہ صرف کوشش کی گئی بلکہ سزائے موت جیسے فیصلے تک دباؤ کے تحت ہی کروائے گئے جس کے بڑے بڑے ثبوت بھٹو کی پھانسی اور عدالتوں کے خلاف پرویز مشرف کے دور میں وہ ریفرنس ہے جس کے نتیجے میں پوری عدالت ہی کو اسمبلیوں کی طرح توڑ دیا گیا تھا۔

حال ہی میں اگر ججوں کے سارے فیصلے اور ریمارکس غلط نہیں تو پھر اس بات کو بھی سچ ماننا ہوگا کہ ہماری عدالتیں سخت دباؤ اور خوف کی فضا میں کام کررہی ہیں۔ جب ججوں کو دھمکی آمیز فون آتے ہوں اور ان کے فون ٹیپ ہوتے ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آزادانہ فضا میں فیصلے سنا سکیں۔ یہ بات ہوائی نہیں اور نہ میں اپنی جانب سے کہہ رہا ہوں۔ ” اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے لوگوں کو دیگرا داروں میں مداخلت سے روکیں۔ بدھ کو لاپتا افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کھلی عدالت میں آرمی چیف سے کہا کہ عدلیہ میں ججوں کو اپروچ کیاجارہا ہے، ججوں کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں ۔جسٹس شوکت صدیقی نے حساس ادارے کے افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں، کالے کرتوت سامنے آنے چاہئیں، آرمی چیف کو پتا ہونا چاہیے کہ ان کے لوگ کیا رہے ہیں”۔

عدلیہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کی حتی الامکان اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ اداروں میں ٹکراؤ نہ ہو اور ماضی بھی اس بات کا گواہ ہے کہ عدلیہ کبھی ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں رہی۔ اس نے اصول و قوائد سے ہٹ کر بھی چاہا ہے کہ وہ حکومتی امور میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ اگر ہوئی کورٹ کے اسلام آباد کے جج بھی اب ایسا کہہ رہے ہیں تو یقیناً اس میں بھی ٹکراؤ والی بات نہیں ہوگی بلکہ وہ یقیناً اس حد تک مجبور ہو چکے ہونگے کہ ان کے لئے اس قسم کی ساری باتیں آرمی چیف کے علم میں لانا اور اس قسم کے منفی رجحانات کا حل نکالنا ضروری ہو گیا ہوگا۔ جب معاملات اس حد تک آجائیں کہ ان کو اپنی جان و مال اور عزت آبرو بچانے کیلئے اداروں کئ ذمہ داروں کی ہر جائز و ناجائز بات پر “یس سر” کہنا ضروری ہو جائے اور بصورت دیگر وہ خطرات کا شکار ہو جائیں تو ہم اس کو مجبوری کی آخری حد خیال نہ کریں تو پھر کیا کریں؟۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی مزید جو بات بیان کر رہے ہیں وہ تو اتنی سنگین ہے جس کو ایک جج کے منھ سے سن کر خوف و دہشت کی ایک سرد لہر جسم و جان میں دوڑ جاتی ہے۔ وہ فرمارہے ہیں ” شہریوں،بزنس مین اور بااثر افراد کو اسلام آباد سے اٹھانا معمول بن گیا ہے، حساس ادارے اپنی آئینی ذمے داری کو سمجھیں۔ عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں مداخلت روکی جائے”۔ یہ بات جسٹس شوکت عزیز کوئی تبصراتاً نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ باقائدہ تحریری حکم دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ “حساس ادارے ملک کے دفاع اور سیکورٹی پر توجہ دیں، ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے، اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کے لیے تباہ کن ہو گا، آرمی چیف اس خطرناک صورتحال کو سمجھیں، آپ کے لوگ بھتے وصول کر رہے ہیں، پولیس والے ایجنسیوں کے آگے بے بس ہیں، خدا کے لیے ملک پر رحم کریں، اپنے آپ کو عقل کل مت سمجھیں، عقل کل سے قبرستان بھرے ہیں”۔

اس تحریری حکم میں دو باتیں کوئی ایسی نہیں جو محض سنگین الزامات ہی ہونگی۔ کوئی جج سیاستدانوں کے سے انداز میں صرف قیاس اور قیاف کی بنیاد پر اتنی بڑی بڑی باتیں نہیں کہہ سکتا یقیناً اس کے پیچھے بہت کھلے کھلے ثبوت و شواہد ہونگے جو ایسا تحریری حکم جاری کرنے کا سبب ہونگے۔ “بھتے” کا الزام اور وہ بھی افواج پاکستان کے کسی ادارے پر “ہوا” میں نہیں چلادیا ہوگا اور نہ ہی یہ کہنا کہ “ریاست کے اندر ریاست” کا تصور ختم کیا جائے، کسی بچے اور غیر سنجیدہ فرد کی بات نہیں۔ پھر ایسا سب کچھ زبانی حکم بھی نہیں تحریری ہے تو اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ اس حکم کو جسٹس شوکت صدیقی نے جاری کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس عدالتی حکم کی کاپی آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی،سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو پہنچانے کا حکم بھی دیا ہے۔عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی انوسٹی گیشن زبیر شیخ پر اظہار برہمی کیا۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ جو افسر سچ نہ بول سکے اور خوف و مصلحت کا شکار ہو اسے پولیس میں نہیں ہونا چاہیے”۔ کیا یہ اس بات کا اظہار نہیں ہے کہ پاکستان کے ہر ادارے کو ٹیک اور کر لیا گیا ہے اور وہ ہر حکم کو ماننے پر مجبور ہیں۔ جب صورت حال یہ ہو کہ ہر فرد اور ادارہ دباؤ کا شکار ہو تو ملک کا کاروبار کس طرح چل سکے گا۔

حکومت اور حساس اداروں کے متعلق اس قسم کی باتیں اتنی زباں زد عام ہو چکی ہیں کہ اب شاید ہی کوئی قابل ذکر رہنما، پارٹی۔ سماجی ویب سائیڈیں یا بین الاقوامی میڈیا ایسا ہو جو اس بات کو ببانگ دہل نہ کہہ رہا ہو کہ اب مداخلتی عمل یا غیر جانب داری کے سلسلے کو بند کیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی “سراج الحق نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کا تاثر ہے کہ حکومت ایک پارٹی کی سرپرستی کر رہی ہے جس سے انتخابات کو متنازع بنایا جارہا ہے، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو غیر جانبداراور شفاف بنائے، اگرعوام کا الیکشن پر اعتماد نہ رہا تو ملک میں انتشار اور انارکی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا”۔ ٹھیک یہی بات متعدد بار ریٹائرڈ چیف جسٹس جناب وجیہہ الدین صاحب ایک تسلسل سے اپنے ٹوئیٹ میں کہتے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ جسٹس ہیں جنھوں نے پرویز مشرف کے “پی سی او” کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا۔ ایک ایسا شخص جو حق و صداقت کی بات پر ایک شاندار ملازمت کے سکوں کے عوض اپنی شرافت اور ضمیر کا سودا کرنے پر رضامند نہیں ہوا تو پھر بھی اس کی باتوں کی حقانیت پر شبہ کیا جائے، کم ظرفی ہی ہو سکتی ہے اس لئے جو لوگ انکے بیان کو “پارٹی” خیال کریں اس پر اظہار افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

آرمی چیف قمر باجوہ صاحب سے گزارش ہے کہ بمطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے تحریری حکم، “ادارہ اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھے”، بہت سنجیدہ بات ہے۔ اسلام بھی شورائیت کا قائل ہے۔ شعور و عقل رکھنے والے بہت سارے افراد مل کر جو فیصلہ کرتے ہیں اس می غلطی کا ابہام کم سے کم ہوتا ہے۔ مشورہ تو انبیائے کرام نے بھی کیا ہے۔ یہ ان کی سنت رہی ہے۔ عقل کل کی وجہ سے پاکستان یہاں تک پہنچ چکا ہے ہے کہ کوئی فرد بھی اس کے مستقبل کی جانب سے مطمئن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ عقل کل عسکری قوتوں کی رہی ہو یا وائیٹ کالر والوں کی، ان سب کی انا نے پاکستان کی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں۔ پاکستان بہت مشکلوں کے بعد جمہوری راستوں پر گامزن ہوا ہے لیکن دنیا کی آپ (افواج پاکستان) کی جانب سےاب بھی تشکیک کا شکار نظر آتی ہے جس کی وجہ پاکستان کے سارے اداروں میں مداخلتیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب بہت ہوچکا ہے۔ اب تو عدالت تک اس بات پر مجبور ہو گئی ہے کہ وہ آپ کو مداخلت روکنے کا حکم دے رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عدالت نے ہوشیار کیا ہے کہ ایسا طرز عمل پاکستان کو تباہی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ عدالت کے بعد اب کون سا ایسا ادارہ ہوگا جو آپ کو آگاہ کر سکے اس لئے عدالت کے اس حکم کو سنجیدگی سے لیں اور جائزہ لیں کہ آپ کے ادارے میں کون ایسے لوگ ہیں جو آپ سے دوقدم آگے چلنے کی جرات رکھتے ہیں۔ جو عام انسان تو عام انسان، عدلتوں کے ججوں کو ڈرا دھمکا سکتے ہوں، ان کے فون ٹیپ کرتے ہوں، ان پر دباؤ ڈالتے ہوں، فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہوں اور اپنی مرضی کے بینچ تشکیل دینے پر زور ڈالتے ہوں۔ اگر عدالت کے تحریری حکم کے باوجود بھی اس پر “غور” ہوتا نظر نہ آیا تو پھر لوگ اس بات پر شک کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ آرمی کے تحت آنے والے سب کے سب ادارے “اپنے اپنے” دائروں میں خود مختار ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ “پابند” بھی “آزادی” کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here