لگتا ہے پی ٹی آئی کی جیت معلق ہوگئی۔ جس پارٹی کی نشستیں 131 تک پہنچ گئی تھیں اس کا پیہ ایسا الٹا گھوما کہ 115 پر آگیا۔ ابھی قومی اسمبلی کی مزید دس بارہ سیٹوں کی دوبارہ کنتی ہونی ہے۔ اس گنتی کا کیا انجام ہوگا، اس کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔ امکانات سارے موجود ہیں، پی ٹی آئی کی نشستوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، کم ہو سکتی ہے اور برقرار بھی رہ سکتی ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے حلقے دوبارہ کھولنے کی درخواستیں دو طرفہ ہیں۔ پی ٹی آئی مخالف ساری جماعتوں نے یا الفاظ دیگرالیکشن میں ہزیمت اٹھانے والی ہر جماعت نے الیکشن کے نتائج مسترد کرتے ہوئے ان الیکشن میں زبردست دھاندلی کی شکایت کی ہے بلکہ بعض نے اسے دھاندلا بھی کہا ہے۔ غیر ملکی مبصرین نے بھی کھل کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ الیکشن کہیں سے کہیں تک بھی صاف اور شفاف نہیں تھے۔ صرف پی ٹی آئی ایسی جماعت تھی جس نے دعوے کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ 2018 کے الیکشن نہایت منصفانہ، غیرجانبدارانہ، آزادانہ اور شفاف ہوئے ہیں۔ یہاں لطف کی بات یہ ہے کہ حلقے کھلوانے کی درخواستیں اس کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کو موصول ہوئیں ہیں۔ اس لئے پی ٹی آئی کی جانب سے حلقے دوبارہ کھولے جانے کی درخواستیں اس بات کا اظہار ضرور ہیں کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ پی ٹی آئی بھی الیشن کی جانب سے عدم اعتماد میں شامل ہوگئ اور یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن 2018 پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نےخدشات کا اظہار کر دیا ہے۔
دھاندلی کی جہاں تک بات ہے وہ بھی اب اتنی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ جو جو حلقے بھی اب تک کھل چکے ہیں ان میں اکثر مقامات سے ہارنے والوں کی جیت سامنے آرہی ہے اور نتائج زیادہ تر پی ٹی آئی کے خلاف جا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کا آسمان کی جانب جانے والا تیر نیچے کی جانب لوٹنا شروع ہو گیا ہے۔ اب جبکہ باقی جن 27 قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کو دوبارہ کھولنے کی منظوری ہو چکی ہے اور جن میں قومی اسمبلی کے دس سے زیادہ حلقے شامل ہیں ان کا نتیجہ کیا آنا ہے۔ 27 حلقوں کا تو حکم دیا جاچکا ہے لیکن ابھی اور بہت ساری درخواستیں ایسی ہیں جن پر حکم سنایاجانا باقی ہے۔ یہ سب مسائل اور حلقوں کے دوبارہ کھولنے کی باتیں اپنی جگہ، اگر موجودہ صورت حال کو بھی سامنے رکھا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ پی ٹی آئی کی نشستوں کی تعداد 115 ہی ہے تو بھی اس میں سے بھی کم از کم 7 یا 8 نشستیں وہ ہیں جن کو ایک سے زائد نشتوں پر کامیاب ہوجانے کی صورت میں پی ٹی آئی کو چھوڑنا پڑے گا جن میں خود عمران خان کی 4 نشستیں شامل ہیں۔ گویا تعداد رہ جائے گی 108۔ اس میں بھی ابہام یوں ہے کہ عمران خان پرویز خٹک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھیں اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے دستبردار ہوجائیں۔ اس صورت میں ہوگا یہ کہ پرویز خٹک کے پی کے کی وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر آجائیں گے جس کے متعلق آخری اطلاع یہی ہے کہ پرویز خٹک اس دوڑ میں شامل رہنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ ایک قومی اسمبلی کی نشست اور کم ہو جائے اور یوں تعداد 107 ہی رہ جائے۔ یہ وہ تعداد ہو جائے گی جو مسلم لیگ ن کی 64 سیٹوں اور پی پی پی کی 43 سیٹوں کی تعداد کے برابر ہے۔ اب جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ یہ دو پارٹیاں تو وہ ہیں جنھوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ اپوزیشن کی نشستوں پر ہی بیٹھنا پسند کریں گی اور کسی صورت حکومت کا حصہ نہیں بنیں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوتی لیکن آج تک کی جو صورت حال ہے وہ یوں ہے کہ ایک مصدقہ ذرائع کے مطابق “پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے‘ وزیر اعظم‘ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار لایا جائے گا۔ایم کیو ایم اور بلوچستان کی جماعتوں کو گرینڈ الائنس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔پیر کو اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف، ایاز صادق، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، مشاہد حسین سید، عبدالقادر بلوچ، شاہد خاقان عباسی اور دیگر(ن)لیگی رہنماشریک ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت خورشید شاہ نے کی جس میں شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، راجا پرویزاشرف اور یوسف رضا گیلانی شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمن ، مولانا انس نورانی ،غلام بلوراور میاں افتخار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اندر اور باہر سخت احتجاج کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے جب کہ آج آل پارٹیز کانفرنس طلب کرکے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن پارلیمنٹ میں جانے پر رضا مند ہوگئے ہیں، ان کے اصرار پر حکومتی نمبر گیم کو آن رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے”
جیسا کہ میں نے کہا کہ سیاست میں کوئی حرف بھی حرف آخر نہیں ہوتا لہٰذا ضروری نہیں کہ جن جن رہنماؤں نے جو جو عہد و پیمان باندھے ہیں وہ ان پر قائم رہیں لیکن صورت حال کچھ یوں ہے کہ اب تک کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کس کے پاس اتنی واضح تعداد میں ممبران موجود ہیں جو سادہ اکثریت کے ساتھ ہی سہی، حکومت بنا سکیں۔ اب جبکہ گرینڈ الائنس (پی پی پی اور مسلم لیگ ن) اور پی ٹی آئی کی نشستیں برابر ہیں تو جس طرح پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ تمام 12 کے 12 آزاد امیدوار ان کے ساتھ ہیں تو پھر 12 ہی ارکان ایم ایم اے کے ہیں جو بظاہر گرینڈ الائنس کے ساتھ ہیں۔ یہاں پھر ایک بار دونوں کی تعداد برابر ہوتی نظر آتی ہے۔ اس موقعہ پر دیگر منی منی جماعتوں اور حد ہے کہ وہ جماعتیں جن کے حصے میں صرف ایک ہی سیٹ ہے وہ بھی سو سو سیٹوں جیسی لگنے لگی ہیں۔ اب بہت ہی اہم مقام پر ایم کیو ایم ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی پارٹی یا الائنس اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتا ہے۔ اب تک کی صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو ایسا ہی نظر آتا ہے کہ ایم کیو ایم وفاق میں جانا چاہتی ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کیا یہ صورت حال پی ٹی آئی کے حق میں جائے گی یا اسے ایم کیو ایم کو وفاق میں شامل کرنے کی کوئی بھاری قیمت ادا کرنی پڑجائے گی؟۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پی ٹی آئی نے کراچی میں جو میدان مارا ہے اس کی بنیادی وجہ ایم کیو ایم مخالف ووٹ ہے جو پی ٹی آئی کو ملا ہے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میئر شپ فی الحال ایم کیو ایم ہی کے پاس ہے جس کے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ اس میں کتنی بڑی تعداد لندن سے وابستہ ہو اور اس نے چپ سادھ رکھی ہو۔ ایم کیو ایم کی شمولیت کوئی غیر مشروط تو نہیں ہوگی۔ رسی جل بھی جائے تو اس کے بل کہاں نکلا کرتے ہیں۔ ماضی میں وہ سخت بارگینر رہے ہیں اور موجودہ حالات تو ان کیلئے گزشتہ ادوار سے کہیں زیادہ زرخیز ہیں۔ اس زرخیزی میں میئر شپ کا ان کے پاس ہونا اور بھی سونے پر سہاگہ ہے۔ اب پی ٹی آئی کیلئے خطرہ یہ ہے کہ ان کے 14 ارکان ایم کیو ایم کے 6 ارکان کے سامنے صفر ہوکر رہ جائیں گے اور میئر شپ کی وجہ سے ہر اچھے کام کا کریڈٹ ایم کیو ایم کے حصے میں آجانے کا احتمال تو بہر صورت موجود ہی رہے گا اس لئے پی ٹی آئی (کراچی) اس گٹھ جوڑ کے حق میں نہیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم کی شرائط پر اگر حکومت کا حصہ نہیں بھی بنایا گیا تب بھی اس کو کوئی نقصان نہیں اس لئے کہ وفاق میں حکومت بنانے میں پی ٹی آئی اگر کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو وہ ایک نہایت کمزور حکومت ہوگی جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی ایسی نہیں ہوسکے گی جس کی توقع قوم اس سے باندھے ہوئے ہے۔
حکومت بنانا اور حکومت کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بظاہر تو مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت بنتی نظر آرہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت پائیدار نہیں ہوگی۔ ایک ایسی حکومت جس کو سادہ سی اکثریت حاصل ہو، وہ اپنے فیصلوں کو اسمبلی سے کیسے منواسکے گی۔ قانون سازی یا بلوں کی منظوری کے لئے ارکان کی جو تعداد درکار ہوتی ہے اس کو کہاں سے پورا کرے گی۔ اگر ایسا ہوبھی جائے تو ایوان بالا (سینٹ) میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ ن اس کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی ہونگی اور اس طرح جس انداز میں پی ٹی آئی سب کچھ کرنا چاہ رہی ہے، امکان اسی بات کا ہے کہ وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا جو قوم کیلئے ایک بہت بڑے صدمے کی بات ہوگی۔
ایک مرحلہ ان سیٹوں کا بھی ہوگا جن کو خالی کئے جانے کے بعد ان پر دوبارہ الیکشن ہونا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ وہ سب سیٹیں پی ٹی آئی کو واپس ہی مل جائیں؟۔ گرینڈ الائنس کے سلسلے میں جو اجلاس طلب کیا گیا تھا اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ جے یو آئی کی شوریٰ نے تجویز پیش کی ہے کہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر پی پی اور مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں سے بات کر لی جائے اور متفقہ امیدوار کھڑا کیا جائے۔ اگر گرینڈ الائنس میں پیش کی جانے والی اس تجویز پر اتفاق ہوگیا تو خالی سیٹوں کا 100 فیصد نتیجہ پہلے والے نتیجے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہوگی جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ حکومت ہی خطرے میں پڑجائے۔
ہر منتخب حکومت کو ہمیشہ ایک مسئلہ ضرور درپیش رہتا ہے اور وہ مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی تحریکوں اور دھرنوں کے سلسلوں کا ہوتا ہے۔ لہٰذا اپوزیشن کی جانب سے ایسا کچھ کرنے کا اشارہ دیا جاچکا ہے۔ گرینڈ الائنس کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن ایک وائٹ پیپر بھی جاری کرے گی۔ ،پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ 2018ء الیکشن دھاندلی زدہ تھے، ایسے الیکشن تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ مشاورتی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کے لیے حکمت عملی بنائیں گے، مشترکہ حکمت عملی مل کر طے کریں گے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا پر سنسر شپ لگانے سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہورہی ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ریاستی اداروں نے الیکشن میں منفی کردار ادا کیا، ہم تمام امور کا جائزہ لیں گے اور تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کریں گے۔
جہاں تک میڈیا پر سنسر شپ کی بات ہے وہ بہت غلط بھی نہیں۔ 2018 کے الیکشن میں جس قسم کا کردار پاکستان کے ہر قسم کے میڈیا نے ادا کیا وہ واقعی لائق مذمت ہے۔ میڈیا سے زیادہ، اس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد جن کو صحافی کہا جاتا ہے وہ صحافت کے پاکیزہ اصولوں کو چھوڑ کر “پارٹی” بنے رہے جس کا سلسلہ تاحال بر قرار ہے۔ اب لوگ حیران ہیں کہ نئی حکومت کے وجودمیں آنے کے بعد “سرکاری ٹی وی” پاکستان ٹیلیوژن ہی ہوگا یا پرائیویٹ چینلز۔
الیکشن کے نتائج کے بعد کی صورت حال پورے پاکستان میں بہت اچھی نہیں لیکن کوئی ٹی وی چینل ایسا نہیں نظر آرہا جو آزادانہ کوریج کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احتجاجیوں کو بھی دکھائے جو کئی شہروں میں آگ لگائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن کا چینلوں کے رویوں کے خلاف بولنا ان کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اس ساری صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا حکومت بن تو جائے گی لیکن اس کا چلنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ اول تو نمبر گیم کا پورا ہونا ہی سوہان روح ہے۔ پھر کیا ضروری ہے کہ درمیان میں پارٹیوں کے رویے بدل جائیں، کوئی عدم اعتماد کی تحریک چل پڑے یا شامل ہونے والوں کی نیت اور مفادات بدلنے لگیں۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کندھا دینے والوں کی بھی کوئی کہانی ہوتی ہے۔ اس کہانی کی تکمیل کیلئے بھی ایک مستحکم حکومت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ موجودہ نتائج سہارا دینے والوں کے لئے بہت خوش کن بھی نہیں رہے ہونگے اس لئے ممکن ہے کہ ملک “مِڈ” آنے سے بھی کہیں پہلے “مِڈ ٹرم” کی جانب گامزن ہو جائے۔ مفادات کا کچھ پتنہ نہیں ہوتا کہ کب کس کے کس سے وابستہ ہوجائیں۔ اس لئے عمران خان کو بھی چاہیے کہ غیر جمہوری ہتھ کنڈے اختیار کرنے کی بجائے اصولی طریقوں پر عمل پیرا رہیں ورنہ جس تیزی کے ساتھ وہ طلوع ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ وہ غروب بھی ہو سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے سیدھے طریقے سے اگر اقتدار مل سکتا ہے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ الیکشن میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سب جمہوریت کا حصہ ہیں لہٰذا غلط روش سے جس حد تک بھی ہو اجتناب بہتر ہے۔
