تحقیق سے دوری

            تحقیق وہ بہتا پانی ہے جو اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ بہتا رہے تو پاک بھی رہتا ہے اور صاف بھی لیکن اگر اس کا بہاو تھم جائے اور ایک تالاب کی صورت اختیار کر لے تو وہ آہستہ آہستہ پہلے اپنا رنگ بدلتا ہے، پھر ذائقہ تبدیل کرتا ہے اور سب سے آخر میں وہ بد بودار غلیظ جوہڑ میں تبدیل ہوجاتا ہے

            جو قومیں تحقیق کے عمل کو جاری و ساری رکھتی ہیں وہ آگے کی جانب محو سفر رہتی ہیں اور جو اس سے منہہ موڑ لیتی ہےں وہ پہلے تو وہیں کی وہیں کھڑی رہ جاتی ہےں، پھر ان کی واپسی کا سفر شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت وہ آتا ہے کہ وہ ایک نہایت بد بو دار سڑے ہوئے غلیظ جوہڑ کی مانند خود اپنے لئے اور دنیا کے کے لئے وبال جان بن جاتی ہیں

ایک زمانہ تھا کہ مسلمان اس کرہ عرض کے ایک بہت بڑے خطہ کے واحد حکمران تھے۔ جن خطوں پر ان کی حکومت نہیں بھی تھی وہاں کے حکمران ذہنی طور پر مسلمانوں کو ہی اپنا فرما روا مانا کرتے تھے اور ان کے جاری کردہ احکامات کو “فرمان واجب الادعان” (ایسا حکم جس کی تعمیل ضروری ہو) ہی کی طرح ماننے پر مجبور تھے۔

            ان سب باتوں کے پیچھے ان کا صرف جذبہ جہاد ہی کارفرما نہیں تھا بلکہ وہ منصفانہ طرز حکومت، اخلاق کا اعلیٰ معیار، جذبہ ایثارو قربانی، ملنساری، خلوص، سچائی، امانت اور دیانتداری اور ہرفرد کا مکمل طریقے سے قرآن کے احکامات میں ڈھلاہوا ہونا تھا، ایک ایک فرد کا خود قرآن بن جانا تھا، لوگ انھیں چلتا پھرتا قرآن کہتے اور سمجھتے تھے

            ایک قوم کا ایک دوسرے پر حکومت کرنا کوئی انہونی بات نہیں، تاریخ انسانیت اس قسم کی شکست و فتح سے بھری پڑی ہے لیکن جب جب بھی کسی قوم کو کسی دوسری قوم سے نجات ملی ہے وہ پھر سے اپنی تہذیب، اپنے مذہب اور اپنے رسوم و رواج میں واپس لوٹتی نظر آئی ہے پھر آخر اسلام اور مسلمان حکمرانی میں وہ کونسے اوصاف تھے جن کے سبب وہ جہاں جہاں بھی حکمران بنے وہاں کی پوری کی پوری آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی اور اس طرح مسلمان ہوئی کہ اسلامی حکومت اور پھر بعد میں حکومتوں کے زوال در زوال کے باوجود وہ مسلمان جو “کافرستان” کے درمیان محصور ہو کر رہ گئے وہ کسی طور اسلام سے ارتداد کی جانب نہیں گئے بلکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں، تاحال اسلام کی بڑھوتری کی جانب گامزن ہیں انحطاط کی جانب نہیں

            مسلمانوں کی اس کامیابی میں صرف یہی کافی نہیں تھا کہ وہ بہت با اخلاق، سچے، ملنسار، مخلص، چلتے پھرتے قرآن اور نیک شریف ہوں، اتنی بڑی آبادی اور خطے پر حکومت کرنے کے لئے ہر شعبہ زندگی میں ترقی کرنا اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری تھا چنانچہ وہ شعبہ زراعت کا ہو، تجارت کا ہو، لوگوں کی فلاح و بہبود کا ہو، تعلیم کا ہو، طب کا ہو، اسلحہ سازی کا ہو، جدید سے جدید علوم کا ہو، غرض جتنے بھی ایسے علوم اور نظام ہائے زندگی جس کے بغیر کسی بھی قوم و ملک کے لئے ترقی کرنا ممکن نہیں ہو ان سب پر روزوشب کام اور تحقیق ہی ایک واحد راستہ ہوتا ہے جس پر مسلمان ایک دو صدی نہیں ہزار صدی سے بھی زیادہ عمل پیرا رہے اور اقوام عالم پر حکومت کرتے رہے

            آج کی جدید دنیا جس بنیاد پر اس کرہ عرض سے نکل کر چاند ستاروں کی جانب پرِ پرواز تول رہی ہے یہ سب بنیادیں مسلمان محققین ہی کی کھڑی کی ہوئی ہیں، ان میں سے کوئی ایک ایجاد بھی ایسی نہیں جس کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں نے ستادہ نہ کی ہوں

            مسلمان تحقیق سے دور ہوتے چلے گئے، ہوس ملک گیری کا شکار ہوتے چلے گئے، اس ہوس نے اسلامی ممالک کی ضروریات اس قدر بڑھادیں کہ وہ دوسری سرزمینوں کو اپنی سلطنتوں میں شامل کرنے پر مجبور ہوتے چلے گئے، فتوحات تو ان کے حصے میں آتی چلی گئیں لیکن وہ ہر آنے والے دنوں میں معاشی اور اخلاقی اعتبار سے زوال پذیر ہوتے چلے گئے، تحقیق کا کام منجمد ہوتا چلا گیا اور ایک وقت وہ آیا جب معاشی اور اخلاقی بد حالی کی وجہ سے آپس میں ہی شدید اختلافات کا شکار ہوگئے اور پھر یہ اختلافات اس درجہ بڑھ گئے کہ اسلامی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہو گئے اور اس طرح وہ ”گِدھ“ جو ایک عرصہ دراز سے اس صورت حال کا انتظار کر رہے تھے وہ ان پرایسے ٹوٹے کہ آج تک سر اٹھانے کا موقعہ دینے کے لئے تیار نہیں

            مسلمانوں کی تحقیق رک جانے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ دیکھنا شروع کر دیا کہ “کون” کہہ رہا ہے اور اس بات سے نظر پھیر لی کہ “کیا کہہ رہاہے” جس قوم، فرقے ، جماعت یا گروہ میں یہ برائی سرائیت کر جاتی ہے اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے، تحقیق کا عمل رک جاتا ہے، وسعت نظری تنگ نظری میں تبدیل ہوجاتی ہے، محبت کی فضا نفرتوں میں بدلنے لگتی ہے، قربتیں دوریوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور گروہ، جماعتیں، قومیں اور ممالک تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں دور نہیں جاتے ایمانداری سے بتائیں، کیا ہم فیس بک میں ان سب باتوں کو نظروں کے سامنے نہیں رکھتے کہ کس کو پڑھنا ہے، کس کو شیئر کرنا ہے کس کو لائیک کرنا ہے اور کس پر تبصرہ کرنا ہے؟

            جب علم کو محدود کر کے “تالاب” بنالیں گے تو وہ خود بخود “جوہڑ” میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here