خوف کے بادل

برصغیر انڈوپاک کے مسلمان گزشتہ کئی صدیوں سے خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔ اس خطے کے ساتھ اگر افغانستان کو بھی شامل کر لیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ مسلمان سلاطین کا آخری مغل دور بھی ختم ہوئے کوئی تین صدیاں تو ہوہی چکی ہیں جس کے بعد سے دور غلامی کا ایک طویل دور کاٹنے اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان بن جانے کے بعد بھی خوف و دہشت کے بادل چھٹ کر نہیں دیئے اور اپنی شکلیں بدل بدل کر کسی نہ کسی روپ میں تا حال انڈوپاک کے مسلمانوں  پرچھائے ہوئے ہیں۔

مغلیہ دور کی آخری ایک صدی بھی کوئی سکون کی نہیں تھی۔ تیزی سے زوال پذیر بادشاہت اپنے ہی اندر اٹھنے والی بغاوتوں کے حصار میں رہی اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہتا رہا۔ ہندوستان پر حکومت برطانیہ کے قبضے کے بعد ہندؤں کی بھی خوب بن آئی اور ان کو بھی مسلمانوں کا خون بہانے کے مواقع ملے جس کا سلسلہ آج بھی وقفے وقفے سے کسی نہ کسی بہانے جاری ہے۔

انگریز دور میں کئی مواقعوں پر اس بات کا امکان پیدا ہوا کہ ہندوستان سے انگریزوں کو بوریا بستر لپیٹ کر پویلین (برطانیہ) کی سیر کرادی جائے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ اس حقیقت سے کسی کو مفر نہیں کہ ہندوستان سے فرنگیوں کا بوریا بستر گول کرنے میں سب سے زیادہ اخلاص اور کردار مسلمانوں ہی کا تھا اس لئے ناکامی کی صورت میں اس کی سزا بھی مسلمانوں ہی کو بھگتنی پڑی۔ فرنگیوں کے 200 سالہ دور میں مزاحمت کا سامنا اگر فرنگیوں کو کرنا پڑا تو وہ مسلمان ہی تھے۔ جس خطے میں آج پاکستان ہے یہاں بھی انگریزوں کو قبائلی علاقوں میں وہ گل کھلانے کے مواقع نہ مل سکےجو ہندوستان کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ملے۔

200 سالہ انگریز دور میں گوکہ مزاحمتوں کا سلسلہ چلتا رہا لیکن دو مواقع ایسے بھی آئے جب انگریز اس بات پر مجبور دیکھے گئے کہ وہ انڈو پاک کی سر زمین کو خیر آباد کہہ دیں۔ 1857 کی جنگ جس کو جنگ آزادی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے،  کا ایک ایسا مرحلہ بھی جب یہ امید ہو چلی تھی کہ یہ خطہ انگریزوں سے پاک ہو جائے گا۔ یہ جنگ یا جد و جہد گو کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ جد و جہد تھی لیکن بد قسمتی سے ہندوؤں کی منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس کا انجام ناکامی پر ختم ہوا۔ ایک جانب تو ہندوؤں نے منافقت کا مظاہرہ کیا دوسری جانب انگریزوں نے بھی اس بغاوت کا سارا کا سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈال دیا جس کے نتیجے میں لگ بھگ سات سے آٹھ دھائیاں مسلمانوں پر قیامت بن کر ٹوٹتی رہیں۔ انگریزوں اور ہندوؤں، دونوں نے مل کر مسلمانوں کو جتنا کچل سکتے تھے کچلا۔ یہ سات یا آٹھ دھائیاں ایسی قیامت کی گزریں کہ مسلمان ہر شعبہ زندگی میں کچل کررکھ دیئے گئے اور ان پر انسانی حقوق کے سارے دروازے بند کرکےعرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔

انگریزوں کو ہندوستان سے بے دخل کردینے کا سنہری موقعہ ایک مرتبہ اس وقت بھی میسر آیا جب خلافت پر حملہ ہوا جس کے دفع کیلئے بر صغیر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہندوستان کی بڑی بڑی اور مضبوط ترین سیاسی جماعتیں، جن میں کانگریس اور مسلم لیگ بھی شال تھیں، اس تحریک کے سامنے اُس دیئے کی مانند ہو گئیں جس کو سورج کے سامنے رکھ دیا جائے۔ ایسے موقع پر جب ہندوستان پر قابض انگریز اپنے مستقبل کے متعلق بہت کچھ سوچنے پر مجبور نظر آرہے تھے تو اہل ترک جو اس وقت خلافت اسلامیہ پر متمکن تھے انھوں نے خلافت سے دست برداری کا اعلان کر دیا اور اس طرح تحریک خلافت کے سمندر کا سارا طوفان جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور یوں مسلمان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آگئے۔

پاکستان کس طرح وجود میں آیا یہ بھی ایک خونچکاں داستان ہے۔ پاکستان کے قیام سے کہیں پہلےخوف و دہشت کی جو فضا تھی وہ بھی مسلمانوں کے کلیجے پھاڑ دینے کے مترادف تھی۔ گلی گلی محلے محلے دہشت نے اپنے پاؤں گاڑ لئے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کا دن کا چین اور راتوں کا سکون بر باد ہو کر رہ گیا تھا۔

گھروں کو نذر آتش کیا جارہا تھا۔ گلیاں، سڑکیں اور بازار برباد کئے جارہے تھے۔ خواتین اور بچیوں کی عزتیں تار تار کی جارہی تھیں۔ معصوم بچوں کو ہوا میں اچھال کر ان کو نیزوں، خنجروں اور تلواروں کی انیوں میں پرویا جارہا تھا۔ مسلمانوں کی ٹانگوں پر ٹانگ رکھ کر ان کو چیرا جارہا تھا۔ قتل و غارت گری اتنی عام ہو چکی تھی کہ ہندوستان کی کوئی گلی محفوظ نہیں رہ گئی تھی۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک دھائی سے زیادہ جاری رہا۔ یہ دہشتگردی وہ قوم کر رہی تھی جس کے نزدیک کسی بھی کیڑے مکوڑے تک کی زندگی چھین لینا بہت بڑا پاپ تھا۔ جس کے نزدیک ایک چیونٹی سے اس کا حق زندگی چھین لینا بہت ہی بڑا پاپ ہو اس کے نزدیک مسلمان کی جان لے لینا کار ثواب سمجھا گیا جس سے اس بات کا اندازہ لگا لینا کوئی الجبرے کا سوال نہیں تھا کہ ہندوؤں کے نزدیک مسلمانوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کے برابر بھی نہیں تھی۔

پاکستان بننے سے پہلے پہلے تک مسلمانوں کی جو نسل کشی ہوئی وہ ساری کنجشکِ فرو مایہ بن کر رہ گئی جس وقت پاکستان کے بن جانے یا ہندوستان کی تقسیم کاباقائدہ اعلان ہوا۔ اعلان کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں ایک آگ بھڑک اٹھی۔ ہندوؤں نے اپنی ہی سرزمین کو مسلمانوں کے خون سے نہلا کر رکھ دیا۔ بستیاں کی بستیاں اجاڑدی گئیں۔ آگ کے شعلے تھے جو آسمان کی بلندی کو چھو رہے تھے اور مسلمانوں کے خون کے گنگا جمنا تھے جو گلی گلی بہہ رہے تھے۔ ہجرت کرکے جانے والوں کی پوری کی پوری ٹرینیں کاٹ کر رکھ دی جا رہی تھیں۔ جو ٹرین بھی واگہ بارڈر پر آکر رکتی اس میں لاشوں اور انسانوں کے خون کے علاوہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ پیدل چل کر آنے والوں کے قافلے بھی راستے میں کاٹ دیئے جاتے تھے۔ جتنا لہو گزشتہ دیڑھ دو دھائی میں مسلمانوں کا نہیں بہا تھا اس سی کئی گناہ خون پاکستان بن جانے کے اعلان کے بعد چند ہفتوں میں بہادیا گیا۔

اس صورت حال اور راستوں کے مسدود و پر خطر ہونے کی خبر نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والوں کو اپنے اپنے علاقوں میں ہی رک جانے پر مجبور ہونا پڑا اور تنگ آمد بجنگ آمد کی صورت میں ہندوستان میں ہی محفوظ مقامات پر پناہ لینا پڑی جن میں شاہی مسجد اور لال قلعہ کا علاقہ منتخب کیا گیا۔ یہاں بھی خوف و دہشت کے سائے بہت گہرے تھے لیکن اس وقت کے نوجوانوں نے مقابلے کا عزم باندھ لیا تھا اور ہر حملہ آور ہونے والے گروہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جانے لگا جس کی وجہ سے ہندوؤں اور سکھوں کے حوصلے پست ہو کر رہ گئے اور ان دونوں مقامات کو مزید محفوظ تصور کرتے ہوئے ہندوستان کے دیگر پر خطر مقامات سے لوگ سمٹ کر یہاں منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ مسلمانوں کی ثابت قدمی اور ہندوؤں سے مقابلے کے عزم کی وجہ سے یہاں خوف کے بادلوں میں کمی واقع ہوئی اور کسی حد تک امن بحال ہونے جانے کے بعد ان تمام لٹے پٹے مسلمانوں نے پاکستان کا رخ کیا۔

لگتا تھا کہ پاکستان میں آنے کے بعد مسلمانوں کے باقی زندگی اسلام کے پر امن سائے میں گزرے گی اور دنیا ایک نئے رنگ کا خطہ امن دیکھ کر اپنے مستقبل لئے اسے مثال قرار دیگی لیکن وہ سب خواب خواب ہی ثابت ہوئے۔ اسلام کے سائے کی بات تو قصہ پارینہ ثابت ہو ہی گئی تھی، امن و امان بھی فسانہ بن کر رہ گیا۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں ہی بانی پاکستان کی ہدایات اور فرمودات سے صرف نظر کیا گیا اور خود بانی پاکستان کو ان کی وفات کے بعد ایک ایسا قصہ بنا دیا گیا کہ تاریخ اس پر تا قیامت شرمندہ رہے گی۔ پھر یہی نہیں ہوا کہ بات ان کی ذات یعنی “بانی پاکستان” تک ہی محدود رہ تی، بات ان کی ذات سے آگے نکل کر ان کی بہن اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تک جاپہنچی اور پوری دنیا حیران ہے کہ ان جیسی ہستی سرکاری سطح پر “بھارتی” ایجنٹ قرار دی گئی اور وہ تمام مسلمان جو پاکستان کی محبت میں اپنا سب کچھ لٹا کر آئے تھے ان کو بھارتی قرار دے کر پورے پاکستان کیلئے سرکاری سطح پر خطرہ قرار دیا گیا جس کا سلسلہ آج تک بر قرار ہے۔

خوف کے بادل پاکستانی مسلمانوں کیلئے کچھ عرصے کیلئے بے شک چھٹ سے گئے تھے لیکن وہ مسلمان بھی تو تھے جنھوں نے پاکستان بنانے کی جد و جہد میں بہت کچھ لٹایا تھا اور بے پناہ قربانیاں دی تھیں لیکن کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے پاکستان کی جانب ہجرت نہ کر سکے تھے، ان پر جو کچھ بیتا اور جو اب تک بیت رہا ہے اہل پاکستان نے ان کی جانب کبھی سوچا بھی نہیں۔ پاکستان بن جانے کی سزا وہ تاحال بھگت رہے ہیں اور ان کو اسی بہانے گزشتہ 70 برسوں سے تشدد کا نشانہ بنانا ہندوؤں نے اپنا مذہبی فریضہ سمجھا ہوا ہے۔

پاکستان بن جانے کے بعد یہ تو ضرور ہوا کہ ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی لیکن مسلمانوں کو مسلمانوں سے نجات آج تک نصیب نہیں ہوئی۔

حکومتیں بدلنا، وزیراعظموں کی بدن کے لباس کی طرح تبدیلی، ایک وزیر اعظم کا قتل اور پھر مارشل لا کے نفاذ نے پاکستان میں رہنے اور خصوصاً وہ مسلمان جو غیر منقسم ہندوستان سے پاکستان کی جانب آئے تھے اور جنھوں نے انگریزوں کا مارشل لا صحیح معنوں میں بھگتا ہوا تھا وہ 1958 کا مارشل لا کا سن کر دہل کر رہ گئے تھے۔ ایک حد یہ بھی آن پہنچی تھی کہ اگر تاجر حضرات کسی شے کی قیمت اپنی مرضی سے بھی کم کر دیا کرتے تھے تو مارکیٹ فلاپ کرنے کا بہانہ بنا کر ان پر بھاری جرمانہ عایدکر دیا جاتا تھا۔ نوبت یہ بھی آئی کہ جب صبح صبح دکاندار دکان کھولتے تو ان کی دکان کے دروازوں پر ہر شے کی قیمتوں کے ریٹ لکھے ہوئے ہوتے جو خود ان کی قیمت خرید سے کافی کم ہوا کرتے تھے۔ یہ بات شاید عام لوگوں کیلئے تو خوش کن ہو سکتی تھی لیکن تاجروں کیلئے کہیں سے کہیں بھی کوئی اچھا عمل نہیں تھا۔ اس صورت حال کی وجہ سے بازار بند کئے گئے لیکن دکانیں بند کرنے والوں کے خلاف بھی سخت رد عمل سامنے آیا اور ان پر جرمانے عاید کرکے دکانیں کھلی رکھنے اور اپنا نقصان پر نقصان بر داشت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ خوف بھی اپنی نوعیت کا انوکھا تھا لیکن یہ اپنوں ہی کا دیا ہوا تھا۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ تعصب کی لہر ابھری اور کراچی والوں کو محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی سزا “غیر سرکاری” طور پر سرکاری سطح پر دینے کیلئے اس وقت کے فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان محمد ایوب خان نے اپنے بیٹے گوہر ایوب کی سر پرستی ایک پر تشدد ہجوم کے صورت میں بھیجا اور اس طرح وہ مسلمان جو ہندوستانی سر زمین میں غیر مسلموں کے ہاتھوں تنگ کئے جاتے تھے، پاکستان میں پاکستان کے مسلمانوں کے ہاتھوں نہ صرف ستائے گئے بلکہ عصمت دری، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنا ئے گئے۔

قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ بس نہیں ہوا۔ بھٹو دور میں پاکستان (سندھ) کے بائیس شہروں میں آگ لگائی گئی جس کی آنچ سے حیدرآباد اور کراچی بھی محفوظ نہیں رہے۔ یہ آگ کبھی سرد ہوتی اور کبھی بھڑکتی رہی۔ کبھی اہل سندھ کے مسلمانوں کے ہاتھوں اور کبھی شمالی علاقوں کے دلیروں کے ہاتھوں جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے اور اس کے مستقل رک جانے کے امکانات نظر آکر نہیں دے رہے ہیں۔

پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بنگالی مسلمانوں پر مشتمل تھی جو موجودہ پاکستان کی آبادی سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ بنگالی مسلمان جن کا پاکستان بنانے میں بہت بڑا کردار تھا بد قسمتی سے وہ موجودہ پاکستانیوں کی دست برد کا شکار ہوئے اوربہت خانہ خرابی کا شکار رہنے کے بعد پاکستان سے علیحدہ ہو گئے۔ ایک المیہ یہ بھی ہوا کہ جو بنگالی بنگلہ دیش کے حامی نہیں تھے اور وہ بہاری جو پاکستان بچانے کی جد و جہد میں پاک فوج کے شانہ بشانہ اس جد و جہد میں شریک ہوئے وہ آج تک بنگالی مسلمانوں کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور المیوں سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اہل پاکستان ان کی چیخوں، سسکیوں، آنسوؤں اور آہوں تک کو سننے کیلئے اور ان کی داد رسی کرنے کیلئے تیار و آمادہ نہیں۔

ایک بد قسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد محبت کی بجائے دشمنی پر رکھی۔ خاص طور سے ہندوستان کے ساتھ مراسم خوشگوار تعلقات پر استوار کرنے کی بجائے دوری کی بنیاد پر قائم کئے۔ یہ سلسلہ یک طرفہ نہیں ہے۔ جتنی دوری پاکستان ہندوستان سے محسوس کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ دوری ہندوستان پاکستان سے رکھتا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان ہو یا پاکستان، دونوں دفاعی قوت بڑھانے پر مجبور ہوتے چلے گئے۔ پاکستان اور ہندوستان کا دفاعی توازن ویسے ہی بہت بگڑا ہوا ہے اس لئے ہندوستان چین کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیتوں کا بہانا بنا کر اپنی دفاعی ضرورتوں کو جنون کی حد تک بڑھانے میں مصروف ہے۔ چین تو محض ایک بہانہ ہے اس لئے کہ چین کے عزائم کبھی بھی توسیع پسندانہ نہیں رہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ ہندوستان پاکستان سے یا دوسرے الفاظ میں مسلمانوں سے خوفزدہ ہے۔ اسی خوف و دہشت کی وجہ سے اس نے ایٹم بم بنانے میں بھی نہایت عجلت سے کام لیا۔ پاکستان محض ہندوستان کی وجہ سے اس دوڑ میں شامل ہوا۔ پاکستان اس بات سے خوب اچھی طرح باخبر تھا کہ ہندوذہنیت ایٹم بم یا ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے باز نہ آئے گی کیونکہ کمزوروں پر ظلم ان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے پاکستان کے لئے اس صلاحیت کا حاصل کرنا اور ایٹمی جنگ کا ایٹمی ہتھیاروں سے جواب دینا ضروری تھا۔ جب سے پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے اس وقت سے ہندوستان کسی حد تک دباؤ کا شکار نظر آرہا ہے ورنہ ہر وقت جنگ کی دھمکیاں دینا اس کا معمول بن کر رہ گیا تھا۔

ایٹمی صلاحیت کوئی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ پاکستان نے ایٹم بم تو بنا لیا لیکن وہ عالمی طاقتوں کے حصار میں بری طرح آگیا اور اب جنگ “ہاٹ” کی بجائے “کولڈ” وار میں تبدیل ہوگئی جس کی وجہ سے خوف و دہشت کے بادل ایک مرتبہ پھر گہرے ہونا شروع ہو گئے۔ اب یہ بادل پاکستان یا یوں کہہ لیں کہ برصغیر سے نکل کر افغانستان اور مشرق وسطیٰ تک گہرے ہو گئے ہیں۔

ایک جانب خوف و دہشت کے یہ بادل جو ہمیں بین الاقوامی سطح پر گھیرے ہوئے ہیں اور گہرے سے گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب پاکستان میں خود پاکستانیوں کے ہاتھوں مسلمانان پاکستان بری طرح مجروح ہو رہے ہیں۔ پورا پاکستان ایک عجب قسم کے خلفشار کا شکار نظر آرہا ہے۔ پہلے کبھی مسلم اور غیر مسلم ہونا خوف و دہشت کی بنیاد ہوا کرتے تھے۔ پاکستان بنا تو مذہبی فرقے آپس میں برسر پیکار ہوتے رہے۔ ان کی شدت میں کمی آئی ہو یا نہ آئی ہو، ایک نئے فتنے نے پاکستانی مسلمانوں کو گھیر لیا اور وہ لسانی و علاقائی  تعصب تھا جس کا پہلا شکار بنگال اوربنگال کا مسلمان ہوا۔ پھر یہ زہر باقی ماندہ پاکستان میں پھیلنا شروع ہو اور آپس کی خونریزی تک جا پہنچا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بھر اس میں ایک اور فیکٹر کا اضافہ ہوا جس کو سیاسی چپقلش کہا جا سکتا ہے۔ یہ چپقلش بھی خونریزیاں برپا کرتی رہی ہیں اور شاید مستقبل میں ساری پچھلی خون خرابیان اس کے آگے ماند پڑجائیں۔

پاکستان میں سیاسی بنیاد پر چند سال قبل جو کچھ ہوا وہ پوری تاریخ انسانیت میں کہیں نظر نہیں آئے گا اور نہ ہی آیا ہوگا۔ 27 دسمبر 2007 کو بینظیر پرخود کش قاتلانہ حملہ ہوا جس میں قوم کی ایک عظیم لیڈر اور بیٹی اللہ کو پیاری ہوئی۔ ان کے ساتھ درجنوں اور اورافراد بھی شہید ہوئے۔ یہ صدمہ قوم کیلئے جس حد تک بھی صدمے کا باعث بنا وہ اپنی جگہ لیکن اس کے رد عمل کے طور پر جو کچھ بھی ہوا وہ کسی بھی ملک میں اپنے ہی ملک کے خلاف پوری دنیا میں کبھی نہیں ہوا ہوگا اور نہ ہی ایسا ہونا کہیں بھی ممکن ہے۔ بینظیر کی شہادت کو بہانہ بنا کر پورے ملک کی شمال تا جنوب اور مشرق تا مغرب ، ساری پراپرٹیز کو راکھ بنا کر رکھ دیا گیا۔ قتل و غارت گری مچائی گئی۔ عزت و آبرو سے کھیلا گیا، بڑے بڑے ٹرالر، ٹرک، کاریں، دکانیں، بازار، ٹرینیں اور گھر جلادیئے گئے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بینظر کے شہادت کا قصور وار پاکستان اور پاکستان میں بسنے والی ساری اقوام کو سمجھا گیا اور یہ کھیل ہفتہ بھر جاری رہا۔ یہ سب کچھ محشر برپا کرنے والی پارٹی ملک کی صرف ایک ہی سیاسی پارٹی تھی  لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اسی سیاسی پارٹی کا ایک اور سب سے بڑا سرخیل جو ملک بدری کی زندگی گزاررہا تھا اور جس پر ملک کے اندر آنے پر قدغن لگی ہوئی تھی اس کو نہ صرف ملک میں آنے کی اجازت دی گئی بلکہ اسی ایک پارٹی کو اقتدار بھی دیا گیا اور اس کے پابند سلاسل لیڈر کو حکومت پاکستان کا صدر بھی بنا دیا گیا۔

بر صغیر انڈ وپاک کے مسلمانوں پر خوف کے بادل پھر بھی چھٹ کر نہیں دیئے۔ حکومتیں اسی طرح ٹوٹتی اور بنتی رہیں، بندوقیں اسی طرح تنی رہیں۔ کبھی سویلین بادشاہوں کی اور کبھی وردی والوں کی۔ کوئی ایسا دن ابھی تک نہیں آیا جس میں سورج نے نکل آنے کے باوجود اندھیرے ختم ہو کر دیئے ہوں۔ دھوپ بھی نظر آتی رہی اور آسمان بھی تاروں سے سجا دکھائی دیتا رہا۔

انھیں ساری کیفیتوں کے دوران جنگیں بھی ہوئیں۔ امن کے شادیانی بھی بجے لیکن شہنائیوں کی آوازیں سسکیاں اور آہیں ہی بکھیرتی رہیں۔

افغان وار نے یہاں کے مسلمانوں پر اور بھی قیامتیں دھائیں۔ لاکھوں لوگ اس مشکل گھڑی میں نہ صرف افغانوں کی مدد کو از خود بڑھے بلکہ پاک فوج کے کہنے پر ہتھیار بند ہو کر بے جگری کے ساتھ دشمن (روسی) پر اس بری طرح قہر بن کر ٹوٹ پڑے کہ روس جیسا مضبوط اور پہاڑ جیسا ملک بھی ان کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوا اور افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ بد قسمتی سے وہ سارے بہادر افغان وار کے بعد پاکستان اور افغانستان میں دہشتگرد کہلائے اور دونوں جانب کی افواج کے نشانے پر آگئے۔ وہ قبائیلی علاقے جن میں ان کی پناگاہیں تھیں، وہ بھی زد میں آئے اور “دہشتگردوں” کے خلاف کارروائی کی وجہ سے صدیوں سے آباد اپنے اپنے علاقوں سے انھیں دربدر ہونا پڑا اور ابھی تک ان میں سے ایک کثیر تعداد اپنے گھروں کو آج تک لوٹ کر نہ جا سکی۔ ظلم پر ظلم یہ بھی ہوا کہ وہ اس پاکستان میں بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے والے وہ افغانی بھی ہیں جو اپنے ملک کے حالات کی وجہ سے پاکستان میں آج سے 40 برس قبل آباد ہوئے، یہیں رہائش اختیار کی، روزگار کے ذرائع ڈھونڈے، شادی بیاہ کے بندھوں میں بندھے اور پاکستان کی قومیت بھی اپنالی لیکن ان پر دہشت کے بادل اسی طرح چھائے ہوئے ہیں جس طرح 40 سال قبل افغانستان میں رہتے ہوئے ان پر چھائے ہوئے تھے۔

برصغیر کا ایک خطہ تو ایسا بھی ہے جہاں ہر آنے والا لمحہ ان کی زندگی کے ہر سانس کو گھونٹتا ہوا چلا آرہا ہے۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو بین لاقوامی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس کو حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر حل کر لیا جائے گا۔ آج سے 70 سال قبل کا یہ فیصلہ بین الاقوامی دہشتگردی کا شکار ہو کر التوا میں پڑا ہوا ہے۔ بھارت اس وقت سے آج تک ان پر ظلم و ستم کی انتہا توڑے ہوئے ہے لیکن اقوام عالم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

ان تما حالات کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ کئی صدیوں سے مسلمان جس خوف کے عالم سے باہر نکلنے کی جد و جہد میں مصروف ہیں وہ خوف و دہشت ایسی دلدل بنے ہوئے ہیں جس سے باہر نکلنے کی جتنی بھی کوشش کی جائے انسان اس میں اور بھی دھنستا جاتا ہے۔

تقسیم کے بعد بھی اہل پاکستان دہشت کی دلدل سے نکلنے کی جتنی بھی جد و جہد کر رہے ہیں، دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ جمہوریت کا سورج طلوع ضرور ہوا ہے لیکن ایک ایسا گہن زدہ سورج ہے جس کی روشنی ایک بہت بڑے جسم نے اپنی آڑ میں چھپائی ہوئی ہے۔ جسم کی آڑ میں جمہوریت کے سورج کی یہ روشنی کئی بار سر زمین جمہوریہ پاکستان تک پہنچنے میں رکاوٹ بنی رہی ہے لیکن جو اجسام اسے چھپاتے رہیں ہیں وہ “معلوم” رہے ہیں لیکن اس بار جو سورج بنام جمہوریت طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کو چھپا لینے والے اجسام “نامعلوم” ہیں۔ جو نظر آرہے ہیں وہ ہیں نہیں اور جو ہیں ہیں وہ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

خیال کیا جارہا تھا کہ نیا طلوع ہونے والا جمہوری سورج پاکستان کے مسلمانوں پر چھائے صدیوں سے دہشت کے بادل چھانٹ دیگا لیکن جس جسم کے متعلق یہی معلوم نہ ہو کہ وہ کائینات میں بکھرے ہوئے اجساموں میں سے کس جسم کا ہے تو پھر اس کی حقیقتوں کو کیسے پایا جاسکتا ہے۔

اس تمام صورت حال کے باوجود بھی کسی نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ ایسا سب کچھ کیوں ہے؟۔ یہ محض اس لئے ہے کہ ہم نے جس سر زمین کو جس کے نام پر حاصل کیا تھا اس سے باغی ہو گئے ہیں اور جب تک اس بغاوتی عمل سے باز نہیں آیا جائے گا، یہاں اسی عہد و پیمان کے مطابق قانون وضع نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک یہ بادل چھٹ کر نہیں دیں گے بلکہ ان کی تاریکیوں میں اضافہ در اضافہ ہوتا جائے گا۔ بہتر یہی ہے کہ شرکشی سے باز آیا جائے اور اللہ سے نہ صرف معافی طلب جی جائے بلکہ اس کے دربار میں مغفرت اور رحمت کی خصوصی دعائیں مانگی جائیں۔ ممکن ہے کہ ہمارا رونا پیٹنا، گڑ گڑانا اور چیخ و پکار رحمت خداوندی کے جوش میں آنے کا سبب بنا جائے اور ہمارا آنے والا مستقبل روشن و تابندہ ہو جائے۔ اس کے علاوہ اور کوئی بھی راستہ نہیں جو خوف و دہشت کے بادلوں کو ہمارے سروں سے ٹال سکے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here