گفتار نہیں کردار

پاکستان میں جتنے سویلین یا عسکری حکمران آئے اور انھوں نے قوم سے خطاب کیا، میں ان میں سے کبھی کسی کے خطاب کو نہ تو پورا سن سکا اور نہ ہی ان کی تقاریر پرکوئی خاص توجہ دی۔ میری زندگی میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ میں نے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کو نہ صرف آخیر تک سنا بلکہ نہایت توجہ سے سنا۔ ویسے تو شاید ہی کسی حکمران نے ایسی تقریر کی ہو جس میں اس نے اپنے تئیں کوئی ایسی بات کی ہو جس کو عرف عام میں برا کہا جاسکے لیکن عمران خان کی تقریر کاایک لفظ بھی ایسا نہیں تھا جس کو یہ کہا جا سکے کہ اسے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ البتہ کمی محسوس کرتے ہوئے یہ ضرور سوچنا پڑا کہ اسے یہ اور یہ بھی ضرور کہنا چاہیے تھا۔ مثلاً خلفائے راشدین میں سارے خلفا کا ذکر کرنا چاہیے تھا اور مثال کا ذکر کرکے صرف بات حضرت علی (رض) پر ہی ختم نہیں کر دینی چاہیے تھی۔

عمران خان کی یہ باتیں کہ وہ کسی سے قرض نہیں لیں گے، قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے، غربت ختم کردیں کے، پاکستان میں کوئی زکات لینے والا نہیں رہے گا اور پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بنادیا جائے گا وغیرہ، ایسی ہیں کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ تقریر کا ایک یہ پہلو بھی بہت منفرد تھا جس میں یہ تذکرہ بھی تھا کہ غربت دور کرنے، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور اقتصادی حالات کو بہتر ہی نہیں، مستحکم تر کرنے کا حل اور اسکا طریقہ کار کیا ہوگا۔ عام طور پر مسائل کا ذکر تو سبھی حکمران کرتے رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے قوم کے سامنے ان مسائل کو حل کرنے کے متعلق اپنی حکمت عملی عوام کے سامنے رکھی ہو۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان صاحب نے دیگر گزر جانے والے حکمرانوں کی طرح یہ رونا گانا نہیں گا یا کہ مسائل کے یہ انبار گزرجانے والے حکمرانوں کے لگائے ہوئے ہیں، ہمیں حکومت ملی تو خزانے خالی تھے، ان سب کرپشن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ بلکہ سیدھا سیدھا قوم کو یہ بتا یا کہ مجھے یہ اور یہ کرنا ہے اور پاکستان کی تعمیر نو میں سارے عوام کو میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

قرضوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان صاحب کہ کہنا تھا کہ اب تک یہ قرضے 128 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں لیکن قوم کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ قوم کو یقین دلایا کہ ہم ان سارے قرضوں کو نہ صرف ادا کریں گے بلکہ یہ سب ہدف قرضہ لئے بغیر اپنے وسائل سے ہی پورا کریں گے۔ ایسا وہ کیسے کر سکیں گے، اس کا ذکر انھوں نے تقریر جاری رکھتے ہوئے بعد میں بتانے کا کہا اور تقریر کے اختتام سے قبل واپس اپنے چھوڑے ہوئے پوائنٹ کی جانب لوٹتے ہوئے بتا بھی دیا۔ اب قرض اتارنے کا طریقہ کار کتنا قابل عمل ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کر سکے گا۔ عمران خان نے جو حل اور طریقہ کار بتا یا ہے میں بھی اس کو آگے چل کر بیان کرونگا پہلے چاہوں گا کہ تقریر کی کچھ اور خاص خاص باتیں احاطہ تحریر میں لاؤں اور پھر ساری باتوں پر سیر حاصل گفتگو بھی کروں اور عمران خان کی باتوں کا تجزیہ کرکے اپنی عقل و دانش کے مطابق عمران خان کی باتوں ہی کو آگے لیکر چلوں اور اس بات کی کوشش بھی کروں کہ خود عمران خان ان باتوں کو ذاتی طور پرعمل اپنا شعار بنالیں اور چھوٹے منھ سے نکلی ہوئی بڑی بات پر خفا نہ ہوتے ہوئے کچھ قدم اور بھی بڑھالیں تو اللہ کی تائید اور نصرت کے ساتھ ساتھ عوام کی خوشنودی کو مزید اپنے دامن میں بھر سکتے ہیں۔

جیسا کہ عمران خان نے بار بار مدینہ کی ریاست کا تذکرہ کرتے ہوئے آنحضور (ص) کا نام لیا، آپ (ص) کے صحابہ کرام (رض) کا نام لیا اور قوم کو بتایا کہ قوم کو انھوں نے کس طرح تیار کیا۔ کس کس طرح قوم کو سادگی کا درس دیا اور کس طرح قوم ان کی ہدایات قبول کرتے ہوئے آگے بڑھی اور پھر اس زمانے کی بڑی بڑی سلطنتیں کیسے مٹی کا ڈھیر بن کر رہ گئیں۔ بات بہت واضح اور صاف ہے کہ صحابہ کرام، اسلام قبول کرنے والوں اور پیغمبر اسلام کی قربانیاں اور کردار ہی تھا جس نے مکے کی سرزمین سے چل کر پہلے مدینہ منورہ میں اپنے قدم جمائے اور پھر وہ ساری دنیا پر چھا گئے۔ اب بھی یہ بات طے ہے کہ جب تک مسلمان اس معیار کے مسلمان نہیں بنیں گے، وہی طرز زندگی نہیں اپنائیں گے، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ نہیں کہیں گے۔ اللہ اور اور اس کے رسول کی ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہونگے اور چلتے پھرتے قرآن کی تفسیر نہیں بن جائیں گے اس وقت تک “مدینہ” کی ریاست کا ذکر بھی فضول ہے اور تمنا بھی بیکار۔ ہر پیار میں محبوب کی کچھ شرائط ہوا کرتی ہیں لہٰذا عشق خدا و رسول کی بھی کچھ شرائط ہیں اور یہ بات طے ہے کہ جب تک ان شرائط کو پورا نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مدینہ تو دور کی بات ہے، اس ریاست کی گرد کو بھی نہیں پایا جاسکتا۔

اللہ کا بندہ صرف اللہ ہی کے آگے رکوع اور سجدے کی حالت میں اپنے آپ کو جھکا یا گرا سکتا ہے اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کے آگے رکوع و سجود کی حالت میں جھک جانا یا گرالینا جائز ہوتا تو میرے نبی (ص) کا فرمان ہے کہ میں بیویوں سے کہتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔ ملاحظہ کریں کہ ایسا کرنے کیلئے نبی (ص) نے نہ اپنا ذکر کیا اور نہ ہی کسی پیر و مرشد کے سامنے جھک جانے کا کہا۔ یہی ایمان کی شرط  اولین ہے  اور یہ ایسی شرط ہے جس میں ہمارا دین کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور ہر وہ فرد خواہ وہ مذاق میں، ہنسی میں، محبت میں یا عقیدت میں ایسا کریگا گا تو اس کو پھر اپنے ایمان کے متعلق خوب اچھی طرح غور کر لینا چاہیے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ گناہ کرنے کے بعد تاویلیں یا عذر پیش کرنا گناہ کرنے سے بھی بڑا جرم ہے جس کو آپ ایک بار نہیں متعدد بار دہرا چکے ہیں اور آپ کے پیروکار آپ سے بھی بڑھ کر اس محاذ پرڈٹے ہوئے ہیں اس لئے خدارا اس کا اعادہ کریں اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی سمجھائیں۔

یہ تو ہوئی ریاست مدینہ بنانے کی پہلی شرط اگر آپ واقعی اس میں مخلص ہیں تو۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے چہرے مہرے، وضع قطع اور لباس سے بھی گواہیاں ملیں کہ آپ اسی منزل کے راہ رو ہیں۔ آپ مسجد کی جانب ہی جارہے ہیں، بازار یا گمراہ کن جگہوں کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

آپ نے بہت خوب کہا ہے کہ ایک تو آپ 524 ملازمین کو نہیں پالیں گے صرف دو ملازمین پر اکتفا کریں گے لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ باقی 524 میں سے بچ جانے والے 522 افراد کا مستقبل کیا ہوگا۔ اگر وہ پھر بھی موجود رہیں گے تو اخراجات میں کمی کیونکر ممکن ہو سکے گی۔ اگر ایوان صدر میں “صدر” کے نہ رہنے اور پرائم منسٹر ہاؤس میں وریراعظم کے نہ رہنے سے اخراجات میں بے پناہ کمی آسکتی ہے تو سابق صدر رفیق تارڑ اور سابق وزیر اعظم خاقان عباسی بھی ان صدور میں اور وزیراعظموں میں سے ایک ہیں جو اپنی اپنی تقرری کے دوران ایوانوں میں نہیں رہے تو کیا ملک کے خزانوں میں اضافہ ہو گیا۔

پارلیمنٹ بھی ایک خوامخواہ کا خرچ ہے۔ اس پر بھی برائے فروخت کا بورڈ لگائیں۔ کیا ایک بہت بڑے کھیل کے میدان میں ٹینٹ لگا کر اجلاس طلب نہیں کئے جاسکتے۔ ویسے بھی وہاں شور شرابے کے علاوہ اور ہوتا بھی کیا ہے اس لحاظ سے کھلا میدان کھل کر جنگ و جدل کے لئے اور بھی زیادہ موزوں ہوگا۔

پہلے دعویٰ تھا کہ ان عمارات کو بلڈوز کر دیا جائے گا اب ان کی جان بخشی کی جانب ایک “یوٹرن” کا آغاز ہے۔ یونیورسٹیاں بنادی جائیں گی، کی کہانی بھی پرانی ہے جس کا گرد و غبار جھاڑ کر پھر عوام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں ایسا ہو ہی جانا چاہیے لیکن کیا یہ قابل عمل ہے؟۔ اس کا فیصلہ بھی چند ماہ میں عوام کے سامنے آہی جائے گا۔

کرپشن اور لوٹ مار کے تذکرے آپ کی تقریر میں اس بڑی تعداد میں بھرے ہوئے تھے جیسے پنجابی فلموں میں ہیرو کی بیک وقت سیکڑوں دشمنوں سے لڑائیاں لازمی جزو ہوتی ہیں۔ اس بدعت کا آغاز جنرل ضیا الحق کے دور سے ہوا تھا اورخرد برد کا الزام بھی اپنی ہی طرز کے انتخابات کا انعقاد کرکے اپنے بنائے ہوئے وزیر اعظم کو برخاست کرتے لگا یا گیا تھا۔ یہ بدعت سیاہ ایسی چلی کہ آج تک ہر حکومت کو اسی الزام کے تحت برطرف کیا گیا لیکن آج تک ان کی لوٹی ہوئی دولت کا ایک پیسہ بھی اس ملک میں نہیں لایا جاسکا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس لوٹ مار میں پاکستان کے سیاستدان ہی نہیں، عدالتوں کے جج اور کرنیل جرنیل بھی شریک رہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت پاناما لیکس ہیں۔ اگر اشارتاً ہی آپ ان کا ذکر کرجاتے تو کیا آپ کی کرسی خطرے میں پڑجاتی؟۔ ویسے بھی ایک کھلاڑی کا خطروں سے ڈرنا فہم و سمجھ سے باہر ہے۔

اوپر کی کچھ باتوں میں میں اجمالاً ان مسائل کے حل کا دائرہ بڑھاتے ہوئے کوشش کی ہے کہ آپ ہی کی بات کو آگے بڑھاؤں اس لئے اسے تنقید کے دائرے میں نہ لیا جائے البتہ میں میں قوم کو آپ کے حوالے سے کچھ خدشات سے آگاہ کرنا ضرورچاہتا ہوں۔

امداد یا قرض نہیں لیا جائے گا، قوم کو اپنے ہی قدموں پر کھڑا ہونا ہوگا، پاکستان میں 22 کروڑ عوام ہیں مگر ٹیکس صرف 8 لاکھ افراد دیتے ہیں، وہی قوم ترقی کرتی ہے جو قربانی دیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

قرض لینا ایک سنگین جرم ہے اور قرض لینے والافرد معاشرے میں سر اٹھا کر نہیں چل سکتا۔ جب ایک مقروض عزت کے قابل نہیں رہتا تو وہ ممالک جو قرض پر قرض لینے کے عادی ہوں وہ اقوام عالم میں کیسے کوئی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کا فرمان درست ہے کہ اب قوم کو اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے کیلئے تیار ہوجائے۔ آپ نے شاید قوم کا جذبہ دیکھا ہی نہیں ہے۔ 20 لاکھ شہید ہوئے 70 ہزار ماؤں بہنوں کی عزتیں تارتار ہوئیں، پاکستان آنے والوں نے ہنستی بستی بستیاں چھوڑیں تب کہیں پاکستان بنا۔ کیا 65کی جنگ بھول گئے۔ کیا پنجاب تا سندھ جو سیلاب آیا تھا تو قوم کی یک جہتی نہیں دیکھی تھی۔ کشمیر کے زلزلے نے سارے پاکستانیوں کو ہلا کر نہیں رکھ دیا تھا۔ ان قربانیوں کے پیچھے پاکستان بنانے والے بانیوں کا کیا کردار تھا۔ اس وقت کے سارے لیڈروں نے قوم سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ آپ نے درست کہا ہے کہ قوم جب تک قربانیاں نہیں دے گی حالات نہیں بدل سکتے لیکن کیا قوم میں رہبران قوم شامل نہیں ہوتے؟۔

            آپ نے فرمایا ہے پاکستان میں صرف 8 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ دائرہ بڑھایا جائے گا یا پھر ٹیکس کی اوسط میں اضافہ ہوگا کیا ہر دو صورتوں میں اس کا بوجھ عوام پر نہیں پڑے گا؟۔ کیا جی ایس ٹی کا بوجھ عوام پر نہیں۔ کیا خریدنے کو بھی بیچنے میں شمار نہیں کیا جارہا؟۔ کیا کوئی مل اونر یا کارخانے دار یا زمیندار ٹیکس اپنی جیب سے دینے کیلئے تیار ہو جائے گا؟۔ آپ ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں یا ٹیکس، ہر دو صورتوں میں بوجھ عوام ہی پر پڑتا ہے۔ اس لئے آپ کو اس پر مزید غور کرنا ہوگا۔

کہتے ہیں کہ نہ صدر ایوان صدر میں رہے گا اور نہ وزیر اعظم اپنے وزیر اعظم ہاؤس میں، نہ گورنرا اپنے گونر ہاؤسز میں رہیں گے نہ ہی وزرائے اعلیٰ۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کہاں رہیں گے۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ کرائے پر رہیں گے۔ کیا آپ سمیت سارے کے سارے بے گھر ہیں جن کیلئے مزید رہائش گاہیں درکا ہونگی؟۔

آپ نے جن جن مقامات کے اخراجات میں کٹوتی کا عندیا دیا ہے وہ سب کی سب سرکاری ہیں۔ آپ یا آپ کے صدر، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کی ذاتی اخراجات میں کہیں سے کہیں کسی کٹوتی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

جب آپ تقریر کر رہے تھے، قربانیوں کا ذکر کر رہے تھے اور بار بار قوم کی حالت بدلنے کا ذکر ہو رہا تھا تو نہ جانے بار بار مجھے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ آپ قوم کے سامنے اعلان فرمائیں گے کہ میں اپنی بنی گالا کی رہائش گاہ یونیورسٹی کو تحفہ کرتا ہوں لیکن مجھے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور میرے کان ایک نیک اعلان کو سننے سے محروم رہ گئے۔

یہ ساری باتیں کبھی نہ کرتا۔ کسی کی اچھی گفتگو اور اسی کی کہی ہوئی باتوں کو میں اور آگے لیکر نہیں چلتا لیکن بات “مدینہ” کی ریاست کی آگئی۔  ان ہستیوں کا ذکر آگیا جن کی قربانیوں کا پھل آج پوری دنیا کھا رہی ہے تو پھر میں کیوں نہ کہوں کہ ان ساری عظیم ہستیوں نے اپنی قوم سے قربانی دینے کا مطالبہ بعد میں کیا پہلے خود اپنا سارا مال و اسباب آپ (ص) کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔

آپ کو اندازہ نہیں، آپ صرف بنی گالہ ہدیہ کرنے کا اعلان کریں قوم اپنے بدن کے کپڑے تک قوم و ملک پر نچھاور کردے گی۔ جس پیغمبر (ص) کا آپ ذکر کر رہے ہیں اس نے اپنے پیٹ پر ایک نہیں دو دو پتھر باندھے تھے پھر دنیا نے بھی دیکھا اس قوم کے آگے روم اور ایران بھی سجدہ ریز ہو گئے۔

میں ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے کوئی بات بھی کسی برائی یا تنقیدی نقطہ نظر سے نہیں کہی بلکہ وزیر اعظم پاکستان کی بات ہی کو مزید آگے بڑھایا ہے۔۔ اگر ریاست کو مدینے والی فلاحی اسلامی ریاست بنانا ہے تو پھر ایسا ہی کرنا ہوگا ورنہ باتوں کا کیا ہے،ہر گرزجانے والی حکمران نے کیں سو آپ کی باتیں بھی کانوں کو بہت بھلی لگی ہیں۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

1 تبصرہ

  1. بہت خوب ، میری درخواست ہے اس تحریر کو ڈان ،جنگ میں بھی شائع کیا جائے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here