پاکستان جس اہم دور سے گزر رہا ہے کیا امریکی وزیر خارجہ کا اس اہم وقت میں چند گھنٹے کا دورہ پاکستان کے مسئلوں کو سننے، سمجھنے اور اس کا حل ڈھونڈ لینے کیلئے کافی تھا؟۔
ان چند گھنٹوں میں پاکستانی وزیر خارجہ سے بھی مذاکرات ہوئے جس میں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی 17 رکنی ٹیم بھی شریک ہوئی۔ پھر وہ بیٹھک بھی ہوئی جس میں دونوں جانب کے امورِ خارجہ کے ممبران، دونوں جانب کےآرمی چیف اور پاکستان کے نئے منتخب وزیراعظم بھی شریک تھے۔ پھر ایک دور وزیراعظم پاکستان سے ون ٹو ون ملاقات کا چلا اور ایک دور آرمی چیف سے ون ٹو ون ملاقات کا چلا۔ یہ ساری بیٹھکیں چند گھنٹوں میں نمٹ گئیں اور امریکی وزیر خارجہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بھارت کیلئے روانہ ہو گئے۔
یہ نہ تو کوئی برتھ ڈے پارٹی تھی اور ناہی رسم حنا۔ یہ دو اہم ملکوں کے درمیان بہت اہم نوعیت کی ملاقات تھی جس میں افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سامنے رکھ کر پاکستان کے مسائل پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا تھا اور ساتھ ہی ساتھ افغان امن کوششوں پر جو مشکلات پاکستان کو درپیش تھیں اور جو “خواہشات” امریکہ کی تھیں ان سب پر سنجیدگی سے بات چیت کرنے کیلئے میری سمجھ کے مطابق بہت ہی کم وقت تھا۔ اتنے مختصر وقت میں تو امتحانی پرچے میں درج 5 سوالات کے مفصل جوابات دنیا بھی بہت مشکل کام ہے البتہ جن سوالات کو حل کرنا مقصود ہو ان کو منتخب کرنے اور ان کو سمجھنے کیلئے اتنا وقت کافی ہو سکتا ہے۔
اس قسم کی دورے اور بیٹھکیں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ مذاکرات صرف زبانی نہیں ہوتے بلکہ ایک ایک لفظ ضبط تحریر کیا جاتا ہے۔ ذمہ داران کے دستخط ہوتے ہیں تب کہیں جاکر کسی بھی بات کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ ان چند باتوں کو سامنے رکھ کر میں کچھ ایسا خیال کرتا ہوں اور اس خیال پر یقین کی حد تک مطمئن ہوں کہ جو باتیں بھی زبانی ہوئی ہوں گی وہ ان طے شدہ تحریروں پر ہوئی ہوں گی جن کو ساتھ لایا گیا ہوگا۔ اس قسم کی اہم باتوں کو نہ تو فون پر زیر بحث لایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایسی تحریریں بذریعہ ڈاک ارسال کی جاسکتی ہیں۔
حالیہ امریکی بیانات کی روشنی میں جو بات بہت زیادہ واضح اور صاف صاف سامنے آتی رہی ہے اس میں دو پہلو بہت ہی نمایاں رہے ہیں۔ ایک یہ کہ “پاکستان کو ہمارا کہا ماننا پڑے گا” اور دوسرا پہلو یہ رہا ہے کہ “ہم نئی بننے والی حکومت کچھ وقت دینا چاہتے ہیں”۔
چند دنوں میں ہونے والی باتوں کے ان دو نمایاں پہلوؤں کو درست مان لیا جائے تو پھر یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ پاکستان کے سامنے امریکہ نے افغان امن کے سلسلے میں ایک پلان رکھ دیا ہوگا اور اس پلان کے سلسلے میں اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہوگی کہ ایسا آپ کرانا ہے اور ایسا کیوں کرنا ہے۔
جس دوطرفہ یا باہمی دلچسپی کے امور کا حوالہ ملتا ہے وہ ساری کی ساری گفتگو اس پلان کے گرد ہی گھومی ہوگی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ امریکہ کے دل میں درد دل کچھ زیادہ ہی پاکستان کیلئے اٹھا ہوگا اور وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کیلئے بہت زیادہ جذبات لیکر آیا ہوگا تو ان سے گزارش ہے کہ خواب دیکھنے کا پاکستانیوں نے ایک ہی شخص کو اختیار دیا تھا اور وہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال تھے۔ ان کے علاوہ سب پر خواب دیکھنے کی پابندی لگادی گئی تھی اس لئے وہ خواب غفلت سے باز ہی رہیں تو اچھا ہے۔
یہ بات میں یونہی نہیں کہہ رہا بلکہ میرے سامنے وہ ساری گفتگو ہے جو بیٹھکوں سے نمٹنے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کی ہے۔ وہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ “اب ہم مزید بات چیت کیلئے خود واشنگٹن جائیں گے”۔ اس جملے میں جو بات بین السطور ہے وہ ہے “دی گئی مہلت”۔ جیساکہ امریکا نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ ہم نئی بننے والی حکومت کو کچھ وقت دینا چاہتے ہیں تو آخر کیوں؟۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کے سامنے ایک پورا پلان رکھ دیا ہے اور بس اتنا کیا ہے کہ اس پر غور و خوض کرنے کیلئے ایک وقت دیدیا ہے جس کے جواب کو لیکر وزیر خارجہ کا ایک وفد واشنگٹن جائے گا اور جو پرچہ سامنے رکھا گیا ان میں درج سوالوں کے جوابات ان کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ایک جانب وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ ” یہ تاثر غلط ہے کہ “ٹف ٹالکنگ” ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ہوا ہے” لیکن اس کے فوراً بعد کا جملہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ” امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کا رویہ مثبت تھا”۔ یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ پاکستان کا رویہ مثبت تھا سے ان کی کیا مراد ہے۔ کیا اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ جس قسم کے منفی بیانات وہ اور ان کی حکومت دے دے کر عوام کی دل بستگی کا سامان کرتی رہی ہے وہ سب “ہوائیاں” ہی تھیں جبکہ مذاکرات کی میز پر جو بات بھی ہوئی وہ ان گیدڑ بھپکیوں کے برعکس ہوئی؟۔
اس بات کو ان کے فوراً بعد کے جملوں سے ملتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ” میں نے پاکستان کا موقف پیش کیا، حقیقت پسندانہ موقف پیش کیا۔ میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے قوم کی توقعات بلند ہوں۔
اس میں نہایت غور طلب الفاظ جو ہیں وہ ساری کہانی کا نچوڑ ہیں غوریں ” میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے قوم کی توقعات بلند ہوں”۔ اب خود ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد امریکہ کے مطالبات کے آگے سرتسلیم خم کرنے کی یہ دوسری واردات ہے جس کے متعلق عوام کو یہ خوش فہمی ہے کہ یہ حکومت امریکا کے آگے ڈٹ گئی ہے۔
وزیر خارجہ کے بیانات میں بڑا ٹکراؤ ہے۔ ایک ہی سانس میں وہ جو بات کہتے رہے اسی بات کی تردید ان کے دوسرے سانس میں ادا ہونے والے جملوں میں بہت واضح انداز میں نظر آئی۔ مثلا وہ ایک جانب فرمارہے ہیں کہ ” ہم نے ان کی خواہشات کو بھی سمجھا اور اپنی توقعات اور خدشات ان کے سامنے رکھے”۔ اس کے فوراً بعد وہ فرماتے ہیں کہ ” ہمارا مقصد امن استحکام، علاقائی وابسگتی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کو اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے معاون بننا ہوگا”۔
چند دن قبل یہی وزیر خارجہ تھے جن کا یہ دعویٰ تھا کہ امریکہ نے ان کی امدادی رقم نہیں بلکہ وہ رقم روکی ہے جس پر معاہدے کے مطابق پاکستان کا حق تھا اور جب بھی بات ہوئی میں اس مسئلے کو ضرور اٹھاؤں گا لیکن ایک صحافی کے پوچھے گئے جواب میں ان کا فرمانا تھا کہا “چونکہ پاکستان کو ہمیشہ امداد طلب نہیں کرنی اس لیے اس حوالے سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ نیز ان کا کہنا تھا کہ 300 ملین ڈالر کی امداد روکنے کی خبر نئی نہیں تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملہ پر بات نہ کی جائے کیوں کہ ہمارا تعلق صرف لینے دینے کا نہیں ہے”۔
پاکستان کی نومنتخب قیادت سے ملاقات کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو دلی میں “ٹو پلس ٹو” مذاکرات کیلئے روانہ ہوگئے۔ ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شریک ہوں گے۔ امریکہ کی طرف سے مائیک پومپیو اور جیمز میٹس اور انڈیا کی طرف سے سشما سوراج اور نرملا سیتھارمن، اس لیے انھیں “ٹو پلس ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان حالات کشیدہ رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے ایران سے تیل خریدنے پر پابندیاں عائد کی ہیں لیکن ایران انڈیا کو تیل فراہم کرنے والے سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے اور اس سے تیل کی خریداری چانک بند کردینا انڈیا کے لیے آسان نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھی اس دورے میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے اور دفاع کے شعبے میں امریکہ سے انڈیا کی خردیداری آئندہ برس اٹھارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ والمارٹ اور امیزون جیسی بڑی امریکی کمپنیاں انڈیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
یہ اٹھارہ ارب ڈالر کوئی قرض یا امداد کا حصہ نہیں۔ یہ سودا کاری ہے۔ اسی لئے کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ” امریکہ کی یہ دیرینہ کوشش یا امید رہی ہے کہ خطے میں انڈیا فوجی اور اقتصادی لحاظ سے چین کے متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور چین کی بڑھتی ہوئی “جارحیت” کو قابو کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس لیے انڈیا کے خدشات کو پوری طرح نظر انداز کرنا امریکہ کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا”۔
انڈیا اور پاکستان کے اس حالیہ دورے کی چند خاص خاص باتیں سامنے رکھ کر میں اہل اقتدار اور صاحبان اختیار کو اس جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ممالک اور قومیں جن کا انحصار محض “امداد” یا قرضوں پر نہیں ہوتا اور جن کا انحصار امداد اور ادھار پر ہوتا ہے ان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک جانب ہم سے صرف اتنی بات کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے آپ کو ہماری بات ماننی ہے یا نہیں اور دوسری جانب ایک ملک کو چین کے مدمقابل لانے کی باتیں۔ کشیدگیوں کے باوجود بھی دلوں میں فراخیاں۔ یہ ممکن ہے کہ مسلم دشمنی میں ہو رہا ہو لیکن ہمیں اپنی کوتاہیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
ان تمام باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد میں پورے پاکستان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ امداد یا قرض پر لعنت بھیج کر قوم کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی تیاری کریں۔ یاد رکھیں کہ اس کیلئے پہل قوم کو لیڈروں کو کرنا ہوگی۔ آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے قوم دوڑ کر آپ کی جانب آئے گی۔ بات اب لولی پاپوں سے نہیں عملی اقدامات سے چلے گی۔
