حجاب میں ہی نجات ہے

تمدنی زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں۔ ایک خواتین کا دائرہ اور ایک مردوں کا۔ خواتین کا میدان عمل گھر ہے اور پھر گھر کے ساتھ جو جو بھی ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں وہ اس کے ساتھ منسلک ہیں اور مردوں کے ساتھ گھر کے باہر کا میدان عمل ہے اور اس کے ساتھ گھر سے باہر کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ تمام کی تمام مردوں سے منسلک ہیں۔

بے شک جیسے کہ مردوں پرایسی کوئی قدغن نہیں کہ ان کو گھر کا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے یا وہ نہیں کر سکتے اسی طرح گھر سے باہر کے وہ سارے کام جو ایک مرد کی ذمہ داری میں آتے ہوں وہ ایک خاتون نہیں انجام دے سکتی یا اسے نہیں دینے چاہئیں۔ ایسا کرنے میں نہ تو دین کوئی پابندی لگاتا ہے اور نہ ہی خود انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ایسی کوئی قدغن لگا تے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ اگر ایسا سب کچھ ضرورتاً کرنا پڑے تو بھلا بھی لگے گا اوردیکھنے والے ایسا کرنے پر معترض ہونے کی بجائے ستائش کریں گے لیکن اگر ایسا بلا ضرورت کیا جائے گا تو نہ تو ایسا کرنا کسی کو اچھا لگے گا اور نہ ہی ایسا کرنے والا یا والی کی کوئی ستائش کریگا۔

مثال کے طور پر مرد (بلامجبوری) اگر ہانڈی چولہا کر رہا ہو، گھر کی جھاڑو لگا رہا ہو، بچوں کو نہلا دھلارہا ہواور دھوبی کھاٹ لگا کر بیٹھا ہو تو کیا وہ اچھا لگے گا۔ کیا اس کے کاموں کی تعریفیں ہونگی؟۔ لیکن اگر وہ یہی سب کام اپنی ماں، بہن یا بیوی کی کسی وقتی یا دائمی مجبوری کے باعث انجام دے رہا ہوگا تو ہر دیکھنے والا اس کو قابل ستائش نظروں سے دیکھے گا اور اس کا کرنا کہیں سے کہیں تک ناگوار نہیں ہوگا۔

بالکل اس کے برعکس اگر کوئی خاتون بلاضرورت وہ کام جو مردوں کے کرنے کے ہوں، اسے کوئی مجبوری بھی نہ ہو، اس کی کفالت کرنے والے بھی موجود ہوں، شوہر، بھائی بہن، والد، ساس اور سسر سبھی موجود ہوں اور حسن سلوک کے معاملے میں بھی کوئی ایسا عذر موجود نہ ہو جس کی بنیاد پر وہ گھر کی چاردیواری سے نکلنے پر مجبور ہو، صاحب اولاد بھی ہو اور ان کی ہر قسم کی ذمہ داری بھی اسی پر ہو تو اس کا باہر نکلنا اور مردوں کے سے کام کرنا شاید ہی کسی کو بھلا لگے لیکن اگر وہی عورت کسی بھی سبب مشکلات کا شکار ہوجائے، کمانے والے معذور ہوجائیں یا دنیا سے رخصت ہو جائیں، بچے بھی چھوٹے ہوں جن کی تربیت، پڑھائی، کھانے پینے اور رہن سہن کے اخراجات کسی اور ذریعے سے پورے نہ ہوتے ہوں اور وہ مردوں کی طرح کمر ہمت باندھ کر ان کےاسباب فراہم کرنے کیلئے گھر کی چاردیواری سے باہر جانے پر مجبور ہوجائے تو شاید ہی کوئی ایسا بدبخت ہو گا جو اس کو ایسا کرنے پر برا سمجھے یا کہے۔ ایسی خاتون کی اس ساری جد و جہد کو ہر آنکھ ستائش سے دیکھے گی اور ہر لب سے تعریفوں اور دعاؤں کے الفاظ ہی ادا ہونگے۔

اسلام نے مرد اور عورت کیلئے الگ الگ ذمہ داریوں  ذکر تو ضرور کیا ہے لیکن یہ پابندی نہیں لگائی کہ ایک دوسرے کے امور انجام نہیں دیئے جا سکتے۔ ضرورت کے مطابق خود آپ (ص) نے بھی اپنے گھر میں امہات المومنین کا ہاتھ بٹایا ہے لیکن اس کے باوجود اس کو معمول نہیں بنایا۔

اس کی مثال اگر دنیوی انداز میں دی جائے تو کچھ یوں ہے جیسے ہر ملک میں ادارے ہوتے ہیں اور ہر ادارہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو آئین اور قانون کے مطابق انجام دے رہا ہوتا ہے۔ پھر ہرادارے میں بھی درجنوں شعبے ہوتے ہیں اور ہر شعبے کے افراد اپنی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف کار ہوتے ہیں۔ بے شک کوئی شعبہ کسی دوسرے شعبے میں نہ تو مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی اسے اچھا تصور کیا جائے گا لیکن ہنگامی صورت میں ایک شعبہ دوسرے شعبے کی مددکرسکتا ہے۔ بالکل یہی بات عورت اور مرد کے درمیان اچھی بھی لگے گی اور ہر کام حسن و خوبی کے ساتھ انجام پزیر بھی ہو جائے گا۔

جب عورت کا اصل مقام اس کا گھر ٹھہرا اور مرد کی ذمہ داریاں گھر کے باہرکے ہر کام کیلئے مختص کر دی گئیں تو پھر “حجاب” کی بحث تو خود بخود ختم ہو گئی۔

حجاب کرنے نہ کرنے کا اصل معاملہ تو اس معاشرے یا تہذیب کا ہے جہاں عورت کو بھی مرد کی مثل سمجھ لیا گیا ہے۔ وہ مردوں کے ساتھ رات اور دن رہے گی، سائیکل سے لیکر ہر سواری چلائے گی۔ ہیوی سے ہیوی مشینری آپریٹ کریگی، دفتروں میں کام کریگی، گڑھے کھودے گی۔ کھیل کے میدانوں میں ہر قسم کے کھیلوں کا حصہ بنے گی اور حد یہ ہے کہ پہلوانی جیسے کھیل میں بھی شریک رہے گی۔ یہ وہ سارے کام ہیں جو صرف اور صرف خالص مردوں کے ہیں اور انھیں کو زیب دیتے ہیں۔ اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تو پھر ذرا کوئی یہ بتائے کہ وہ کام جو خالص ایک عورت کا ہوتا ہے کیا اس میں بھی کوئی مرد شریک ہو سکتا ہے۔ ایک نسل تیار کرنا، ایک خاص وقت تک اپنی ہی جان کھٹانا، پھر اس کی پرورش کرنا، اس کی تربیت کرنا، اس کی خاطر دن کا چین اور راتوں کا سکون برباد کرنا جیسا کوئی ایک کام بھی ایسا ہے جس میں مرد شریک ہو سکے۔

اگر ان ساری چیزوں کو دیکھا جائے تو پھر وہ خاتون جو مردوں کے سے ہر کام کرنے کی تو پابند ہو لیکن نسل کی آبیاری کیلئے کوئی مرد اس کا ساتھ دے ہی نہ سکتا ہو تو کیا وہ نسل کو پروان چڑھانے کیلئے تیار و آمادہ ہوگی؟۔

اس صورت حال کو سامنے رکھیں اور دیکھتے جائیں کہ وہ معاشرہ جہاں بے حجابی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، جہاں عورت کو بے لباس کر دیا گیا ہے اور مرد کا صرف ہاتھ اور چہرہ ہی نظر آتا ہے، گلا ہی نہیں گردن تک ٹائی لگا کر مستور کر لی جاتی ہے۔ عورت جس کو اپنی ہر خوبصورتی، زینت، زیور اور ستر کو ڈھانپنا چاہیے اسے بالکل کھول کر رکھ دیا ہے اور مرد جس کی سطر ناف تا پنڈلی ہے وہ مکمل مستور ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب عورت کو اتنا بیباک و بے حجاب کر دیا جائے گا، حالات ایسے بنا دیئے جائیں گے کہ اس کو اپنا پیٹ پالنے کیلئے بھی گھر سے باہر نکل کر روزی تلاش کرنی پڑ جائے گی تو کیا وہ معاشرے میں درندوں سے محفوظ رہ سکے گی؟۔ ایسا ممکن ہی نہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک تو مغربی معاشرے کی کوئی عورت نسل پروان چڑھانے کیلئے تیار ہی نہیں ہے اور قانون کی جانب سے حد سے زیادہ خواتین کے حقوق مردوں کو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتے ہیں کہ وہ پاکیزہ زندگی (شادی شدہ زندگی) گزار سکیں، لہٰذا وہاں ایک جانب خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے تو دوسری جانب بے باپ کے بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ رہے وہ گھرانے جہاں میاں بیوی باقائدہ شادی شدہ ہیں ان کے بچے بھی اوروں کی گودوں میں پر ورش پاتے ہیں کیونکہ میاں بیوی، دونوں کو اہنے اپنے روز گار سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔

اب غور کریں کہ ایک حجاب جس کو دینا ایک بہت بڑا مسئلہ بنائے ہوئے ہے، وہ معاشرے کو کتنے عذابوں اور فتنوں سے بچائے ہوئے ہے۔ ایک با حجاب عورت کتنی مطمئن، محفوظ اور خوش ہے۔ وہ نہایت سکون کے ساتھ ایک نئی نسل تیار کر رہی ہے۔ اس کی خاطر ہر مصیبت اور اذیت کو اس لئے برداشت کر رہی ہے کہ اس کا شوہر یا کفالت کرنے والا اس کیلئے ہر قسم کی آسائش و آرام کیلئے باہر کی دنیا سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے بچے معاشرے میں اس لئے بے آبرو نہیں ہیں کہ انھیں اپنے باپ کا علم نہیں ہے اور عورت اس لئے باعزت ہے کہ دنیا کو اس کے شوہر کا پتا ہے۔ مرد اس لئے معتبر ہے کہ دنیا اس کی اولاد کو اس کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے اور اس کے گھر والوں کے متعلق دنیا کو سب کچھ علم ہے۔ اس کے بھائی بھی ہیں، بہنیں بھی ہیں، چچا تایا، ماموں، پھوپھا غرض کے سارے رشتے دار اس کی شناخت ہیں۔ اس کے اصیل ہونے کا کسی کو کوئی شبہ نہیں۔

ایسا سب کچھ کیوں ہے؟۔ یہ سب صرف حجاب، حجانانہ سوچ اور خیال، اور عورت اور مرد کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا ثمرہ ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حجاب کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ایک عورت کو بہر لحاظ مستورہی رہنا ہے حتیٰ کہ اگر وہ چلے بھی تو اس طرح چلے کہ اس کی کسی بھی زینت کا اظہار نہ ہوسکے۔ جب زینت تک کے اظہار کو بھی منع کیا گیا ہے تو پھر کسی کا اس بحث میں الجھنا کہ اسے اپنا چہرہ نہیں چھپانا چاہیے تو اس قسم کی سوچ کو جاہلانہ فکر کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔

چھپانے کا مطلب بالکل ہی چھپالینا ہوتا ہے۔ کیا آپ کسی بڑے کرنسی نوٹ کو جیب میں رکھنے کو ہی کافی سمجھ سکتے ہیں، کیا آپ گوارہ کرسکتے ہیں کہ وہ آپ کے لباس سے چھلکے، لفافے میں چھپا کر بھی سامنے والی جیب میں رکھ کر آپ کا دل مطمئن رہ سکتا ہے؟۔ نہیں ہر گز نہیں۔ آپ اسے پاؤچ میں رکھیں گے اور پھر پاؤچ کو بھی محفوظ سے محفوظ جگہ پر چھپانے کی کوشش کریں گے۔ گویا چھپالینے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا چھپانا جیسا کہ چھپانے کا حق ہوتا ہے۔ جب کرنسی نوٹ کیلئے ہزار حجتیں بھی اکثر ناکافی محسوس ہوتی ہوں تو ایک عورت، ایک قیمتی سی قیمتی موتی سے بھی لاکھوں گنا ہستی کیلئے یہ مناسب ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے اور اس کی ساری زینتوں کا اظہار بھی ہو رہا ہو؟۔ کیا ایسے عالم میں کھاجانے والی نظریں اسے چکھنے سے رہ جائیں گی اور اگر ماحول ایسے شیطانوں کیلئے سازگار ہوا تو کیا وہ درندگی سے محفوظ رہے گی؟۔

حجاب کے اس موضوع کو قرآن و احادیث کے حوالوں سے بھی مزین جا سکتا تھا لیکن میں نے ایسے بھٹکے ہوئے افراد کو جو اللہ اور اس کے رسول کے حوالوں سے اور بھی زیادہ کبیدگی کا شکار ہوجاتے ہیں ان کو خالص دنیوی نقطہ نظر سے حجاب اور بے حجابی کے درمیان فرق کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ساری باتیں کھول کھول کر بیان کی ہیں۔ ان کے سامنے اس معاشرے کی تصویر بھی رکھ دی ہے جو بے حجابی میں اپنے آپ کو تباہی بربادی کا شکار کر چکے ہیں اور تصویر کا دوسرا رخ بھی رکھ دیا ہے کہ عورت کا حجاب معاشرے کیلئے کتنا ضروری ہے۔ اب اگر وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی نسل پاکیزہ نسل بنے، ان کی اولادیں بڑی ہو کرجانور نہ بنیں۔ ان کی اولادوں کو اس لئے شرمندگی نہ ہو کہ انھیں اپنے باپ اور اکثر کو اپنی ماں تک کی خبر نہ ہو۔ ان کو اپنے چچا،تایا، ماموں، پھوپھا، نانا یا دادا کی ہی خبر نہ ہو۔ ان کے بستر پر کن کن کے بچے جنم لے رہے ہیں تو وہ بے شک بے حجابی کی طرفداری کے سفیر بن جائیں لیکن جو دنیا کی ان غلاظتوں سے الگ رہ کر ایک خاندانی اور پاکیزہ زندگی اور بہترین مستقبل کے خواہاں تو پھر بہر صورت انھیں اپنی خواتین کو باحیا، با حجاب اور پاکیزہ زندگی کے مواقع فراہم کرنا ہونگے۔ یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر دنیا کی زندگی کو جنت نظیر بنایا جا سکتا ہے ورنہ دنیا تو جہنم بنے گی ہی دوسری دنیا میں بھی جہنم کے سارے دروازے نہ صرف ان کیلئے کھلے ہوئے ہونگے بلکہ ان کو منھ کے بل کھینچ کھینچ کر دہکتے ہوئے غاروں میں دھکیلا جا رہا ہوگا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here