عمران خان آپ وزیراعظم ہیں

میں اس بات کو کوئی معمولی بات خیال نہیں کرتا ملک میں پہلا حکمران ایسا آیا ہے جس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے اور بہت واشگاف الفاظ میں کیا ہے کہ وہ پاکستان کو پاکستان بنانا چاہتا ہے یعنی پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتا ہے جس کو دیکھ کر ہر فرد یہ کہہ اٹھے کہ پاکستان ریاست مدینہ کی ہم مثل ہے۔ یہ نہ پاکستان کے عوام کیلئے بالخصوص اور پوری دنیا کیلئے بالعموم بہت فخر کی بات ہے اور اگر پاکستان واقعی مثلِ ریاستِ مدینہ بن جائے تو کسی بھی مسلمان کیلئے اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی ہے۔

دنیا میں بسنے والے جتنے بھی انسان ہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں حق کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ہوں تو اللہ تعالی کی مخلوق لیکن اپنے خالق کے متعلق نہیں سوچتے ہوں۔ بات فقط اتنی سی ہے کہ کوئی اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار بنا کسی خوف و خطر کردیتا ہے اور کوئی دل میں سوچ کر ہی رہ جاتا ہے۔

کیا کوئی ایسا انسان جس کو کسی بھی حادثے یا خرابی ماحول کی وجہ سے کوئی اور اس کی پرورش کرے، بڑے ہونے کے بعد اسے معلوم ہو کہ پالنے والے اس کے حقیقی والدین نہیں تو کیا وہ یہ نہ سوچتا ہوگا کہ اس کے حقیقی والدین کون ہونگے اور کیسے ہونگے؟۔ وہ یقیناً ان کا کوئی نہ کوئی خاکہ اپنے دل و دماغ میں ضرور بناتا ہوگا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اور کائینات کے خالق کے بارے میں کبھی سوچتا ہی نہ ہو؟۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے عوام اور خصوصاً پاکستان کے نوجوان طالب علم دو واضح گروہوں میں منقسم ہو کر رہ گئے تھے۔ یہ ستر کی دھائی کا زمانہ تھا۔ چین سے قربت اور اس زمانے کے حکمرانوں کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت نے اس بحث کو عام کردیا تھا کہ ہماری معیشت اور معاشی پالیسیاں “سوشلزم” کے فلسفہ و فکر کے مطابق ہونی چاہئیں یا پھر اسلامی نظام معیشت کے مطابق۔ بعض کا یہاں تک خیال تھا کہ “سوشلزم” نظام معیشت اسلام کے فکر و فلسفے کے کافی قریب ہے۔ اسی سوچ اور کم علمی کے سبب سوشلزم کے ساتھ اسلامی کا تڑکا بھی لگادیا گیا تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے بہت ساری جانب سے پاکستان کے مسلمانوں کے دل و دماغ مین یہ بٹھادیا گیا ہے کہ جمہوریت اور اسلام کا چولی دامن (کدانخواستہ) کا ساتھ ہے اور پاکستان تک کا نام “اسلامی جمہوریہ پاکستان” رکھ دیا گیا ہے جو راقم الحروف کے نزدیک غلط ہے اور تصحیح طلب ہے۔

اس حوالے سے بات یہ کرنی تھی کہ اُس زمانے میں راقم کالچ گوئنگ تھا اور چین سے قربت نے نہ صرف پاکستان کے طالب علموں کو سوشلزم کے نظام معیشت میں الجھا کر رکھ دیا تھا بلکہ وہ اللہ کے وجود سے بھی انکار کی جانب جارہے تھے۔ میرے سامنے ایسے ہی بھٹکے ہوئے طالب علموں کے گروہ نے کہا کہ چین کے عوام تو اللہ کے وجود ہی کے منکر ہیں، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں کبھی چین تو گیا نہیں ہوں البتہ سنا میں نے بھی یہی ہے کہ ان کے فلسفے میں اللہ یعنی اس کائینات اور ہمارا خالق (خدا نخواستہ) کوئی نہیں ہے اور یہ سب کچھ اپنے آپ ہی وجود میں آگیا ہے۔ اس کے باوجود میں اپنے پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چین کا ایک ایک بچہ خالق کائینات (اللہ) کو مانتا ہے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو یہ بات کچھ اچھی نہ لگی، کہنے لگے کہ آپ یہ بات کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔ میرے ہاتھ میں اس وقت ایک رسالہ موجود تھا جس کو بھٹکے ہوئے نوجوان مقدس کتاب سے بھی کہیں زیادہ عقیدت سے پڑھا کرتے تھے۔ میں نے “چین باتصویر” ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہاں کسی کارخانے کے مزدور جمع تھے اور بہت باادب طریقے سے ماؤ کی کتاب “ریڈ بک” پڑھ رہے تھے۔ تصویر کے نیچے ایک تحریر تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ “چین کے سارے مزدور کام سے پہلے ماؤ کی کتاب پڑھتے ہیں اور اس کی درازی عمر کی دعا مانگتے ہیں”۔ یہ پڑھانے کے بعد میں نے سوال کرنے والوں سے کہا کچھ سمجھ میں آیا؟۔ اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ چین کے عوام ماؤ کی کتاب پڑھنے کے بعد درازی عمر کی دعا کس سے ماننے ہیں؟۔

بات یہی ہے کہ اس ایک اللہ کا نام کوئی بھی رکھ لیا جائے، خدا، اللہ، گاڈ بھگوان یا سپریم پاور، کائینات کا ہر فرد اس بات کو مانتا ہے کہ وہ خود، دیگر مخلوقات اور اس کائینات کی ہر شے کا خالق و مالک کوئی نہ کوئی ضرور ہے اور یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے وہ ہردم اپنے خالق و مالک کے متعلق سوچتا رہتا ہے اور اس بات کا متلاشی رہتا ہے کہ کوئی تو ایسا فلسفہ زندگی ہو جس کو اس کے مالک و خالق نے اس کیلئے بھیجا ہو۔

ہر فرد و بشر کو اس بات کا علم بھی ہونا چاہیے دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے جب حق کی جستجو میں نکلتے ہیں تو ہر جانب سے ناکام و نامراد ہوکر اس بات کے قائل ہوجاتے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی دین سچا ہے اور جو اسے اصل خالق و مالک سے قریب تر کر سکتا ہے وہ اسلام ہی ہے۔ دنیا میں اگر کسی مذہب کواپنا مذہب ترک کرکے کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے والے ہیں تو وہ اسلام ہی ہے اور جو سب کچھ سمجھ لینے کے باوجود دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوتے ہیں اس کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ دنیا میں نہ تو کہیں “اسلامی فلاحی” ریاست موجود ہے اور نہ ہی کوئی بھی انسان صحیح معنوں میں قرآن کی تفسیر نظر آتا ہے۔ اگر دنیا میں کسی بھی ملک یا خطے میں اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آجائے اور اس میں رہنے والے، بشمول وہاں کے حکمران، قرآن کی تفسیر میں ڈھل جائیں تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دنیا جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتی نہ نظر آئے۔

عمران خان کا یہ عزم کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنا کر ہی دم لیں گے ایک ایسی نوید ہے جس پر جتنا بھی خوش ہوا جائے وہ کم ہے۔

دنیا میں کوئی بھی کام ایسا نہیں جو ناممکن ہو، کوئی بھی دعویٰ ایسا نہیں جس کا کوئی انجام نہ ہو اور کوئی بھی خواب ایسا نہیں جس کو شرمندہ تعبیر نہ کیا جا سکے۔ بات عزم، دعوں اور اعلانات کی نہیں ہوتی بلکہ کر گزرنے کی ہوتی ہے۔ افسوس یہی ہے کہ اب تک عزم، دعوں اور اعلانات کی جانب کوئی ایک قدم بھی ایسا اٹھتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا جس سے اس بات کا یقین ہو سکے کہ ہم نے جن منزلوں کے خواب دیکھے یا ہمیں جن منزلوں کے خواب دکھائے گئے ہم انھیں منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ انسانوں کا نہیں انسانوں اور پوری کائینات کے خالق و مالک کا بنایا ہوا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں نہ صرف رد و بدل کیا جاسکتا ہے بلکہ ہر ہر منٹ کے بعد ہوتا رہتا ہے لیکن اللہ کے قوانین میں رد و بدل نہ تو ہوتا ہے اور نہ ہی کیاجانا ممکن ہے اس لئے کہ اس نے جو کچھ بھی نازل (قرآن) کیا ہے اس کی محافظت کا بھی خود ہی ذمہ لیا ہے۔ اب یہ انسانوں کا کام ہے کہ اس پر عمل پیرا ہوکر اپنی دنیا کو بھی جنت نظیر بنا کر زندہ رہیں اور آخرت میں بھی اجر عظیم کے مالک بنیں اور چاہیں تو اپنے آپ کو اللہ سے بھی زیادہ (نعوذباللہ) عقل کل سمجھ کر اپنی زندگی کیلئے قوائد و ضوابط مرتب کریں اور اپنی زندگی کو دنیا میں بھی جہنم بنا کر رکھ دیں اور آخرت میں بھی وہی کچھ کاٹیں جو زندگی میں بویا تھا۔

عمران خان صاحب نے جس عزم کا اظہار کیا ہے اصل میں وہی راستہ ایسا ہے جو پاکستان کواور پاکستان کے مسلمانوں کو ان کی صحیح منزل کی جانب لیجا سکتا ہے لیکن اس کیلئے صرف باتیں، اعلانات اور دعوں سے کام نہیں چلے گا۔ اس منزل کے راستے کوئی کوئی پھولوں کی سیج نہیں، بہت دشوار، پر خطر اور کانٹوں بھرے ہیں۔ جو ان راستوں سے گزر گیا وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ علامہ محمد اقبال (رح) فرماتے ہیں کہ

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اس کیلئے پہلی شرط ہی یہی ہے کہ اپنے آپ کو مٹادیا جائے، قوم کے سامنے نمونہ بنا جائے، قرآن کی تفسیر بن کر ابھرا جاے جس سے فی الحال حکمران طبقہ اور خود (معذرت کے کے ساتھ) عمران خان بہت دور ہیں۔ اقبال (رح) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں

مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

اسلامی فلاحی ریاست کی جانب پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو پورے کا پورا اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اس کی پوری زندگی اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ڈھلی ہوئی ہو۔ ذاتی اور اجتمائی زندگی کی تفریق ختم ہو جائے۔ وہ سراسر اللہ کا بندہ بن جائے۔ وہ دوستوں کیلئے نہایت ہمدرد اور دشمنوں (اللہ کے دشمنوں) کیلئے شدید ہو اور اس کے اندر اتنا حلم ہو کہ دشمن بھی اس کی دوستی کی تمنا کرتے ہوں۔

ابھی ایک یوم قبل کی بات ہے کہ وہ کچھ ایسے افراد کیلئے سخت برہم نظر آرہے تھے جھنوں نے کچھ اقدامات اور پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ممکن ہے کہ ان کی برہمی بجا ہو لیکن برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگر اس بات کا خیال کر لیا جاتا کہ اب وہ کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ نہیں بلکہ “اسلامی فلاحی” ریاست کے امین ہیں تو شاید برہمی کا اظہار کسی اور انداز میں بدل جاتا لیکن انھوں نے “میں دیکھ لونگا” تک کے نا مناسب الفاظ ادا کردیئے۔ اسلامی فلاحی مملکت تو دور کی بات ہے، یہ الفاظ مغربی جمہوریت کے سربراہ کو بھی بھلے نہیں لگتے۔ وزیر اعظم کسی امریت کا آمر نہیں ہوتا کہ قانون وہی کہلاتا ہے جو وہ اپنے منھ سے کہدے بلکہ وزیراعظم کی ایک پارلیمنٹ ہوتی ہے اور پارلیمنٹ یا مجلس مشاورت ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں کیا قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔

عمران خان صاحب اب آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، آپ کو ہر ہر معاملے میں، خواہ وہ ذاتی ہو یا اجتماعی، بہت محتاط رہنا ہوگا اور جبکہ آپ اس پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم بھی رکھتے ہوں تو اب اور بھی برد باری، حلم، تدبر اور وسعت قلبی کی ضرورت ہے۔ علامہ (رح) فرماتے ہیں

نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلئے

بات چھوٹے منھ سے بڑی بات جیسی ہی سہی لیکن یہی وہ طرز زندگانی ہوگا جس پر چل کر آپ اپنی منتخب منزل کو پانے میں کامیاب ہو سکیں گے بصورت دیگر یہ قوم پہلے ہی ہر جانب سے مایوس ہے، مزید مایوس ہو کر نزاع کا شکار نہ ہو جائے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

94 تبصرے

  1. It’s perfect time to make some plans for the longer term and it is time
    to be happy. I’ve learn this publish and if I may just I want to recommend you some attention-grabbing things or advice.
    Perhaps you can write next articles relating to this
    article. I wish to read more issues about it!

  2. Thank you, I’ve recently been looking for info about this topic for a
    while and yours is the best I have found out till now.
    However, what concerning the conclusion? Are you sure concerning the supply?

  3. Its such as you read my mind! You appear to understand so much approximately this, like you wrote the book in it or something.
    I feel that you just can do with some % to
    drive the message house a bit, but instead of that,
    that is great blog. An excellent read. I’ll certainly
    be back.

  4. Do you mind if I quote a few of your articles as long as
    I provide credit and sources back to your webpage?
    My blog site is in the exact same area of interest as yours and my
    visitors would genuinely benefit from some of the information you provide here.
    Please let me know if this ok with you. Appreciate it!

    Stop by my web-site :: ασφαλεια αυτοκινητου – Τιμές για ασφαλεια αυτοκινητου

  5. I just like the helpful information you supply on your
    articles. I’ll bookmark your weblog and check once more here frequently.
    I am slightly sure I will be told plenty of new stuff right here!
    Good luck for the next!

    Also visit my site – εργασια απθ (Blake)

  6. Greetings from Colorado! I’m bored at work so I decided to check out your
    site on my iphone during lunch break. I enjoy
    the information you present here and can’t wait
    to take a look when I get home. I’m shocked at how quick your blog loaded on my mobile ..
    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyways, excellent blog!

    Have a look at my website :: εργασια απθ

  7. I’m truly enjoying the design and layout of your website.
    It’s a very easy on the eyes which makes it much
    more enjoyable for me to come here and visit more often. Did you hire out a designer to create your theme?
    Outstanding work!

    Feel free to surf to my homepage :: εργασια Shipping (Nurcorp.Xyz)

  8. It’s really a great and helpful piece of info. I am happy that you shared this helpful info with us.

    Please keep us up to date like this. Thank you for sharing.

    My blog post: εργασια finance [Shoshana]

  9. Exceptional post however I was wanting to know if you could write a litte more on this subject?
    I’d be very thankful if you could elaborate a little bit further.
    Thank you!

    my site … εργασια finance (Caroline)

  10. When I initially left a comment I seem to have clicked the -Notify me when new comments are
    added- checkbox and from now on every time a comment is added I recieve 4
    emails with the same comment. There has to be a way you can remove me from that service?
    Appreciate it!

  11. Hello! I could have sworn I’ve been to this blog before but after browsing through some
    of the post I realized it’s new to me. Anyhow, I’m definitely glad I found it and I’ll be bookmarking and checking back often!

  12. I have been browsing online greater than 3 hours nowadays, but I
    never found any attention-grabbing article like yours.
    It’s pretty price enough for me. In my opinion, if
    all webmasters and bloggers made just right content
    as you did, the net might be a lot more helpful than ever before.

  13. Hello very nice web site!! Guy .. Beautiful ..
    Superb .. I will bookmark your site and take the feeds also?
    I am happy to search out so many helpful information right here in the submit, we want develop extra strategies on this regard, thanks
    for sharing. . . . . .

  14. Pretty nice post. I just stumbled upon your blog and wanted to say that I have really enjoyed surfing around
    your blog posts. In any case I’ll be subscribing to your rss feed and I hope you write again soon!

  15. hello there and thank you for your information – I’ve certainly picked up anything new from right here.
    I did however expertise a few technical issues using
    this site, as I experienced to reload the site lots of
    times previous to I could get it to load properly.

    I had been wondering if your hosting is OK? Not that I’m
    complaining, but sluggish loading instances times will very frequently affect your placement in google and can damage your quality score if ads and marketing with Adwords.

    Anyway I’m adding this RSS to my e-mail and could look out for a lot more of your respective fascinating content.
    Ensure that you update this again soon.

  16. Hello would you mind letting me know which webhost you’re utilizing?

    I’ve loaded your blog in 3 different internet browsers and I must say this
    blog loads a lot quicker then most. Can you recommend
    a good internet hosting provider at a reasonable price?
    Many thanks, I appreciate it!

  17. My coder is trying to persuade me to move to
    .net from PHP. I have always disliked the idea because of the expenses.
    But he’s tryiong none the less. I’ve been using Movable-type on numerous websites for about a year and
    am nervous about switching to another platform. I have heard excellent things about blogengine.net.
    Is there a way I can import all my wordpress posts into it?
    Any help would be greatly appreciated!

  18. Hello just wanted to give you a quick heads up. The text in your post seem to be running off the screen in Safari.
    I’m not sure if this is a formatting issue or something to do with browser compatibility but I thought I’d post to let you know.
    The style and design look great though! Hope you get the issue
    resolved soon. Thanks

  19. Howdy! This post couldn’t be written much better!
    Looking at this article reminds me of my previous roommate!

    He always kept talking about this. I most certainly
    will forward this article to him. Fairly certain he will have a great read.
    Thanks for sharing!

  20. Hi this is somewhat of off topic but I was wondering if blogs use WYSIWYG editors or if you have to manually
    code with HTML. I’m starting a blog soon but have no coding know-how so I
    wanted to get guidance from someone with experience. Any help would be greatly appreciated!

  21. Hey are using WordPress for your blog platform? I’m new to the blog world but I’m trying to get started and set
    up my own. Do you require any html coding expertise
    to make your own blog? Any help would be greatly appreciated!

  22. It’s really a cool and helpful piece of information. I am glad
    that you simply shared this useful info with us.
    Please stay us informed like this. Thanks for sharing.

  23. You really make it seem so easy along with your presentation but I in finding this matter to be actually one thing that
    I think I’d by no means understand. It sort of feels too complex
    and very extensive for me. I’m looking ahead in your subsequent submit, I will attempt to get the hold of it!

  24. You could definitely see your skills in the article you write.

    The arena hopes for more passionate writers like you who aren’t afraid to
    say how they believe. At all times follow your heart.

  25. Great beat ! I would like to apprentice while you amend your website,
    how could i subscribe for a blog site? The account helped me
    a acceptable deal. I had been tiny bit acquainted of
    this your broadcast offered bright clear idea

  26. Greetings from Los angeles! I’m bored to death at work so
    I decided to browse your blog on my iphone during lunch break.
    I love the info you present here and can’t wait to take a look when I get home.

    I’m amazed at how quick your blog loaded on my mobile ..

    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyways, very good site!

  27. each time i used to read smaller articles or reviews
    which also clear their motive, and that is also happening with this article which I am reading at
    this place.

  28. you are truly a good webmaster. The web site loading speed
    is incredible. It kind of feels that you are doing any distinctive trick.
    Furthermore, The contents are masterwork. you’ve done
    a magnificent job on this subject!

  29. Hi there! This post couldn’t be written much better!

    Reading through this article reminds me of my previous roommate!

    He always kept preaching about this. I am going to send this article to
    him. Fairly certain he will have a very good
    read. I appreciate you for sharing!

  30. Hello! I could have sworn I’ve visited this web site before but after browsing through many of the articles I realized it’s new to me.
    Anyways, I’m definitely happy I came across it and I’ll be bookmarking it and checking back frequently!

  31. Hello there, I found your site via Google while searching for a similar subject, your site came
    up, it appears to be like great. I have bookmarked it in my google bookmarks.

    Hello there, simply changed into aware of your blog
    thru Google, and located that it is truly informative.
    I’m going to be careful for brussels. I’ll be grateful when you continue this
    in future. A lot of other folks will likely be benefited
    out of your writing. Cheers!

  32. naturally like your website however you need to check
    the spelling on quite a few of your posts. A number of them are rife
    with spelling issues and I in finding it very bothersome to inform
    the reality however I’ll surely come back again.

  33. Hello there, I discovered your blog by the use of Google
    while searching for a similar subject, your website got here up, it
    seems to be good. I have bookmarked it in my google bookmarks.

    Hi there, just was alert to your weblog through Google, and located that it is really informative.
    I’m gonna be careful for brussels. I will appreciate when you continue this
    in future. A lot of other folks can be benefited from your writing.
    Cheers!

  34. Thanks for your marvelous posting! I seriously enjoyed reading it, you may be a great author.
    I will remember to bookmark your blog and will often come back very soon. I want to encourage you continue your great writing,
    have a nice holiday weekend!

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here