المیہ

            ایک زمانے میں ہند میں کوئی دیوار موجود نہیں تھی۔ اسی سر زمین میں سب ایک ہی تھے۔ سارے ہندوستانی ہی تھے۔ پھر ہوا یہ کہ راتوں رات بنا کسی تکلیف کروڑوں انسان پاکستانی کہلانے لگے اور جن کی بے پناہ قربانیوں اور سالہا سال کی جدوجہد سے وہ کروڑوں انسان جو پاکستان کی خاطر کٹ مرے اور پاکستان کی محبت میں اس خطے میں منتقل ہوگئے جو پاکستان کہلانے لگا تھا، وہ سب کے سب ایک طویل مدت تک “ہندوستانی” سمجھے اور کہلائے گئے۔ پاکستان بنانے والوں کیلئے اپنے آپ کو ہندوستانی کہلانا یا سمجھا جانا سمِ قاتل سے کم نہ تھا اس لئے کہ اگر انھیں “ہندوستانی” کہلانا ہی پسند ہوتا تو وہ ایک الگ ملک جس کانام پاکستان تجویز کرلیا گیا تھا، وہاں ہجرت اختیار کرنا کیونکر گوارہ کرتے۔چنانچہ انھوں نے اپنی شناخت “پاکستانی” کہلوانے کی ایک طویل عرصہ تک کوشش کی لیکن تعجب کی بات ہے وہ لوگ جو اپنے آپ کو اہل پاکستان گمان کر بیٹھے تھے، انھیں یہ شناخت پسند نہیں آئی اور وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کو اور خاص طور سے وہ مہاجرین جن کی مادری زبان اردو تھی، ان کو کسی طور بھی پاکستانی ماننے کیلئے تیار نہ ہوئے اور وہ پورے پاکستان میں اصل پاکستانی ہونے کے باوجود “ہندوستانی” سمجھے اور سمجھا ئے گئے۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے وہ اردو بولنے والے جو کلکتہ یا اس سے ملحقہ شہروں میں تھے یا جن کا تعلق بہار سے تھا ،وہ جب ہجرت کرکے بنگال (مشرقی پاکستان) پہنچے تو بہاری کہلائے اور جب وہاں لسانیت کے بنیاد پر پاکستان سے بغاوت کی تحریک چلی تو پاکستان کی محبت سے سرشار کروڑوں بنگالیوں کے آگے چٹان بن کر پاکستان کی محافظت کیلئے کھڑے ہو گئے اور پاک فوج کا ساتھ محض اس لئے دیا کہ وہ پاکستان کو بچانے کا دعویٰ لیکر مدد کی طالب تھی۔ اس جرم میں انھیں بھاری تعداد میں موجودہ پاکستان کی جانب ہجرت کرنا پڑی۔ اتنی عظیم قربانیوں کے باوجود (دو دو ہجرتوں کے باوجود) بھی وہ نہ تو پاکستانی کہلائے جاتے ہیں اور نہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔ پورا پاکستان آج بھی ان سب کو بہاری ہی کہتا ہے۔

            یہ کیسا المیہ ہے کہ وہ مسلمان جن کی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت راتوں رات کروڑوں “ہندوستانیوں” کی شناخت “پاکستانی” بنی ان سب نے پاکستان بنانے والوں کو محض اس بنیاد پر کہ ان کی پیدائش 1947 سے پہلے اس ہندوستان میں نہیں ہوئی تھی جو 1947 کے بعد پاکستان کہلانے لگاتھا، پاکستانی ماننے سے ہی انکار کردیا جبکہ دیکھا جائے تو بنیادی طور پر تو بر صغیر کے سارے انسان “ہندوستانی” ہی تھے۔ پاکستان بن جانے کے بعد وہ راتوں رات پاکستانی ہو گئے۔

            ایسے لاکھوں افراد جب پاکستانی کہلائے اورسمجھائے جانے میں ناکام ہوئے تو پھر ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ ہجرت کو بنیاد بنا کر اپنی پہچان “مہاجر” بنالیں جس میں بہر حال ان کو ناکامی نہیں ہوئی یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں ایسا کہلوانہ اچھا نہیں سمجھا گیا لیکن اہلیان پاکستان جب بھی ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کا حوالہ دیتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی لفظ “مہاجر” کا استعمال کیا جاتا ہے۔

            اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کے وہ حضرات و خواتین جنھوں نے ہجرت کی سختیاں سہی ہونگی ان میں سے شاید ہی کوئی حیات ہو اور ایمانداری سے دیکھا جائے تو اب جو جو لوگ بھی اپنے آپ کو مہاجر کہتے ہیں وہ سارے کے سارے پاکستان ہی میں پیدا ہوئے ہیں بلکہ اب اولاد در اولاد والے بھی ہو گئے ہیں اس لحاظ سے وہ سب پاکستانی ہی ہیں۔ اگر اس فلسفے کو مان لیا جائے تو پھر بہاریوں کو بہاری کیوں کہا جاتا ہے، بنگالیوں کو بنبگالی کیوں کہا جاتا ہے، برمیوں کو برمی کیوں کہا جاتا ہے، کشمیریوں کو کشمیری کیوں کہا جاتا ہے، بلتیوں کو بلتی کیوں کہا جاتا ہے اور اب سب سے بڑھ کر افغانیوں کو افغانی کیوں کہا جاتا ہے؟۔ ان تمام کو صرف اور صرف پاکستانی کیوں نہیں کہا جاتا؟۔ بنگالی تو بہر لحاظ پاکستانی ہی ہیں اس لئے کہ بنگلہ ڈیش کبھی پاکستانی ہی ہوا کر تا تھا۔ اگر بنگلہ ڈیش کے کچھ لوگ پاکستان میں سقوطِ ڈھاکہ سے قبل پاکستان ہی میں تھے یا وہاں کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے مغربی پاکستان کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے تو کیا وہ پاکستانیت ہی سے خارج ہوگئے تھے؟۔ ان کے ساتھ تو ظلم کی یہ انتہا ہوگئی کہ تاحال ان کو شہری حقوق سے ہی محروم رکھا گیا ہے اور وہ پاکستان میں محض اس بنیاد پر کہ وہ بنگالی ہیں، اجنبیوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔

            بنگال ایک علاقہ یا خطہ زمین ہے، بہار بھی ایک خطہ زمین کا نام ہے، “برمی” ہونا کوئی نسل نہیں اور نہ ہی افغانستان کسی “جد” کا نام ہے۔ یہ سب خطہ ہائے زمین صرف اور صرف ان کی پہچان کے علاوہ اور کچھ نہیں تاآنکہ کوئی اس شناخت یا پہچان کوعلاقائیت کی بنایاد پر استعمال کرے۔ کیا ایسی شناخت یا پہچان بنالینا یا سمجھ لینا کوئی جرم ہے؟۔ اگر یہ سب جرم نہیں تو اگر کوئی قوم اپنی شناخت “مہاجر” (جبکہ وہ بانیان پاکستان کی اصل سے بھی ہوں)، کے نام سے کرانا چاہتی تھی اور اب بھی خواہش رکھتی ہے تو اس میں کسی جھگڑے یا دشمنی یا تعصب کی کیا بات ہے۔

            اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حکومتی سطح پر ہو یا لسانی یا علاقائی بنیاد، پاکستان میں سب سے زیادہ مجروح کی جانے والی کمیونٹی وہی رہی ہے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئی اور جنھوں نے اپنا مسکن کراچی بنالیا۔ ایوبی دور سے لیکر تا حال یہی کمیونٹی کسی نہ کسی بہانے نشانہ بنائی جاتی رہی ہے اور ہر سطح پر اسے پاکستانی نہیں سمجھا گیا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایوب خان کی اہل کراچی سے آخر کیا دشمنی تھی؟، کیا الیکشن میں اس کی مخالفت کرنا ریاست پاکستان سے بغاوت تھا، کیا بھٹو دور میں ڈھانے والے مظالم کسی یہودی یا ہندو ہونے کی بنیاد پر تھے۔ حیدرآباد کی خونریزی ہو یا علی گڑھ کو نذر آتش کرنا پاکستانیت تھی۔ 1992 سے شروع ہونے والا آپریشن 2002 تک جاری رکھا گیا تو اس کی بنیاد کیا تھی اور موجودہ آپریشن جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے، کیا وہ کبھی ختم ہوگا؟۔

            جو حکومت آتی ہے وہ 12 مئی کو لے کر بیٹھ جاتی ہے لیکن اپنے اپنے دور میں کبھی ذمہ داروں کا تعین نہیں کرپاتی۔ ساری کہانی الزامات اور مفروضات پر آکر رک جاتی ہے۔

            مجھے آج تک نہیں معلوم ہو سکا کہ لوگوں کو سندھ کی سب سے بڑی پارٹی پی پی پی کے دلائی کیمپ کیوں یاد نہیں، الذوالفقار کا بننا، پی آئی اے کے جہاز کا ہائی جیک ہونا، سیاسی لیڈروں کا قتل، سندھ کے 22 شہروں کو نذر آتش کرنا، ہزاروں مہاجرین کا قتل عام کیوں یاد نہیں رہتا۔ سب بہیمانہ کاروائیوں کو چھوڑ بھی دیا جائے تو بے نظیر کی ہلاکت کے بعد کراچی تا خیبر پھونک دینا اور ایک ہفتے تک پورے پاکستان کے بازار، بینک اور لوگوں کی ذاتی پرپرٹیز کو خاکستر کردینا کیوں نذر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ تو وہ ظلم ہے جو پوری تاریخ انسانی میں کسی قوم نے اپنے ملک کے ساتھ نہیں کیا ہوگا۔ اتنے بڑے ظلم سے بڑھ کر جو سب سے بڑا ظلم ہوا وہ یہ تھا کہ ایک ایسی پارٹی جس نے اپنے ہی ملک کو بھون کر رکھ دیا اسی پارٹی کے سربراہ کو پورے پاکستان کا صدر بنا دیا گیا۔ رونا صرف 12 مئی کا ہی رویا جاتا ہے اور ایسا کیا جاتا رہے گا اس لئے کہ یہ واقعہ کراچی میں جو ہوا تھا۔

            آج ذوالفقارمرزا سے کہیں بڑھ کر ایک اور لیڈر پھٹ پڑا۔ اسے پھٹ پڑنے کا مکمل حق جو حاصل تھا۔ جب اس کے مرزا کو پاکستان کی نہ تو کوئی عدالت پکڑوا سکی اور نہ کوئی ادارہ اس کی راہ میں مانع ہوا تو پھر اس کی زبان کون کھینچ سکتا تھا۔ جو اس مٹی کی پیداوار ہیں ان کو بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کو سب کچھ کہنے کا حق ہے لیکن جواب میں کسی کو بھی ان ہی کی زبان اور لہجے میں بولنے کا کوئی حق نہیں بلکہ اگر کسی نے لب کشائی کی جرات کرلی تو وہ “را” کا ایجنٹ بنادیا جاتا ہے۔

            ہم اہل سندھ کیلئے بھوکے بھی ہیں اورننگے بھی۔ جب بھی کوئی اہل سندھ جوش میں آتا ہے وہ اسی قسم کی نیچ زبان استعمال کرتا ہے۔ دلوں میں ایک آگ ہے جو سرد ہوکر ہی نہیں دیتی۔

            میں صرف ایسا کہنے والوں سے یہ کہتا ہوں کہ جب ہندوستان میں کوئی لکیر نہیں کھنچی تھی تو سندھ یا کراچی کتنا ترقی یافتہ تھا؟۔ کتنی لوگ آج کی سرحدوں کے اُس پار سے اندرون سندھ یا کراچی کی جانب آیا کرتے تھے۔ سندھ میں کتنی مدنیت پائی جاتی تھی؟، سیورج کا کتنا انتظام تھا؟، پاکی اور ناپاکی کی کتنی تمیز تھی؟، کتنے کارخانے اور ملیں تھیں؟، سڑکیں اور گلیاں کتنی اعلیٰ ہوا کرتی تھیں؟۔

            کراچی ہی کیا پورے سندھ کو ایک نئی جہت کس نے دی اور کراچی کو پاکستان کا سب سے اعلیٰ شہر کس نے بنایا؟۔

            کہتے ہیں کہ ہم ننگے بھوکے تھے؟، تھے نہیں پاکستان کی خاطر ہم نے ہر برہنگی، بھوک، اورتنگ دستی برداشت کی اور آج بھی جہاں جہاں ہم آباد ہیں وہاں کوئی محل نہیں کھڑے ہوئے البتہ ہم نے نہ صرف کراچی کو بلکہ پاکستان کو محل ضرور بنادیا۔ محل حلال کی آمدنی سے کبھی نہیں بنا کرتے۔ جہاں جہاں بھی محل ہیں اور جو جو بھی محلوں کے مالک ہیں ان میں 90 فیصد حرام خور، راشی، ظالم وڈیرے، جابر جاگیردار، ملک، چوہدھری، سردار اور خان آباد ہیں جو اپنے ہی لوگوں کو خوشحال، تعلیمیافتہ اور پڑھا لکھا دیکھنا گوارہ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ اپنے لئے تو بڑے بڑے محل بنا تے ہیں لیکن غریب کی کٹیا بھی ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ اپنے ہی لوگوں سے بیگار لیتے ہیں اور سرکشوں کیلئے ذاتی جیلیں تعمیر کرتے ہیں۔

            ہم ننگے بھوکے ہی آئے تھے لیکن اپنے خون جگر سے ایک بے آب و گیا زمین کو گل و گلزار بنا کر رکھ دیا۔ طعنے دینے والے بتائیں کہ جتنے اسکول اور کالج کراچی میں ہیں کیا اندرون سندھ کسی شہر، گاؤں یا دیہات میں ہیں؟، کیا اتنے ہسپتال ہیں، کیا اتنی جامعات ہیں، کیا اتنے بڑے بازار اور شاپنگ مال دادو یا لاڑکانہ میں ہیں؟۔

            کون ہے ننگا اور بھوکا اس کا بہت بڑا حوالہ تو نہیں دونگا لیکن مجھے کوئی یہ بتائے کہ کس کی گھر کی خواتین کراچی کے ننگے بھوکوں کے گھروں میں ماسیاں بن کر اپنی روزی کما رہی ہیں، کس کے شہر کے لوگ کراچی میں چنچیاں چلاکر اپنے گھر کی ضروریات پوری کر رہے ہیں؟،

            واہ کیا کہنے ہم ننگے بھوکوں کے جن کے گھر وڈیروں کے گاؤں دہیات کی بچیاں اور خواتین جھاڑو برتن کرتی ہیں اور اتنے عزت کے ساتھ کرتی ہیں کہ شاید ہی کسی کے ساتھ کوئی بے شرمی کا سلوک کیا جاتا ہو۔

            کیا ان کے شہروں، گاؤں اور دیہاتوں میں کراچی کے ننگے بھوکوں کی خواتین برتن مانجھنے جاتی ہیں؟۔ کیا کراچی کے غریب ان کے علاقوں میں جاکر اپنی روزی تلاش کرتے ہیں؟۔

            دل تو اندر سے بہت دکھی ہے لیکن میں اپنی بات کو جوش ملیح آبادی کے اس قطعہ کے ساتھ ختم کرنگا کہ

آدمی بزم میں دم تقریر

جب کوئی حرف لب پہ لاتا ہے

در حقیقت خود اپنے ہی حق میں

کچھ نہ کچھ فیصلہ سناتا ہے

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here