ڈاکٹر نجیب الکیلانی
ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ
(۸)
آہ ’’قومول‘‘ شہر! تو نے کیا کیا دردناک مناظر دیکھے، جب قومول کے چینی حاکم نے ہماری شہزادی پر تسلط حاصل کرنے میں منہ کی کھائی اور سارے علماء بیدار ہو گئے اور انقلاب کی نوید سنائی دینے لگی، ہر زبان پر قومول کا ذکرِ خیر ہونے لگا۔ اس کا نام انکار اور عزیمت کی مثال بن گیا، قومول شرف اور آباء کی سنہری تاریخ کی مثال بن کر ابھرا، عوام اپنے پیکرِ ثانی پر فخر محسوس کرتے .. وطن ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ بالکل باپ دادا کے زمانے جیسے ۔ کبھی وہ ان ناموں سے نسبت قائم کرنے کے حقدار ہوتے ہیں اور کبھی سب مخلوقات سے نیچ بن جاتے ہیں یا ایسے کہ ان کا اﷲ کی کائنات میں کوئی وزن نہیں ہوتا .. اسکے باوجود کہ یہ دن بھی پر لگا کر اڑ گئے اور قومول انتقام کا نشانہ بن گیا .. قصرِ امیر گولیوں ،سزا اور انتقام کا بنیادی نشانہ تھا .. شہزادی ہنوز محل میں تھی، اس کے ہمراہ المالکہ قبیلے کے چند افراد اور نجمۃ اللیل ابھی تک وہیں تھے .. خاندانِ مالکہ فرار کا منصوبہ بنا چکا تھا، مگر چینی قائد ’’باودین‘‘ نے دھاوا بول دیا، اس کے ساتھ پلٹن کے کچھ سپاہی تھے .. وہ تلوار لہراتا محل میں داخل ہوا، اندر داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹک کر رہ گیا، ایک حسینہ باغیچے میں پھول چن رہی تھی اور سرخ گلابوں کے بیچ اس کا چہرہ بھی ایک گلاب ہی تھا۔وہ باغیچے میں معطر فضا سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ نجمۃ اللیل مسکرائی اور بڑے معنی خیز انداز میں نظر اٹھا کر باودین کو دیکھا اور قبل اس کے کہ سپاہی کچھ بولتا اس نے سنا وہ مسکراتے ہوئے اس سے مخاطب تھی:
’’ہم تشدد برداشت نہیں کرتے .. مجھے بہادر مرد پسند ہیں لیکن مجھے ترش رو جلادوں سے نفرت ہے .. ‘‘
باودین نے حیرت سے اسے دیکھا، ان باتوں سے کیا مراد ہے؟؟ اور یہ ہے کون؟؟ اس کا حسن تو واقعی آفت ہے اور ہر بار جب اس کی نظر اٹھتی اسے پانے کا شوق بڑھ جاتا، لیکن وہ کسی پر یوں اعتماد بھی نہ کر سکتا تھا، اسے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا تھا .. وہ ہر چیز چھین کر پانے کا خوگر تھا، کیا وہ جنگجو نہیں؟؟ اور فاتح بھی! ان سارے مسلمانوں نے چینیوں سے شادیاں کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے .. اس نے سنا وہ کہہ رہی تھی:
’’اگر مجھے جبر سے اپناؤ گے تو میری موافقت سے ترس جاؤ گے .. ‘‘
باودین نے بندوق کی نالی نیچے کر لی جو اس پر تان رکھی تھی اور قریب آ کر بولا:
’’اس سے میں یہ مراد لوں کہ تمہیں میرے ساتھ کچھ وقت گزارنے سے انکار نہیں، کہ ہم ایک جام پی لیں .. ‘‘
وہ کھل اٹھی:
’’کیوں نہیں احمق؟؟ لیکن مجھے تمہارے آدمیوں سے شرم آتی ہے‘‘
’’میں انہیں باہر نکال دیتا ہوں، یہ وہیں انتظار کریں گے .. ‘‘
نجمۃ اللیل چڑ کر بولی:
’’یا الہی!! عاشق کیسے مزے لوٹ سکتے ہیں جب نگاہیں انہیں تاک رہی ہوں یا کم از کم وہ یہ جانتے ہوں کہ وہ کسی کا یوں انتظار کر رہے ہیں .. نہیں .. نہیں .. انہیں دور بھیج دو .. بہت دور .. ‘‘
’’ہمیں محل میں کچھ لوگوں کی تلاش ہے .. ‘‘
’’میں محل والی ہوں اور تمہارے اختیار میں آچکی ہوں‘‘
اس نے ایک آنکھ دبا کر کہا، باودین نے سپاہیوں کو بیرکس میں واپس چلے جانے کا حکم دیا اور انہیں فوراً ہی محل سے نکال دیا، اور نجمۃ اللیل کی جانب بڑھا:
’’خوب .. تمہارے حسن کے سامنے عقل کہاں رہتی ہے .. ‘‘
’’میرے قریب نہ آنا .. مجھے تیار ہونے دو اور تمہارے جام کا انتظام بھی تو کرنا ہے‘‘
اور نجمۃ اللیل الٹے قدموں اندر بھاگی، شہزادی، ملکہ ان کے بہن بھائی اور سارا کنبہ شدیددہشت میں تھے، رات قومول پر اپنے سیاہ پر پھیلا چکی تھی، خوف کی حکمرانی تھی، نجمۃ اللیل نے مالکہ سے بڑی سرعت اور ہوشیاری سے کہا:
آپ فوراً کوچ کر جائیں قبل اس کے کہ چینیوں کے ہاتھوں قید ہو جائیں، یہ معاملہ بڑا تکلیف دہ ہے، میں دھوکے سے کمانڈر کو مصروف رکھتی ہوں، اس دوران آپ عقبی دروازے سے نکل جائیں، اور پہاڑوں پر چلے جائیں، گاڑی پہلے سے منتظر ہے، مرد فرار میں آپ کی نگرانی کریں گے، راستے میں کسی سے بھی الجھنے سے گریز کریں، معمولی سی کھٹ پٹ بھی آپ کے دشمنوں کو اکٹھا کرنے میں دیر نہیں لگائے گی اور آپ کی جان یا عزت کو نقصان پہنچائے گی، میں آپ کی خاطر اپنی قربانی دینے کو تیار ہوں، ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کیجیے کیونکہ کمانڈر محل کے کمرے تک پہنچ چکا ہے اور میں شراب کا جام اس کے پاس لئے جا رہی ہوں تاکہ اسے کچھ وقت مصروف رکھوں اور آپ لوگ اس کی دسترس سے نکل جائیں .. ‘‘ اس کے آنسو بہہ نکلے، الوداعی کلمات آہوں اور اور گھٹی گھٹی سسکیوں میں دب گئے، نجمۃ اللیل لوٹی تو ابھی تک اس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں، وہ چینی ’’راک گیت‘‘ گنگنا رہی تھی جس کے کچھ بند اس نے بوڑھی چینی خادمہ سے یاد کئے تھے، اس نے شراب کے جام اٹھا رکھے تھے، اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک جام کمانڈر باودین کو پیش کیا، اس نے مشکوک انداز میں اسکا جائزہ لیا اور زور سے ہاتھ مارا، نجمۃ اللیل کانپ کر رہ گئی اور زرد رنگت لئے بولی:
’’کیا ہوا ہے؟؟‘‘
’’تم نے اس میں زہر ملایا ہے .. ‘‘
وہ ہنستے ہنستے دوہری ہو گئی اور اسے بڑی حقارت سے دیکھتے ہوئے بولی:
’’پہلے میں اسے پیوں گی .. یوں بھی اس محل کی تاریخ میں کوئی شخص زہر کے اثر سے نہیں مرا .. یہاں مرد و خواتین تلواروں سے مقابلہ کرتے ہیں .. ‘‘
باودین اس کے قریب آیا اور اسے قریب کرنے کی کوشش کی، اس نے اسے آہستہ سے پیچھے دھکیل دیا اور نرمی سے کہنے لگی:
’’تم نے بڑا نقصان کر لیا ہے .. ‘‘
اسے اس کا طنز سمجھ آگیا وہ کھسیا کر بولا:
’’مجھے افسوس ہے‘‘
’’بے فائدہ‘‘
’’اس کے کیا معنی ہیں؟؟‘‘
’’نجمۃ اللیل اﷲ وحدہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی .. ‘‘
’’لیکن ہر شے سے پہلے ہم محبت کی ڈور میں بندھے ہوئے ہیں .. ‘‘
’’شک محبت کا سب سے بڑا قاتل ہے کمانڈر صاحب .. ‘‘
’’ان حالات میں میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتا .. اس تناؤ میں ہمارے کئی ساتھی یونہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں .. اور مجھے تم سے محبت ہے۔
وہ اسی طرح جمی کھڑی رہی، اور جرأت سے بولی:
’’میں آج رات تمہیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتی .. ‘‘
وہ کتنی عجیب تھی، باودین اپنے آپ سے ہمکلام تھا، اس کے بس میں تھا کہ اسے اس کے سنہری بالوں سے پکڑتا اور اسے اپنے فوجی بوٹوں تلے روند ڈالتا، پھر اس کے ارادوں میں کوئی حائل نہ ہو پاتا، لیکن اس کا دل نہ مانا، وہ اس کے انداز اور سادہ وحشی حسن کا اسیر اور اس کے صاف واضح اندازِ کلام سے پسیج چکا تھا ..
’’میں تم سے محبت کرتا ہوں نجمۃ اللیل .. اور میں اس وقت تک یہاں سے نہیں ہلوں گا جب تک تم اپنی رضا مندی کا اظہار نہ کر دو ‘‘
وہ داخلی دروازے کی جانب منہ موڑ کر کھڑی ہو گئی اور رکھائی سے بولی:
’’تم پیچھے سے گولی چلا سکتے ہو .. میں تمہیں جانتی ہوں، لیکن میں اپنے کمرے میں آرام کرنے جا رہی ہوں .. ‘‘
وہ منت کے انداز میں بولا:
’’او میری قیمتی شہزادی .. ‘‘
وہ مڑی اور غصے سے کہنے لگی:
’’میں شہزادی نہیں ہوں، مسکین شہزادی چھوٹی بچی ہے اور کسی خوفزدہ بلی کی طرح پہاڑ پر بھاگ گئی .. حقیقت یہ ہے کہ میں محل کی پرانی ملازمہ ہوں اور اگر تم چاہو تو میں محل کی مالکہ ہوں .. امیر ان کی بیوی اور دوسرے اہلِ خاندان میرے بارے میں باہم سرگوشیاں کرتے رہتے تھے .. تمہیں پتا چلا کہ میں کون ہوں .. ‘‘
ان کے درمیان بات طویل ہو گئی، اسے یقین ہو گیا کہ المالکی قافلہ محل سے فرار ہو کر پہاڑ پرپہنچ چکا ہے۔ اس کا پلان کامیاب ہو گیا تھا، اس نے محل اور اس کے مکینوں سے متعلق اپنا فرض ادا کر دیا تھا اور ان کے لئے آزاد فضا میں سانس لینا ممکن بنا دیا تھا .. اب مصائب اس کے گرد گھوم رہے تھے، سارے اصول جنگ کی دھول میں گم ہو گئے تھے، حکومت گئی، پھر لڑکھڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی، حاکم بدل گئے اور فتح و شکست میں آنکھ مچولی ہونے لگی، راتیں بے خوابی، آنسؤوں اور عذاب میں ڈھل گئیں، زندگی کو اکتاہٹ اور گھٹن نے ڈھانک لیا، امیر چلا گیا، کبھی نہ لوٹنے کیلئے اور مصطفی مراد حضرت بھی چلا گیا، وہ بھی کبھی نہیں لوٹے گا، اس کے گرد کی دنیا میں جنگل کا قانون رائج ہو گیا، چوکڑیاں بھرتے جانور، جسموں کو بھنبھوڑتے ، خون چاٹتے ہوئے اور نجاست سے لپٹے ہوئے .. اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور شہزادی کے کمرے میں چلی گئی۔ پورا کمرہ قیمتی اشیاء سے آراستہ تھا، وہ شہزادی کے بستر پر لیٹ گئی، اس نے مایوسی سے ٹھنڈی آہ بھری، دیواروں پر سرخ سائے رقصاں تھے اور سنہری سجاوٹ مریضانہ پیلاہٹ کا تأثر دے رہی تھی اور دیوھیکل باودین کسی ذلیل کتے کی مانند دروازے پر کھڑا تھا .. نجمۃ اللیل نے اپنے احساسات اور حواس قابو کئے
’’کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے .. ‘‘
’’دروازہ باہر سے بند کر دو .. ‘‘
اس نے بلا ارادہ اس کے حکم کی تعمیل کی اور وہ حیران رہ گیا، وہ دروازے سے باہر کھڑا تھا اکیلا، بالکل ہونقوں کی طرح، اسے خجالت ہونے لگی، اس نے دوبارہ دروازہ کھول دیا اور کسی زخمی بیل کی طرح اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا۔ وہ ذرا نہ ہچکچایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا، اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ..
’’میں آج رات تمہیں نہیں دیکھنا چاہتی .. ‘‘
’’پھر میں کہاں جاؤں‘‘
’’اس محل پر تم قبضہ کر چکے ہو .. اتنے بڑے محل کے کسی بھی کمرے کو تم استعمال کرسکتے ہو .. ‘‘
’’اور تم؟؟
وہ کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی:
’’تم مجھے گری پڑی چیز سمجھتے ہو؟؟‘‘
اسے سمجھ نہ آئی کہ جواباً کیا کہے
’’اچھا .. اگر تم مجھ سے شادی کر لو .. تو … ‘‘
وہ چپ رہی، اس نے اس کی طرف دہشت زدہ ہو کر دیکھا، وہ کہنے لگا:
’’کیسے؟؟‘‘
’’اگر تم میرا دین اختیار کر لو‘‘
’’تمہارا دین کیا ہے؟؟‘‘
’’اسلام .. ‘‘
’’لیکن میں کیمونسٹ ہوں، مجھے دین داروں سے نفرت ہے‘‘
’’میری نظر میں نہایت گھٹیا ہے وہ شخص جو اپنے خالق پر ایمان نہیں رکھتا .. تم اپنے باس کے سامنے تو ادب اور احترام سے کھڑے ہوتے ہو، جیسے تم نماز میں کھڑے ہو، تو پھر اپنے خالق کے عائد کردہ فرائض کیوں ادا نہیں کرتے .. ‘‘
وہ قریب رکھے آرام دہ صوفے پر ڈھے گیا اور بولا:
’’مجھے کسی خالق سے آگاہی نہیں‘‘
’’تمہیں جاننا چاہیے‘‘
’’اگر میرے سینئرز کو معلوم ہو گیا کہ میرے ایسے دقیانوسی خیالات ہیں تو وہ میرے ٹکڑے کردیں گے .. ‘‘
’’تم یہ معاملہ راز میں رکھ سکتے ہو‘‘
’’ہاں‘‘
’’ٹھیک ہے چلو آؤ .. ‘‘
’’کس لئے؟؟‘‘
’’شادی کرنے .. ‘‘
’’تمہیں کچھ لوازمات اور کلمات ادا کرنے ہونگے .. اور کچھ بنیادی عقائد کو سمجھنا ہوگا … اس کا سینہ گھٹنے لگا، اسے لگا کہ وہ اس سے فرار چاہتی ہے اور اسکے مطالبے بڑھتے جا رہے ہیں، وہ اسے ان معاملات کی جانب دھکیلنے لگی ہے جن کے بارے میں اس نے کل تک سوچا بھی نہ تھا۔ وہ اسے اس حد تک کیوں زچ کر رہی ہے؟؟ اور وہ اتنا صبر کیسے کر سکتا ہے .. وہ تنگ آ کر بولا:
’’میں تمہیں گھسیٹ کر اپنے قدموں میں گرا سکتا ہوں کسی بھیڑ بکری کی طرح، اور جوچاہوں کر سکتا ہوں .. ‘‘
اس نے کندھے اچکائے اور لاپرواہی سے بولی:
’’تم کر سکتے ہو .. ‘‘
اس نے تھوک نگلا اور ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی:
’’لیکن تم ابھی تک اس عورت سے نہیں ملے جو تمہیں جامِ محبت پلا دے .. میں تمہارے لئے بھیڑ کے گوشت کی طرح مرغوب کھانا ہوں .. انسانوں اور بھیڑ کے گوشت میں بڑا فرق ہے .. ‘‘
وہ اپنے گھٹنوں پر جھک کر بولا:
’’تم بڑی عجیب عورت ہو .. میں نے اس شہر میں سینکڑوں لوگوں کے موت کے پروانے جاری کئے اور لمحوں میں ان احکام کی تعمیل ہو گئی .. میں نے مردوں اور عورتوں کے جمِ غفیر کو موت کے گھاٹ اتارا، مجھے حیرت ہے کہ میں تمہاری چالوں میں کیسے پھنستا چلا جا رہا ہوں‘‘
نجمۃ اللیل مسکرائی:
’’مجھے خوشی ہے‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
’’کیونکہ تم جنگلی جانور سے انسان بنتے جا رہے ہو.. ‘‘
وہ چلایا:
’’تم کیا نشتر چلا رہی ہو؟؟‘‘
’’قاتل اور ظالم انسان نہیں .. تمہارا ماضی رہزنوں سے مختلف نہیں .. مجھے شجاع انسان کی تلاش ہے .. انسان .. کیا تمہیں انسان کے معنی آتے ہیں .. ‘‘
اس کی نظر میں انسان وہ مخلوق تھا جو مونچھوں کو بل دیتا ہے، جو جنگ کرنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے ارادوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچاتا ہے، قتل و غارت کرتا ہے اور مویشیوں پر قبضہ کر لیتا ہے اور رؤوساء اور سرداروں کی روایات کی دھجیاں اڑا دیتا ہے اورجو ہر رنگ و جنس اور مذہب کی عورتوں کو لذت کا ذریعہ بنا لیتا ہے .. یہ عورت تم سے کیا مطالبہ کرنے جانے رہی ہے؟؟‘‘
اس نے سنا وہ اس کے لئے شراب کا جام تیار کرتے ہوئے کہہ رہی تھی:
’’یقینی طور پر انسان اور حیوان میں بڑا فرق ہے ‘‘
’’سب انسان پہچانتے ہیں کہ میں کون ہوں .. ‘‘
’’لوگ یا تو تم سے ڈرتے ہیں، یا تمہارے لشکر کے شکنجے میں آئے ہوئے ہیں، اسی لئے تمہیں ان کی زبانوں سے وہی سنائی دیتا ہے جس سے تمہارے تکبر کی تسکین ہوتی ہے .. ‘‘
اس نے اس کا کندھا جھنجھوڑا:
’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟؟‘‘
’’کہ ہماری ملاقات بنیاد تھام کر ہو .. ان جھوٹی بنیادوں سے الگ جو طاقتور مصیبت کے ماروں پر غالب آکر ان کے لئے قائم کر دیتے ہیں .. ‘‘
’’میں واقعی تمہیں چاہنے لگا ہوں نجمۃ اللیل‘‘
’’اور ہم اسی صورت ملیں گے جب تم گواہی دے دو کہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ‘‘
’’میں تمہاری محبت میں یہ بھی کر لوں گا .. ‘‘
’’کلمہ ء شہادت ادا کرو .. ‘‘
جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو وہ بولی:
’’اب اپنے لوگوں کو قتل اور لوٹ مار سے بھی منع کر دو‘‘
’’میں ایسا ہی کروں گا .. ‘‘
’’ میں جانتی ہوں کہ تم سب بھوکے ہو .. جنگ نے تمہیں تھکا دیا ہے .. اور تمہیں کھانے اورعورتوں اور امان کی حاجت ہے .. ‘‘
تم عادلانہ نظام قائم کردو، تمہاری فتح تمہیں جانوروں کے گلے میں نہ بدل دے .. حیوانیت، نفرت اور کرختگی کے انداز سکھاتی ہے .. اور اس اسلوبِ حیات میں خوشی کی رمق بھی نہیں ہوتی .. ‘‘
باودین بے اختیار بولا:
’’تم کتنی اچھی باتیں کرتی ہو!!‘‘
’’پھر تو تم لائقِ احترام ہو .. محل کے قریب ہی ایک عالم اور فقیہ شیخ مولوی عبد الرزاق رہتے ہیں .. ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہاں لے آؤ، بلکہ دو گواہ بھی ساتھ لے آنا .. ہماری شادی ایسے ہی ہوتی ہے .. ‘‘
باودین کچھ ہچکچایا اور دائیں بائیں سر ہلانے لگا، اسے سمجھ نہ آرہی تھی کہ کیا کرے، وہ صورتِ حال سمجھ گئی، اس نے فوراً ہی بستر سے چھلانگ لگائی، اپنی سیاہ عبا اوڑھی، اور کہنے لگی:
’’ذرا ٹھہرو، میں خود ہی انہیں لے آتی ہوں .. ‘‘
وہ انگلی اٹھا کر بولا:
’’خبر دار .. اگر بھاگنے کی کوشش کی تو تمام شہر کو خون سے نہلا دوں گا .. ‘‘
اس نے اسے گھورا اور بولی:
’’چپکے بیٹھے رہو .. ‘‘
* ..*
آئندہ دنوں میں اہلِ قومول نے نجمۃ اللیل کو بارہا قیمتی پالکی میں گھومتے دیکھا جسے دو گھوڑے چلا رہے ہوتے، اس کے ہمراہ کمانڈر باودین ہوتا، سڑک پر چلنے والے سمٹ کر چلتے، اگرچہ اس نے باودین سے باقاعدہ شادی کی تھی، لیکن قومول میں اس کی شادی کوئی آسان معاملہ نہ تھا، وہ ایسا راز تھا جو بہت عرصہ سربستہ رہا، لوگوں نے اس کے کردار پر طرح طرح سے انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں، اگر چینی قائد اس پر دست دراندازی کرتا تو شائید اس کی معذرت قابلِ قبول ہوتی، لیکن ۔ ظاہر حال میں ۔ وہ استعمار کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی تھی۔ اپنے منگیتر مصطفی مراد حضرت سے بے وفائی کر کے فاتحین کے ٹولے میں چلی گئی تھی اور اس کے بارے میں افواہیں ہر جگہ پھیل گئی تھیں، اس کے چینی عساکر سے مشکوک تعلقات کے سینکڑوں قصے فضا میں گردش کرنے لگے اور کسی نے یہ سوچنا تک گوارا نہ کیا کہ قومول میں شہریوں کا ذبح اور قتلِ عام اچانک رک کیوں گیا۔ نجمۃ اللیل ایک فتنہ گر کے زرد کردار میں ابھری، جسے چینی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا اور علاقے کے ہم وطن مرد و خواتین اس رویے پر دہشت زدہ ہوتے ..
ابتدائی زمانہ میں انقلابی کامیاب ہونے لگے، انھوں نے خوجہ نیاز کی سربراہی میں جمہوریہ’’کاشغر‘‘ کی بنیاد رکھی اور چینیوں سے ذلت کا بدلہ لینا شروع کیا، چینی سپاہ نے مختلف سمتوں میں بھاگنا شروع کر دیا اور باودین کی قسمت اسے بھگا کر اورومجی لے آئی، نجمۃ اللیل اس کے ہمراہ تھی، اہلِ قومول نے اسے شام ڈھلے اس کے ساتھ فرار ہوتے دیکھا .. ان کی لعنت اس کا پیچھا کر رہی تھی، عورتیں اس کے نشانِ راہ پر تھوک رہی تھیں، کچھ بہادر بچوں نے بھاگ کر اس کو پتھر بھی مارے، پھر وہ شکستہ قدم واپس آ گئے …
تھوڑے عرصے بعد حاکمِ چین ’’شین‘‘ اور روس میں باقاعدہ معاہدہ ہو گیا، جا بجا روسی طیارے، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں نظر آنے لگیں اور حالات بدل گئے۔ جنگجو نہ صرف پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے، بلکہ جمہوریہ کی ساری حکمران قیادت گرفتار ہو گئی، یوں چینی روسی کیمونسٹ اتحاد کی باہمی کوششوں سے پوری سر زمین اسلام ان کے زیرِ تسلط آگئی اور ترکستان شرقیہ کے مسلمان عوام اپنے ہی ملک میں غیروں کے ہاتھوں اجنبی بن گئے …
ایک شام باودین واپس آیا تو وہ رو رہی تھی …
’’نجمۃ اللیل یہ آہ و بکا کیوں؟؟‘‘
’’لوگ مر رہے ہیں .. مجھے جنگ سے نفرت ہے .. اور مجھے ڈر ہے .. ‘‘
وہ چڑ کر بولا:
’’ہم کیا کریں، وہ ہمیں قتل کر رہے ہیں اور ہم ان کو‘‘
اس کے آنسو لڑھک کر گالوں پر آگئے:
’’میں چاہتی ہوں تم اپنے وطن لوٹ جاؤ .. میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی .. اور ہم انسانوں کی طرح ہنسی خوشی رہیں گے .. ‘‘
وہ اس کے انداز سے ہی جان گیا تھا کہ یہ اس کا چینی غلبے پر رنج ہے جو بلواسطہ انداز میں اپنا آپ دکھا رہا ہے، وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا:
’’او پیاری .. یہ اتنے بڑے بڑے معاملات یوں ہمارے آپس میں بات کرنے سے حل نہیں ہوتے ..لشکر کو اعلی قیادت کے احکام کا پابند ہونا پڑتا ہے .. پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے .. اور سیاست کے معاملات میں کوئی چیز حق ہوتی ہے نہ باطل .. ‘‘
اس نے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوتے اکتاہٹ سے کہا:
’’میں تھکاوٹ سے کتنا چور ہوں .. ‘‘
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ پھر گویا ہوا:
’’کیا تم لوٹ کر قومول جانا چاہتی ہو؟؟ اب وہاں مکمل طور پر امن ہو چکا ہے … جنگجوکچلے جا چکے ہیں، اور اب ہمارا مکمل قبضہ ہے وہاں .. ‘‘
وہ مایوسی سے بولی:
’’میری تمنا ہے کہ میں اس زمین میں اپنا منہ چھپا لوں جہاں کوئی مجھے جانتا تک نہ ہو .. ‘‘
وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا:
’’جانتا ہوں ایسا کیوں سوچتی ہو تم .. ‘‘
’’اپنا ہاتھ پیچھے ہٹاؤ .. ‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
’’مجھے اس سے مظلوم لوگوں کے خون کی بو آرہی ہے .. ‘‘
وہ تنک کر بولا:
’’میں اندھوں کی طرح جنگ کر رہا ہوں .. ہم کیا کریں؟؟ ہمارے ساتھ پیٹ لگا ہوا ہے .. اورروزی روٹی کمانے کے لئے جنگ کے میدان میں بھی اترنا پڑتا ہے .. مرنا پڑتا ہے .. اور تم میری ہو .. میری محبت تم پر نچھاور ہے نجمۃ اللیل .. ‘‘
وہ اچانک رک کر بولا:
’’تم مجھے کس طرح دیکھ رہی ہو؟؟‘‘
وہ چلا کر بولی:
’’تم قیدی ہو .. مریض .. ہر حال میں عذاب میں مبتلا .. ‘‘
وہ اطمینان سے مسکرایا:
’’میں اسی پر خوش ہوں .. ‘‘
وہ حیران ہو کر کہنے لگی:
’’کیسے؟؟‘‘
’’کیونکہ تم نے مجھے دشمن نہیں کہا .. ‘‘
وہ فورًا بولی:
’’تم بلا شبہ دشمن ہو .. ‘‘
اس کی آنکھوں میں بے چینی ظاہر ہوئی وہ ہولے سے بولا:
’’وہ میری تقدیر ہے .. ‘‘
نجمۃ اللیل ہنسی اور اس کے قریب آ کر کہنے لگی:
’’اگر میں تم سے علیحدگی کا مطالبہ کروں تو کیا کیسا رہے گا .. ‘‘
وہ رعب سے گرجا:
’’کیا؟؟‘‘
’’یعنی طلاق‘‘
’’وہ کیوں؟؟‘‘
’’کیونکہ تم مسلمان نہیں ہو .. ‘‘
’’کیا تم بھول گئیں؟؟ میں نے اس عالمِ دین کے سارے مطالبات پورے کئے تھے .. ‘‘
’’لیکن تم کفار کی صفوں میں لڑ رہے ہو .. ‘‘
’’میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ میں لشکر کا ایک سپاہی ہوں .. ‘‘
وہ دیوار پر زور دار مکہ مار کر چلایا:
’’لشکر اﷲ کو نہیں جانتے .. ‘‘
’’یہ پہچان ہم حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہ کریں؟؟‘‘
اس نے ساخرانہ انداز میں کندھے اچکائے اور بولا:
’’اس کی قیمت کیا ہو گی؟؟‘‘
’’ہم سعادت کی راہ پہچان جائیں گے‘‘
’’آہ .. کفار کروڑوں کی تعداد میں ہیں عددی قوت میں مسلمانوں سے کہیں بڑھ کر .. اور دنیا ہمیشہ سے ایسی ہی ہے .. اس موضوع کو چھوڑ دو ہم بلا فائدہ کڑھ رہے ہیں .‘‘
اس نے آنسو پونچھ ڈالے:
’’جب تم جاؤ تو .. ‘‘
اس نے بات مکمل نہ کی، وہ قریب آ کر کہنے لگی:
’’میں تم سے محبت کرتی ہوں، لیکن اگر تم ایک بھی ترکستانی کے قتل میں ملوث ہوئے تومیں ایک لمحہ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی .. ‘‘
’’غصہ تھوک دو پیاری .. میرا جنگ میں براہِ راست کوئی حصہ نہیں، میں غذائی رصد فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوں .. اہم معاملات روسیوں کے ہاتھ میں ہیں .. ‘‘
پھر وہ استہزائیہ انداز میں کہنے لگا:
’’اور پھر بہت سے ترکستانی بھی ہیں جنہوں نے اپنا آپ شیطانوں کے ہاتھ فروخت کر ڈالا ہے… وہ خود اپنے اہلِ وطن کو مار رہے ہیں .. اور ان کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں .. کیا تم نہیں جانتی .. ‘‘
اس نے تکیے میں منہ چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی …
***
(جاری ہے)
