عسکری ونگ

 یہ بات اب زباں زدِعام ہوتی جارہی ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہوتے ہیں۔

اس بات کے شواہد اب اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ کسی لمبی چوڑی بحث میں الجھنا تضیع اوقات کے علاوہ اور کچھ نہیں مگر ایسا کب نہیں تھا۔

ایک زمانہ تھا جب “ٹرید یونینز” اور اسٹوڈنٹ یو نینزبکثرت ہوا کرتی تھی۔.

اس دور میں جب جب بھی الیکشن کے دن قریب آتے، ماحول کے درجہ حرارت میں جنرل الیکشن سے بھی کہیں زیادہ حدت ہوجایاکرتی تھی۔

ملک بھر میں بیسیوں معصوم اور پھول سے چہرے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پیوندِ خاک ہوجاتے ۔۔ یہ سب کیا تھا؟۔

اسٹوڈنٹ یونینز تو ختم ہوئے ایک زمانہ گزر گیا لیکن طلبہ تنظیمیں تو اب بھی اسی طرح سر گرم عمل ہیں اور ان میں اب بھی خوفناک خوفناک تصادم دیکھنے میں آتے ہیں، دوطرفہ مورچہ نبدیاں ہوتی ہیں اور بسا اوقات کئی طالب علم اپنی جان سے ہاتھ بھی دھوبیٹھتے ہیں۔

 میرے نزدیک اس بحث سے کہ کچھ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہوتے ہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان سب کی سرکوبی کس کی ذمہ داری ہے۔

 اس بات کا ہر جانب سے ایک ہی جواب آئے گا ریاست اور حکومت کی، پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست اتنے سنگین معاملے پر بے بس کیوں ہے؟۔

  میرا دعویٰ ہے کہ ریاست بالکل بھی بے بس نہیں بلکہ بلیک میلرہے، جی ہاں سب سے بڑی بلیک میلر ریاست اور حکومت از خود ہی ہے۔

 آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے ایک ہی ملک میں کئی کئی نظام چل رہے ہیں ۔ جی ہاں کئی کئی نظام رائج ہیں۔

  کہیں قانون چلتا ہے، کہیں بلیک میلنگ سے کام چلایا جاتاہے، کہیں عدالتوں کے ذریعہ کچھ جنات کو قابو کیا جاتاہے، کہیں چمک کام دکھا جاتی ہے۔

 اسی ملک میں صوبے بھی ہیں، اسی ملک میں یجنسیاں کہلانے والے علاقے بھی ہیں، اسی ملک میں کچھ فیصلے جرگے کرتے ہیں، اسی ملک میں کچھ علاقے شمالی علاقہ جات کہلاتے ہیں، اسی ملک میں ایک صوبہ اور بھی ہے مگر نہیں بھی ہے گلگت بلتستان ، اسی ملک میں ایک ملک اور بھی ہے جس کی اسمبلی بھی ہوتی ہے، وزیر اعظم بھی ہوتا ہے اور صدر بھی جس کو کشمیر کہتے ہیں۔

 پھر آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ہر آنے والی حکومت کے ساتھ کچھ خاص سیاسی پارٹیاں، قبیلے، جرگے اور اسی طرح کے عسکری ونگ ہوتے ہیں، باقی بچ جانے والی پارٹیاں، مذہبی گروہ، قبیلے اور عسکری ونگ اس پورے عرصہ میں زیر عتاب رہتے ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ ان کو بالکل ہی ختم کر دیا جائے ان پر مختلف دباو ڈال کر ان سے اپنی مقصد براری کی جاتی ہے۔

  پھر حکومت کسی اور پارٹی کی آجاتی ہے تو وہ ان مظلوم پارٹیوں، مذہبی گروہوں، قبیلوں اور عسکری ونگوں کو اپنے ساتھ ملاکر پہلے والوں کو خوب کستی ہے اور اس طرح اپنے اقتدار کی مدت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتی ہے۔

   یہی وجہ ہے کہ ان ساری بیماریوںسے قوم کو کبھی نجات نہیں مل سکی اور اب تو یہ زخم ناسور ہی نہیں کینسرسے بھی زیادہ خطرناک بیماریوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں اورشاید ہی ان کا علاج ممکن ہو ۔

  ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگ ہیں لیکن کچھ سیاسی پارٹیاں ایسی بھی ہیں جن کو اب اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

 بار بار اور باری باری ان کا اقتدارمیں آنا جانا اس طرح لگا رہاجیسے نئی نویلی بہو اپنے میکے اور سسرال میں آتی جاتی ہے۔

پورے ملک کے وسائل پر چھاتے اور آتے جاتے رہنے کی وجہ سے ان پارٹیوں نے پولیس اور دیگر محکموں میں اتنے نڈے بچے دے دیئے کہ اب ان کو اپنی پارٹی میں کسی عسکری ونگ کی ضرورت ہی نہیں نیز یہ کہ جب جب بھی ان میں سے کوئی ایوان اقتدار میں پہنچتا ہے، بےشمار کیڑے مکوڑے ان کے گرداگرد طواف کرنے لگتے ہیں۔

 ایک اہم رکاوٹ جو اس سارے گند کو صاف کرنے میں حائل ہے وہ خود تمام لاءانفورسمنٹ ایجنسیاں بشمول محکمہ زراعت، ہے۔ یہ نہ تو زم زم نہائے ہوئے ہیں اور نہ ہی آب کوثر پئے ہوئے ہیں، عوامی زبان میں ان سب کو اگرکانا کہا جائے تو شاید یہ لفظ بھی شرماکر واپس آجائے۔

کیا ہماری پولیس میں جرائم پیشہ افراد بکثرت نہیں؟ تو کیا مان لیا جائے کہ پولیس میں مجرموں کا ونگ ہوتا ہے؟۔

محکمہ زراعت کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ، کراچی ائیر بیس پر حملہ، کراچی ائیر پورٹ پر حملہ، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ اور اسی طرح کی پیشمار کاروائیوں میں شریک افراد کا ہماری فورس کے افراد سے کبھیءکوئی تعلق نہیں رہا؟۔ یہ تو بس بات بات میں بات بڑھ گئی ہوگی۔۔۔۔ تو کیا ۔۔۔۔۔ ہماری فورس میں ”غدار ونگ“ ہوتا ہے؟

 کیا آپ بھول گئے کہ خمینی کے دور میں ایران میں امریکی سفارت خانے سے جو اہم دستاویزات پاکستان کے حوالے کی گئیں تھیں ان میں تین وزرائے خارجہ، محکمہ زراعت کے کئی اعلیٰ عہدیدار، نامور سیاست دان اور بہت سارے صحافیوں کے شواہد ، نام بنام ایسے ملے تھے جس میں اس بات کی تصدیق موجود تھی کہ یہ سب امریکی مقاصد کے لئے کام کر رہے ہیں ۔۔ تو ۔۔ کیا یہ بات کہہ دی جائے کہ ہر حکومت میں ایک امریکی (یعنی غداروں کا) ونگ بھی ہوتا ہے؟ ان سارے ونگوں کو ہر صورت میں ختم ہوجانا چاہیئے ۔۔ لیکن ۔۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ہماری لاءانفورسمنٹ ایجنسیوں۔۔ اور ۔ایوان اقتدار میں بیٹھ کر کتر کتر کرنے والے سب چوہے، بلی کے گلے میں گھنٹی لٹکانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here