ترکستان کی سیاہ رات۔10

ڈاکٹر نجیب الکیلانی
ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

(۱۰)

میں اپنے ہی ایک دشمن کے گھر میں قیام پزیر تھا اور وہ محض میرا دشمن ہی نہ تھا، میرا قرار لوٹنے والا بھی تھا جو میری محبت پر قابض تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ اگر میں یہاں رہا تو میں محض ایک آلہء کار بن کر رہ جاؤں گا .. نجمۃ اللیل کی طرح کا ایک انسان، پرسکون زندگی اور پیٹ بھر کر کھانا، اچھا لباس اور اس جیسے ایک پر آسائش خوبصورت گھر میں قیام انسان کے اندر جزبہ ء جہاد اور روحِ انقلاب کو قتل کر ڈالتا ہے۔ دوسری مشکل یہ تھی کہ میں نجمۃ اللیل میں عجیب و غریب تغیر محسوس کر چکا تھا، وہ نت نئے شوق پال چکی تھی، مجھے اس کی بیباک نظروں سے حیا آتی اور اکثر اوقات میں اس سے بھاگ کھڑا ہوتا۔ میں نے کتنی ہی راتیں اس تغیر کو سوچتے ہوئے گزار دیں اور اس پر کڑھتا رہا .. یہ گھر سرکش اور خطا کار شیاطین کا مرکز تھا۔ کل رات یہاں محفلِ رقص کا اہتمام ہوا، جہاں شکاری بھی تھے اور شکرے بھی اور نجمہ ہی چراغِ محفل تھی، نگاہوں کا مرکز! فوجی ۔ ان میں روسی بھی تھے اور چینی بھی ۔ آگے بڑھ کر اسے دعوتِ رقص دیتے، اس کا شوہر پی پی کر مد ہوش ہو چکا تھا، رات کے آخری لمحوں میں اسے اچانک بلاوا آگیا اور وہ جز بزہوتا وردی پہن کر چلا گیا، ایسی چیزیں روز مرہ کی عادت بن گئی تھیں اور پھر وہ اچانک میرے کمرے کی جانب آئی، مسلسل جاگنے سے اس کے چہرے کی پیلاہٹ بڑھ گئی تھی۔
’’مالکہ .. مجھے جلدی سے ناشتہ تیار کرنا ہے‘‘
’’مجھے کچھ نہیں چاہیے اور میں تمہاری مالکہ نہیں ہوں‘‘
’’محل میں ہر جانب جاسوس پھیلے ہوئے ہیں .. ‘‘
’’میں صبر نہیں کر سکتی‘‘
’’اسکے کیا معنی ہیں؟؟‘‘
’’تمہیں سمجھے نہیں؟!‘‘
’’اور میں خیانت سے نفرت کرتا ہوں‘‘
’’خائن کی خیانت گناہ نہیں .. ‘‘
’’میں مسلمان مرد ہوں اﷲ کو پہچاننے والا .. ‘‘
کیا وہ اپنے شوہر سے انتقام لے رہی تھی یا وہ کسی قسم کی مہربانی اور عنایت کرنا چاہتی تھی یا یہ پرانی محبت کی شوریدہ سری تھی؟؟ اس نے اصرار سے میرا ہاتھ تھام لیا، میں اس کی نظروں اور لمس سے بھاگ رہا تھا کہ کہیں کسی کمزور لمحے کی گرفت میں نہ آ جاؤں، میں جذبات میں بولا:
’’پہاڑوں کی چٹانوں پرجو لوگ بستے ہیں وہ عذاب اور فاقوں میں مبتلا ہیں‘‘
’’وہی حقیقی مرد ہیں، لیکن وہ اپنی زندگی جی رہے ہیں .. ‘‘
’’ان حدود میں رہتے ہوئے جو اﷲ نے ان کے لئے حلال کی ہیں ..‘‘
اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورا اور کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح گرجی:
’’تم جانتے ہو میں اس سوءِ ادب پر تمہیں سزا بھی دے سکتی ہوں‘‘
’’کیا یہی محبت ہے؟؟‘‘
’’ہاں .. ‘‘
’’پھر تو تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ میں سزا سے کتنا ڈرتا ہوں‘‘
’’جب یہاں کے خوفناک قید خانے تمہیں اپنی آغوش میں لیں گے اور خاموشی اور تاریکی تمہیں اپنی لپیٹ میں لے گی اور تمہارے جسم پر کوڑوں کی بارش ہوگی .. تم چند لمحے میرے ہمراہ گزارنے کے خواب دیکھو گے .. ‘‘
میں نے پورے یقین سے کہا:
’’میں اپنے لئے موت کی نذر مان چکا ہوں‘‘
’’تم آگ سے کھیل رہے ہو .. میں تمہیں اپنا حقیقی شوہر مان چکی ہوں .. ‘‘
’’لیکن تم ایک مسلمان شخص کی عزت ہو .. اگرچہ اس کا اسلام محض ظاہری اقرار ہی ہو .. ‘‘
’’پھر تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟‘‘
اس سوال نے مجھے چکرا کر رکھ دیا، واقعی، میں یہاں کیوں آیا تھا؟؟ میں تمام عمر ان غاصبوں سے لڑتا رہا، لیکن اب وہ انتقام کہاں گیا؟؟ میرا دل دھڑکا، یہی وہ حقیقت تھی جسے میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، میں اب تک نجمۃ اللیل کے سحر سے نکل نہیں سکا تھا، میرا محل آنے کے حکم کو قبول کر لینا بھی اسی تعلق کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔ وہ مجھے یونہی بیٹھا چھوڑ کر چلی گئی، میرا تمام دن اس سے سامنا نہ ہوا، میں سوچ میں غلطاں رہا، اتنا برا وقت کیوں آگیا، اجنبی ہم پر حکم صادر کرنے لگے، گزرے وقت میں کاشغر کے ایک خطیب نے مجھ سے کہا تھا:
’’سنو بیٹے اسلام ہی ہماری عزت ہے، جس نے اسے تھام لیا عزت پا گیا، جس نے اسے چھوڑ دیا ذلیل ہوا ہمارے خطے نے گہری نیند میں سپر ڈال دی اور لوگ بے پرواہی، آرام پسندی اور فضولیات میں پڑ گئے اور ہولے ہولے دین سے سرکنے لگے .. زہد نے بغاوت کر دی بیٹے اور فقر نے سر جھکا دیا، دانائی کا نقصان ہو گیا، علماء نے امراء کے ہاتھوں پسپائی قبول کر لی اور فساد، غربت اور جہالت امنڈ آئی اور گناہوں کی کثرت ہوگئی .. بیٹے یہ تو گراوٹ کی ابتداء تھی‘‘ وہ مزید کہنے لگے:
’’مشرق میں بھی ہمارے دشمن ہیں اور مغرب میں بھی۔ وہ قوت اور کثرت کا مجموعہ ہیں اورہم آباء و اجداد کی بزرگی کے ترانے گا رہے ہیں، فتح کے لئے محض آباء کی بزرگی کافی نہیں، وہ مجھ سے کہنے لگے:
اے کٹے پھٹے مسلمانو، مسلسل جنگ اور مظالم نے ترکوں کو توڑ کر رکھ دیا اور عرب دشمن کے گھوڑوں کے سموں تلے خاموشی سے پستے رہے، کفر ایک ملت بنا رہا اور اسلام کتنی ہی ملتوں میں بٹ گیا، ان حالات میں تم خود سمجھ سکتے ہو کہ فتح ان کا مقدر کیوں بنتی ہے اور ہزیمت تمہارا مقدر کیوں.‘‘
مجھے انکا ایک ایک لفظ یاد ہے .. اور کتنی ہی باتیں جو خوجہ نیاز دہرایا کرتے تھے اور جنرال شریف خان وغیرہ، وہ شجاع مؤمن تھے اور موت کو سامنے پا کر بھی ان کے قدم نہ ڈگمگائے۔ وہ بلا خوف اﷲ کے حضور چلے گئے، بلا شبہ میرا اس محل میں آنا شیطان ہی کی چال تھی .. اور اب مجھے کوچ کر جانا چاہیے .. میں فوراً ہی چل پڑوں .. لیکن کچھ کر گزرنے کے بعد .. جو وقت میں نے یہاں گزارا اس کا کفارہ ادا کر جاؤں، پھر فوراً بھاگ کر پہاڑوں میں پناہ لے لوں ..
سنا ہے کہ عظیم ہیرو ’’عثمان باتور‘‘ ہمارا جنگجو سورما ایک نئے انقلاب کے لئے فوج اکٹھی کررہا ہے .. پھر میں یہاں کیوں بیٹھا رہوں .. نجمۃ اللیل نے اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں میرے اندر انقلاب کی لہروں کو خاموش کرانے کی کوشش کی مگر میں ڈٹا رہا .. میرا ڈٹ جانا بھی ایک معرکہ تھا، کیونکہ نجمۃ اللیل ایک دوسری قسم کی قاتلہ ہے، اس کا باودین کو مٹھی میں کر لینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس میں غالب آنے کی شدید قوت موجود ہے …
باودین دو روز بعد واپس لوٹا، اس کے اعصاب تنے ہوئے تھے، وہ شکست خوردگی سے کہہ رہاتھا:
’’ایک نئی مصیبت منہ کھولے ہوئے ہے‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
’’عثمان باتور اور اس کے انقلابیوں نے چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی ہیں .. ‘‘
’’تم کیوں تنگ ہو رہے ہو؟؟ تمہارا کیا خیال ہے وہ تمہیں شکست دے سکتے ہیں .. ‘‘
’’وہ صنعتی مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور سپاہیوں کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کافی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، اگر وہ اسی تیزی سے صفایا کرتے رہے تو وہ انکا خاتمہ کر دیں گے .. ‘‘
اس کی آنکھوں میں مسرت کے دیے روشن ہوئے مگر وہ فوراً ہی انہیں چھپا گئی، وہ کھانے میں پوری طرح مشغول تھااور مسلسل سوچ میں گم ! شام کو مجھے پتا چلا کہ وہ باودین کے ساتھ کسی باغ میں سیر کرنے باہر گئی ہے، وہ کافی دیر وہیں رہی اور آدھی رات کو جب وہ واپس لوٹی تو کہرام بپا تھا، پل بھر میں چینی سپاہی، روسی انٹیلیجنس اور خفیہ کے سربراہ محل پہنچ چکے تھے۔ وہ آنسو بہاتی غمگین بیوہ سے طرح طرح کے سوالات پوچھ رہے تھے، وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن وہ انہیں بدلے اور انتقام پر ابھار رہی تھی اور اصرار کر رہی تھی کہ اورومجی میں ہر مشتبہ شخص کو ٹارچر سیل میں پہنچا دیا جائے۔
خفیہ کا آدمی بولا:
’’یہ اورومجی میں آج تیسرا حادثہ ہے‘‘، .. عثمان باتور کے آدمی شہر میں اس اضطراب کے ذمہ دار ہیں .. اس کا حل یہی ہے کہ انہیں قوت سے کچلا جائے .. مزید طاقت کا استعمال ہو .. میں تو کہتا ہوں کہ ہر مشتبہ ترکستانی کو قتل کر دیا جائے .. لیکن انہوں نے میرا نقطہء نظر ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ہر ترکستانی ہی مشتبہ ہے .. میں جانتا ہوں کہ خائنوں کو کیسے پکڑا جاتا ہے، ان حادثات کے مقتولوں کا بدلہ لیا جائے گا، ہم نے اورومجی میں ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر دیا ہے .. نجمۃ اللیل کی حالت رنج و الم اور تھکارٹ سے بری ہو رہی تھی .. عجیب بات یہ تھی کہ باودین کی تعزیت کیلئے آنے والے دوست احباب جب نجمۃ اللیل کو پرسہ دیتے تو ان کی آنکھوں میں خوشی اور امید کی ایک خاص چمک آجاتی، ان میں سے اکثر کی رال بہنے لگی اگرچہ ابھی باودین کا خون بھی خشک نہیں ہوا تھا .. اور آخر کار نجمۃ اللیل نے طے کیا کہ وہ ایک ہفتہ گھر میں رہے گی اور کسی سے ملاقات نہیں کرے گی .. شہر میں کتنی ہی افواہیں پھیل چکی تھیں، فضا میں سراسیمگی تھی، غیر ملکی سپاہی عجب خوف محسوس کرنے لگے اور شیر اور چیتے خرگوشوں کی طرح بھاگنے لگے .. میں بھی محل سے کوچ کی تیاری میں تھا لیکن اس حادثے نے میرے جانے کو مؤخر کر دیا .. مجھے حالات کے نارمل ہونے کا انتظار تھا .. اور پھر ایک شام میں نے اسے اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا، میں گڑبڑا کر کھڑا ہو گیا اور بڑبڑایا:
’’مالکہ .. ‘‘
وہ نظریں مجھ پر گاڑ کر پختہ آواز میں بولی:
’’کیا تم قاتل کو نہیں جانتے؟؟‘‘
’’کون؟؟‘‘
’’اچھا .. میں نے اسے قتل کیا ہے .. ‘‘
’’نجمۃ تم نے .. ؟؟‘‘
وہ اس کی موت پر غم اور خوشی کے ملے جلے تأثرات سے ہنسی اور بولی:
’’ہاں … جانتے ہو کیوں؟؟‘‘
وہ تناؤ میں بولتی چلی گئی، میں غیر حاضر دماغی سے اس کو سنتا رہا، میرے منہ سے ایک بات بھی نہ نکلی، بس میں اس کو حیرت سے سنتا رہا:
’’وہ قافلے کی قیادت کر رہا تھا، اور انہوں نے دس انقلابی ڈھیر کر دیے، اس مشن میں کچھ روسی بھی شریک کار تھے، اس نے خود مجھے بتایا تھا .. اور یہ کہ وہ ان احکامات کی مخالفت نہیں کر سکتا .. اس سے پہلے اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے کام کو غذائی مواد کی فراہمی تک محدود رکھے گا .. اس رات میں سو نہ سکی .. اس نے کوشش کی کہ میں سو جاؤں .. اسے ذرا برابر بھی ندامت یا پچھتاوے کا احساس نہیں تھا، وہ اسی طرح مزے سے ہنس کھیل رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں .. میں نے سوچا .. یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ مصطفی مراد تم بھی ان دس جنگجؤوں میں ہوتے .. میں نے اس پر گرفت کرنے کا پلان بنایا .. میں نے کہا باودین آؤ ہم اس کامیابی کا جشن منائیں اور تمہاری فتح پر شراب کے جام لنڈھائیں .. وہ خوش ہو گیا .. اس نے اپنے کئی کامیاب آپریشنز کا ذکر کیا اور ان میں کن کن انقلابیوں کو پار کیا .. عثمان باتور ان کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہو رہا تھا ..
آہ .. اور ہم ایک باغ میں آگئے .. ہم اندرونی دیوار کے پاس سے گزرے .. میں نے اس سے بندوق لے لی .. اور اس کی جانب موڑ دی .. میں نے اس پر پشت سے گولی نہیں چلائی .. باودین میں تم سے بدلہ لیتی ہوں .. باودین تم خائن ہو .. اور خیانت اور غداری کا بدلہ قتل ہے .. وہ قہقہے لگانے لگا .. اس نے سوچا میں مذاق کر رہی ہوں .. میں پاگلوں کی طرح چلائی .. اسی جگہ رک جاؤ .. جھوٹ سب سے بڑا جرم ہے .. تم نے جھوٹ کہا کہ تم مسلمان ہو .. تم ایک بار بھی اس رب کے آگے نہ جھکے .. اور تم نے جھوٹ کہا کہ تمہیں جنگ سے نفرت ہے .. تم محض ایک جانور ہو .. میں تو تمہارے لئے فقط شراب کا ایک جام ہوں جس کے بغیر تم رہ نہیں سکتے .. رک جاؤ .. حرکت نہ کرنا .. اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا .. وہ گھٹنوں کے بل جھک گیا .. میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے .. تصور کرو کہ باودین رو رہا تھا .. اس کو روتا دیکھ کر مجھے کتنا مزا آیا … تم کیوں آئے تھے ہمارے علاقے میں .. اس نے آنکھیں بند کر لیں اور منت سماجت کرنے لگا:
’’نجمۃ میں تمہیں چاہتا ہوں .. میں نے تم جیسی محبت کسی سے نہیں کی ..میں تمہارے شرف کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پھر ایسا نہیں ہو گا اگرچہ وہ مجھے فوج سے نکال دیں .. تم میری زندگی ہو‘‘ .. میں ہنسی اور ٹریگر دبا کر بولی:
اور میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں .. اور تمہارا قتل تمہاری کئی خطائیں دھو دے گا … ٹھاہ..ٹھاہ .. ٹھاہ .. ٹھاہ .. ٹھاہ … پانچ گولیوں سے اسکا کام تمام ہو گیا اور یوں وہ قربان ہو گیا … ‘‘
اس کے آنسو بہنے لگے:
’’اگر اہلِ قومول کو پتا چل جائے تو وہ میرے بارے میں کیا کہیں گے‘‘
پھر وہ باہر چلی گئی .. واپس لوٹی تو اس کے ہاتھ میں شراب کا پیالہ تھا:
’’معذرت سے .. اس ملعون نے مجھے شراب نوشی کی عادت ڈال دی ہے .. ہم جلد ہی شادی کرلیں گے .. لیکن کیسے؟؟‘‘
اس نے پیالہ پھینک دیا اور اعصابی تناؤ میں قہقہے لگانے اور کہنے لگی:
’’باودین کے ایک دوست نے مجھ سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا ہے … اس کے ایک مخلص دوست نے .. سوچو … یہاں فوجی کتنے پتھر دل ہیں .. ‘‘
ہم نے بڑے مشکل دن گزارے، خفیہ کا سربراہ محض شک کی بنا پر بے گناہوں کو ٹارچر سیلزمیں لے جاتا اور ہر روز ایک دو دورانِ تفتیش قاتل تک پہنچنے سے پہلے ہی اس عذاب کی تاب نہ لا کر جان ہار جاتے، وہ بار بار نجمۃ اللیل کے پاس چکر لگاتے اور کئی مشتبہ افراد شناخت کے لئے اسکے سامنے پیش کرتے مگر وہ ہر بار انکار کر دیتی کہ ان میں کوئی قاتل ہے، یوں تفتیش کا دائرہ بڑھا کر اورومجی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اور حریت پسندوں کی سرگرمیاں کچھ اور بڑھ گئیں ..
میں ایک شام نجمۃ اللیل کے پاس گیا اور اس سے کہا:
’’اب جبکہ تمہاری عدت کا زمانہ مکمل ہو چکا ہے .. میرا خیال ہے کہ تم محل میں ایک بڑی محفلِ رقص منعقد کرلو اور اس میں بڑے بڑے افسران کو مدعو کرلو .. اس طرح ہم اس قدیم حادثے اور باودین کے قصے پر پردہ ڈال دیں گے .. اور میری رائے ہے کہ تم اس چینی سے منگنی کا باقاعدہ اعلان بھی کر دو جو تم میں دلچسپی لے رہا تھا .. ‘‘
وہ غصے سے بولی:
’’میں نے باودین کو قتل کر کے تمہارے راستے کا کانٹا صاف کیا تھا .. ‘‘
’’اور اگر واقعی تمہیں مجھ سے کوئی دلچسپی ہے تو میں اس محفل کا انعقاد چاہتا ہوں .. ‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
میں نے اسے اپنائیت سے دیکھتے ہوئے کہا:
’’سنو .. ہم پر معصوموں کا انتقام واجب ہے‘‘
’’کیسے؟؟‘‘
’’میرے پاس کافی مقدار میں بارود ہے جو میں جنگجؤوں کو بھجوا دونگا، اور جب محفل عروج پر ہو گی .. ہم محل کو جہنم زار میں بدل دیں گے .. ‘‘
اس نے سر ہلایا:
’’اور ہم؟؟‘‘
’’ہم انہیں شراب اور رقص و موسیقی میں مدہوش چھوڑ کر باہر نکل آئیں گے .. اور جب ہم محل سے فاصلے پر پہنچ جائیں گے دھماکہ ہو جائے گا‘‘
’’اور ہم کہاں جائیں گے .. ‘‘
’’پہاڑوں پر .. عثمان باتور اور اس کے بہادروں کے پاس .. ‘‘
اس کا چہرہ خوشی سے جگمگا اٹھا، وہ ہولے سے بولی:
’’بوڑھی باورچن کو حادثے سے پہلے ہم کہیں دور بھجوا دیں گے .. اور اس منگولی ڈرائیور کے لئے بھی کوئی راستہ نکالنا پڑے گا .. اور دو کم سن خدمت گاروں کو بھی باغ میں اپنے حجرہء خاص کی صفائی اور سجاوٹ کے بہانے بھیج دیں گے .. ‘‘
*…*
اور پھر اس رات جب باہر سیاہ اندھیرا تھا، ہم مضبوط بدن گھوڑوں پر سوار ہوئے اور بادلوں سے ڈھکے آسمان تلے تاریکی کا سینہ چیرتے چلنے لگے، ہم نے مڑ کر دیکھا تو محل سے شعلے بلند ہو رہے تھے، اس کی لپٹیں آسمان تک جا رہی تھیں، اس کے ارد گرد کا ماحول بھی روشن ہو گیا تھا، چیخ و پکار اور ہٹو بچو کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں .. ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم پہاڑ کی بلندی پر پہنچ چکے تھے … میں نے اسے گھوڑے سے اترنے میں مدد دی اور کہنے لگا:
’’نجمۃ اللیل پہاڑ ہمیشہ آزادی کے متوالوں کی آزاد مملکت رہیں گے .. جدو جہد کرنے والے مجاہدین کی .. ‘‘
وہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے بولی:
’’میں کتنی خوش ہوں .. ‘‘
میں نے ہنس کر کہا:
’’اب تم اپنے لئے کوئی موٹے کپڑے بھی تلاش کر لو .. ‘‘
نجمۃ اللیل نے اچانک سوال داغا:
’’تم نے اس جرأت مندانہ اقدام کے لئے اسی وقت کا انتخاب کیوں کیا؟؟‘‘
میں نے گھوڑے کو ایک محفوظ تنگ گھاٹی کی جانب موڑتے ہوئے کہا:
’’ایسا پہلی بار نہیں ہوا .. اورومجی میں قیام کے دوران میں نے بیسیوں مشتبہ کاروائیاں کی ہیں .. میں عثمان باتور کے احکام کے تحت کاروائیاں کرتا .. ‘‘
اس نے معنی خیز انداز میں مجھے دیکھا ..
میں کچھ دیر آرام کرنے بیٹھ گیا، اچانک میں نے کہا:
اگر تم باودین کو اس رات انجام تک نہ پہنچا دیتی .. تو تمہارا انجام ان لوگوں سے مختلف نہ ہوتا جو آج غداری اور ظلم کی آگ میں جل رہے ہیں …. ‘‘
وہ چلائی:
’’کیا؟؟ کیا تم مجھے بھی مار ڈالتے‘‘
مجھے چن لی اور خاتون یاد آگئے. میں پکارا:
’’میں اس کا باپ ہوں .. ‘‘
نجمۃ اللیل کو کچھ سمجھ نہ آیا اور ہم دوسری باتیں کرتے طویل سفر پر روانہ ہو گئے، عثمان باتور سے ملنے .. پہاڑوں کے انقلابی جنگجو سے ..
***
(جاری ہے)

ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here