جس کی لاٹھی اس کی بھینس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں اور سب سے پہلا جرمانہ بھی انھیں کو ادا کرنا ہوگا۔

خبر کے مطابق پیر کو چیف جسٹس کی سر براہی میں بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سروے آف پاکستان نے کورنگ نالے کا سروے کرکے رپورٹ دی ہے کہ کورنگ نالے پر لوگوں نے تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ اگر عدالت اجازت دے تو نا جائز قابضین سے اراضی وا گزار کرائی جائے۔

پاکستان کی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ قانون بے بس اور لاچار لوگوں پر بلا تاخیر و تامل جاری ہوجاتا ہے جبکہ وہ تمام افراد جو کوئی نہ کوئی مضبوط سہارا رکھتے ہیں وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں یا ان پر قانون کا کلہاڑا اس طرح نہیں چلتا جس بیدردی کے ساتھ غریب اور بے سہارا پر چلا دیا جاتا ہے۔

تجاوز کس کو کہا جاتا ہے؟۔ یہی کہ کوئی بھی شخص کسی بھی سرکاری یا ذاتی زمین پر کسی بھی قسم کی کوئی تعمیر کرکے قابض ہو جائے یا جس مکان، یا دکان کا وہ مالک ہو اس کی حدود سے آگے نکل کر یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ قبضہ کی ہوئی ساری زمین کا اصل مالک ہے۔ اس قسم کی توسیع یا  ناجائزقبضہ تجاوز میں شمار ہوتا ہے اور حکومت کو اختیار ہوتا ہے کہ ایسے قابض سے قبضے کو جس طرح بھی ہو واگزار کرایا جائے تاکہ کسی اور کو ایسا کرنے کی ہمت نہ ہو سکے۔

اطلاع کے مطابق ایسی تمام تجاوزات کو مسمار کرنے کیلئے انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے اور تجاوزات کو بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کیا جارہا ہے۔

تجاوزات مسمار کرنے کا یہ سلسلہ مسلم لیگ ن کی حکومت سے شروع ہوا تھا جس کا تسلسل آج بھی بر قرار ہے۔ اس بحث سے ہٹ کر کہ تجاوزات کو مسمار کرنے کا یہ سلسلہ انسانی ہے یا غیر انسانی، یہاں میں یہ بات ضرور رکھنا چاہونگا کہ اس قسم کی کوئی بھی تعمیر کسی جادو کی چھڑی کا نتیجہ کبھی نہیں رہی ہوگی کہ بس چھڑی کو ہلایا گیا اور آناً فاناً گلیاں، سڑکیں، بازار، مکانات اور دکانیں وجود میں آگئیں۔ ان سب تعمیرات میں برس ہا برس لگ گئے ہونگے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی نے بھی پہلی اینٹ رکھی تھی تو ذمہ داران کہاں غائب تھے؟۔ جب بستیاں کی بستیاں آباد ہو گئیں، بجلی پانی اور گیس تک کی سہولتیں بستیوں میں فراہم کردی گئیں، کاروبار عروج پر پہنچ گیا تو اچانک ذمے داروں کو یہ احساس کیوں ہوا کہ یہ سب ناجائز ہے اور قابضین سے قبضے چھڑانا ضروری ہو گیا۔ میں نے بستیاں کی بستیاں اور بازار کے بازار مسمار تو ہوتے متعدد بار دیکھے ہیں لیکن ان سب معاملات میں خواب غفلت میں پڑے ذمے داران کو سزا پاتے کبھی نہیں دیکھا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

کون نہیں جانتا کہ کسی کی ذاتی یا سرکاری زمین پر کسی بھی قسم کا قبضہ ممکن ہی نہیں۔ یہ صرف بڑی بڑی زمینوں کا معاملہ نہیں، بازاروں کے فٹ پاتھ، گلیوں کے کارنرز، آبادیوں کے خالی پلاٹ، کسی حد تک بڑے مکانوں کی دیواریں اور نالوں کے گرداگرد کی زمینیں قابضین قابو کر لیتے ہیں۔ ان کا انداز انگلی پکڑنے کا جیسا ہوتا ہے اور بعد میں نوبت  قبضے تک جا پہنچتی ہے۔ کیا ایسا سب کچھ بغیر کسی اشارہ ابرو کے ہوتا ہے؟۔ کیا اس کے پیچھے کوئی ادارہ نہیں ہوتا؟۔ کیا سارے ادارے نیند کی گولی کھائے ہوئے ہوتے ہیں؟۔

یہ سوچ غلط ہے کہ ادارے سوئے ہوئے اور غافل ہوتے ہیں۔ میرا مکان ایک نہایت پیچیدہ موڑ پر واقع تھا۔ میرے اندازے کے مطابق شاید ہی کوئی “شریف” محکمے کے فرد کا وہاں سے گزر ہوتا ہوگا۔ مکان کے باہر کچھ حصہ شاید منصوبے میں آنے سے رہ گیا تھا۔ بس اس جرم پر محلے والوں نے اسے کچرے خانے میں تبدیل کرنا شروع کردیا۔ میری روک ٹوک بھی کام نہ آئی تو میں نے اتنے حصے میں چارفٹ کی دیوار اٹھادی تاکہ گھر آلودگی سے اور گھر کے چھوٹے بڑے بیماری سے محفوظ رہیں۔ صبح کو نہ جانے کون کون سے محکمے والے آن موجود ہوئے اور اسے گرانے یا “زرضمانت” کا مطالبہ کیا۔ “زرضمانت” سے انکار پر دیواریں ڈھا دی گئیں۔ میں ملول نہیں خوش ہوا کہ ہمارے محکمے خواب غفلت کا شکار نہیں البتہ جب میں نے بیس بیس تیس تیس سال کے بنے شادی ہالوں کو مسمار ہوتے دیکھا جو بر لب سڑک بنے ہوئے تھے تو دل ٹوٹ گیا کہ میرا گھر جو نہ تو کسی شاہراہ عام پر تھا اور نہ ہی کسی اہم گلی کے موڑ پر، وہ تو محکمے والوں کو اگلے دن ہی دن نظر آگیا لیکن وہ شادی ہال جن کو ہزاروں لاکھوں آنکھیں ہر روز دیکھا کرتی تھیں وہ محکمے والوں کو بیس بیس سال تک نہیں دکھائی دیئے۔

یہ ہی نہیں، تجاوزات کی آڑ میں میں نے جس جس بستی، بازار یا ہالوں کو توڑتے پھوڑتے دیکھا ان میں بھی بہت سارے امتیازات کو ملحوظ خاطر نظر آئے۔ بستی توڑی گئی تو وہ بھی کبھی ساری کی ساری نہیں توڑی گئی اور بازار بھی سارے کے سارے نہیں توڑ پھوڑ دیئے گئے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ بھی اسی طرح آباد نظر آئے۔ خاص طور سے فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات کو تو کچھ ہی عرصے میں اسی طرح آباد دیکھا گیا جس طرح وہ ڈھائے جانے سے قبل آباد و بارونق تھیں۔

بات نکلتی ہے تو خود بخود دور تلک چلی جاتی ہے۔ بات بنی گالہ پر قائم ایسی بستیوں کی تھی جس کی حدود یا تو حد مقرر سے تجاوز کر گئی تھیں یا پھر وہ تمام کی تمام ہی قبضہ کرکے تعمیر کی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ایسی تمام تجاوزات کو نہ صرف ڈھا دیا جانا قرار پایا تھا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کیا جا رہا تھا۔

یہاں مجھے دو سوال کرنے ہیں۔ ایک تو یہ کہ برس ہا برس سے یہ عمل انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہورہا تھا تو انتظامیہ ایسا سب کچھ کیسے دیکھتی اور برداشت کرتی رہی۔ کیا اس قسم کے فیصلے سے قبل یہ ضروری نہیں تھا کہ انتظامیہ کے ذمہ داروں کو سر عام سزائیں سنائے جانے کا حکم دیا جاتا تاکہ آئیندہ کیلئے اس طرح کی غفلت کا مظاہرہ کرنے کی کسی کو جرات نہ ہو پاتی۔ دوسری بات یہ کرنی تھی کہ جرم کا ارتکاب خواہ بے بس کرے یا بہت بااختیار، سزا سب کیلئے ایک جیسی ہی ہونی چاہیے تھی۔

بنی گالہ کی تجاوزات کے خلاف درخواست خود عمران خان کی جانب سے دی گئی تھی جو اس وقت ملک کے وزیر اعظم بھی ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے وہ خود اس معاملے میں قانون کی زد میں آتے ہیں۔

جو جو املاک بھی قانون کی زد میں آئی ہوئی ہیں ان سب پر حکومتی مشینری پل پڑی ہے اور کسی رد و کد کے بغیر ان کو مسمار کرنے پر تلی ہوئی ہے لیکن وہی قانون عمران خان، وزیراعظم پاکستان کیلئے حرکت میں نہیں آیا بلکہ ان پر صرف جرمانہ ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزیراعظم پاکستان پر صرف جرمانہ ادا کرنے کے بعد ان کی پراپرٹی “حلال” ہو سکتی ہے تو باقی قابضین پر جرمانہ ادا کرکے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو “حلال” کیوں نہیں کیا جاسکتا؟۔ اسی ضمن میں ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ عدالت کا حکم اور حکم میں جاری سزا سزا ہی ہوتی ہے۔ جرمانے کا مطلب بہت ہی کم درجے کی سزا بھی ہو تو سزا تو ہوئی۔ ایک سابق وزیر اعظم کو اتنا ہی کہا گیا تھا کہ وہ عدالت کی برخاستگی تک عدالت میں ہی رہے گا۔ دیکھا جائے تو بظاہر یہ کوئی سزا تو نہیں تھی لیکن محض اسی بنیاد پر اس وزیر اعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ جرمانہ ادا کرنے کا حکم کیا اس زمرے میں شمار نہیں ہوتا؟۔ معمولی ہی سی سہی یہ سزا نہیں؟۔ کیا اس کو انصاف کا دہرا معیار تصور نہیں کیا جائے؟۔

جب تک کسی بھی ریاست میں بے بس و لاچار کا قانون اور صاحب اقتدار و اختیار کا قانون یکساں نہیں ہوگا اور سب کو انصاف کی آنکھ ایک جیسا نہیں دیکھے گی، یہ توقع رکھنا کہ ملک فلاح و بہبود کی جانب بڑھ سکے گا، ایک بہت بڑی بھول ہے۔

اپنے ہی شہریوں کی بستیوں کو پہلے تعمیر کرتے دیکھتے رہنا اور ذمے دار اداروں کا خاموش رہنا، پھر ایسے تمام ذمے داروں پر کسی بھی قسم کی کوئی فرد جرم عائد نہ کرنا اور بنے بنائے لاکھوں روپے مالیت کے مکانات کو کسی بھی ہچکچاہٹ کے بغیر بلڈوز کردینا میرے نزدیک سراسر جرم ہی نہیں ظلم بھی ہے۔

کراچی میں کوئی نالہ، کوئی سرکاری و ذاتی زمین، کوئی پہاڑی اور کوئی بھی کھیل کا میدان ایسا نہیں جو بھٹو دور سے لیکر تاحال ناجائز قابضین کی دست برد سے بچا ہوا ہو۔ ان میں سے 90 فیصد وہ علاقے ہیں جو قانونی طور پر ان کے حوالے کر دیئے گئے ہیں اور وہ ان بے ڈھنگی آبادیوں میں اپنی گزر اوقات کر رہے ہیں۔ جب کراچی میں ایسی ساری بستیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جاسکتے ہیں تو بنی گالہ کے رہائشیوں کو یہ حقوق کیوں نہیں مل سکتے؟۔

اگر قانون کی حکمرانی مقصود ہے تو وہ ملک کے کونے کونے میں یکساں ہونی چاہیے اور سب کیلئے برابر ہونی چاہیے یا پھر اعلان کر دیا جائے کہ بھینس اسی کی ہوگی جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوگی یا لاٹھی والا ہاتھ ہوگا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

30 تبصرے

  1. I am really enjoying the theme/design of your site. Do you ever run into any web browser compatibility issues?
    A handful of my blog visitors have complained about my blog not operating correctly in Explorer but looks great in Firefox.
    Do you have any ideas to help fix this issue?

  2. This design is incredible! You certainly know how to
    keep a reader entertained. Between your wit and your videos, I
    was almost moved to start my own blog (well, almost…HaHa!) Fantastic job.
    I really loved what you had to say, and more than that, how you
    presented it. Too cool!

  3. I think this is one of the most vital info for me.

    And i am glad reading your article. But should remark on few general things, The web site style is ideal,
    the articles is really nice : D. Good job, cheers

  4. Everything posted was actually very logical. But,
    think about this, what if you added a little information? I mean, I don’t want to tell you how to run your
    blog, but suppose you added something that grabbed
    people’s attention? I mean جس کی لاٹھی اس
    کی بھینس | Jasarat Blog is kinda plain. You could look at Yahoo’s home page and note how they create news headlines to grab people to click.

    You might try adding a video or a picture or two to grab
    people interested about everything’ve got to say. Just my opinion,
    it might make your blog a little livelier.

  5. I have been surfing online more than 4 hours today,
    yet I never found any interesting article like yours. It is pretty worth enough for me.
    In my view, if all webmasters and bloggers made good content as you did, the internet will be much more useful than ever before.

  6. I don’t know whether it’s just me or if perhaps everyone else encountering problems with your
    site. It appears as though some of the written text in your content are running off the screen. Can someone
    else please provide feedback and let me know if this is happening
    to them too? This might be a issue with my web browser
    because I’ve had this happen previously. Many
    thanks

  7. Hello! This post could not be written any better! Reading through this post reminds me of my good old room mate!
    He always kept chatting about this. I will forward this post to him.

    Pretty sure he will have a good read. Thank you for sharing!

  8. I’ve been exploring for a little bit for any high-quality articles or weblog posts on this
    kind of house . Exploring in Yahoo I finally stumbled upon this site.
    Studying this info So i am happy to convey that I’ve an incredibly just right uncanny feeling I came upon exactly what I needed.
    I such a lot certainly will make certain to don?t
    fail to remember this web site and provides it a
    look regularly.

  9. Hey there! I know this is kinda off topic however
    , I’d figured I’d ask. Would you be interested in exchanging links or maybe guest writing a blog post or
    vice-versa? My site discusses a lot of the
    same topics as yours and I feel we could greatly benefit from each other.
    If you’re interested feel free to send me an email. I look forward to hearing from you!
    Fantastic blog by the way!

  10. With havin so much written content do you ever run into any issues
    of plagorism or copyright infringement? My site has a lot of exclusive content I’ve either created myself or outsourced
    but it looks like a lot of it is popping it up all over the internet without my authorization. Do you
    know any methods to help reduce content from being ripped off?
    I’d certainly appreciate it.

  11. Awesome blog! Do you have any helpful hints for aspiring writers?
    I’m planning to start my own site soon but I’m a little lost on everything.
    Would you suggest starting with a free platform like
    Wordpress or go for a paid option? There are so many options out there that
    I’m totally confused .. Any suggestions? Thanks a
    lot!

  12. With havin so much written content do you ever run into any problems of plagorism or copyright violation? My site has a lot of
    unique content I’ve either authored myself or outsourced but it
    looks like a lot of it is popping it up all over the web without my permission. Do you know any methods to help
    protect against content from being ripped off?
    I’d genuinely appreciate it.

    Feel free to visit my page … special

  13. An interesting discussion is worth comment. I think that you ought to write
    more about this issue, it may not be a taboo subject but typically people
    do not discuss these issues. To the next!
    All the best!!

    My web-site :: coupon

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here