صحافی سعودی عرب کا، پناہ گزیں امریکا میں، تر کی میں سعودی سفارت خانے میں قتل ہوا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پر براہ راست صدر امریکا اتنے چراغ پا کیوں؟۔ امریکہ کی چراغ پائی کو اس لئے مان بھی لیا جائے کہ اس کو ہر وہ سرپھرا جو کسی بھی ملک سے باغیانہ رویے کی وجہ سے اس کے ملک میں پناہ لے لے تو اس کے وارے نیا رے ہوجاتے ہیں کیونکہ اسے اسی ملک کے باغی مل جاتے ہیں جو اس کے جارحانہ، مذمومانہ اور توسیع پسندانہ مقاصد کی تکمیل میں نہایت ممد اور معاون ثابت ہوتے ہیں لیکن ترکی کی چراغ پائی اس لئے سمجھ سے باہر ہے کہ ایک تو وہ مسلمانوں کا ملک ہے اور اس ناطے کم از کم اس کو کچھ نہ کچھ پردہ داری لازماً رکھنی چاہیے تھی اور اگر ایسا ممکن نہیں تھا تو کم از کم اس معاملے میں اسے امریکہ کی پالیسی سے ہٹ کر خود ہی کوئی راہ نکال کر سعودیہ سے مناسب انداز میں جواب طلب کرنا چاہیے تھا اور دوئم یہ کہ قاتلوں کی کھوج خود اس کی انٹیلی جینٹس کو لگانی چاہیے تھی کیونکہ یہ واقعہ خود اس کے اپنے ملک میں پیش آیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں ترکی اور سعودیہ کے تعلقات بہت برادرانہ نہیں مگر دوسری جانب کیا ترکی کے معاملات امریکہ سے بہت مثالی ہیں؟۔ دنیا جانتی ہے کہ ترکی کی پالیسی امریکا مخالفانہ ہی رہی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں امریکا کے صدرٹرمپ خطاب کیلئے اٹھے تو مسلمان مملک میں واحد اردگان ہی تھے جنھوں نے امریکی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ جب یہ طے ہے کہ امریکا نہ تو ترکی کا دوست ہے اور نہ ہی ترکی امریکہ کو مسلمان دوست سمجھتا ہے تو پھر اسے اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ سعودی صحافی کے اس کے ملک میں قتل ہوجانے کو بنیاد بنا کر کیا امریکا مسلمانوں کو کوئی مفاد پہنچائے گا؟۔ ایسے موقعہ پر امریکا کا ہم آواز بننا کیا سعودیہ، مسلم امہ یا ترکی کے حق میں جاسکتا ہے؟۔
اطلاع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو دوبارہ کہا ہے کہ وہ جمال خاشقجی کی موت کے حوالے سے سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ وضاحتوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ امریکہ کا عدم اعتماد اپنی جگہ درست ہے اس لئے کہ شروع میں سعودی حکام قتل جیسے واقعے کا انکار ہی کرتے رہے تھے۔ پھر تحقیقات کی بات کی، پھر قتل کا مبہم سا اقرار کیا اور اس قتل کو آپس کا لڑائی جھگڑا قرار دیا۔ سعودیہ کی متضاد بیانی معاملے کو سلجھانے کی بجائے الجھانے کا سبب ہی بنتی رہی اور اب ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی جہاں اس کیلئے دنیا کو جواب دینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
امریکی صدر کا وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو کچھ میں نے سنا ہے میں اس سے مطمئن نہیں اور امید کر رہا ہوں کہ مجھے بہت جلد مزید معلومات حاصل ہوں گی۔
جیسا کہ میں نے کہا کہ امریکا کے ہاتھ تو سعودیہ کو مزید دباؤ میں لانے کا ایک طوطا لگ گیا ہے لیکن ایسے موقعہ پر ترکی کو اس کی کسی سازش میں شریک ہونے کی کیا ضرورت ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ جب وہ اس بات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کا ہمدرد ہوہی نہیں سکتا تو اس کا ہم آواز بننا ترکی یا مسلم امہ کیلئے کتنا سود مند ہوگا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ اتوار کو ترک صدر نے ایک ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ منگل کو ترک پارلیمان سے اپنے خطاب میں تمام راز افشاں کر دیں گے اور سعودی عرب کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کا پردہ چاک کر دیں گے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل بھی تحقیقات کے سلسلے میں استنبول پہنچی ہیں۔
پیر کو امریکی وزیرِ خزانہ سٹیون منوچن نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی ہے، حالانکہ خاشق جی کے قتل میں ان کا نام آنے کی وجہ سے امریکہ کے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ امریکی وزیر اور ولی عہد نے امریکہ سعودی عرب تعلقات کے سٹریٹیجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تاہم بند کمرے میں ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہاں جو بات نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ ہے دنیا میں یہی دیکھا گیا ہے کہ حکومت مخالف جو بھی تحریکیں ہوتی ہیں خواہ وہ فرداً فرداً ہوں یا اجتماعی، دنیا کی ہر ملک کی حکومت اس کے خلاف متحرک ہو جاتی ہے اور اس کو اس سلسلے میں جس حد تک بھی جانا پڑے جاتی ہے خواہ معاملہ فرد کو قتل کردینے جیسا ہو یا گروہوں کو ہلاک کردینے جیسا۔ کیا ترکی میں ایسا نہیں ہوا؟، کیا ترکی کی حکومت نے عوام کی مدد سے اپنے ملک کی فوج کشی نہیں کی، کیا ہزاروں کی تعداد میں افواج کی گرفتاریاں اور قتال عمل میں نہیں آیا؟، کیا حکومت مخالف ہزاروں جج گرفتار نہیں کئے گئے۔ کیا اس سب کچھ ہنگامے میں ترک حکومت کے خلاف صحافی یا سیاسی رہنما تہہ تیغ نہیں آئے ہونگے۔ اسی طرح کیا امریکا کی مخالفت کرنے والا کوئی امریکی یا غیر امریکی امریکا کے عتاب سے بچ سکتا ہے۔ کیا تمام اسلامی ممالک جو اس وقت امریکا کی سخت گرفت میں آئے ہوئے ہیں اس کا سبب امریکی پالیسیوں کی مخالفت کے علاوہ بھی اور کچھ ہے؟۔ کیا ایران میں شہنشاہ کے دور میں شہنشاہ مخالفین کو نہیں کچلا گیا اور پھر خمینی انقلاب کے بعد اسی کے رد عمل کے طور پر شہنشاہ کی باقیات کے خلاف اس سے بھی کہیں بڑھ کر انسانیت سوز سلوک نہیں ہوا جس کا سلسلہ تا حال جاری و ساری ہے؟۔ کیا افغانستان میں ایک دوسرے کی مخالف قوتیں اب تک ایک دوسرے سے بر سر پیکار نہیں؟۔ کیا پاکستان کی افواج پاکستان دشمن پالیسیوں کے خلاف جہادی اور فسادی قوتوں سے نبرد آزما نہیں؟۔ دنیا کا وہ کونسا ملک ہے جو ریاست مخالفین کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے؟۔ ریاست کا وجود برقرار رکھنے کے لئے اور نظام حکومت کو پر سکون چلانے کیلئے اس قسم کی کارروائیاں بہر صورت ضروری ہوتی ہیں اور ایسی تمام کارروائیاں اس ملک کے قانون کے مطابق ہی ہوتی ہیں جس پر کسی دوسرے ملک کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔
راقم ایسی کارروائیوں اور خاص طور سے مخالف کا مؤقف سنے بغیر سزا دینے کے حق میں نہیں اور ایسی ہر کارروائی کو خلاف انسانیت سمجھتا ہے لیکن انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت مخالف ہر قوت کو ہمیشہ حکومتی قوت و طاقت سے ہی دبایا جاتا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی میں ایک سعودی صحافی کا قتل ہوجانا کوئی معمولی واقعہ نہیں لیکن جس شدت سے امریکی صدر کا براہ راست اس پر واویلا سامنے آرہا ہے اور اس کے فوراً بعد ترکی کے صدر اردگان کا بیان سامنے آیا ہے یہ کسی اور ہی کہانی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
صحافی کسی بھی ملک کا ہو اس کا قتل بے شک معمولی واقعہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ رپورٹنگ کے دوران صحافی حضرات قتل ہوتے رہے ہیں اور وہ صحافی تو اکثر زد میں آتے رہے ہیں جو حکومت مخالف رپورٹنگ میں شامل ہوں لیکن آج تک یہ بات نہ تو سنی اور نہ پڑھی کہ کسی صحافی کے قتل پر کسی ملک کا کوئی سربراہ اور وہ بھی امریکی صدر براہ راست نہ صرف بولا ہو بلکہ اس بنیاد پر وہ سخت سے سخت کارروائیاں کرنے کا دھمکیاں بھی دے رہا ہو۔ کیا اس کا مقصد سعویہ اور مسلم ممالک کو اور بھی کمزور کر دینا نہیں؟۔ یہ بات راقم یونہی نہیں کر رہا، اس کی پشت پر ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ واضح رہے کہ منگل کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم ترین سالانہ کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے جس کی صدارت ولی عہد محمد بن سلمان ہی کر رہے ہیں۔ تاہم امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی اہم شراکت دار ممالک نے خاشق جی کے قتل کے تناظر میں اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ امریکا ہی نہیں، دیگر بڑے بڑے ممبر ممالک کا کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا کوئی کہانی نہیں سنا رہا؟۔ کہانی بھی محض خاشق جی کو بنیاد بنا کر۔ یہ ایک غور طلب امر ہے اور ایسے نازک موقعے پر ترکی کی برہمی کوئی دانشمندانہ قدم نہیں لگتا۔
ایک جانب صورت حال یہ ہو اور دوسری جانب ہر حکومت کی طرح وہی گھسے پٹے بیانات “سعودی مجلسِ شوریٰ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جمال خاشق جی کے قتل کے حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ میں ہونے والی تنقید کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ مملکت کے خلاف جاری موجودہ میڈیا مہم کا مقدر ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ کا کہنا ہے کہ اس وقت سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی شبیہ کو ہدف بنا کر ایک شدید متعصبانہ مہم چلائی جا رہی ہے اور عوام اور قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے”۔ راقم کے نزدیک یہ موقع روایتی بیانات جاری کرنے کا نہیں بلکہ سنجیدہ رد عمل کا ہے۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ اب دوسروں کا دست نگر بننے کی بجائے پوری طرح اپنے قدموں پر کھڑا ہوا جائے۔ مسلم ممالک کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں کمی اگر ہے تو تعلیم اور مربوط منصوبہ بندی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اختلافات بھلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر پوری امت مسلمہ دو تین نکات پر اٹل ہوجائے تو کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ مسلمانوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔
