کچھ بھی سہی دراز تو دست سوال ہو گیا

ایک ایسا نو جوان جس کی شادی ہونا طے ہو چکی تھی اور جس کی معاشی حالت پاکستان ہی کے جیسی تھی ایک ماہر پا مسٹ کے پاس کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ شادی کے بعد اس کی گھریلو زندگی کیسی گزرے گی، جس کا ایک خاص تعلق معاشی حالات سے بھی ہوتا ہے۔ پامسٹ اس کا ہاتھ بہت دیر تک غور سے دیکھتا رہا۔ کافی حساب کتاب لگانے کے بعد اس نے کہا کہ شادی کے تین سال بہت تکلیف سے گزریں گے۔ نوجوان کے چہرے پر خوشی کی ایک رمق نمودار ہوئی کہ چلو اس کے بعد حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔ اس نے پامسٹ کی بات سن کر نہایت بے چینی سے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا، پامسٹ نے کچھ توقف کے بعد کہا کہ اس کے بعد تم دونوں میاں بیوی حالات کے عادی ہو جاؤگے۔

پاکستان میں اب تک جتنی ایسی حکومتیں آئیں جنھوں نے اپنے ادوار میں قرضے لئے ان سب نے عوام پر مزید ٹیکسوں کے بوجھ ڈالے، دوسرے ملکوں سے قرضے مانگے اور ان سب نے عوام کو یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سخت فیصلے، مشکل اقدامات کچھ وقت کیلئے ہیں۔ چند ماہ یا دو تین سال برداشت کرلیں اس کے بعد حالات نہ صرف بہتر ہوجائیں گے بلکہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی اور ان ساری نہروں پر صرف اور صرف غریب عوام کا ہی حق ہوگا جبکہ ہم جیسے با اثر، با اختیار اور پیسے والے چنے اور پانی میں روٹی بھگو کرکھا کر گزارہ کر لیں گے۔

اپنے دور حکومت میں ہر حکومت وقت کا دوہی باتوں پر زور رہا۔ قربانی تو دینا ہوگی اگر خوشحالی اور اچھے دن دیکھنے کی تمنا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی آپ پر ٹیکسوں کا اور قرضوں کا بوجھ لادنا پڑرہا ہے ورنہ تو ہمارا ارادہ عوام کی مشکلات بڑھانے کا نہیں تھا۔

ٹیکسوں میں اضافہ اور دوسرے ممالک سے بھیک مانگنا جیسے کام عوام کیلئے کوئی ایسی بات تو نہیں تھی کہ جس پر چونکنا بھی ضروری خیال کیا جاتا کونکہ اب وہ حس جس کو غیرت کے نام سے پکارا جاتا ہے ذکی الحس ہو چکی تھی اور  عالم یہ ہوچلاتھا کہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانے والا قبیلے سے باہر کا معلوم ہونے لگا تھا اور اس کا بھیک سے اجتناب عوام کے اشتعال کا سبب بننے لگتا تھا لیکن موجودہ حکومت سے عوام نے بڑی توقعات باندھ لیں تھیں جس کی بس اتنی وجہ تھی کہ اس نے قرض لینے پر موت کو ترجیح دینے کا درس دیا تھا اور ایک ایک پاکستانی کے دل میں ایسا غیرت کا شعلہ بھڑکایا تھا کہ سب نے اپنی اپنی چٹکیوں میں زہر دبا لیا تھا کہ ادھر دست سوال دراز ہوا ادھر 22 کروڑ لاشے زمین پر ڈھیر۔ قرض لینے کا مقصد حکمرانوں کا کرپٹ اور چور ہونے کا شور مچانے والے حکمران ملک سے باہر پہلی بڑی کانفرنس میں ہی اپنی ساری تقریر میں اپنی غربت کا واسطہ دے دے کر دنیا بھر سے جمع ہونے والے بزنس مینوں اور مقتدر ہستیوں سے جھولی پھیلا پھیلا کر قرض ادھار کا مطالبہ کرتے نظر آئے جو نئے پاکستان کی ایک پرانی روایت رہی ہے۔ میں نئے پاکستان کے غیرت مند حکمران کی تقریر پر کوئی تبصرہ کئے بغیر بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ ان کی آہ بکا رائیگاں نہیں گئی اور قوم کو نوید ہو کہ بھیک نہ لینے کا دعویٰ کرنے والے اور ایسی نوبت آجانے پر خود کشی کرنے کا وعدہ کرنے والے حاکم وقت سعودی عرب سے تین برس کیلئے اور ایک سال درگزر کرنے کی چھوٹ پرنہ صرف تین ارب ڈالرز قرض (بقول خود ان کے) بھیک لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ اتنی ہی مالیت (3 ارب) کا تیل 3 برس کیلئے ادھار (بھیک)  لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایسا تو ہونا ہی تھا اور راقم اس پر معترض بھی نہیں اگر اس کے نزدیک قابل اعتراض کوئی بات ہے تو وہ صرف اور صرف وہ دعوے ہیں جو پانچ سال سے ایک تسلسل کے ساتھ کئے جارہے تھے اور جن دعوں کی وجہ سے ایک اچھا خاصی بھیڑ ان کے گرد مثل پروانہ جمع ہو گئی تھی۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد کے طور پر ایک سال کے لیے تین ارب ڈالر ادا کرنے پر متفق ہو گیا ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک سال کے لیے تین ارب ڈالر دینے اور ایک سال کی مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً اتنی ہی مالیت تک کا تیل دینے پر راضی ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور سعودی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ کانفرنس میں شرکت سے پہلے عمران خان کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے دوست ملکوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دیں گے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا ہی انتخاب کیا تھا اور دورے کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہے جسے پاکستان نے چین اور پاکستان کے درمیان جاری منصوبے سی پیک میں تیسرا پارٹنر بننے کی دعوت دی ہے۔ تاہم بعد میں حکومت نے اپنے موقف کو تبدیل کیا تھا لیکن سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تاکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات ہو سکے اور اس وفد نے گوادر کا دورہ بھی کیا تھا۔ لیکن اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری یا امدادی پیکج کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ پاکستان کے خبر رساں سرکاری ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ادھار تیل اور قرض کی خبر کتنی درست ہے لیکن اگر اس کو درست مان بھی لیا جائے تو ابھی اس کی ٹرم اینڈ کنڈیشنز کا کچھ علم نہیں کہ آخر قرضے کی رقم اور ادھار تیل انٹرسٹ فری ہے یا اس پر تین سال کا کمپاؤنڈ انٹرسٹ (سودِ مرکب) بھی دینا ہوگا۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ یہ سب ادھار و قرض بلا سود ہے تب بھی وہ فرق تو واجب الادا ہوگا ہی جو ڈالرز کی اڑان اور روپے کی گراوٹ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قرضہ جات حکومت کے باقی بچ جانے والے ماہ سال کے اندر اندر ادا کر دیئے جائیں گے یا سابقین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کو نئے آنے والی حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا۔

ایک امر یہ بھی غور طلب ہے کہ کیا جتنی ر قم نئے پاکستان کو درکار ہے وہ سعودیہ کی اس رعایت سے (ادھار قرض سے) پوری ہو جائے گی اور پاکستان کو دوسرے ممالک یا آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑیں گے۔ اگر اس رعایت کے بعد اور عوام پر قرض لینے سے قبل ٹیکسوں، گیس، بجلی اور تیل کی مد میں اضافوں کے باوجود بھی دست سوال دراز کرنا پڑا تو پھر اس بات کے رد عمل کو بھی اپنے سامنے رکھنا ہوگا جو عوام کی مخالفت کی صورت میں موجودہ حکومت کے سامنے آسکتا ہے۔ یہ بات قیاس نہیں، موجودہ دو ضمنی الیکشن کے نتائج حکومت کیلئے ایک الارم ہیں جو عوام کی جانب سے بجادیا گیا ہے اور اس الارم کا سبب صرف اور صرف دعوے اور وعدوں سے انحراف اور مہنگائی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

یہاں اس امر کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں 140 بین الاقوامی کارپوریشنز کی 150 نامور شخصیات کو اس کانفرنس میں تقریریں کرنا تھیں۔ لیکن اب تک 40 شخصیات سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ہلاکت کےبعد پیدا ہونے والے حالات کے بعد اس کانفرنس میں شرکت کرنے پہنچ سکی ہیں۔ یہاں کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب سعودی عرب جیسے ملک کیلئے صورت حال بدلی بدلی نظر آرہی ہے تو پاکستان کی اس میں شرکت اور اس سے کوئی منفعت بخش پہلو نکال لینا آسان کام تو نہیں ہو سکتا اس لئے بہت ساری توقعات باندھ لینا بھی سود مند بات نہیں ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان نے سرمایہ کاروں کو دعوت تو دی ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایا کاری کریں لیکن اس سلسلے میں جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ راقم کے نزدیک مناسب نہیں۔ جب آپ خود اپنے گھر کی کمزوریاں دنیا کے سامنے رکھیں گے، اپنے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی کرپشن کی کہانیاں سنائیں گے، امن و امان کی خراب صورت کو بیان کریں گے اور ان سب کے بعد انھیں یہ بھی کہیں گے کہ ان سب کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے میں ایک مدت درکار ہوگی تو ایسے حالات سننے کے بعد کیا اس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔ ممکن ہے کہ وہ زبان خاموشی میں کہیں کہ ٹھیک ہے جب آپ اپنے ملک کے حالات قابوں میں کرلیں اور کرپٹ سیاستدانوں سے نمٹ لیں تو پھر ہم بھی غور کر لیں گے۔ میرا اپنا خیال تو یہی ہے کہ اپنے گھر کے حالات کی تفصیل میں جانے کی بجائے انھیں امید دلائی جاتی، تحفظ کا احساس دلایا جاتا اور ان کاروبار کی تفصیل سامنے رکھی جانی جس میں ان کیلئے سرمایہ کاری کرنا نفع بخش ہو سکتی تھی، زیادہ بہتر بات ہو سکتی تھی۔

اللہ کرے کہ دوست ممالک اور دیگر دوسرے ممالک کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہو جائے اور کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کرنے کیلئے پاکستان آئیں تاکہ پاکستان بحرانی کیفیت سے باہر آسکے اور حکومت عوام کو دلائی جانے والی امیدوں پر پورا اترنے میں کامیاب ہو سکے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here