پاکستان کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے وہ پر تشدد کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ کسی بھی قسم کے جلسے جلوس ہوں اگر وہ حکومت مخالف ہیں تو اس میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ معمول کا معاملہ ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب تک ایسا نہ کیا جائے متعلقہ محکموں یا حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی بلکہ ایسے احتجاجوں، جلوسوں، جلسوں اور ریلیوں کا ہر سطح پر مذاق اڑایا جاتا ہے اور ان تمام باتوں کو جو احتجاجات کا سبب بنے ہوئے ہوتے ہیں، ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔
احتجاج عوامی ہو یعنی احتجاج میں کسی پارٹی کا عمل دخل ہی نہ ہو، لوگ بجلی کی عدم فراہمی، پانی کی عدم ترسیل یا سیورج کی خراب صورت حال پر کسی محکمے کا گھیراؤ کر رہے ہوں اور اپنی تکالیف کا ازالہ چاہتے ہوں اور کسی بھی قسم کے قانون کی خلاف ورزی میں شریک نہ ہوں تو جس محکمے کے سامنے وہ بیٹھے ہوں وہاں کے اندر والوں کے کان کھڑے ہی نہیں ہوتے حتیٰ کہ ذمہ داران اپنے دفتر کی کھڑکی تک سے جھانکنا پسند نہیں کرتے۔ احتجاج کرنے والے اس ان سنی پر ذرا بھی مشتعل ہوجائیں اور کسی حد تک آنے جانے والوں کی راہیں مسدود کرنا شروع کردیں تب بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ ذمہ داران خرابی حالات کا نوٹس لیتے ہوئے مظاہرین کا سامنا کرنے کی بجائے لا انفورسمنٹ ایجنسیز کے ذریعے مجمعے پر متشددانہ کارروائیاں کراتے ہیں اور جب آگ پورے شہر میں پھیل جاتی ہے تو ایسی ہا ہا کار مچتی ہے کہ چیخ و پکار آسمان کو چھونے لگتی ہے اور وہی مسائل جن پر اگر بروقت کان دھرلیا جاتا اور لوگوں کی تکالیف دور کردی جاتیں تو نوبت جلاؤ گھیراؤ کی جانب کبھی بھی نہ آتی۔
ایک بہت ہی دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جب سارا شہر جل کر خاکستر ہوجاتا ہے اور کئی جانیں جان آفرین کے پاس چلی جاتی ہیں تب حکومت یا لاانفورسمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے ایک زبر دست بیان آتا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا، کسی کو جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہر ایک کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کے جدید دور میں آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ اکثر کچھ کالیں ایسی آتی ہیں جن کو اٹینڈ کرنے پر کمپیوٹر کی ہدایات ملنا شروع ہو جاتی ہیں کہ اب آپ ایسا کریں اور اب ایسا کریں۔ اُن ہدایات اور اِس قسم کے بیانات میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا کیوں کے جو بات اور ہدایات آپ نے 40 سال قبل سنی اور پڑھی ہوتی ہیں وہی ہدایات اور بیانات کسی ٹیپ پر چڑھی کیسٹ میں لا انفورسمنٹ ایجنسیاں یا حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے دہرائی جارہی ہوتی ہیں۔
آسیہ ملعونہ کے کیس میں بھی کچھ ایسا ہی سامنے آیا۔ جب سارا شہر خاک ہو گیا تو وہ لا انفورسمنٹ ایجنسی والے جو تین چار دن تک سوئے ہوئے تھے اور احتجاج کی آڑ میں تخریب کار اور شرپسند لوٹ مار اور گھیراؤ جلاؤ میں مصرف تھے تو وہ سب ادارے حالات خود بخود پر سکون ہوجانے کے بعد جاگ گئے اور بڑے پیمانے پر گرفتایاں شروع کر دیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے غالب فرماتے ہیں کہ
جلا ہے جسم تو پھر دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
یہاں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کی ہر تخریب کاری کے بعد جو سخت سے سخت بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے، کسی کو قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے وغیرہ۔ یہاں جو سوال پوچھنے کا ہے وہ یہ ہے کہ کیا لوٹ مار کرنے کی مد میں بھی کوئی ایسا قانون ہے جس میں حکومت سے درخواست کی جائے اور اس کی قانوناً منظوری حاصل ہو سکے؟۔ کیا اس قسم کی کوئی بھی تخریب کاری اجازت لے کر کی جاتی ہے؟۔ یہ سب باتیں اس قدر فضول ہیں جس کو سننے کے بعد سر دھننے کو دل چاہنے لگتا ہے۔
گزشتہ کل جب ملک کے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم چین کے دورے سے واپس آئی تو ایک اہم میٹنگ میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ آسیہ ملعونہ کے عدالتی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاج ہوا اور جس کے نتیجے میں جو مالی نقصانات ہوئے ان سب کا جائزہ لیکر تخریب کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی تاکہ آئندہ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرات نہ ہو سکے۔ راقم کے نزدیک یہ ایک اچھا عمل ہے۔ عام طور پر پاکستان میں ہوتا بھی ایسا ہی رہا ہے کہ جب پورا شہر جل کر راکھ ہوجاتا ہے تب لاانفورسمنٹ ایجنسیاں حرکت میں آتی ہیں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوتی ہیں، ہنگامہ آرائی کرنے والے گرفت میں لئے جاتے ہیں لیکن اس کے بعد کی کہانی کیا ہوتی ہے، اس کے آگے ہمیشہ بلیک آؤٹ کے علاوہ اور کچھ بھی نہ کبھی نظر آیا ہے اور نہ حسب سابق نظر آئے گا اس لئے کہ یہی پاکستان کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں گرفتایوں کے نتیجے میں جو نقصان مالکان اورعام مزدوروں کو اٹھانا پڑا ہے کیا وہ پورا کیا جا سکے گا؟۔ کیا ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے اس نقصان کو پورا کیا جائے گا؟۔ اگر ایسا سب کچھ ہے تو بہت خوب لیکن اگر ایسا کچھ بھی نہیں تو بے شک ان سب کی گردنیں ہی کیوں نہ اڑا دی جائیں، جس جس کا نقصان ہوا ہے اس کے پاس بد دعائیں دینے اور صبر کرنے کے علاوہ اور کیا ہوگا۔
گر فتار کرکے سزا دینے کا عمل بھی اچھا ہی ہے لیکن اس میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ تمام محرکات جن کی وجہ سے پورا پاکستان آگ کی لپٹ میں آگیا تھا وہ سب کے سب قانون کی گرفت میں لئے جائیں گے یا پس منظر میں نظر آنے والی اور کیمروں میں محفوظ ہو جانے والی چند شکلیں ہی اس عذاب کو بھگتیں گی۔
یاد رہے کہ جو آگ چند دن قبل پورے پاکستان میں لگی تھی اس کا آغاز ایک چھوٹی عدالت سے ہوا تھا، پھر اسی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ نے بھی بر قرار رکھ کر گویا اس بات کی تصدیق کردی تھی ایک چھوٹی عدالت نے جو بھی فیصلہ سنایا تھا وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہی تھا۔ اس فیصلے کے بعد دس برس تک پاکستان میں خاموشی کا راج رہا، پی پی پی اپنے دور میں ہونٹ سی کر بیٹھی رہی اور ثابت کرتی رہی کہ فیصلہ درست ہی ہے۔ مسلم لیگ ن 5 سال تک فیصلے کی توثیق کرتی رہی لیکن دس سال کے بعد اچانک پی ٹی آئی کی حکومت میں ججز کو معلوم ہوا کہ چھوٹی عدالت اور پھر اس سے بڑی عدالت تو جاہلوں پر مشتمل ہے اور آئین و قانون سے بالکل ہی نابلد ہے اور ایک ملعونہ تو معصوم ہے اسے فوراً ہی رہا نہیں کیا گیا تو پورے پاکستان پر اللہ کا عذاب آجائے گا اور آسمان غضبناک ہو کر پاکستان پر گر پڑے گا لہٰذا اسے فوراً معافی دے کر آزاد کر دینا ضروری ہے۔
بے شک مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد ایسا ہی ہوا ہو لیکن کیا گزشتہ 10 برس سے زائد کے عرصے میں کوئی ایک محکمہ بھی قصوروار نہیں تھا؟۔ کیا کسی کی زندگی کو بنا کسی جرم و گناہ چھین لینا اتنا معمولی جرم ہے کہ جب چاہے کسی کو سولی پر چڑھادیا جائے اور جب چاہے کسی سولی پر چڑھے فرد کی رسی کاٹ دی جائے؟۔ اتنے سنگین واقعے کے بعد نہ تو چھوٹی عدالت کے کسی جج کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی اس سے بڑی عدالت کے کسی جج کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا گیا؟۔ کیا ان سب عدالتوں کے وکیل اور ججز کسی دوسرے ملک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے قانون پڑھ کر آئے ہوئے ہوتے ہیں؟۔ اگر یہ سب اتنے ہی نااہل و کم علم ہیں تو ان کیلئے پاکستان میں کیا سزا ہے؟۔ کیا یہ تمام باتیں قابل غور نہیں اور کیا ان سب کو پکڑنا بلوائیوں کو پکڑنے سے پہلے کا عمل نہیں جن کے دیئے گئے غلط فیصلے کی وجہ سے پورا پاکستان تشنج کا شکار ہو کر رہ گیا تھا؟۔
پھر آسیہ ملعونہ کی رہا ئی کے بعد چار دن تک ملک میں جو کچھ ہوتا رہا اور چاروں صوبوں اور وفاق کی ساری فورسز محض تماشہ دیکھتی رہی اور ملک جلتا رہا یہ کوئی معمولی بات تھی۔ کیا لوگوں کی املاک کا تحفظ ان سب کی ذمہ داریوں میں نہیں آتا؟۔ اگر نہیں تو پھر کسی کی گرفتاری کیوں؟، اور اگر ایسا سب کچھ ان کی ذمہ داری تھی تو کیا اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر ان میں سے کسی ذمہ دار کے خلاف بھی کوئی قدم اٹھایا جائے گا یا یہ سب قانون اور آئین کے لاڈلے ہیں؟۔
ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کیا گرفتاریاں ان ہی لوگوں کی عمل میں آئیں گی اور سزاؤں کے مستحق وہی لوگ قرار دیئے جائیں گے جو کسی کے اکسانے پر آگئے تھے یا پھر پتوں، ٹہنیوں اور شاخوں کے ساتھ ساتھ ‘جڑوں’ پر بھی وارکیا جائے گا؟۔ شرخیل بھی گرفت میں آئیں گے یا بجلی بیچارے مسلمانوں پر ہی گریگی؟۔
پاکستان جل رہا تھا اور چین میں چَین کی بنسی بج رہی تھی۔ اس تمام عرصے میں ایسا لگ رہا تھا جیسے پاکستان جیسا پرامن ملک کوئی ہے ہی نہیں لیکن گزشتہ کل یہ احساس ہوا کہ ہمارے حکمران اتنے بے حس بھی نہیں جتنا خیال کر لیا جاتا ہے۔ خبر ہے کہ “وزیراعظم عمران خان کے چین سے آتے ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان سے اہم ملاقات کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہونے والی اس ملاقات میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد کی صورتحال سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی غور کیا گیا”۔ یہ سن کر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے جسم میں کوئی بانس نہیں پھانس چبھی ہوئی تھی جس کو نکال لیا گیا تھا۔ اس تمام بریفنگ کے بعد صدیوں پرانا اعلامیہ جاری ہوا جس میں حسب سابق اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ آئندہ کسی کوبھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا نیز پاکستان کی خوشحالی اور امن و استحکام کے لیے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے ہر بڑے ہنگامے کے بعد املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگائے جانے کے احکامات تو ضرور جاری کر دیئے جاتے ہیں لیکن جانی نقصان کو ایسا خیال کر لیا جاتا ہے کہ جیسے چیونٹیاں یا کیڑے مکوڑے تھے جو مر گئے یا مار دیئے گئے۔ انسانی جان کا چلاجانا کسی بھی ادارے یا حکومت کے نزدیک کوئی اہم بات رہ ہی نہیں گئی ہے۔ بقول شاعر
حادثے سے بڑا حادثہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
ان تمام بے حسیوں کے باوجود بھی راقم پر امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ہن برسا کریگا، آسمان سے ستارے زمین کی زینت بنیں گے، چین اور چَین کی بنسی بجے گی اور اب کوئی بڑی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں نہیں آئے گی۔ قارئین بس یہی دعا کریں کہ راقم کی یہ گہری نیند بیداری میں نہ بدل جائے اور راقم کا یہ حسین خواب ادھورا نہ رہ جائے۔
