وہ ایک سجدہ

ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے اور جب تک سارے انجام دینے والے امور، خواہ ان کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، قوم کے مزاج کے مطابق انجام نہیں دیئے جارہے ہوں اس قوم کا مطمئن زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

دنیا کی کوئی بھی تہذیب ہو اور اس تہذیب و تمدن کا کوئی بھی مذہب ہو وہ اس قوم کی ہر بیماری کیلئے ایک تریاق ہوتا ہے۔ قوم کے امور کا تعلق خواہ ان کے انفرادی معاملات سے ہو یا اجتماعی معاملات سے، اگر اس کے سارے فیصلے اسی مذہب کی روشنی میں انجام دیئے جارہے ہوں تو پوری قوم مطمئن اور خوش رہتی ہے لیکن اگر معاملات ان کی اقداروروایات کے خلاف ہوں تو بے چینی اور اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور امن و امان کی صورت حال کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

مذہب کی طرح کچھ نظام ہائے زندگی جن کا تعلق ملک کے سیا سی امور سے ہوتا ہے وہ بھی مذہب کی سی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ لوگ طویل عرصے کسی خاص سیاسی ماحول کے اس حد تک عادی ہوتے جارہے ہیں کہ ان میں ذرا سا بھی ردوبدل ان کے مزاج پر بری طرح اثر انداز ہونے لگتا ہے لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح اسی زندگی کی جانب لوٹ جائیں جس میں وہ اور ان کے اجداد ایک عمر گزار چکے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی ملک کا سیاسی منظرنامہ ایک جیسا نہیں ہے۔ ہرملک کا طرز حکومت ہر دوسرے ملک سے بہت مختلف ہے۔ کہیں آمریت ہے تو کہیں جمہوریت، کہیں مذہب نظام حکومت میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے تو کہیں انسانوں کے تراشیدہ اصول و قواعد اور کسی جگہ سب قانون وہی ہے جو اس کے حاکم کی جانب سے ‘کہہ’ دیا جائے جس کو بادشاہت کا نام بھی دیدیا جاتا ہے۔

اگرغور کیا جائے تو وہ طبقہ جسے عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے، وہ اگر کسی بھی نظام حکومت کے تحت خوش و خرم ہے یا اپنے حاکموں کو اپنا ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے اور حاکم بھی اپنے آپ کو حاکم سمجھنے کی بجائے اپنے آپ کو قوم کا خادم تصور کرتے ہیں تو پھر بلاشبہ اس معاشرے کو ایک فلاہی معاشرہ کہا جاسکتا ہے اور ایسے بے مثال معاشرے میں سانس لینے والا ہر فرد خوش قسمت کہلائے جانے کا مستحق ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کو اس بلندی تک لیجانے میں وہ کیا فلاسفی ہو سکتی ہے جس سے معاشرے کا ہر فرد اور اس کا حاکم اخلاق و کردار کی اس بلندی پر متمکن ہو جائے کہ نہ تو وہ خود کسی بھی قسم کی اخلاقی برائی میں مبتلا نہ ہو اور ناہی اس میں سانس لینے والے تمام عام و خاص کسی بھی قسم کی برائی یا کرپشن کا شکار ہوں۔

ایسا معاشرہ وہ ہی ہو سکتا ہے جہاں ہر بلند و پست کیلئے قانون ایک ہی جیسا ہو اور منصفوں کی ایک ہی آنکھ ہو۔ انصاف کی نظر میں کالا گورا، امیر و غریب اور بے کس و با اختیار سب برابر ہوں۔ جہاں یہ سب کچھ ہوگا وہاں امن و آشتی کے علاوہ اور کسی چیز کا پایا جانا کسی بھی طرح ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔

وہ کون سا بشر ہے جس میں شر نہیں ہوتا۔ وہ کون سا انسان ہے جس میں اپنی صلاحیتوں اور اختیار و قدرت کے مطابق اچھائی یا برائی اپنانے کی طاقت نہیں ہوتی۔ وہ کون سا دل ہے جس میں عجلت نہیں پائی جاتی۔ وہ کون سی آنکھ ہے جو سامنے نظر آنے والے ظاہری مفاد کو نہیں دیکھ رہی ہوتی اور وہ کون سا دل ہے جو لالچ اور ہوس کا شکار نہیں۔ ان نکات کو سامنے رکھنے کے بعد کیا کوئی یہ سمجھا سکتا ہے کہ وہ کونسی قوت ہے جو انسان میں موجود ان ساری کمزوریوں کو اپنے قابو میں رکھ سکے۔ وہ تنہائی میں ہو یا ہجوم میں، خلوت میں ہو جلوت میں، اپنے گھر میں ہو یابازار میں، دوستوں میں ہو یا دشمنوں کے درمیان، المختصر کسی بھی ماحول میں ہو، اپنے اندر موجود ہر کمزوری پر اپنے زور کو غالب کرسکے۔ کوئی تو ایسا خوف یا احساس ذمے داری ایسا ہوگا جو قدم قدم پر اس کا نگراں ہوگا اور اس کی غلط روش پر چلنے کی ہر کوشش سے اسے باز رکھنے پر قادر ہوگا۔

انسان اپنی زندگی گزارنے کا کوئی بھی نظام تراش لے۔ تراشیدہ نظام کے مطابق وہ خواہ کوئی بھی آئین، قانون اور ضابطہ حیات مرتب کرلے۔ اپنے ہی ضابطہ حیات پر کتنا ہی دیانتداری سے عمل پیرا ہو جائے اور معاشرے میں قانون کی عمل داری کو کتنا ہی یقینی بنالے لیکن اس کے باوجود وہ بیشمار ایسی باتوں سے کسی فرد کے دل و دماغ میں وہ خوف پیدا نہیں کرسکتا جو مذہب پیدا کرتا ہے۔ یہاں خوف سے مطلب دہشت نہیں بلکہ وہ احساس جوابدہی ہے جو ہر غلط کام کرتے ہوئے اسے یہ احساس دلائے کہ کوئی ہستی کائینات میں ایسی بھی ہے جو اسے اور اس کے ایک ایک فعل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ ہستی اتنی قادرمطلق ہے کہ اسے جتنا اچھا باہر سے دیکھ رہے ہے اس سے کہیں زیادہ اچھا اندر سے دیکھ رہی ہے حتیٰ کہ وہ اس کی سوچوں تک کو پڑھنے پر قادر ہے، لہٰذا جس طرح وہ ملک کے عام قوانین پر عمل کرنے اور اسی کے مطابق جزاوسزا کا مستحق قرار دیا جا سکتا ہے بالکل اسی طرح اسے اپنے ڈھکے چھپے اعمال و افعال پر بھی جزا بھی ملے گی اور سزا بھی۔ یہی وہ احساس جوابدہی ہے جو اس کو غلط کام کو انجام دینے سے روکے رکھتا ہے خواہ اسے دنیا کی کوئی بھی آنکھ نہ دیکھ رہی ہو۔

یہاں مجھے جو بات ہر قاری کی سامنے رکھنی ہے وہ یہ ہے کہ کیا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور ضابطہ ہائے حیات ایسے ہو سکتے ہیں جو کسی کو تنہائی میں یا موقعہ مل جانے کی صورت میں اسے ہر قسم کی بدی سے محفوظ رکھ سکیں؟۔

یہ قوت اور صلاحیت صرف اور صرف مذہب میں ہی ہے کیوں کہ دنیا کا ہر مذہب انسانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو تمہارے ایک ایک فعل پر سوتے جاگتے تم پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ایک ایسی زندگی بھی ہے جو موجودہ زندگی کے اختتام کے بعد شروع ہوجائے گی اور اصل میں وہی زندگی ہے جس کو دوام ہے اور اس زندگی میں ہر نیکی و بدی کی سزا و جزا ہے جس سے نہ کوئی بادشاہ بچ سکے گا نہ فقیر۔

ہر صاحب علم اس بات سے خوب اچھی طرح واقف ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں وہ سارے کے سارے انسان کی انفرادی زندگی کی اصلاح تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے پاس انسانوں کی اجتماعی زندگی کیلئے کسی بھی قسم کا کوئی ضابطہ حیات موجود نہیں۔ سارے ادیان اس کی اور اس کے نفس کی اصلاح تو کرتے نظر آتے ہیں اور بلاشبہ ان مذاہب کو اخلاص کے ساتھ اختیار کرنے والے دوسرے انسانوں سے بہت مختلف اور اچھے انسان بن جاتے ہیں لیکن وہ معاشرے کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق چلانے میں ناکام رہتے ہیں جس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہوتے ہیں وہاں اللہ کا نہیں انسانوں کا بنایا ہوا قانون حکمران ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اپنے مذہب کے مطابق علم حاصل کرنے کے باجود وہ اکثر وہ اس لئے ہر قسم کے اخلاقی اور مذہبی بگاڑ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ درسگاہوں سے باہر کا ماحول یکسر مختلف ہوتا ہے اور وہ اس ماحول کا مقابلہ کرنے میں سخت ناکامی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ وہ نہ صرف فرد کو منفرد بنانے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ وہ نظام حکومت کی ایک ایسی واضح شکل و صورت بھی رکھتا ہے جس کے ذریعے ہی معاشرے میں فلاح و بہبود کے حقیقی تصورکو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو ہر فرد کو تنہائی میں ہر برائی سے روکے رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ہجوم میں بھی اسے انسانیت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔

جس ملک کو بنایا ہی اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لئے گیا ہو اس کے وجود کو کوئی اور نظام مربوط اور قائم نہیں رکھ سکتا۔ یہ بات کوئی قیاس یا گمان نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت مشرقی پاکستان کا پاکستان سے الگ ہوجانا ہے۔ باقی ماندہ پاکستان بھی جن خطرات سے دوچار ہے وہ اسلام کے نظام کے نافذ نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

نظام کوئی سا بھی ہو اور پاکستان کے خود ساختہ فلاسفر کوئی بھی نظر یہ تراشنا چاہتے ہوں ان کیلئے عرض یہ ہے کہ کوئی بھی نظام عوام میں اس وقت تک مقبولیت حاصل نہیں کرسکتا جب تک کہ ملک کے ہر ہر فرد کو اس کی خوبیوں سے آگاہ نہ کردیا جائے۔ نظام حکومت تو ایک بہت بڑی بات ہے، کوئی کھیل بھی اس وقت تک عوام میں مقبول نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے کھیلنے والے اس کے ایک ایک ضابطے سے آگاہ نہ ہوں اور ناظرین اس کے اصولوں سے کماحقہ واقف نہ ہوں۔ اس ملک میں بسنے والا ہر فرد نہ صرف اسلام، اس کے نظام اور اس کی برکات سے خوب اچھی طرح آگاہ ہے بلکہ وہ پاکستان کے وجود میں آنے کے مقاصد سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہے اور متمنی ہے کہ اس ملک میں اللہ اور اس کے رسول کا نظام نافذ ہو۔ یہ وہ بنیادی تعلیم ہے جس کیلئے کسی بھی قسم کی مزید ہدایت دینے یا عوام کو سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

خبر ہے کہ ججوں پر حملوں کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں کی جانچ پڑتال ضروری تصور کی جا رہے۔ تفصیلات کے مطابق آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے کے تناظر میں عدالت عظمیٰ میں سیکورٹی اہلکاروں کی اسکروٹنی کا عمل جاری ہے۔ذرائع کے مطابق عدالت عظمیٰ میں 239 سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ چیف جسٹس اور دیگر ججز کے ساتھ ڈیوٹی دینے والے سیکورٹی اہلکاروں کی اسکروٹنی مکمل ہوگئی ہے جبکہ اس کے بعد عدالت عظمیٰ میں تعینات تمام اہلکاروں کی اسکروٹنی آئند ہ ہفتے مکمل کرلی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں سے تحریری سوالنامہ اور انٹرویو زبھی لیے جارہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں سے دینی رجحانات اور اہل خانہ سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے ہیں۔ سوالنامہ میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور اہلکاروں کے مسلک کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟۔ کیا یہ سب خدشات اس لئے نہیں کہ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسلامی اصولوں سے ہٹ کر ہو رہا ہے اور ہماری عدالتیں فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار نظر آتی ہیں جس کی وجہ اسلامی نظام سے دوری ہے۔

اللہ کے قوانین سے دوری ہمیں مسلسل تباہی و بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے لیکن ہم اس بات کو سمجھنے کی بجائے اپنی انا کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں۔

پاکستان جن آفتوں کا شکار ہے اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم باطل نظام حکومت سے اپنی جان چھڑائیں اور اپنے آپ کو اللہ کیلئے خالص کرلیں۔ ماضی میں ہم بہت نقصان اٹھا چکے ہیں لہٰذا مستقبل کو سنوارنے کیلئے اس ایک اللہ کے بندے بن جائیں۔ بقول علامہ اقبال

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہی پاکستان کا مقصد وجود ہے اور یہی وہ نظام ہے جو پاکستان کو پاکستان بنا سکتا ہے ورنہ یہ مصر، شام، عراق، برطانیہ، جرمن، چین اور امریکہ کہ طرح ایک ملک ہی کہلائے گا اسلامی جمہویہ نہیں کہلایا جاسکتا خواہ اس کا نام پاکستان ہی کیوں نہ ہو۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here