ابہام دور کرنا ہوگا

جب کوئی ‘غلط’ ہرعام و خاص میں عام ہوجائے تو اس ‘غلط’ کو فصیح مان لیاجا تا ہے اور ایسے ‘غلط’ کو اصطلاحاً الغلط العام فصیح کہا جاتا ہے۔ اردو میں بے شک کوئی لفظ کتنا ہی غلط لکھا جائے یا اس کا تلفظ کتنے ہی بگاڑ کے ساتھ زباں زدِ عام ہوجائے اسے فصیح نہیں مانا جاتا لیکن اگر اس دور کے ادبا اور شعرا بھی غلط بولیں اور لکھے جانے والے لفظ کو اپنی تحریروں اور اشعار کا حصہ بنالیں اور اسی غلط طریقے سے لکھنے اور بولنے لگیں جس طرح عام لوگ لکھنے اور بولنے کے عادی ہوچکے ہوں تو پھر اس لفظ کو فصیح مان ہی لیا جاتا ہے اور یوں اس غلط کو فصیح ہونے کی سند مل جاتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں یہ بات شدت کے ساتھ زور پکڑتی جارہی ہے کہ حکومت کی صورت میں جو چہرے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں وہ حکومت نہیں کر رہے ہوتے اور جو حکومت کر رہے ہوتے ہیں وہ سب سلیمانی ٹوپی والے ہوتے ہیں کیونکہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہے ہوتے۔

ملک کے بیشمار صحافی، ٹی وی اینکرز، کالم نویس، ڈرامہ نگار، اساتذہ کرام اور سیاستدان ایک طویل عرصے سے اسی قسم کی باتیں کرتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان میں جو حکومت میں نظر آتے ہیں وہ نہیں ہیں اور جو حکومت کر رہے ہیں وہ نظر نہیں آتے۔ کبھی ان کا نام غیر مرئی مخلوق رکھا جاتا ہے، کبھی خلائی مخلوق کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی وہ محکمہ زراعت والے کہلانے لگتے ہیں۔

سیاست کے میدان میں قدم جمانے کیلئے سیاستدانوں کو بہت سارے ہنر آتے ہیں جس میں ایک ہنر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر وہ رکاوٹ جس کو وہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے میں دیوار چین تصور کرتے ہوں اپنی تقریروں میں اس کا ذکر کریں یاپھر ان باتوں کو زینت بنائیں جن کا ذکر کرکے عوام میں اپنے قد کاٹھ کو بلند کیا جاسکے۔ روٹی، کپڑے اور مکان کی بات، مہنگائی کا تذکرہ، مخالفین کی کیلئے تضحیک آمیز باتیں، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے، ایک دوسرے پر رکیک الزامات لگانے جیسی حرکتیں، امریکا کو برا کہنا، کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا شدومد کے ساتھ ذکر کرنا جیسے ہنر تو عام ہی ہیں مگر اب خلائی مخلوق کا ذکر بھی اتنا عام ہوتا جارہا ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

سیاستدان تو سیاستدان ہی ہوتے ہیں وہ اگر ان باتوں کا سہارا نہیں لیں گے تو کون ان کو منھ لگائے گا لیکن جب خلائی مخلوق یا محکمہ زراعت والوں کا ذکر عام آدمی بھی کرنے لگیں اور پھر ملک کے دانشور بھی اس میں شامل ہونے لگیں، کالم نویس، ادبا اور شعرا بھی حصہ ملانے لگیں تو بات سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ سیاستدان، عوام، دانشوران اور لکھاریوں کو بھی ممکن ہے کہ نظرانداز کیا جاسکتا ہو لیکن اگر ملک کی عدلیہ بھی اگر وہی بات کہنے پر مجبور ہوجائے جس کا اظہار ملک کی ایک واضح اکثریت کرتی چلی آرہی ہو تو پھر یہ ‘غلط’ سمجھی یا سمجھائی جانے والی بات بہر صورت ‘فصیح’ نسلیم کر لینے کے سوا اس میں کسی دوسرے راستے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک کو پارلیمنٹ نے چلانا ہے یا خفیہ قوتوں نے۔ خبر کی تفصیل کے مطابق جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے2 رکنی بینچ نے جمعرات کو فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔عدالت عظمیٰ نے اس دھرنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جو مناسب وقت پر سنایاجائے گا۔ مذہبی وسیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم پر واقعہ فیض آباد پر دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کہا کہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو پارلیمنٹ نے چلانا ہے یا خفیہ قوتوں نے۔اعلیٰ عدلیہ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا جانا محض الفاظ کی حد تک ہی محدود ہے۔

بات یہیں تک محدود نہیں۔ کہاجاتا ہے کہ بات جب چل نکلتی ہے تو وہ دور تلک جاتی ہے۔ چنانچہ اس از خود نوٹس کے نتیجے میں بھی بہت ساری ایسی باتیں سامنے آئیں جن پر سنجیدگی اختیار کرنا اور دو حکومتی تصور کے ابہام کو دور کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ یہ بات نہ صرف پاکستان کیلئے ضروری ہے بلکہ اگر اس پر غور کرکے اصلاح کی جانب قدم نہیں بڑھایا گیا تو پاکستان کی بقا بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے کیونکہ دنیا میں کسی ایسے ملک کا تسلیم کیا جانا مشکل ہو جاتا ہے جہاں حقیقی حکومت دکھائی نہیں دیتی ہو اور جو دکھائی دیتی ہو وہ ہوہی نہیں۔ اسی نقطے کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دھرنوں کے دوران پبلک پراپرٹی توڑی جاتی ہے پھر باہر ملکوں سے پیسے مانگے جاتے ہیں،ان دھرنوں میں نقصان تو عوام کو بھرنا ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی 2014ء میں عام انتخابات میں دھاندلی کے نام پر دھرنے دیے تھے لیکن الزام ثابت نہیں ہوا تو کیا ان جماعتوں نے اپنے رویے پر عوام سے معافی مانگی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے تحریک لبیک پاکستان کے اکاؤنٹس کی معلومات کے بارے میں پوچھا گیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ اکاؤنٹس کی معلومات تک رسائی آئی ایس آئی کا مینڈیٹ نہیں ہے، اس پر انھوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ آئی ایس آئی کا مینڈیٹ ہے کیا؟۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک اہم بات اور کہی کہ اب ہم کنٹرولڈ میڈیا اسٹیٹ میں رہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چینل ‘ان’ کی بات نہ سنے یا ‘ان’ کی پالیسی پر عمل درآمد نہ کرے تو اسے بند کرنے کے احکامات دیے جاتے ہیں جب کہ متعلقہ ادارے اس بارے میں نہ صرف ذمے داروں کے نام بتانے سے خوف زدہ ہیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ادارہ ان افراد کے نام بتانے سے گھبراتا ہو جس نے ان چینلز کو آف ائر کیا ہے تو وہ ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ جن چینلز پر تعریف ہوتی ہے وہ چلیں جہاں نہیں ہوتی وہ بند کر دیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ اظہار رائے کی آزادی ہے؟انہوں نے کہا کہ چینلز کو جھکانا ہے تاکہ آپ کی مرضی کی بولی بولیں اور یہ ہے پاکستان۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالیہ انداز میں ریمارکس دیے کہ پتا نہیں کونسی قوتیں ٹی وی چینلز کو ہدایت دیتی ہیں۔

عدالت کی سطح پر اٹھائی جانے والی اس قسم کی باتیں کوئی نئی نہیں۔ جسٹس شوکت عزیز نے بھی اسی قسم کی باتیں کرسی عدالت پر موجود ہوتے ہوئے بھی کی تھیں اور عام فلور پر بھی ایسی ہی باتیں متعد بار انھوں نے کہیں لیکن ان باتوں پر غور کرنے اور اپنے رویوں کا اعادہ کرنے کی بجائے ان کے خلاف سخت ایکشن لیاگیا۔ مان لیاجائے کہ جسٹس شوکت عزیز غلطی پر تھے تو پھر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کیا پوزیشن ہوگی؟۔

یہ تو وہ تبصرے ہیں جو تحریک لبیک کے دھرنے کے سلسلے میں مقدمات کے دوران سامنے آئے لیکن کچھ نکات وہ بھی غور طلب ہیں جن کا ذکر سیاستدان، کالم نویس، شعرا، ادبا، دانشور اور عوام کیا کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان باتوں کو کنجشک فروع مایہ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ بات تو طے ہے کہ سیاسی معاملات میں جن جن باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ باتیں وہی ہوتی ہیں جن کو سن کر عوام کسی کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں یا باالفاظ دیگر عوام ہر عوامی لیڈر اور سمجھ بوجھ رکھنے والے سے سننا چاہتے ہیں۔ مثلاً مہنگائی کا ذکر، مسائل کا تذکرہ، امریکا کی برائیاں، فلسطین اور کشمیر کا تذکرہ وغیرہ۔ ان سب تذکرں سے محض اس لئے مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ یہ سب عوام میں بہت پاپولر ہوتے ہیں۔ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو کیا ‘خلائی مخلوق’ کا تذکرہ اسی فہرست میں نہیں آئے گا؟۔ اگر ایسی باتیں لاکھوں کے مجموعے میں کسی کے قد کاٹھ میں اضافے کا سبب بنتی ہوں تو معاملہ غوروفکر کا بن جاتا ہے یا نہیں؟۔

جب ایک سوچ عام آدی سے آگے بڑھ کر سیاستدانوں پھر ملک کے ذہین طبقے پھر دانشوروں اور یہاں تک کہ ملک کی عدلیہ پر متمکن منصفوں تک عام ہوجائے تو پھر ان قوتوں کو جن کا ذکر صرف پاکستان ہی میں نہیں پاکستان سے باہر بھی عام ہوتا جارہا ہے، سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اب ‘فصیح’ سمجھ لئے جانے سے کسی طور نہیں بچ سکے گا۔ اگر ایسا واقعی ‘فصیح’ ہوگیا تو پھر پاکستان کو دنیا میں وہ مقام نہ مل سکے گا جو دنیا کے ان ممالک کو حاصل ہے جہاں دکھائی دینے والی حکومت ہی حکومت سمجھی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دوحکومتی تصور اسقدر عام ہوجائے کہ وہ حقیقت کا روپ دھار لے، ہم اس ابہام سے اپنے آپ کو نکالیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور دنیا کے ہر جمہوری ملک میں پارلیمنٹ ہی برتر ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی اہمیت اور مقام کی بحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر خود پارلیمنٹ کو یہ کام کرنا ہوگا اور اپنے وقار کی بحالی کیلئے ایک ایک ممبر کو اس میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو دیگر ادارے اور ان کا کردار خود ہی پس پردہ جانے پر مجبور ہوجائے گا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here