اسلام آباد میں بھارتی صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ “پاکستان اوربھارت کے درمیان مسائل عوام میں نہیں حکومتوں میں ہیں، دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے سواکوئی جھگڑانہیں،ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ مذاکرات سے مسائل حل کریں، ایٹمی قوتوں کی حامل ریاستیں جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کا جواب نہیں دے سکتا، ماضی کا ذمے دار نہیں، جب ایک مرتبہ معاہدہ کرلوں کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کے ساتھ تھا لیکن فوج نے بات نہیں مانی، اس وقت فوج اور سیاسی حکومت سب ایک پیج پر ہیں، جو کہہ رہا ہوں اس پر سب متفق ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم آگے دیکھنا چاہتے ہیں، چاہتا ہوں کشمیر کا مسئلہ علاقے کی نظر سے نہیں کسی اور نظر سے دیکھیں، 25 سال سے طاقت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش چل رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بھارتی حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ کرے اور وہاں ظلم بند کرے۔عمران خان نے کہا کہ فرانس اور جرمنی میں تجارت کھلنے سے وہاں کے عوام کی زندگی بہتر ہوئی، یورپی یونین میں شامل ہونے کے بعد ان تمام ممالک میں معیارر زندگی بلند ہوا، برصغیر میں بھی اس طرح سے عوام کا معیار زندگی بہتر کیا جاسکتا ہے۔ امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے، امریکا کا الزام تھا کہ افغانستان میں جنگ اس لیے نہیں جیت سکے کہ پاکستان سے عسکریت پسند آتے ہیں، ہم اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور پاک افغان سرحد پر باڑ لگارہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی جواز پیدا نہ ہو۔ ہمارے مفاد میں بھی نہیں ہے کہ کسی ملک کے خلاف ہماری سرزمین استعمال ہو، ہماری سوچ بدل چکی ہے اور اب ہم پاکستان میں کسی مسلح گروہ کو آپریٹ نہیں کرنے دیں گے، خطے میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی پاکستان کے مفاد میں نہیں”۔
جس طرح وزیر اعظم نے کہا ہر بات اسی طرح درست نہیں۔ بھارتی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو کچھ بھی مؤقف عمران خان نے سامنے رکھا اور کہا کہ بھارت کے ساتھ جو بھی مخاصمانہ مسئلہ یا دوری ہے اس کا تعلق پاکستان کے عوام کے ساتھ نہیں بلکہ حکومتوں کے ساتھ ہے۔ یہ مؤقف خالصتاً موجودہ وزیر اعظم کا موقف ہو سکتا ہے عوام کا یا حکومت کا نہیں ہو سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام بھارت کی مسلم اور کشمیر دشمنی اور وہاں ہونے والی ظلم و زیادتی کی وجہ سے بھارت سے سخت نفرت رکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بھارت پاکستان کی تباہی و بربادی چاہے اور پاکستان کے عوام بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ بھارت افغانستان کی جانب سے بھی پاکستان پر حملہ آور ہو، ایران کے راستے جاسوسوں کو پاکستان کی جانب بھیجے، مشرقی سرحدوں کی روز خلاف ورزی کرے، فوجی جوانوں اور شہریوں کو نشانہ بنائے اور کشمیر میں کشمیریوں کی آنکھیں پھوڑے اور لاشیں گرائے اور پاکستان کے عوام کے دل بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھائیں۔ لہٰذاعمران خان نے جو مؤقف بھی بھارتی صحافیوں کے سامنے بیان کیا ہے وہ ان ہی کا مؤقف ہے عوام کا یا فوج کا نہیں ہو سکتا۔ البتہ ان کا یہ کہنا کہ ایٹمی طاقتیں جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں، درست ہے۔ ایٹمی جنگ ہو یا روایتی ہتھیاروں کی لڑائی، تباہی و بربادی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا کرتیں لیکن انھیں بھارتی صحافیوں کے علم میں یہ بات بھی لازماً لانی چاہیے تھی کہ جنگ جیسے حالات پاکستان نہیں بھارت پیدا کر رہا ہے۔ افغانستان میں میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف نہ صرف زہر اگلا جاتا ہے بلکہ عملاً پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مشرقی سرحدوں کو کشیدہ رکھنا اور کشمیری مسلمانوں کی روز روز کی شہادتیں کیا خطے کو جنگ کی جانب نہیں دھکیل رہیں؟۔
وزیر اعظم پاکستان کا یہ کہنا کہ “میں ماضی کا ذمے دار نہیں، کسی بھی طرح ذمہ دارانہ بیان نہیں پھر دوسرے ہی سانس میں یہ کہنا کہ میں جو معاہدہ کرورنگا اس پر قائم رہوں گا اور یہ نہیں کہوں گا کہ میں تو آپ کے ساتھ تھا لیکن میرا ساتھ فوج نے نہیں دیا”، بہت ہی غیر معقول سا بیان ہے۔ کیا اس سے ہماری افواج کی رسوائی نہیں ہوئی، کیا عمران خان نے سابقہ سول حکومتوں کی تعریف اور فوج کی برائی نہی کی۔ کیا انھوں نے اس بات کی تائید نہیں کی کہ سابقہ سول حکومتیں تو بھارت کی ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتی تھیں لیکن پاکستان کی افواج درمیان میں حائل رہیں جس کی وجہ سے پاکستا اور بھارت ایک دوسرے کے قریب نہیں آسکے۔ اسی لئے کہا جاتاہے کہ پہلے تولو اور پھر بولو۔ رہی یہ بات کہ اگرمیں، اس میں پاکستان کی بجائے میں کہاں سے آگیا، نے معاہدہ کیا تو اس پر قائم رہوں گا، کسی بھی فریق کیلئے ایک کڑی آزمائش ہے اس لئے کہ جس شخص کی شہرت اپنے عوام میں ہی یو ٹرن بن چکی ہو اس کے کئے گئے معاہدوں پر پاکستان سے باہر یقین کا پایا جانا سخت صبر آزما بات ہی ہوگی۔
رہی یہ بات کہ بھارت اپنی سوچ بدلے کیونکہ ہم اپنی سوچیں بدل چکے ہیں تو کسی حد تک پورا پاکستان اس بات کو خوب اچھی طرح جان چکا ہے کہ پاکستان واقعی اپنی سوچ تبدیل کر چکا ہے۔ وہ بھارت کے کیلئے اتنا نرم دل ہو چکا ہے کہ وہاں سے جو چاہے بلاویزہ آسکتا ہے، کشمیر میں گرائی جانے والی لاشوں پر خاموش رہ سکتا، افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کی تباہی و بربادی کی منصوبی بندی کو برداشت کر سکتا ہے۔ سکھوں کی آڑ میں قادیانیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دے سکتا ہے۔ رسالت کی توہین کر سکتا ہے۔ رسول کے گستاخوں کو نہ صرف رہا کر سکتا ہے بلکہ ان کے عوض ڈالرز بھی حاصل کر سکتا ہے۔ خدا اور اس کی حدود کو بھی توڑ سکتا ہے۔ شراب اور منشی اشیا کو قانونی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اپنے ہی پاکستانیوں کو بھارت کی ایما پر دہشت گرد قرار دیکر ان پر بمباری کر سکتا ہے اور اپنے مردوں اور خواتین کا ڈالروں کے عوض سودا کر سکتا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ اپنے کشمیر کا بھی کوئی سودا کر بیٹھے کیونکہ ایک سابق کھلاڑی کی پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان والے کشمیرکو بھی آزاد کر دے اور پھر بھی وہ آزاد گھوم رہا ہو، عدالت یا حکومت کا کوئی دباؤ اس پر نہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
واقعی پاکستان اپنی سوچ میں بہت واضح تبدیلی لا چکا ہے اور اب اس کامقصد اس کےعلاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ پاکستان جو اس لئے وجود میں لایا گیا تھا کہ یہاں اللہ اور قرآن کا قانون چلے گا لگتا ہے کہ اب نئے پاکستان میں صرف اور صرف وزیر اعظم پاکستان کا قانون چلے گا۔
فرانس اور جرمنی کی مثالیں بے شک مثالی ہی سہی لیکن کیا وہ یک طرفہ ہیں؟۔ کیا پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے والی بات پہلے کبھی نہیں کی؟، کیا پرویز مشرف کے دور میں ایسا نہیں ہوا؟، کیا مسلم لیگ ن ایسی کوشش نہیں کرتی رہی؟، کیا بھارت کیلئے بسیں نہیں چلائی گئیں؟، کیا سمجھوتہ ایکسپریس بحال نہیں کی گئی؟، کیا کھوکھراپار کا راستہ کھولنے کی بات نہیں ہوئی؟۔ پاکستان کی ان ساری کوششوں کے باوجود کیا بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آسکے؟۔ جب ٹریفک یکطرفہ ہی چلے گا اور دوسرا فریق آگے بڑھنا ہی نہ چاہے گا تو پھر فرانس اور جرمنی کی باتیں خواب خیال کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہ دے سکیں گی۔
بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے کہ پاکستان کے سارے ادارے ایک پیج پر ہیں۔ ایسا ہی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلے بات اور تھی اب ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ اول تو کیا ایسا کہنا حساس اداروں کی حساسیت کے خلاف نہیں دوئم یہ کہ اگر اب سارے ادارے ایک پیج پر ہیں تو کیا اس بات کی وضاحت ضروری نہیں کہ جس پیج پر سارے ادارے جمع ہیں وہ پیج ہے کس کا؟۔ مشاہدے میں تو یہی بات آرہی ہے کہ موجودہ حکومت اب تک جو جو کارروائیاں کرتی نظر آرہی ہے اس کا اسکرپٹ تو عدالت ہی لکھتی نظر آرہی ہے۔ یہ توڑدو، وہ مسمار کردو، فلاں شے پر ٹیکس لگادو، فلاں فنڈ جمع کرو، کالنگ کارڈ بھی عدالت کی نظر میں ہیں،گھروں کی بورنگ، پینے کا پانی جیسے اقدامات کے احکامات لگتا ہے کسی بھی وقت جاری کئے جاسکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جمہوری حکومت اپنے فیصلے پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے عدالت کے پیچھے چھپ کر کیوں کرنا چاہتی ہے؟۔ یہ ہے وہ سوال جس کاجواب بہرحال موجودہ حکومت کو دینا ہی ہوگا۔
ایک جانب ہندوستان سے یک طرفہ پینگیں اور دوسری جانب آئی ایم سے سے قرضہ نہیں لینے پر بھی یہ عالم کہ روپے کی قدر بری طرح گرتی جار ہی ہے۔ اگر روپے کو اسی طرح برباد ہی کرنا مقصود تھا تو پھر بار بار یہ کہنا کہ ہم آئی ایم ایف سے قرضہ اس لئے نہیں لے رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط بہت کڑی ہیں، بڑا بے معنی سا لگتا ہے۔ پھراس پر مسکراتے ہوئے یہ کہنا کہ گھبرانے والی بات نہیں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف نہیں؟۔ بقوقل شاعر
لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میں بھر کر آنسو
اس پہ مچلے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے
ڈالرز کی اس بے تحاشہ اونچی پر واز پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ” حکومت نے روپے کی قدرمیں کمی کر کے ملکی معیشت کی تباہی کا سامان کردیا ہے ، اب مہنگائی کا طوفان آئے گا، جو پہلے ہی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے اس سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا، اب تک کی حکومتی کارکردگی نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت کے پاس باتوں اور دعوؤں کے سوا کچھ نہیں، پاکستان کومدینے کی طرز کی ریاست بنانے اور قرضوں سے نجات دلا نے کے خواب دکھانے والوں نے عوام کو سخت مایوس کیا ہے، مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور غیرت ایمانی ختم ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنانے اور آپ ؐ کی توہین کرنے کی غیر مسلموں کو جرأت ہورہی ہے”۔
روپے کی قدر میں کمی اور اضافہ کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک جانب تمام دعوں کی نفی اور دوسری جانب اتنی برق رفتاری سمجھ سے باہر تو دوسری جانب اس اضافے کا کوئی جواز بھی نہیں بتایا جارہا۔ حکومت پاکستان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ چین کے ساتھ لین دین کا جو اصول طے ہوا ہے اس میں بھی ڈالرز کی بجائے چینی کرنسی اور پاکستانی کرنسی میں ہی لین دین ہونا قرار پایا ہے۔ اگر پاکستانی روپے کی قدر میں اتنی تیزی کے ساتھ گراوٹ آئے گی تو کیا ہم چین سے تجارت کرکے کوئی منفعت حاصل کر سکیں گے؟۔ میں نے یہی سب کچھ اپنے دوست سے پوچھا تو اس نے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ
اب کوئی بات نئی بات نہیں
اب کسی بات پہ چونکا نہ کرو
