ادبا و شعرا کی محافل میں جب بھی کسی نئے مہمان کی آمد ہوتی ہے تو سب اس کے کچھ کہنے یا بولنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا آنے والا کچھ کہے گا یا بولے گا تو اندازہ ہوگا کہ وہ کیا ہے۔ اگرچہ منتظمین محفل اس کا تعارف بہت اچھے الفاظ میں کراچکے ہوتے ہیں پھر بھی ادبا و شعرا آنے والے کے کہنے اور بولنے کے منتظر رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ خاموشی عالم کے علم کا زیور اور جاہل کے جہل کا پردہ ہوتی ہے۔ بات درست ہی ہے اس لئے کہ جب تک کوئی فرد شریک گفتگو نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے وزن کا اندازہ مشکل ہی ہوتا ہے۔ بعض اوقات معمولی چہرہ اور بوسیدہ پوشاک کسی کیلئے کوئی کشش نہیں رکھ رہی ہوتی لیکن جب وہی معمولی شکل والا بوسیدہ پوشاک زیب تن کئے محفل میں محو سخن ہوتا ہے تو ہر آنکھ اس پر جم جاتی ہے اور سننے والے سانس تک لینا بھول جاتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ خوش شکل چہرے اور خوش پوش افراد بول کر اپنی قدروقیمت کھو بیٹھتے ہیں۔
صاحب عقل و فہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ محفل شعروشاعری کی ہو یا دانشوروں کی سخن گستری کی، اس بات کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے کہ آنے والے کو اس کے مقام کے لحاظ سے پکارا جائے۔ آغاز تا اختتام اس بات کو بہرلحاظ ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ہر اہم فرد کو سب سے آخر میں مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ اصول کوئی دنیوی نہیں آسمانی اصول بھی ایسا ہی ہے۔ سب سے آخری کتاب اور سب سے آخری پیغمبر کا بھیجا جانا اس ترتیب کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ چنانچہ کاروبار دنیا میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھا گیا ہے۔ کبھی کسی نے یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ میر محفل کو آغاز میں یا درمیان میں بلا لیا ہو۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سب سے آخر میں آنے والا خواہ وہ شاعر ہو، ادیب ہو، دانشور ہو یا مقرر، اس کے اشعار، تحریر، مدبرانہ گفتگو اور مقررانہ انداز اس سے قبل بلائے گئے سارے شعرا، ادبا، دانشوروں اور مقررین سے بہت ہی اعلیٰ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے بر عکس بھی ہوجاتا ہے اور سب سے آخر میں بلائے گئے شاعر، ادیب، دانشور یا مقرر لوگوں کی توقع کے خلاف بھی ثابت ہوتے ہیں لیکن پاس آداب محفل ان کے پھیکے پن پر لبوں پر حرف تنقید لانے میں مانع ہوتا ہے بلکہ ادب اس بات کا بھی تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے چہرے کے تاثرات تک پر قابو رکھا جائے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
ہر اہم فرد سے توقعات بھی بہت زیادہ وابستہ ہوا کرتی ہیں۔ اگر وابستہ توقعات کے برعکس باتیں سامنے آئیں تو مایوسی بھی بہت ہوتی ہے۔ لوگ منتظر ہوتے ہیں کہ بولنے والا حیثیت، مرتبے اور مقام کے لحاظ سے بات کریگا لیکن جب بات مرتبے، حیثیت اور مقام کے مطابق نہیں کہی جائے تو اضملال کا ہونا فطری امر ہے۔
اگر ایک ہی جیسی بات مختلف ماحول میں کی جائے تو اس کے اثرات بھی مختلف نوعیتوں کے مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی سے کوئی وعدہ کیا جائے لیکن تنہائی میں کیا جائے، وعدہ کیا جائے لیکن چند لوگوں کے درمیان کیا جائے، وعدہ کیا جائے لیکن اخبارات کے نمائندوں کے سامنے کیا جائے، اہم کانفرسوں میں کیا جائے یا قوم سے خطاب میں کیا جائے، ہر مقام میں اسی بات یا وعدے کا وزن یکسر مختلف ہوگا۔ ان ساری کیفیتوں میں بھی کہنے والے کا مرتبہ، مقام اور حیثیت کو بھی بڑی اہمیت کا حامل گنا جائے گا۔ ایک مشیر سے ایک وزیر کا مقام بہر صورت ممیز ہے اور تمام وزرا سے وزیراعظم کا مقام اعلیٰ ترین۔ قوم کسی مشیر یا وزیر کی بات کو اتنا سنجیدہ نہیں لے گی جتنا سنجیدہ وہ اپنے وزیر اعظم کی کہی بات کو لے گی۔ پھر وہ اس بات کو بھی پرکھے گی کہ اس کا وزیر اعظم کس مقام پر کیا بات کر رہا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی بات کچھ اور اثر رکھتی ہوگی لیکن اگر وہی بات پریس کانفرنس، کسی اہم میٹنگ یا اہم کانفرنس میں کی جائے گی یا قوم سے خطاب میں دہرائی جائےئ گی تو اس بات کی وسعت، اہمیت اور حیثیت کچھ اور ہوگی۔
قوم کو خواب کچھ اور دکھانا اور پھر اس کے بالکل برعکس ہوجانا، گزشتہ حکومتوں کی طرح پچھلی حکومتوں پر ہر الزام رکھ دینا گوکہ معمول کی بات رہی ہے لیکن اس مرتبہ قوم کو قوی امید تھی کہ ایسا سب کچھ نہیں دہرایا جائے گا۔ لوگوں کی مشکلات میں اضافے کی بجائے ان کی آشائشوں کی جانب دیکھا جائے گا اور مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات مل جائے گی لیکن اب تک جو کچھ بھی سامنے آرہا ہے وہ بہر کیف توقعات کے بالکل برعکس ہی نہیں بلکہ مایوس کن بھی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو رہی بلکہ ان کے مستقبل کے متعلق عامیانہ سوچیں سامنے آرہی ہیں جو کسی بھی لحاظ سے حوصلہ افزا نہیں۔ مستقبل کے معاشی پلان کی بجائے اگر قوم یا تو یہ سن رہی ہے کہ ملک کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی اور سخت قانون سازی کی جائے گی لیکن لوٹنے والے اسی طرح خوش و خرم نظر آرہے ہوں، لوٹا گیا مال واپس نہیں آرہا ہو اور قانون ساز اسمبلیاں قانون سازی کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دست و گریبان نظر آرہی ہوں تو قوم کس طرح محض وعدوں کے سہارے زندگی گزار سکے گی۔ بات یہیں پر بھی ختم ہوتی نظر نہ آئے بلکہ وہ ہر 100 دن کے بعد یہ سنے کہ ملک بھر کے اہم بس اڈوں، رکشہ اور ٹیکسی اسٹینڈوں، پارکوں اور تفریحی مقامات کی لیٹرینوں کو بہتر ہی نہیں بہت نفیس بھی ہونا چاہیے، مرغی کے انڈوں، چوزوں اور مرغیوں کی افزائش ہونی چاہیے اور بچھڑوں اور کٹوں کو اپنی کڑیل جوانی سے قبل ذبح نہیں ہونا چاہیے تو پھر قوم کا مایوسیوں کی حدوں کو چھونا تو بنتا ہی ہے۔ قوم تو سننا یہ چاہ رہی تھی کہ واپڈا کو ٹھیک کیا جائے گا۔ پاکستان اسٹیل کو منفعت بخش ادارہ بنایا جائے گا۔ پی آئی اے دنیا کی بہترین سروس قرار پائے گی۔ پاکستان ریلوے دنیا کی سب سے بہترین ریلوے ہوگی اور ساری بیمار ملیں کارخانے تندرست و توانا ہو جائیں گے لیکن اس کے برعکس بات واش روموں، مرغیوں، انڈوں، چوزوں ، بچھڑوں اور کٹوں کی سامنے آئے تو پھر قوم کو صدمہ تو ہوگا۔ یہاں اہم ترین امر یہ ہے کہ یہ باتیں پارٹی کی کارکنان، اہم عہدیداران، مشیران یا وزیروں کی فوج ظفر موج نہیں کہہ رہی بلکہ پارٹی کا سربراہ جو سربراہ مملکت بھی ہے وہ کہہ رہا ہے اور ایسی عامیانہ باتیں وہ اپنے گھر، محلہ دوستوں اور احباب کے سامنے نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے سامنے کہہ رہا ہے جو قوم و ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ذہانت و متانت میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔
جس کی زبان سے قوم معاشی منصوبے سننا چاہتی ہو، ملازمتیں کی آسامیاں جاننا چاہتی ہو، اپنے زخموں کیلئے مرہم مانگ رہی ہو، اپنے دکھوں کا علاج ڈھونڈ رہی ہو اور اپنی مشکلات کی مشکل کشائی کے خواب دیکھ رہی ہو اسے جب ایسی باتیں سننے کو ملیں گی تو اسے کتنی اذیت کا سامنا ہوگا۔
مہنگائی اس لئے ہو رہی ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے بے تحاشہ قرضے لئے، ڈالر کی اڑان اس لئے اونچی ہوتی جارہی ہے کہ گزشتہ حکومت نے روپے کی قدر کو نہیں گرنے دیا، ٹیکس اس لئے لگائے جارہے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے قوم سے بہت رعایت والا سلوک کیا، خزانہ اس لئے خالی ہوگیا کہ گزشتہ حکومتوں نے قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، گیس کی قیمت اس لئے بڑھائی جا رہی ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک کے خزانوں سے گیس مہنگی خرید کر عوام کو کم قیمت میں فراہم کی۔ اپنے ہر بیان میں یہی راگ الاپنا اور ایسی ہی دہائیاں دینے سے قد کس کا اونچا ہو رہا ہے؟۔ موجودہ حکومت کا یا گزری ہوئی حکومتوں کا؟۔ مگر اس بات پر توجہ کون دے۔ یہی کام ہر آنے والی حکومت کرتی رہی اور یہی کام اب موجودہ حکومت کر رہی ہے۔
ہم قرض نہیں لیں گے، ملکوں ملکوں پھر رہے ہیں۔ ہم اشیا کو سستا کریں گے، قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم روپے کو ڈالر کے ہم پلہ کردیں گے، روپیہ زمین بوس ہوتا جارہا ہے۔ ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، نوکریوں سے محروم کیا جارہا ہے۔ ہم بے گھروں کو مکانات بنا کر دیں گے وہ بھی 50 لاکھ، لاکھوں لوگوں کے مکانات مسمار کئے جارہے ہیں۔ زمینوں سے قبضے چھڑائیں گے، قبضوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ ہم بھتہ خوری کا خاتمہ کردیں گے، بھتہ خور بھتہ نہ دینے پر بسیں جلا رہے ہیں۔ لوگ باہر سے ہمارے ملک میں بھاگ بھاک کر آئیں گے، باہر بھانگنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ باہر کے تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے، ملک بھرمیں دکانیں اور بازار ڈھائے جارہے ہیں۔ گیس، بجلی اور پٹرول کی نرخ گرائیں گے، آسمان سے باتیں کرتے نظر آرہے ہیں پھر بھی ان سب باتوں کے باوجود یہ دعویٰ کہ ہم نے 100 دنوں میں ملک کیلئے وہ وہ کارنامے انجام دیئے ہیں جو ماضی میں کوئی حکومت نہ کر سکی۔
یہ سارے دکھ اپنی جگہ۔ اس پر حکمران وقت کا یہ کہنا کہ میرے پاس صبح سے فون آرہے ہیں کہ ڈالر مہنگا ہوگیا۔ مہنگا ہوگیا تو کیا قیامت آگئی۔ پھر ہنستے ہوئے یہ کہنا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کیا یہ دکھ کی بات نہیں۔ کیا ایسا کہنا وہ بھی حکومت کے سب سے بڑے عہدیدارکا، درد انگیز نہیں۔ میں صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کرونگا کہ کیا ڈالر 145 روپے سے آگے نہیں بڑھے گا؟۔ کیا ہم اس لئے نہیں گھبرائیں کہ اشیا چند مہینوں قبل والی قیمتوں کی جانب چلی جائیں گی؟۔ کیا گیس، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں واپس آجائیں گی؟۔ کیا ٹیکسز کم ہوجائیں گے اور کیا بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں کی ٹکٹوں میں کمی واقع ہو جائے گی؟۔ اگر ایسا ہے تو واقعی گھبرانے کی بات نہیں لیکن اگر ڈالر کی پرواز اسی طرح اونچی ہوتی رہی اور اشیا کی قیمتیں سیدھے تیر کی طرح آسمان کی جانب محو پر واز رہیں تو پھر قوم کیوں نہ گھبرائے؟۔ امید تو یہی ہے کہ اب کسی بھی چیز کا پیچھے کی جانب لوٹنا ممکن ہی نہیں اس لئے ‘میں ان کو رولاؤنگا’ والی بات ہی درست لگتی ہے اس لئے قوم کو چاہیے کہ اپنے کئے کی سزا پانے کیلئے تیار رہے۔ تبدیلی کو بھول جائے اور ‘تذلیلی’ کو یاد رکھے۔
