نئے پاکستان میں تبدیلی کے نام پر کوئی خاص فرق تو اب تک سامنے نہیں آیا البتہ یا تو نئی نئی منطقیں سامنے آ رہی ہیں یا پھر یوٹرن پر یوٹرن نے دل و دماغ کو ضرور چکرا کر رکھ دیا ہے۔ مثلاً کہا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، ایوان ہائے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کے محلات میں صدر کا، وزیراعظم کا، وزرائے اعلیٰ کا اور گورنرز کا ڈیرہ حرام ہوگا لیکن چند ہی دنوں میں ان دعوؤں کی قلعی کھل گئی اور راوی ان تمام حکومتی عہدیداروں کے لئے چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ وہ طالب علم جو اس خوش فہمی میں اپنے جاموں سے باہر نکلے پڑرہے تھے کہ وہ ایسی ‘مقدس’ عمارتوں اور اعلیٰ فضاؤں میں تعلیم حاصل کریں گے ان کی امیدوں پر ایسا پانی پھرا کہ طبعیت ہری ہوکر رہ گئی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی ساری یوتھ ان کے ساتھ ہے سو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیادہ مایوسی کا سامنا قوم یوتھ یا باالفاظ دیگر قوم پی ٹی آئی کا ہوا لیکن وہ افسردگی کے باوجود اس لئے خاموش ہے کہ اگر قمیص اٹھائی گئی تو پیٹ اپنے ہی کسی بھائی کا ننگا ہوگا۔
قرض نہ لینے بلکہ اس حد تک مجبور ہوجانے پر کہ قرض لینا ہی پڑ جائے تو خود کو اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کرنے کی باتیں کرنے والے ملکوں ملکوں کشکول پھیلائے نظر آرہے ہیں۔ اشیا سستی کرنے کے دعویدار مہنگائی کو آسمان کی بلندی تک لے گئے ہیں۔ ڈالر بے قدر ہونے کی بجائے روپیہ ملیا میٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس پر نمک پاشی یہ کہ یوٹرن یعنی وعدہ خلافیوں کو اعلیٰ حکمت عملی قرار دیا جارہا ہے اور اس بات کو ثابت کیا جارہا ہے کہ ہر وہ فرد پاگل اور دیوانہ ہے جو یوٹرن نہیں لیتا۔ بات غلط بھی نہیں، آپ (ص) نے اپنے قول پر قائم رہنے کی وجہ سے اذیتیں جھیلیں ورنہ تو کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ اگر آپ چاہیں تو ایک ہاتھ میں سونے کا صفا اور دوسرے ہاتھ میں چاندی کا مروہ رکھ دیں، عرب کی حسین ترین عورت آپ کو پیش کردیں اور اپنا سردار بھی بنا لیں بس آپ اتنا کریں کہ اپنے پیغام سے یو ٹرن لے لیں۔ یہی حال صحابہ کرام کا تھا۔ ان کو شہید ہوجانا گوارہ تھا اور ہوئے بھی، انگاروں پر لٹایاجانا گوارہ تھا اور لٹائے بھی گئے، سینے پر گرم گرم چٹانے رکھی جانا گوارہ تھا اور رکھی بھی گئیں لیکن اپنے عہد سے ‘یوٹرن’ لینا گوارہ نہیں ہوا۔ دیکھا جائے تو بظاہر یہ پاگل پن نہیں تو کیا ہے لیکن کوئی مجھے یہ بتائے کہ دنیا میں کوئی بھی عظیم مقصد بنا دیوانگی اور پاگل پن کے حاصل ہو سکتا ہے؟۔ وہ تو عظیم لوگ تھے کیسے یو ٹرن گوارہ کر سکتے تھے۔ ان کی مثال تو ہے ہی بے مثال لیکن کچھ پاگل اور مجنون ہندوستان میں بھی پائے جاتے تھے اور اس بات پر ڈٹ گئے تھے کہ لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان۔ لے لیا پاکستان اور بانٹ دیا ہندوستان کو۔ واقعی یہ تھے ہی پاگل اور دیوانے۔ مرجانا گوارہ کر لیا لیکن یوٹرن لینے کو اللہ کے دین سے بغاوت سمجھا اور اسی یو ٹرن لینے کی سزا وہ آج تک جھیل رہے ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا کہ نئے پاکستان میں نیا تو کچھ نہیں دکھائی دیا لیکن نئی نئی منطقیں ضرور سنائی دیں۔ ایک اشتہار بہت مشہور ہوا تھا جس میں کہا جاتا تھا کہ ‘داغ’ تو اچھے ہوتے ہیں اور اب یہ منطق سامنے آرہی ہے کہ یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں۔
بات اگر یوٹرن اچھے ہوتے ہیں پر ہی ختم ہوجاتی تو صبر آ جاتا لیکن لگتا ہے کہ بات اگر چل ہی نکلی ہے تو پھر بہت دور تلک جائے گی۔ کسی کا وعدوں سے پھر جانا شاید اتنا اذیت کا سبب نہ ہو لیکن اچھے خاصے سمجھدار لوگ اگر بے جا طرفداری پر اتر آئیں تو اس کی کسک بہت شدید ہوتی ہے۔ اب اسی بات کو لے لیں کہ باتیں ہوں مرغی کے انڈوں، چوزوں، ٹیکوں اور مرغیوں کی اور یوتھیئے اس کیلئے مثالیں بلگیٹ کی دینے بیٹھ جائیں تو ایک سر ہی تو رہ جاتا ہے جس کو جتنا چاہے پیٹا جاسکتا ہے۔ جس بڑے منھ سے لوگ یہ سننے کے متمنی ہوں کہ پاکستان اسٹیل کو کس طرح منفعت بخش ادارہ بنایا جائے گا، واپڈا کیلئے کیا کیا انقلابی قدم اٹھائے جائیں گے، پی آئی اے دنیا کی بہترین ایر لائن کیسے بنائی جاسکتی ہے، پاکستان ریلوے دنیا کی سب سے بہترین ریلوے بن جائے گی، بیمار ملیں اور کارخانے تندرست و توانا کر دیئے جائیں گے، 50 لاکھ گھر بے گھر افراد کے حوالے جلد کر دیئے جائیں گے، کروڑوں ملازمتوں کے دروازے آج سے کھول دیئے گئے ہیں، غیر ملکی سرمایہ دار سرمایا کاری کیلئے آنا شروع ہو چکے ہیں، اشیائے ضروریہ قوت خرید میں آچکی ہیں، ٹیکسوں کا بوچھ ہر عام و خاص کے سروں سے اٹھایا جارہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس اگر وہ معاشی پلان یہ دے رہا ہو کہ مرغیاں پالو، انڈے بیچو، کٹوں کو کڑیل جوان بننے دو اور بچھڑوں کو موٹا کرو، کیا یہ قوم کی امیدوں اور آرزوؤں کا خون کرنے کے مترادف نہیں ہو گا؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پولٹری فارمنگ ایک منفعت بخش کاروبار ہے لیکن یہ کوئی مکمل معاشی حل نہیں اور نہ ہی یہ طوفانی انداز میں شروع کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے بھی گھر نہیں بلکہ بڑے بڑے فارم ہاؤسز کی ضرورت ہوگی۔ گاؤں دیہاتوں میں تو تقریباً ہر گھر میں مرغے مرغیاں ہوتے ہی ہیں لیکن اس کو اس حد تک وسعت دینا کہ یہ ملک کے معاشی استحکام کیلئے سود مند بن جائے، بغیر بڑے بڑے فارم ہاؤسز کے ممکن نہیں۔ کیا حکومت ایسا کرنے والے کیلئے زمینیں، مراعاتیں، قرضے اور سہولتیں دینے کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی رکھتی ہے؟۔ اگر ایسا ہے تو مستقبل میں بے شک اس کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں لیکن اگر انفرادی سطح پر ایسا کرنے کی سوچ ہے اور جیسا کہ تقریر سے ایسا ہی تاثر ملتا ہے تو پھر ساون کے اندھے کو ہرا ہرا دکھائی دینے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔
بات ہو رہی ہے کٹوں اور بچھڑوں کو کڑیل جوان کر کے فروخت کرنے کی تو اس میں وزن تو ضرور ہے لیکن عملاً ایسا ممکن نظر نہیں آتا اس لئے کہ جو گھر یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا ایسا کریگا اس کے پاس گنجائش کم پڑجائی گی۔ ظاہر ہے ایسا کرنے کے دوران جانوروں کی تعدا میں اضافہ ضرور ہوگا جس کی وجہ سے اس کا گھر یا چھوٹا سا فارم چھوٹا پڑجائے گا۔ ایسی صورت میں حکومت اس کی کیا مدد کرسکتی ہے؟، کیا اس بات کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی ہے؟۔
ہر گوشت کھانے والا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جانوروں کو اگر ایک خاص عمر میں ذبح کر لیا جائے تو اس کا گوشت لزیز بھی ہوتا ہے اور کھانے کے قابل بھی۔ اگر جانور زیادہ بڑا ہوجائے تو اس کے گوشت کا ذائقہ بھی جاتا رہتا ہے اور نہ گلنے کی وجہ سے گوشت کھانے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں کیا ایسے جانور کی مارکیٹ میں وہی قدر و قیمت رہے گی جو ایک مناسب عمر والے جانور کی ہوتی ہے۔ بڑا کرنے کے بعد اگر مارکیٹ میں اس کی قدر ہی گر جائے تو کیا ایساکرنا سود مند ہے یا بے سود۔ عید قرباں پر کس جانور کی مانگ زیادہ ہوتی ہے؟، دو دانت والے کی یا چار والے کی؟۔
جانور کو بہت عمر کا کرنے میں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں گوشت کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ جب مارکیٹ میں جانور میسر ہی نہیں ہوگا تو اس کی طلب رسد سے بہت بڑھ جائے گی اور یوں قیمت خرید میں اضافہ ہونے کا احتمال بڑھ جائے گا جو عوام کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن جائے گا۔ ایسا سب کچھ کرنے کی بجائے مویشیوں کی افزائش کو بڑھا یا جائے، فارم ہاؤسز بڑھائے جائیں اور اس کیلئے ایسا کرنے والوں کو زمینیں اور مراعات اور قرضے فراہم کئے جائیں تو شاید کچھ بات بن جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا ایسا سب کچھ کرنے کی جامع منصوبہ بندی رکھتی ہے یا قوم کو بہلانے پر ہی اکتفا کر رہی ہے۔
ایک منطق یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وزیر اعظم، صدر، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کے چھوٹے چھوتے مکانوں کے وہ دیواریں ڈھا دی جائیں جن کی وجہ سے اندر کا حسن و جمال باہر کی دنیا نہیں دیکھ پاتی اور ان کے دل میں وہ مرعوبیت پیدا ہی نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے لہٰذا ایسی ساری دیواریں مسمار کردی جائیں اور ان کی جگہ اعلیٰ قسم کے جنگلے لگائے جائیں۔ جب ہر گزرنے والا ان چھوٹے چھوٹے گھروں کے قریب سے گزرے گا تب انھیں ان میں مقیم افراد کی سطوت اور تمکنت کا اندازہ ہو سکے گا۔ ایسا سب کچھ وہ حکومت کر رہی ہے جس کا دعویٰ تھا کہ غیر ضروری اخراجات سے مکمل پرہیز کیا جائے گا اور ان عمارتوں کو تفریح گاہوں اور تعلیمی اداروں میں تبدیل کرکے نہ صرف اخراجات میں کمی کی جائے گی بلکہ انھیں عوام کیلئے سود مند بنا کر ملک و قوم کی خد مت کی جائے گی۔ اب کون پوچھے کہ بجٹ میں وہی کے وہی مدعات رکھنا جو پچھلوں کا خاصہ رہا ہے، اسی طرح کا پرٹوکول جس کی روایت رہی ہے اور اسی طرح کی شان بان جو سابقین کی رہی ہو اس سے ملک و قوم کو کیا حاصل ہوگا؟۔ پھر اس پر ستم بالائے ستم یہ ہو کہ دیواریں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کرنے کے اخراجات، پھر ملبہ اٹھائے جانے کے اخراجات اور پھر اعلیٰ قسم کی فینسنگ لگانے کے اخراجات بڑھادیئے جانا کونسی دانشمندی ہوگی۔
کراچی تا گلگت اعلیٰ واش روموں کی تعمیر، انڈے، مرغی، بچھڑے اور کٹے کی تجاویز شاید قابل برداشت ہو بھی جاتیں لیکن ان پر لفافہ صحافیوں کی زمین و آسمان کی قلابیں اور قوم یوتھ کی رطب السانیاں دماغ کو لسی بنائے دے رہی ہیں۔ یہ بھی کوئی ایسی منطقیں ہیں جن کی ایسی ایسی تشریحات و توجیہات پیش کی جائیں کہ سننے والے کے دماغ کی رگیں پھولنے لگیں۔
تھوڑی دیر کیلئے ان ساری منطقوں کو پاکستان کے معاشی حالات کی درستگی کا حل مان بھی لیا جائے تب بھی ان ساری تجاویز کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کیا موجودہ حکومت ان منصوبوں کو قابل عمل بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے یا حسب سابق تجاویز پیش کرنے کے بعد سب کچھ قوم پر چھوڑ رہی ہے کہ اب اس سے آگے کی راہوں کا تعین وہ خود کرے۔
موجودہ حکومت پر فرض ہوگیا ہے کہ اب وہ پاکستان کیلئے کچھ نیا کریں نئی نئی منطقیں پیش نہ کریں۔ لوگوں کی مشکلات کم کریں، اضافہ نہ کریں، قیمتوں کو مستحکم بنائیں، عدم استحکام سرمایہ کاروں میں بیچینی کا باعث ہوگا، ملیں لگائیں، کارکانے تعمیر کریں، ہر شے کی قیمتوں کمی کریں، جاب اپر چونٹیز میں اضافہ کریں۔ توڑ پھوڑ بہت ہوچکی، اب تعمیر پر توجہ دیں، لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی ترک کرکے مرہم رکھیں، ان سے چھوٹے چھوٹے روزگار مت چھینیں۔ گھروں کو مسمار کرکے اور ان کی زندگی عذاب بنا کر ان کی آہیں اور بددعائیں مت لیں اس لئے کہ مظلوموں کی آہیں فرش سے بلند ہوکر عرش الٰہی کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔
