جنگ پرائی تو تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے ہیں ایک عجب تماشہ لگاہوا ہے۔ کبھی ان کو پاکستان بہت خراب لگتا ہے اور دہشت و بربریت کا اعلیٰ نمونہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ کئی دھمکیاں پاکستان کی جانب پھینکی جاتی ہیں پھر ہوتا یوں ہے کہ اچانک امریکی صدر کے لہجے میں ایسی مٹھاس پیدا ہوتی ہے جیسے بس اب وہ پاکستان کے قدموں میں گرا ہی گرا۔ جب ان ساری باتوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے پاکستانی وزیر اعظم کے ‘یوٹرن’ اسٹریٹ لائن دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب دنیا کا سب سے طاقتور ملک کا صدر ہر دوسرے تیسرے ہفتے یوٹرن پر یوٹرن کا مظاہرہ کر رہا ہو تو پاکستان تو فہرست کے آخر میں آتا ہے۔

ایک خبر کی تفصیل کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کردی ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس نے خط کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ پاکستان سے افغان امن عمل کے لیے مکمل حمایت اورہمارے نمائندہ خصوصی سے تعاون کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کی مدد پاک امریکا شراکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر طالبان کے ٹھکانے نہ بننے دے۔علاوہ ازیں امریکا نے افغان جنگ میں ناکامی کا برملا اعتراف کرلیا۔ امریکی سینیٹ میں آرمڈ فورسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے امریکی جنرل میکنزی نے کہا کہ افغان جنگ میں پیشرفت نہیں ہورہی، بڑی تعداد میں افغان فوجیوں کی اموات ناقابل برداشت ہیں، افغانستان سے اچانک انخلا یا حکمت عملی میں تبدیلی نقصان دہ ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نہیں معلوم ہے کہ افغان فوج کو صلاحیت حاصل کرنے میں مزید کتنا وقت لگے گا، ابھی افغانستان چھوڑا تو افغان فوج اپنا دفاع نہیں کرسکے گی۔دوسری جانب واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ہیتھر ناورٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی 18 عالمی این جی اوز کو کام کرنے سے روکا گیا جو کہ قابل افسوس بات ہے، حالانکہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ میں عالمی این جی اوز کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا عالمی این جی اوز کے پاکستان میں کردار کو اہم سمجھتاہے۔

محاورہ ہے کہ دودھ میں مینگنیاں ڈالنا سو اگر خبر کے آخری جملوں کو دیکھا جائے تو وہ مینگنیاں ڈالنے والی بات کی تصدیق کرتے نظر آئیں گے۔ ایک جانب تو صدر ٹرمپ پاکستان کے افغان امن کردار کو اہم ترین قرار دیتے نظر آتے ہیں اور پاکستان کی دہشتگردوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان نے جن جن این جی اوز پر پابندیاں عائد کی ہیں ان کو غلط قرار دے کر گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی تمام تر مشینری ہماری مرضی سے چلانی پڑے گی۔ اگر چند این جی اوز پر پاکستان نے کچھ شرائط عائد کی ہیں یا پابندیاں لگائی ہیں تو اس کی کوئی نہ کوئی تو وجہ ہوگی اور ان کا طرز عمل یقیناً ایسا ہوگا جس کی وجہ سے پاکستان ایسا کرنے پر مجبور ہوا ہوگا۔ ہر آزاد ملک کو اس بات کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے وہ اپنے ملک میں ایسی تنظیموں اور اداروں کو جو اس ملک کے اندر فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہوں، ان پر کچھ شرائط لگائیں یا ان کی سرگرمیوں کی حدود طے کریں یہاں تک کہ چاہیں تو ان کو کام کرنے سے بھی روک دیں۔ اگر پاکستان نے ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ایسا کیا ہے تو اس پر کسی بھی ملک کو اعتراض کیونکر ہونا چاہیے؟۔ لہٰذا صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرنے اور افغان امن میں اس کے کردار کی تعریف کرنے کے بعد این جی اوز پر لگائی گئی پابندیوں پر نقطہ اعتراض اٹھا کر دودھ دیکر اس میں میگنیاں ڈال دینے والی بات کر دی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے امریکہ کیلئے جس مؤقف کو اختیار کیا ہے اور اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اب کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، اس بات سے امریکی سرکار کافی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے لیکن اس موقع پر مجھے علامہ اقبال کی ایک نظم ‘مکھی اور مکڑا’ یاد آجاتی ہے جس میں ‘خوشامد’ کو ایک مہلک ہتھیار کہا گیا ہے۔ مکڑا مکھی کو اپنے جاہ و جلال اور ٹھاٹ باٹ کی زندگی کا حوالہ دیتا ہے لیکن مکھی مرعوب نہیں ہوتی، وہ اسے لالچیں دیتا ہے لیکن مکھی ٹس سے مس نہیں ہوتی لیکن جب وہ اس کے حسن و جمال کی تعریف کرتا ہے، ان کی خوبیوں کے گن گاتا ہے اور خوشامد پر اتر آتا ہے تو مکھی پگھل جاتی ہے اور اڑ کر اس کے جالے کے قریب پہنچ جاتی ہے اور یوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

پاکستان کے واضح مؤقف کے بعد امریکی صدر مسلسل پاکستان کے کرداراور بہادر افواج کی تعریفوں کے جس انداز میں پل پر پل باندھ رہے ہیں خدشہ ہے کہ کہیں پاکستان مکھی کی طرح ایک بار پھر امریکہ کے جالے میں نہ پھنس جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان امن کیلئے اگر پاکستان کا کردار اتنا ہی قابل تعریف ہے تو پھر پاکستان کو مضبوط کرنے کی بجائے امریکہ پاکستان کو معاشی اعتبار سے کمزور کیوں کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس کی امداد کیوں روک رہا ہے اور وہ بھی اس امداد کو جس کے سہارے پاکستان دہشتگردوں کو ختم کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ و برباد کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔ جب پاکستان کی دفاعی امداد روک لی جائے گی تو کیا دہشتگرد کمزور ہونگے یا ان کو پھر سے سر ابھارنے کا موقع ملے گا؟۔

ایک اور خبر ہے کہ افغان جہاد کے نام پر مسلح تنظیموں کی طرف سے بھتہ خوری کے واقعات میں نہ صرف مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے اور اب تو بڑے شہروں میں بھی دن دھاڑے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ناک کے نیچے کھلے عام بھتہ خوری کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان وارداتوں میں نہ صرف پاکستانی کالعدم تنظمیں ملوث بتائی جاتی ہیں بلکہ اب تو مبینہ طورپر افغان طالبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی پاکستانی علاقوں میں کھلے عام افغان جہاد کے نام پر ٹرک ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔

تفصیل کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے پندو میں تقریباً دس کے قریب ٹرکوں کے چھوٹے بڑے اڈے واقع ہیں جہاں سے روزانہ تقریباً سو سے لے کر دو سو کے قریب مال بردار ٹرک افغانستان جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ٹرکوں میں پاکستان سے سرحد پار پھل اور سبزیاں جاتی ہیں جن میں کیلے کا پھل نمایاں برآمد بتایا جاتا ہے۔ پندو میں ایک ٹرک اڈے کے مالک نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان کے کارندے صبح سویرے بھتہ وصول کرنے کےلیے اڈے پر پہنچ جاتے ہیں اور افغانستان جانے والے ہر ٹرک سے پانچ ہزار روپے وصول کیا جاتا ہے اور جو ٹرک ڈرائیور انکار کرتا ہے ان کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھتہ لینے والے افراد کا موقف ہے کہ وہ یہ رقم افغان جہاد میں استعمال کرتے ہیں اور اسے ان افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کے عزیز رشتہ دار’ا فغان جہاد میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

اڈہ مالک کے بقول ‘شروع میں جب ہم نے بھتہ دینے سے انکار کیا تو ہمیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور ہمارے بعض ڈرائیوروں کو افغان علاقوں میں روک کر ان کو اغوا کیا گیا اور ان کا سامان قبضے میں لے لیا گیا جس کے بعد اب ہمیں مجبوراً ان کی بات ماننی پڑ رہی ہے’۔ بھتہ خوری کی ان کارروائیوں میں تشویش کی بات یہ ہے کہ بھتہ دینے والے ڈرائیوروں کو افغان طالبان کی طرف سے ایک رسید بھی جاری کی جاتی ہے جس کے بعد انھیں افغانستان میں طالبان کے زیر اثر علاقوں میں مزید ٹیکس نہیں دینا پڑتا اور نہ ڈرائیوروں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔

ایک جانب صورت حال یہ ہے اور دوسری جانب امریکہ بہادر محض تعریفوں سے کام نکالنا چاہتا ہے۔ پاکستان تو امریکہ کے مقابلے میں کسی گنتی میں ہی نہیں آتا۔ اگر وہ اپنی تمامتر طاقت اور صلاحیتوں کے باوجود بھی افغانستان میں بحالی امن میں ناکام رہا ہے تو پھر اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے مقابلے میں پاکستان جیسا کمزور ملک تنہا دہشتگردی کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان واقعی افغان وار میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے تو پھر اسے سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے اور اس جنگ سے نبردآزما ہونے کیلئے پاکستان کو جس قسم کی مدد اور تعاون درکار ہے وہ مہیا کرنا چاہیے۔

پاکستان کی حکومت اور اس کی سپورٹرز کیلئے یہ ایک خوش کن خبر ہے کہ عمران خان کا سخت مؤقف امریکہ کو کسی حد تک جھک جانے پر مجبور کر رہا ہے لیکن اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ افغان امن جنگ کو کوئی بھی نام دیا جائے لیکن اب یہ جنگ بہر کیف پاکستان کی جنگ بھی بن چکی ہے۔ اس جنگ میں اگر امریکہ کو مکمل ناکامی ہو گئی اور وہ عناصر جو اس وقت آہستہ آہستہ افغانستان پر چھاتے جارہے ہیں وہ غالب آگئے تو پاکستان کیلئے خطرات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے اس لئے کہ پاکستان ان سب کی تباہی و بربادی میں تا حال شریک رہا ہے۔ اب یہ شرکت خواہ امریکی مفادات کی تکمیل کیلئے رہی ہو یا پاکستان کے اپنے مفادات کیلئے رہی ہو، بہر حال آہستہ آہستہ غالب آجانے والی قوت وہی ہے جس کو پاکستان نے اپنا دشمن بنا لیا ہے اور دشمن کو اپنا دوست خیال کرنا اور سمجھنا نادانی کے علاوہ اور کچھ نہ ہوگا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here