امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ ملکی دفاع کے لیے نظریہ پاکستان کی حفاظت ایٹم بم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے، نظریہ سے بے وفائی نہ کی جاتی توپاکستان دولخت نہ ہوتا، آج امریکا اور نیٹو فوجوں کو افغانستان کے اسلحے نے نہیں لاالہ الااللہ کی قوت نے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے، قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد قوم کو نظریاتی قیادت نصیب نہیں ہوئی، مخصوص ٹولہ 71سال سے ملک کی بوٹیاں نوچ رہا ہے، حکمرانوں نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنا دی ہیں، حکمران، نیب اور عدالتیں اپنی ذمے داریاں پوری کرتیں توآج ملک 96 ارب ڈالر کا مقروض نہ ہوتا ۔کرپشن، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کرنا ہونگے۔ کرپٹ لوگوں کوچین اور روس میں رائج سزاؤں جیسی سزائیں دیے بغیر کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
اس حقیقت میں کسی کی بھی دو آرا ممکن ہی نہیں کہ پاکستان ایک نظریہ کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور وہ نظریہ نظریہ اسلام تھا۔ اسی نظریہ کی خاطر برصغیر انڈو پاک کے مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں لیکن افسوس وہ سارے خواب جو دکھائے گئے تھے وہ خواب خیال ثابت ہوئے اور جو نعرے لگائے گئے تھے وہ سب کے سب کھوکھلے نعرے تھے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے پاکستان میں ایک دن کیلئے بھی ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور ان نعروں اور دعوؤں کو سچا ثابت کرنے کی کوئی مخلصانہ سعی سامنے نہیں آئی بلکہ ہر آنے والا دن اس بات کا ثبوت پیش کرتا گیا کہ کہ بر صغیر انڈو پاک کے وہ سادہ لوح مسلمان جو جذبہ اسلام سے سر شار تھے ان کے جزبے کو ابھار کر کچھ قوتوں نے اپنی مقصد براری کیلئے انھیں استعمال کیا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے سچ ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان اسی نظریہ کی حکمرانی قائم کی جاتی جس کیلئے یہ ملک بنایا گیا تھا تو پاکستان کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں کالے گورے، امیر غریب، عجمی اور عربی کی کوئی تفریق نہیں۔ مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے اور رنگ، نسل، زبان، علاقے اور امارت و غربت کی بنیاد پرسر حدوں کے قیام کا قائل نہیں۔ سرحدوں یا حدود کا تصور تو ویسے بھی اسلام میں موجود نہیں کیونکہ ہر مسلمان یہ خوب اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ پوری کائینات اللہ کی ہے اور اللہ کا نائب ہونے کے ناطے انسان (مسلمان) کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ پوری دنیامیں اللہ کے بھیجے گئے دین کو پھیلائے۔ بد قسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان بنانے کے بعد پاکستان بنانے والے اپنے دعوؤں اور وعدوں سے غافل ہو گئے اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ اسلام کے علاوہ بھی دنیا کی دوسری مقتدر قوتوں کے پاس ایسے نظریات اور ملک چلانے کے ایسے فلسفے، آئین و قوانین موجود ہیں جس سے کی مدد سے ایک نظریاتی ملک کو (نعوذباللہ) اللہ کے بھیجے گئے قوانین و احکامات سے بھی بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ اسی سوچ کی ہم پر ایک بھرپور مار پڑی اور اسلام کو چھوڑ کر امریکہ و روس کی پیروی نے ہمارے ملک کو دولخت کردیا اور یوں وہ ملک جو نظریہ اسلام پر وجود میں آیا تھا وہ لسانیت کی کو بنیاد بنا کر توڑ دیا گیا۔ ملک ٹوٹ جانے کا صدمہ بے شک دنیا میں ملنے والے کسی بھی صدمے سے بڑا صدمہ سہی لیکن اصل صدمہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی غلطی کا احساس تک نہیں کیا اور اپنے اللہ سے رجوع کرنے کی بجائے اس سے بغاوت کی روش اپنائے رکھی جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ علامہ اقبال نے شاید مسلمانوں کی اسی غفلت کو سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے ساتھ احساس زیاں جاتا رہا
احساس ہی وہ دولت ہے جو ناکامیوں کے باوجود بھی انسان کی ہمت کو مرنے نہیں دیتی اور اسے دوبارہ اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنے پر تیار کر دیتی ہے لیکن اگر انسان کا احساس ہی فنا ہوجائے تو تو بے شک وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہی کیوں نہ ہو اسے زندہ لاش تو کہا جاسکتا ہے انسان نہیں کہا جاسکتا۔ یہی حال اس باقی ماندہ پاکستان کے مسلمانوں کا ہے جن کو نہ تو نظریہ کے قتل ہوجانے کا احساس ہے اور نہ ہی اپنی کوتاہیوں کا اعتراف۔ نہ تو مجھے کسی کی آنکھوں میں پاکستان ٹوٹ جانے کا کوئی دکھ نظر آتا ہے اور نہ ہی یہ احساس کہ ہم جس نظریہ کا دامن ہاتھ سے چھوڑ چکے ہیں اس کو دوبارہ تھامیں اور پاکستان کی تعمیر نو کریں۔
پاکستان میں نظریہ اسلام اب صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے رہ گیا ہے چنانچہ جب جب بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، انتخابات قریب آتے ہیں، حکومت میں بیٹھے افراد کے چہرے بدل جاتے ہیں، کوئی تحریک جنم لیتی ہے، سیاسی فضا کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ہوتا ہے یا ظلم و ستم، ناانصافیوں سے بیزار عوام مایوسیوں کی شکار ہونے لگتے ہیں اور مہنگائی ان کا دم گھونٹنے لگتی ہے تو ایسے میں کوئی باہر نکلتا ہے اور اسلام اسلام کا نعرہ بلند کرکے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ وہ اس ملک میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے کیلئے اٹھا ہے۔ لوگو میری اتباع کرو، مجھ پر اعتماد کرو اور یقین کرو آپ کی تمام مشکلات کا حل اسی نسخہ کیما میں ہے۔
ایسے ہی ایک نعرے کی گونج پھر سنائی دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو ‘مدینہ’ جیسی فلاحی ریاست بنائے گی۔ یہ وہ دعویٰ ہے جو قیام پاکستان سے قبل بھی گونجا تھا لیکن بعد میں وہ نعرہ نعرہ ہی ثابت ہوا۔ ڈر یہ ہے کہ مدینہ جیسی ریاست بنانے کا دعویٰ اور نعرہ بھی ایک بھول ہی ثابت نہ ہو۔ 1947 میں تو پھر بہت سے رہنمایان قوم اس کردار کے مالک تھے کہ وہ اپنے کردار میں اپنے دعوؤں سے مطابقت رکھتے تھے لیکن موجودہ مدعیان میں مدینہ جیسی ریاست بنانے کی کوئی خوبو دکھائی نہیں دے رہی۔ شراب قانونی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ایک دو چسکیوں کی بات اب بہت پیچھے رہ گئی ہے یہاں تو ایک بوتل اور 250 گرام چرس لیجانا اب کوئی جرم ہی نہیں رہ گیا ہے۔ سینما ہال 187 سے بڑھا کر 1100 کئے جانے کے فنڈ جاری کر دیئے گئے ہیں۔ ٹھیٹروں میں رقص کی اجازت دیدی گئی ہے۔ وزرا شراب میں دھت ہو کر نامحرم اور لباس سے آزاد خواتین کے ساتھ محو رقص دکھائی دیتے ہیں۔ عیسائیوں کی مجلس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد عیسائیوں نے رکھی تھی۔ دیوالیوں میں دھوم دھام سے شرکت کی جاتی ہے اور کرسمس کیک کاٹے جاتے ہیں۔ سود کے ختم کرنے کی کوئی سعی نظر نہیں آتی، کاروبار کو تباہ کیا جارہا ہے، مساجد کو توڑا جا رہا ہے، مکانات گرائے جا رہے ہیں، ملازتیں دلانے کی بجائے لوگوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے، گھر دینے کے وعدے کے برخلاف آباد لوگوں کے گھر مسمار کئے جارہے ہیں اور کافروں کو دوبارہ مسلمان قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے۔ ان سب اعمال کے باوجاد اس بات کو مسلسل دہرایا جارہا ہے کہ پاکستان کو مدینے جیسی اسلای و فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ ان ہی خیالات کا اظہار امیر جماعت نے اپنی تقریر اور گفتگو میں بھی کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ “پاناما کے دیگر 436 ملزموں کو بھی کوئی نہیں پوچھ رہا”۔ یہی وہ بات ہے جو احتسابی عمل کو مشکوک بنا رہی ہے اور دنیا میں جو پیغام جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ احتساب کے پس پردہ بھی مخالفین کو خاموش رکھنا اور حکومت کے خلاف مزاحمتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے علاوہ بظاہر کوئی اور مقصد دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ پاکستان میں صرف سیاسی طبقہ ہی کرپٹ نہیں بلکہ جس میں جتنی طاقت اور صلاحیت ہے وہ ملک کو لوٹتا بھی رہا ہے اور لوٹ بھی رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کو شفاف اور سب کیلئے عام کیا جائے اور ایسے تمام افراد جو عدالتوں، اداروں اور جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں اور ملک کی دولت کو لوٹنے میں شامل ہوں سب کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے اور کسی سے کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ اسی قسم کےخیالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب سراج صاحب کا کہنا تھا کہ ” حکومت نے پاکستان کو مدینے جیسی ریاست بنانے کا عوام سے جو وعدہ کررکھا ہے اسے پورا کرنے کے لیے اسلامی نظام معیشت کو رائج کرنا ضروری ہے ۔ بدعنوانوں اور سودی معیشت کی موجودگی میں ریاست مدینہ نہیں بن سکتی۔ احتساب کے بے لاگ نظام کے بغیر بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔چند لوگوں کے احتساب سے احتساب کے پور ے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ نیب کی الماریوں میں کرپشن کے 150میگا اسکینڈلز کی فائلیں پڑی گل سڑ رہی ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ ان تمام کیسز پرعدالت عظمیٰ، نیب اور حکومت کی طرف سے ایک پراسرار خاموشی ہے۔ قانون افرادکے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے ہوناچا ہیے۔ حکومت بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے ٹیکس وصولی کا منظم نظام بنائے، غریبوں کو ٹیکس کی چکی میں پیستے رہنامعاشی پلاننگ نہیں”۔
ایک ناقد کی حیثیت سے مجھے امیر جاماعت اسلامی کی باتوں اور خیالات سے 100 فیصد اتفاق ہے اس لئے کہ جب تک ہم ان تمام باتوں کو لحاظ رکھتے ہوئے ملک میں اصلاحات کیلئے قوانین مرتب کرکے اس پر منصفانہ اور دیانتدارانہ عمل پیرا نہیں ہونگے ملک کو اسلامی یا مدینے والی فلاحی ریاست کی جانب گامزن نہیں کر سکتے۔ اگر پاکستان کو واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے تو پھر بیان کردہ خیالات کی روشنی میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ ریاست کے قوانین کو بھی ان ہی اصول و قوائد کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن امیر جماعت کا یہ کہنا کہ کرپشن کو روکنے کیلئے ہمیں ‘چین اور روس’ جیسے سخت قوانین بنانے ہوں گے، بہت نا مناسب سی بات لگی۔ جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو پھر اس میں کسی بھی تہذیب یا کسی بھی غیر اسلامی ملک کے قوانین کی پیوند کاری کی ضرورت کیوں؟۔ سیدھا سا اصول ہے کہ جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائے، شرابی کو کوڑے لگائے جائیں اور زانی کو سنگسار کر دیا جائے۔ جب ہر قسم کے جرم کی روک تھام کیلئے اسلام میں سزائیں موجود ہیں تو پھر کسی دوسری تہذیب اور ملک کے رائج قوانین کی پیوند کاری کی آخر ضرورت کیوں؟۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ اس قسم کی رائے رکھنے اور بیان کرنے میں احتیاط سے کام لیا جائے گا۔
موجودہ حکومت کا کیا ایجنڈا ہے؟، اس بات کو سمجھنا اب بہت مشکل نہیں رہا۔ اب وہ ساری باتیں سر عام ہونے لگی ہیں جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہیں تھا حتیٰ کہ اب حکومتی اہکار خواتین کو اپنی گود میں بٹھا کر اسے سوشل میڈیا پر وائیرل کرنے میں بھی کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور قادیانیوں کو مسلمان کہنے کی تکرار تو اتنی عام ہو چکی ہے کہ جس پر جتنی حیرت کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے۔ ایسے میں حیرتناک خاموشی دل کو دھڑکائے دے رہی ہے۔ لگتا ہے کہ اب پاکستان بنانے کا مقصد انتقال کر چکا ہے۔ اب یہ پاکستان نام کا ‘پاک ستان’ رہ گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مسلمان بھی اب نام ہی کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ مسلمانوں کے حق میں اب یہی دعا یہی کی جاسکتی ہے کہ
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیری بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

Your explanation is organized very easy to understand!!! I understood at once. Could you please post about baccaratsite ?? Please!!