نحیف قوی اور قوی نحیف ہو گئے

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگوں میں ہتھیاروں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ جنگ محض ہتھیاروں کی بنیاد پر نہیں لڑی جاتی۔ ایک کمزور، نحیف و ناتواں کو ہتھیاروں کی مدد سے ڈرایا اور دھمکایا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی ہمت، عزم اور استقامت کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

جب بات عزم، ہمت اور جواں مردی کی جارہی ہو تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طاقتور کے مقابلے میں وہ کون سی قوت ہوتی ہے جو ایک نحیف و ناتواں کو چٹان بنا دیتی ہے اور چٹانوں جیسوں کو ریت کی دیوار میں تبدیل کر دیتی ہے۔ جب ہم اس بات کی گہرائی میں اترتے ہیں تو ہمیں ایک ہی چیز دکھائی دیتی ہے اور وہ مقصد کا حصول ہوتا ہے۔ جب کوئی انسان یہ سوچ لے کہ حالات اس کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں، وہ اپنی منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گا تو پھر اسے راہوں کی کوئی سختی، جان و مال کا کوئی زیاں، عزت و آبرو کے لٹ جانے کا کوئی خوف اور زندگی و موت کا کوئی خطر خطر نہیں لگتا اس لئے کہ اس کی نظروں میں کسی چیز کی کوئی اہمیت ہوتی ہے تو وہ مقصد کا حصول ہوتا ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر آسائش و آرام اس کیلئے کانٹوں کی سیج بن جاتا ہے۔

دنیوی منفعت کے حصول کے لئے بھی اکثر انسان چٹان بن جاتا ہے اور اپنے مخالفین کو اپنے آگے جھکنے پر مجبور کردیتا ہے لیکن اگر اس میں رب کی رضا کا حصول بھی شامل ہوجائے تو پھرانسان چٹان سے بڑھ کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا کرتا ہے۔ ایمانی جذبہ اگر انسان کے دل و دماغ میں حلول ہوجائے تو پھر تاریخ کے دھارے یوں مڑجایا کرتے ہیں کہ 313 دنیا پر چھا جاتے ہیں اور آٹھ ٹوٹی ہوئی تلواریں، 70 اونٹ اور دو گھوڑے رکھنے والے، حرب و ضرب سے ناآشنا اور نہایت مفلس اور ناتواں لوگ آہن و فولاد کے لباسوں والے گھڑسواروں اور ہر قسم کی جنگی ساز و سامان سے آراستہ فوج کو کھایا ہوا بھوسہ بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کی بنیادیں ہلادیتے ہیں اور ایران و روم کی سلطنتوں کو اپنے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

تاریخ نے مفلس و بے سہارا لوگوں کو ایوان اقتدار تک پہنچتے لاتعداد بار دیکھا ہوگا اور وہ جن کو طاقت و قوت کا گھمنڈ گردن بھی موڑنے نہیں دیتا ہوگا، ان کو موم کی طرح پگھلتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔

ہم بہت دور نہیں جاتے۔ سیالکوٹ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ ہو یا آسمان پر اڑتے چھ جنگی جہاز کے مقابلے میں ایک شاہین، دنیا نے دیکھا کہ آہن و فولاد میں ڈھلے سیکڑوں مست ہاتھی (ٹینک) اور آسمان میں پرواز کرنے والے دشمن کے چھ جنگی طیارے، زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے اور فضا میں پرواز کرنے والے جنگی طیارے مچھر مکھی ثابت ہوئے اور چٹان جیسا دشمن ریت کی دیوار بن کر رہ گیا۔

کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ اس وقت کی ایک بڑی قوت (برطانیہ) سے اور مسلمانوں کے ایک بڑے دشمن ہندؤں سے نحیف ناتواں مسلمان اپنے لئے ایک خطہ زمین چھین لینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟، لیکن مقصد کا جذبہ ایک ایسی طاقت ہے جس کے آگے ساری طاقتیں بے بس ہوکر گھٹنے ٹیک دیا کرتی ہیں۔

اسی قسم کی صورت حال کا بھارت کو کشمیر میں سامنا ہے۔ کئی لاکھ بھارتی فوج بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے میں ناکام نظر آرہی ہے اوروہ نہتے کشمیری جن کو بھارت گزشتہ 70 برسوں سے دبا کر اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، وہ اب بے قابو ہو گئے ہیں اور اب اپنے مقصد (آزادی) سے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

افغانستان میں روس نے مداخلت کرتے ہوئے جب افغان سر زمین پر قبضہ کیا تو وہ افغان جو طاقت کے لحاظ سے روس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے اتنے کچھ ہوگئے کہ روسی افواج کو بیشمار سازوسامان چھوڑ کر نہ صرف افغان سر زمین سے سرپٹ بھاگنا پڑا بلکہ مفلس، کمزور اور نہتے افغان نے روس کی اقتصادی حالت کو اتنا تباہ برباد کرکے رکھ دیا کہ اسے اپنی کئی ریاستوں سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

ابھی افغان روس کے ہاتھوں ظلم و ستم سے باہر نکل کر سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیئے۔ یہ بات کسی طرح ایک آزاد و خود مختار قوم کو کیسے گوارہ ہو سکتی تھی۔ روس کی طرح امریکہ کا بھی یہ خیال تھا کہ یہ کمزور، لاچار، جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے نہایت ناتواں ہیں اس لئے افغانستان پر قبضہ جما لینا نہایت سہل ہوگا لیکن اس کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے اور سترہ سال گزر جانے کے باوجود اسے افغانستان میں ایک لمحے بھی سکون نصیب نہیں ہو سکا اور عزم، ہمت، اسقامت اور یقین کے پیکروں کے آگے اس کی ساری خرمستیوں اور طاقت کا غرور دھرا کا دھرا رہ گیا۔

خبروں کے مطابق افغان طالبان نے امریکا کو خبردارکیا ہے کہ وہ افغانستان چھوڑدے یا سوویت یونین کی طرح شکست کاسامنا کرے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے امریکا کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے آزمائے ہوئے افغانوں کی صلاحیتوں کو جانچنا چھوڑدے۔

تفصیل کے مطابق طالبان ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز کوذلت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سرد جنگ کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ گئے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں طالبان اور امریکا کے درمیان تعلقات تنازع کے بجائے سفارتی اور اقتصادی اصولوں پر منحصر ہونے چاہئیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان کی آمد کے بعد ملک میں امن واپس آئے گا اور مخالفین کو عام معافی دی جائے گی، طالبان کی واپسی1996ء کی طرح نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا، ہماری مخالفت صرف غیرملکی افواج کی وجہ سے ہے، ایک مرتبہ غیرملکی افواج کا انخلا اور امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں پھر ملکی سطح پر لوگوں کو عام معافی دی جائے گی، چاہے اس کا تعلق پولیس، فوج، حکومت یا کسی بھی شعبے سے ہو اسے ہماری طرف سے انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

مجاہدین کے اس لب و لہجے میں کس قدر اعتماد اور فتح و کامرانی کی کتنی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وہی طالبان ہیں جن کو گزشتہ 70 برس سے امریکہ مکھی مچھر بھی ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ یہ وہی طالبان ہیں جن کو امریکہ افغان غداروں کو ساتھ ملاکر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا رہا۔ وہ کونسی زیادتی ہے جو ان کے ساتھ روا نہیں رکھی گئی لیکن قدرت کا تماشہ دیکھیں کہ آج وہی غرور کا پہاڑ ان سے زندہ و سلامت نکل جانے کی بھیک مانگتا نظر آرہا ہے اور وہی کمزور ناتواں افغان جن کو طاقت کا غرور منھ لگانے کو بھی تیار نہیں تھا ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے کھڑا نظر آتا ہے اور امن و سلامتی کی درخواستیں پیش کر رہا ہے۔

 ذرا دیکھیں کہ ماضی کے وہ نحیف سمجھے جانے والے طالبان امریکہ سے کس لہجے میں مخاطب ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے شکست تسلیم کرلیں اور افغان سرزمین چھوڑ جائیں بصورت دیگر وہ ان کو ذلت کا نشان بنا کر رکھ دیں گے۔ ارادوں کی پختگی، مقصد کا حصول اور جذبہ ایمانی نے نحیفوں کو قوی اور جو قوی تھے ان کو نحیف و ناتواں بنا کر رکھ دیا ہے۔

افغانستان کے طالبان کے عزم و استقلال اورہمت و جواں مردی میں پاکستان کیلئے بھی بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ پاکستان پر بھی امریکہ اور بڑی طاقتوں کا بڑا دباؤ ہے۔ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو بیرونی دنیا کا یہ دباؤ افغان عوام پر گزرنے والے دباؤ اور ظلم کا عشرہ عشیر بھی نہیں، پھر بھی پاکستان اس دباؤکا شکار نظر آتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے خوف سے اپنے آپ کو آزاد کرے اور اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کرکے افغان طالبان کی طرح دنیا کے سامنے ڈٹ جائے اور بڑی طاقتوں سے ڈکٹیشن لینا بند کردے۔ یقین جانیں، اگرایک مرتبہ بھی اپنے ارادوں کو پختہ کر لیا تو یہ ساری بڑی بڑی طاقتیں ریت کا ڈھیر بن جائیں گی۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here