چیف جسٹس کا راست قدم

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ فوج کاکام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے کاروبارکرنا نہیں۔عدالت عظمیٰ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کے درمیان تمام معاہدے کالعدم قرار دے دیے۔ ساتھ ہی عدالت نے متاثرین کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکم دیا کہ ایڈن ہاؤسنگ کی جانب سے فروخت کیے گئے 11 ہزار پلاٹس کو ڈی ایچ اے 5 سال میں تعمیر کرکے دے گا۔

اگر یہ بات روا روی میں نہیں کہی گئی ہے کہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، کاروبار نہیں کرنا تو ایسا تو کئی مرتبہ کہا اور سنا جا چکا ہے فرق فقط اتنا ہے کہ ابھی تک اس قسم کی کوئی بات عدالت اور خاص طور سے عدالت عظمیٰ کی جانب سے نہیں کہی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالت عظمیٰ کی جانب سے سے کہی گئی یہ بات صرف بات ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ عدالت بلا لحظ و امتیاز سب کو ایک آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ ابھی تک یہ بات ریماکس تک محدود ہے جب تک یہ باقئدہ حکم کے درجے میں نہیں آتی اس وقت تک یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں کتنی صداقت ہے۔

عدالت میں دوران سماعت فریقین کے خلاف بڑے بڑے ریمارکس آتے ہیں جن کو سن کر یہ گمان پختہ ہونے لگتا ہے کہ فیصلہ کس کے حق میں اور کس کے خلاف آنے والا ہے لیکن جب کسی مقدمے کا ڈراپ سین ہوتا ہے ہے تو وہ ہر فرد کی توقع کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔

جس طرح اب یہ بات بہت عام سی ہوتی جارہی ہے کہ ججز دوران سماعت لازماً تبصرہ آرائی کرتے ہیں ایسا پچھلے وقتوں میں کم کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ مقدمات نہایت خاموشی سے سنے جاتے تھے۔ کسی کو بھی اس بات کا گمان نہیں ہوتا تھا کہ وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت کا کیا فیصلہ آنے والا ہے لیکن نہ معلوم کیوں اب ججوں کا خاموش رہنا اور کسی بھی قسم کی تبصرہ آرائی سے گریز کرنا ناممکنات میں شمار ہونے لگا ہے۔ ایک جانب تبصرہ آرائی لازمی خیال کر لی گئی ہے تو دوسری جانب اپنے کئے گئے تبصروں اور خیال آرائی کے یکسر خلاف فیصلہ دینے پر کسی قسم کی خفت محسوس نہ ہونا بھی ایک طرفہ تماشے سے کم نہیں۔

ملاحظہ کیجئے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایڈن ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈن گارڈن ہاؤسنگ اسکیم میں 11 ہزار 716 لوگ متاثر ہوئے اور اس کے نام پر لاہور کے 60 ہزار لوگوں کو لوٹ لیا گیا جبکہ جو اس اسکیم کے پیچھے تھے وہ 13 ارب روپے لوٹ کر بھاگ گئے۔

غور کیجئے کہ چیف جسٹس کے ریمارکس کے مطابق 11 ہزار 716 لوگ متاثر ہوئے، اس اسکیم میں 60 ہزار لوگوں کو لوٹ لیا گیا اور لٹنے والے 13 ارب روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔ یہ وہ اسکیم ہے جس کو دفاعی ادارے کے اشتراک سے چلایا جارہا ہے۔ ہرزاروں لوگوں کو لوٹ لینا اور معمولی رقم نہیں، 13 ارب روپیہ لوٹ کر فرار ہوجانا کوئی معمولی سی بات ہو گئی۔

چیف جسٹس کا یہ بھی فرمانا ہے کہ عدالت کو متاثرین کے حقوق کا ازالہ کرنا ہے، لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حقوق کیسے متاثر ہورہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈی ایچ اے کے نام پر لوگوں نے دھوکا کھایا ہے، انسانی حقوق سیل میں اس دھوکے سے متعلق ہزاروں درخواستیں آئی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب چیف صاحب کے علم میں سب حقائق ہیں، وہ ڈی ایچ اے کے وکیل کے استدلال سے بھی متفق نہیں بلکہ نہایت غیر مطمئن ہیں تو بھی آخر کسی فیصلے تک پہنچنے میں لیت و لعل سے کیوں کام لیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو اسکیم کے نام پر لوٹا جانا، 60 ہزار افراد کو دھوکا دینا اور اربوں روپے بٹورنے کے بعد پیسے بٹورنے والوں کا ملک سے فرار ہوجانا کوئی معمولی جرم نہیں۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جو لازماً مبنی بر حقائق ہی ہونگی کیونکہ چیف جسٹس جیسی شخصیت مفروضوں پر ایسی باتیں نہیں کیا کرتی تو پھر صرف ریماکس تک محدود رہنا کیا عین انصاف ہوگا؟۔

چیف جسٹس نے احساس دلایا کہ جب آپ ہاؤسنگ اسکیموں میں گئے آپ کا نام خراب ہوا، آپ نے جو زمینیں خریدیں وہ متنازع تھیں اور ایسا کرکے آپ نے اپنی ساکھ خراب کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ (ڈی ایچ اے) بیواؤں اور شہیدا کو ڈھال بناکراپنا کاروبار چلاتے اور ان کے نام پر رائلٹی لیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم یہی حکم دے دیتے ہیں کہ ڈی ایچ اے زمین حاصل کرے اور ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کے متاثرین کو 3 ماہ میں پلاٹس دیے جائیں اور جو واجب الادا رقم بنتی ہے اس کی ادائیگی کی جائے۔

زلزلہ متاثرین امداد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ زلزلے کے بعد لٹے پٹے لوگوں کی امداد پوری دنیا سے کی گئی تھی، امدادی رقم حکومت کے پاس امانت تھی اور اس وقت کی حکومت نے امانت میں خیانت کی۔ ٹین کی چھتوں تلے آج کی سردی میں رہنا ممکن نہیں ہے جب کہ متاثرہ علاقوں میں اسکول اور اسپتال بھی نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وزیراعظم عمران خان کو سیشن جج کی رپورٹ بھجوائی گئی لیکن کچھ نہ ہوا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وفاقی کابینہ خود بیٹھ کر اس معاملے کو دیکھے۔ چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سب سے زیادہ جس صوبے سے محبت ملی ان کو اس صوبے کا خیال نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اپریل میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ کے امدادی کیمپپ لگے ہوئے نظر آئے۔متاثرہ علاقوں میں حکومت نے کون کون سے منصوبے مکمل کیے ہیں اس کی رپورٹ دی جائے۔ بالاکوٹ نیو سٹی تعمیر کے فنڈز کہاں اور کیوں بھیجے۔

قوم کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ اب عدالتی معاملات آہستہ آہستہ درست ٹریک پر چڑھنا شروع ہو گئے ہیں اور عدالت نے اپنے انصاف کا دائرہ وسیع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی دسترس میں اب خواہ طاقتور شخصیات ہوں یا مقتدر ادارے، سبھی آنے لگے ہیں جو ایک اچھی علامت ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری جارہے گا اور ملک کے سارے ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کریں گے اور دوسرے اداروں کے معاملات میں مداخلت سے بھی گریز کریں گے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here