افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ایک تواتر کے ساتھ کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کی صورت حال کوئی بہت امید افزا نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی جانب سے غیر مطمئن ہیں جس کی وجہ سے اگر بات چیت کچھ آگے کی جانب پیش رفت کرتی ہوئی محسوس بھی ہوتی ہے تو کسی نہ کسی وجہ سے وہ تعطل کا شکار ہوجاتی ہے اور یوں امن بات چیت کا عمل کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔
اگر اس تمام صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو بات چیت کی ناکامی کی اصل وجہ امریکہ ہی ہے۔ ایک جانب امریکہ افغانستان سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتا نظر آتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح افغان طالبان کو شیشے میں اتار کر مقصد براری میں کامیاب ہو جائے لیکن دوسری جانب وہ موجودہ افغان حکومت کو بھی خفا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کبھی یہ نہیں چاہے گی کہ امریکہ بہادر اس کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلے اور امریکہ کے جانے کے بعد وہ افغان طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے جائیں۔ اگر موجودہ افغان حکومت اس قابل ہوتی کہ وہ امریکہ کی مدد کے بغیر اپنی حکومت چلا سکتیں تو اسے امریکہ کے سہارے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی لہٰذا امریکہ کے چلے جانے کے بعد اس کا قائم رہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں بلکہ اس پورے موجودہ سیٹ اپ میں جو جو بھی شامل ہے ان سب کی زندگیوں کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔
موجودہ طالبان کی جانب سے گوکہ یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد وہ ماضی کی تاریخ نہیں دہرائیں گے اور کسی بھی انتقامی کارروائی کی بجائے وہ عام معافی کی پالیسی اختیار کریں گے لیکن جو لوگ گزشتہ دو دھائیوں سے تا حال ہر قسم کے جوروستم کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہوں اور طالبان کے خلاف ہر قسم کی جارحانہ و ظالمانہ کارروائیوں کو روا رکھے ہوئے ہوں ان کے اندر کا ڈر طالبان کے چند جملوں سے کیسے نکل سکتا ہے۔
اقتدار کے نشے کا بھی اپنا سرور ہوتا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ موجودہ حکومت افغان طالبان کی جانب سے کئے گئے وعدے اور ہر قسم کی انتقامی کارروائیاں نہ کرنے کی یقین دھیانی پر اعتماد بھی کرتی ہے تب بھی وہ نشہ جس کا ذائقہ وہ گزشتہ 17 سال سے چکھتے رہے ہیں وہ اس بات کو کیسے گوارہ کر لیں گے کہ ان کو اقتدار سے بالکل ہی دور کردیا جائے۔
افغان طالبان نے بے شک عام معافی کا اعلان تو ضرور کیا ہے لیکن ان کی ایک شرط بڑی کڑی ہے جو موجودہ افغان حکومت کیلئے اور شاید خود امریکہ کیلئے ایک ایسی کڑوی گولی ہے جس کو نہ تو افغان حکومت بلکہ امریکہ بھی نگلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ شرط یہ ہے کہ مذاکرات جو بھی ہونگے اور جہاں بھی ہونگے وہ صرف اور صرف امریکہ اور ان کے (طالبان کے) درمیان ہونگے۔ ان کے علاوہ اول تو کوئی تیسرا ہوگا ہی نہیں اور اگر کوئی اور ہوگا بھی تو افغان حکومت کا کوئی نمائندہ تو کسی صورت نہیں ہو سکتا۔
آج امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات طے تھے لیکن آج امریکا کی افغانستان میں امن کی کوششوں کو دھچکا لگ گیا۔ طالبان نے آ ج ہونے والے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے ایجنڈے پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا چوتھا دور آج بروز بدھ سے دوحہ، قطر میں منعقد کیا جانا تھاجس کے لیے دونوں جانب سے وفود بھی پہنچ گئے تھے۔ مذاکرات میں اہم امور کے علاوہ کئی فیصلوں کو حتمی شکل دی جانی تھی۔ بات چیت میں افغان حکومت سمیت کسی بھی دوسرے ملک کا کوئی حکومتی نمائندہ شریک نہیں تھا اور امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات ون آن ون ہونے تھے لیکن طالبان کی جانب سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔
اس سے قبل عالمی خبررساں ایجنسی سے بات چیت میں ایک طالبان رہنما نے ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی تھی اور ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ بات چیت میں تیسرا کوئی نہیں ہوگا۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق طالبان، امریکی حکام سے اس مرتبہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہنماؤں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق یہی بڑی وجہ ہے کہ طالبان صرف امریکی حکام سے گفت و شنید میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی طالبان متعدد مرتبہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان کے مذاکرات صرف امریکی حکام سے ہوں گے حالانکہ کئی مرتبہ افغان حکومت نے انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا اور باضابطہ بات چیت کی بھی دعوت دی جو طالبان کی جانب سے یکسر مسترد کردی گئی۔ واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا گزشتہ دور ابوظہبی میں ہوا تھا جس میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا تھا۔
یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو کسی بھی صورت میں افغانستان کی موجودہ حکومت کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ افغان طالبان کی امریکہ سے برابری کی بنیاد پر یا اس حیثیت میں بات چیت جیسی وہ متاوازی حکومت ہوں بلکہ اس سے بڑھ کر یوں لگے کہ جیسے وہ ہی حکومت ہوں، افغان حکومت کیلئے یہ بات یقیناً پریشان کن ہوگی یہی وجہ ہے کہ وہ موجودہ صورت حال سے کسی بھی طرح مطمئن نہیں ہو سکتے۔
ان تمام حالات کو سامنے رکھ کر یہ بات کہنا کوئی مشکل نہیں کہ افغان حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ امریکہ کو افغانستان سے فوری طور پر نہ جانے دے کیونکہ اس صورت میں اسے اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے ساتھ وہی سلوک نہ ہو جو نجیب حکومت اور اس کی انتظامیہ کے ساتھ ماضی میں ہو چکا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کیلئے بھی یہ حالات کوئی مثالی نظر نہیں آرہے اس لئے کہ روس کی طرح اس کی سرحدیں افغانستان سے ملی ہوئی نہیں کہ وہ زمینی راستے سے بھاگنے میں کامیاب ہو سکے۔ واپسی کیلئے اسے محفوظ راستہ چاہیے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغان حکومت اور افغان طالبان دونوں ایک میز پر بیٹھ کر امن سمجھوتے میں شریک نہ ہوں۔
یہاں ایک پہلو اور بھی ایسا ہے جس کے بغیر یہ کہنا کہ امن مذاکرات کسی حتمی انجام تک پہنچ سکیں گے اوروہ پہلو پاکستان کو مذاکرات سے دور رکھنا ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان کو اس میں شریک نہیں کیا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان کی شرکت بھی گوارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو افغان امن مذاکرات سے دور رکھنے میں سازش کی بو کو صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے کردار سے نہ صرف غیر مطمئن ہیں بلکہ وہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف کچھ جارحانہ عزائم بھی رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں خطے کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔ افغان طالبان کا پاکستان کو مذاکرات میں شریک نہیں ہونے دینا اس بات کی علامت بھی ہے کہ افغانستان کی سیاست میں بھارت کا گہرا عمل دخل ہے۔ بھارت کسی بھی سطح پر اس بات کو گوارہ نہیں کریگا کہ دو اسلامی برادر ملک ایک دوسرے کے قریب آکر مستقبل میں اس کیلئے کوئی خطرہ بن سکیں۔ اس لئے اس کی پوری کوشش ہوگی کہ افغانستان اور پاکستان کبھی ایک دوسرے کہ دوست نہ بن سکیں۔
یہ بات افغان طالبان کو بھی اچھی طرح سوچ لینی چاہیے کہ بھارت پاکستان ہی کا نہیں افغان کا بھی دشمن ہے بلکہ وہ دنیا بھر کے سارے مسلمانوں کا دشمن ہے اس لئے اگر وہ دونوں ممالک کے درمیان دوری قائم رکھنا چاہتا ہے تو اس میں طالبان سے دوستی مقصود نہیں بلکہ اس دوستی کی پس پشت اس کے اپنے مذموم مقاصد ہیں۔ لہٰذا افغان طالبان ہوں یا موجودہ افغان حکومت، دونوں کا مفاد بھارت سے زیادہ پاکستان سے وابستہ ہونا چاہیے اور اگر بھارت اس گیم میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے تو اس سے اپنے آپ کو اور پورے خطے بچا کر رکھنے میں ہی دونوں ممالک کا فائدہ ہے۔
