بات چیت میں کیسا لڑائی جھگڑا؟

پاکستان اور بھارت 1947 سے قبل ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے اور نہ معلوم کتنی صدیوں سے ایسا ہی تھا۔ اس دوران بہت ساری اقوام کا یہاں سے گزر بھی ہوا اور کچھ نے اپنی اپنی حکومتیں بھی قائم کیں۔ صدیوں ایک ساتھ رہنے کے با وصف ہوا یہ کہ مذہبی اختلاف کو چھوڑ کر بہت ساری رسوم و روایات اور معاشرے میں رہنے کے بہت سارے طور طریق تقریباً ساری قوموں کے ایک جیسے ہو گئے جن میں کچھ عادات بھی شامل ہیں۔ ایک عادت جو برصغیر کے طول و عرض میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ لڑائی جھگڑے کو ختم کرنے کے سلسلے میں بھی اگر کبھی باہم بیٹھ کر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہو جائیں تو دوران بات چیت وہ ملاقات بھی لڑائی جھگڑے پر ہی ختم ہوتی ہے اور عام طور پر مخاصمت کم ہونے کی بجائے دشمنی پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان اور بھارت معلوم نہیں کتنی مرتبہ بات چیت کیلئے تیار بھی ہوئے اور بات چیت کیلئے بیٹھے بھی لیکن ہرمرتبہ اس کا اختتام پرانے زخموں کے کریدنے اور ایک دوسرے سے شکوے گلوں پر ہی ختم ہوا۔ مان لیتے ہیں کہ ایسا دوطرفہ شاید نہ رہا ہو اور انڈیا ہی کی جانب سے نمک پاشی زیادہ کی گئی ہو لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ  دوران بات چیت دونوں فریق شاید کم ہی الجھے ہوں لیکن میڈیا پاکستان کا ہو یا انڈیا کا، انھوں نے وہ وہ شکوے گلے بھی کر ڈالے جو بات چیت کے کسی بھی دورانیے میں نہیں آئے ہوں اور وہ وہ شکایتیں بھی اٹھائیں جس کا سارے فسانے میں کوئی ذکر بھی نہیں تھا۔ میڈیا کا یہ انداز اور یہ طرز عمل کچھ اس انداز کا ہوتا ہے جو کسی شاعر کے اس شعر پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے کہ

لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میں بھر کر آنسو

اس پہ مچلے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے

ایک خبر کے مطابق انڈیا نے پاکستان کی جانب سے مزاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “خود پاکستان بات چیت کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں”۔ انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا “اگر پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے تو پٹھان کوٹ اور ممبئی حملے کے جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی”۔ انھوں نے مزید کہا کہ ” پاکستان شدت پسند تنظیموں کو اب بھی اپنی سرزمین استعمال کرنے دے رہا ہے۔ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی جو اعانت ہو رہی تھی وہ اب بھی ہو رہی ہے۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کو قومی مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے”۔

دنیا کا ہر آزاد ملک اپنے معاملات میں خود مختار ہوتا ہے۔ کم و بیش دنیا کے ہر ملک میں دہشت پھیلانے والے گروہ موجود ہوتے ہیں اور کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جن میں باغیانہ پن بھی پایا جاتا ہے۔ نہ تو سری لنکا اس بات سے آزاد رہا اور نہ ہی بھارت یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کے اپنے ملک میں بغاوت کی تحریکیں نہیں چلیں۔ بھارت میں بغاوت جیسے حالات اب بھی ہیں۔ جس طرح ایسے حالات کے خلاف تادیبی کارروائیاں ہر ملک اپنے اندر موجود عناصر کے خلاف اپنے اپنے انداز میں کرتا ہے اور اس قسم کی کارروائیوں میں سختی اور نرمی، دونوں انداز سے کام لیکر حالات کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح پاکستان بھی اپنے اندر ایسے عناصر کے ساتھ ہر قسم کی کارروائی اپنے انداز میں کرنے کیلئے مکمل آزاد ہے۔ وہ دہشتگردوں کے خلاف طاقت استعمال کرتا ہے، ان کیلئے عرصہ حیات تنگ کرتا ہے یا بات چیت کے ذریعے ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے کم از کم اس سلسلے میں یہ ضروری نہیں کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے کہنے پر ان کی مرضی کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ مطلب دہشتگردی کا خاتمہ ہے خواہ کسی بھی انداز میں ہو اس لئے بھارت کا یہ کہنا کہ کہ وہ دہشتگردوں کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، درست نہیں۔ رہی الزام تراشی کی بات کہ پاکستان کے دہشتگرد بھارت میں گھس کر کارروائی کرتے رہے ہیں اور پاکستان کو ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے اور جب تک پاکستان ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک پاکستان کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری نہیں رکھا جاسکتا، ایک جانب بات چیت سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کے مترادف ہے تو دوسری جانب بنا ثبوت اس قسم کے الزامات لگانے سے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی قربت کا کائی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان کے خلاف اس کے پاس کوئی واضح ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کے سامنے پیش کرے۔ اگر ان میں حقانیت ہوئی تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ایسے عناصر کے خلاف کرروائی نہ کرے۔ اگر پاکستان ایسے عناصر کے خلاف کارروائی نہیں بھی کرے تب بھی بھارت کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت کے دروازے بند تو نہیں؟۔ بھارت اپنے تمام شواہد کے ساتھ وہاں بھی اپنا معاملہ اٹھا سکتا ہے۔

پاکستان میں اگست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا سے بات چیت شروع کرنے کی کئی بار پیشکش کی لیکن انڈیا کی طرف سے ابھی تک کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے وہی پرانا راگ الاپتے ہوئےکہا تھا کہ بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کے باوجود انڈیا بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چار برس سے مذاکرات کا عمل معطل ہے۔ انڈیا میں آئندہ چند مہینوں میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اب انتخابی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی مثبت پیش رفت اب انتخابات کے بعد ہی ہو سکے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پورے خطے میں کشیدگی کی یہ فضا دنیا کیلئے کسی بھی وقت خطرے کی ایک بہت بڑی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک جانب تو پاکستان اور بھارت کی بڑھتی ہوئی یہ گشیدگی فضا کو پر حول بنائے ہوئے ہے تو دوسری جانب افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کسی بھی وقت قیامت صغریٰ کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے موقعہ پر یہ ضروری ہے کہ وہ دو بڑی طاقتیں جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں، اپنے اندر پائی جانے والی بے چینی کو جس حدتک بھی ہو سکے کم سے کم کریں۔ اگر ایک مرتبہ بھی حالات قابو سے باہر ہو گئے تو خطے میں بھڑکنے والی آگ ممکن ہے کہ دنیا کو ہی بھسم کر کے رکھ دی۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا اشو بھارت کے قبضے میں آیا ہوا کشمیر ہے۔ بھارت کا قبضہ کرنا شاید اتنا بڑا اشو نہیں ہوتا لیکن ایک تو بھارت کا یہ قبضہ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ہے تو دوسری جانب بھارتی افواج کا کشمیری مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و ستم کشمیریوں پر ایک عذاب بن کر ٹوٹا ہوا ہے۔ کشمیر خواہ پاکستان کی جانب والا ہو یا پھر وہ کشمیر جس پر بھارت قبضہ کئے ہوئے ہے، دونوں جانب کے رہنے والے خونی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اور دونوں جانب مسلمان ہی بستے ہیں۔ اگر ظلم و ستم دیکھتے ہوئے کچھ مسلمان جذبہ ایمانی کے ہاتھوں مجبور ہوکر یا خونی رشتوں کی پکار پر سرحد کے اس پار نکل کر کسی ظلم کے خلاف نبرد آزما ہوجاتے ہوں تو ایسی صورت میں دنیا کی ہر حکومت بے بس ہی ہوجایا کرتی ہے۔ پاکستان اس قسم کی ہر کارروائی کو اچھا نہیں سمجھتا اور اور سرحد کے اس پار جانے کی ہر کاروائی کو غلط قرار دیتا ہے لیکن پاکستان یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر بھارتی افواج کا ظلم و ستم جاری رہا تو رد عمل کے طور پر سب کچھ ممکن ہے لہٰذا بھارت کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا حل جلد از جلد تلاش کرے اور پاک بھارت مذاکرات کے عمل کو نیک نیتی کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا حق دیتے ہوئے ان کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے میں آزاد کردے۔

کشمیر کا مسئلہ اگر حل ہوجائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ صرف ہر قسم کی کشیدگی ختم ہو سکتی ہے بلکہ امن کے نتیجے میں یہ خطہ ترقی و خوشحالی کے ایسے دور میں داخل ہو سکتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے دیکھے جا سکیں گے۔ امید کرنی چاہیے کہ بھارت عقل کے ناخن لیتے ہوئے معاملات کو بگاڑنے کی بجائے ان کے سدھار کی جانب جائے گا اور جنگی جنون سے باہر نکل کر بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کی سعی و جہد کریگا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here