میں اگر اس لکڑہارے کی کہانی سناؤں جس نے اپنے آخری ایام میں اپنے جوان اور کڑیل بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے روٹھے رہنے والے بچوں کو بلا کر پہلے ان سب کو ایک ایک لکڑی پکڑا کر توڑنے کو کہا تو سب اپنی اپنی لکڑی توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر اس نے سب لکڑیوں کو ایک ساتھ بندھوا کر کہا کہ اب توڑو تو پھر ساروں کا زور بھی کام نہ آسکا اور وہ مربوط لکڑیاں کسی صورت نہ ٹوٹ سکیں تو یہ کہانی بچوں کی سی لگے گی۔ کہانی بے شک بہت بچگانہ سہی لیکن اس میں ہر عمر والے کیلئے یہ سبق بہت اچھی طرح پوشیدہ ہے کہ صفوں کو مضبوط کرنے اور متحد رہنے میں ہی بقا اور سلامتی ہے بصورت دیگر تباہی، بربادی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جب کہہ دیا کہ اہل کفر کو اپنا دوست مت بناؤ تو پھر ان کو دوست بنانا یا دوست سمجھنا کسی صورت نفع بخش سودا نہیں ہو سکتا بلکہ اس میں خسارہ ہی خسارہ ہے لیکن یہ بات اہل ایمان (مسلمانوں) کو سمجھ میں آکر نہیں دے رہی ہے اور مسلسل نقصان پر نقصان اٹھانے کے باوجود وہ جب بھی مدد کیلئے نظر اٹھاکر دیکھتے ہیں تو عالم کفر ہی کی جانب دیکھتے ہیں۔
عالم کفر ڈراموں سے باز آجائے، ایسا ممکن ہی نہیں۔ اس کی کتنی زبانیں ہیں ان کا شمار مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ ایک وہی کام اہل ایمان کریں تو دنیا بھر کی اقتصادی پابندیاں ان پر عائد کردی جاتی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اگر وہ کام جو دنیائے کفر کی نظر میں ان کے علاوہ کسی اور کو کرنا ہی نہیں چاہیے، اس کے کرنے کا صرف سوچنے بھی لگیں تو ان کا گھیراؤ شروع ہوجاتا ہے اور ان کو اس حد تک عاجز کردیا جاتا ہے کہ وہ یا توایسا کرنے کا ارادہ ہی ترک کردیتے ہیں یا پھر صعوبتیں چھیلنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اہل کفر کی سب سے زیادہ سختی اس بات کی ہے کہ کوئی اور ملک ان کی طرح ایٹمی اعتبار سے مضبوط نہ ہوسکے اور وہ خود خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کے زور پر پوری دنیا کو اپنا غلام بنا کر رکھ سکیں۔ خاص طور سے وہ مسلم ریاستیں جہاں اسلام اور جذبہ جہاد کی ہلکی سی رمق بھی پائی جاتی ہو وہ تو ایسا سوچنے کی بھی کوشش نہ کریں بصورت دیگر ان کو پوری دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ پاکستان نے تو ساری اقتصادی پابندیوں کے باوجود دنیائے اہل کفر کی ایک مان کر نہ دی۔ ایران بھی اسی سمت محو پرواز ہے لیکن پاکستان ہو یا ایران، ان کو دنیا کی سخت پابندیاں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ سخت اقتصادی پابندیوں کا نتیجہ ان کو پیچھے کی جانب پلٹنے پر مجبور کردے اور اپنی اپنی ایٹمی تنصیبات کو لپیٹنا پڑ جائے یا پھر بڑھتی ہوئی پابندیاں اس کا عرصہ حیات تنگ کردیں۔
شمالی کوریا نے بھی ایٹمی دورمیں قدم رکھ ہی دیا۔ ادھر شمالی کوریا نے نے ایٹمی دھماکے کئے ادھر امریکا کا واویلا شروع ہوگیا اور اس پر نہ صرف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا گیا بلکہ سخت فضائی کارروائیاں کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئیں۔ ایک احساس سا پیدا ہوا کہ چلو جہاں اسلامی ممالک پر ایٹمی پابندیاں ہیں وہیں ایک ملحد ملک کے ساتھ بھی امریکا کی دھمکیاں کسی حد تک منصفانہ سا عمل ہے۔ کسی اور کا تو مجھے علم نہیں لیکن مجھے امریکا کی یہ ساری دھمکیاں شروع ہی سے ڈرامے بازیاں ہی لگیں۔ جو میں سوچتا تھا اس کیلئے دل کی گوہی کے علاوہ کوئی اور دلیل میرے سامنے نہیں تھی لیکن اب ساری ڈرامے بازیاں روز روشن کی طرح عیاں ہوکر سامنے آچکی ہیں۔
بی بی سی کی خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فروری کے مہینے میں، شمالی کوریا کے رہنما “کم جونگ اُن” سے دوسری ملاقات کریں گے۔ اس اعلان سے پہلے، شمالی کے مذاکرات کار “کم یانگ چول” نے صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس سے ملاقات کی۔ اس بات کا امکان بھی پایا جاتا ہے کہ دونوں رہنما ویت نام میں ملاقات کریں گے۔
خبر کے مطابق گذشتہ برس جون میں سنگاپور میں ہونے والی تاریخی میٹنگ میں امریکی صدر نے شمالی کوریا سے جوہری ہتھیار ڈالنے کی بات تھی لیکن اس کے بعد سے اس سمت میں بہت کم پیش رفت ہوئی۔ بی بی سی کے نمائندے “باربرا پلیٹ یوزر” کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تک کم یانگ چول کی آمد ایک اچھی علامت ہے، جس میں جوہری سفارت کاری میں پیش رفت کا اشارہ ملا ہے۔ جنرل کم یانگ چول ایک سابق انٹیلیجنس آفیسر ہیں، اور انہیں کم جونگ اُن کا دایاں ہاتھ کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ایک حالیہ بات چیت میں، جنرل کم اہم مذاکرات کار کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کے لیے کوریائی رہنما کا حظ بھی لائے ہیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ خط میں کیا ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس میں آئندہ ملاقات کا منصوبہ ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ انہیں اس ملاقات کا انتظار رہے گا۔
صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈرز نے کہا ہےکہ یک طرفہ جوہری توانائی سے چھٹکارے پر بات چیت جاری رہے گی تاہم امریکا شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں اور دباؤ بنائے رکھے گا۔
ایک جانب توعالم یہ تھا جیسے امریکا شمالی کوریا کو بے بس کرکے رکھ دیگا اور کسی آن بھی شمالی کوریا پر اپنی فوجیں اتار کر اس کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیگا لیکن اب عالم یہ ہوگیا ہے کہ شمالی کوریا سے برابری کی سطح پر بات چیت کی جارہی ہے۔ یہ سارے حالات اس بات کی چغلی کھارہے ہیں کہ گزشتہ دنوں ہونی والی زبانی گولہ باری ایک ڈرامہ ہی تھی اور مسلم دنیا، خاص طور سے ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہماری نظر میں ساری اقوام بربر ہیں۔ اس مصنوعی گولہ باری کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ متوقع ملاقات سے قبل سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا میں ہونے والی ملاقات میں منگل کو دونوں رہنماؤں نے پہلے مصافحہ کیا اور پھر 38 منٹ تک پرائیوٹ ملاقات کی جس میں مترجمین کے علاوہ کوئی شریک نہ تھا۔ اس موقع پر کم جونگ نے کہا کہ ہم نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور دنیا کو اہم تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے پریس کانفرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کوئی جنگ کر سکتا ہے لیکن صرف بہادر ہی امن لا سکتے ہیں۔
یہ ملاقاتیں اور عالم کفر کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ وہ لوگ جن کا نہ تو کوئی ایمان اور دین ہے اور نہ ہی وہ الہامی صحف اور کتابوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ تو اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو سکتے ہیں لیکن وہ امت جس کا ہر الہامی کتاب پر مکمل یقین ہے، جو اپنے لئے قرآن کو نسخہ کیما جانتی ہے، جس کا خدا ایک ہے، رسول ایک ہے اور کتاب ایک ہے وہ پوری دنیا میں پارہ پارہ ہو کر رہ رہی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کی جانی دشمن بنی ہوئی ہے۔
ایران عرب سے ہی کیا کسی اور ملک کی قربت سے سہما سہما رہتا ہے۔ تمام عرب ممالک مسلک کی بنیاد پر ایران سے دشمنی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مسلم ممالک بھی پاکستان سے زیادہ پاکستان کے دشمن بھارت سے زیادہ قریب ہیں اور اس قربت میں نہ تو مذہب آڑے ہے اور نہ مسلک رکاوٹ جبکہ ایک دوسرے سے تعلقات رکھنے میں ہزاروں عذر بہانہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔
یہاں پوری امت مسلمہ کو سوچنا چاہیےکہ جن ممالک یا اقوام کو ہم مجہول قرار دیتے ہیں وہ عقل شعور میں اتنے آگے ہیں کہ ایک دوسرے سے الجھنے کی بجائے، ایک دوسرے سے دوریاں بڑھانے کی بجائے، دشمنیاں قائم رکھنے کی بجائے ایک دوسرے سے جڑنے کو، ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کو اور ایک دوسرے سے دوستیاں بڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ نہ تو ان کا اللہ پر ایمان ہے، نہ ہی ان کی کوئی کتاب ہے اور نہ ہی وہ کسی کو اللہ کا پیغمبر ماننے کیلئے تیار ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ جو اللہ کو بھی مانتے ہیں، اس کے رسول پر بھی یقین رکھتے ہیں اور قرآن کو اپنا دستور سمجھتے ہیں، ایک بن کر رہنے کیلئے کہیں سے کہیں تک تیار نہیں۔
دینا کے تمام اہل ایمان اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سرفرازیاں اور سربلندیاں ان کا نصیب بنیں تو پھر ان کیلئے لازم ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامیں۔ ایک دوسرے سے قربتیں بڑھائیں۔ اختلافات بڑھانے سے گریز کریں اور سب سے اہم بات یہ کہ کبھی اہل کفر کو اپنا ہمدرد، غمگسار، پیارکرنے والا، اپنے کام آنے والا اور مددگار نہ سمجھیں۔ یاد رکھیں کہ جب اللہ نے فرمادیا کہ یہ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے تو پھر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے سایوں کے پیچھے مت بھاگیں بلکہ حق کو پہچانیں۔ اگر اللہ سے رجوع کرلیا تو تباہی سے بچ رہیں گے بصورت دیگر موجودہ حالات تو ہلاکت و بربادی ہی کی خبر دیتے نظر آ رہے ہیں۔
