یہ ہوتا ہے یو ٹرن

لوگوں کا کیا ہے وہ تو یوں ہی ہماری موجودہ حکومت کو بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ دیکھو جی اپنی بات سے پھر گئے۔ دیکھو “یو ٹرن” لے لیا۔ ہر جگہ سے یو ٹرن کا نشان ہٹا لیا جائے وزیر اعظم کی تصویر لگادی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تو ساری دنیا ہی “یوٹرن” ہے۔

پرسوں ہی کی بات ہے کہ بڑا شور تھا کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان نہ صرف مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ فریقین کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پاگیا ہے جس کے تحت طالبان اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ جب امریکا افغانستان سے اپنا مال و اسباب لے کر جارہا ہوگا تو “جان کی امان پاؤں” کے تحت کوئی اف تک نہ کریگا اور وہ نہایت سکون اور اطمنان کے ساتھ تمام مال و اسباب لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ابھی پاکستان سمیت کئی ممالک اور فریقین کے شادیانوں کی گونج بھی نہیں تھمی تھی کہ “تڑک کرکے” ساری کی ساری امیدیں ٹوٹ کر رہ گئیں۔

میں نے آج (29 جنوری) جسارت میں شائع ہونے والے کالم “افغان امن مذاکرات کامیاب ہوگئے؟” میں کچھ خدشات کا اظہار ہی نہیں بلکہ یہاں تک لکھ دیا تھا کہ اصل میں فریقین کی بات چیت میں کوئی بات طے ہی نہیں ہوئی علاوہ اس بات کے کہ اگر امریکا افغانستان سے راہ فرار اختیار کریگا تو طالبان اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ باقی جتنی باتیں افغان امن مذاکرات کے حوالے سے بیان کی جارہی تھیں وہ ساری کی ساری خدشات سے پُر تھیں۔ اس خدشے کا اظہار کئے ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ حقیقت حال سامنے آگئی اور اتنی بری طرح سامنے آگئی جس کی توقع شاید کسی فرد و بشر کو ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اتنا بڑا یو ٹرن شاید ہماری موجودہ حکومت نے بھی کبھی نہیں لیا ہو بلکہ اب تک کے سارے یو ٹرنز اس طرح ماند پڑ گئے جس طرح سورج نکل آنے پر چراغوں کی روشنی پھیکی پڑجاتی ہے۔

ابھی پاکستان کے بہت سارے اعلیٰ عہدوں پر متمکن ذمہ داران کی بانچھیں کِھلنے کے بعد اپنی اصل جگہ پر واپس بھی نہیں آئیں تھیں کی امریکی نمائدہ خصوصی “زلمے خلیل زاد” کا بیان سامنے آگیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ “افغانستان سے فوج نکلے گی نہ عبوری حکومت قائم ہوگی”۔ بات یہیں پر آکر ختم ہوجاتی تو شاید ان کی کہی بات کو گول مول کیا جا سکتا اور کہہ دیا جاتا کہ ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر شاید امریکا کا افغانستان سے انخلا ممکن نہیں تاآنکہ مکمل امن کی ضمانت نہ دے دی جائے لیکن اس سے آگے کی خبر کے بعد تو اس بات کے سارے امکانات ہی معدوم ہو گئے کہ امریکا کا افغانستان سے جانے کا کوئی پروگرام بھی ہے۔ افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کو حالیہ مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایااورافغانستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی یاعبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

اب کوئی یہ بتائے کہ مذاکرات کے چھٹے دور میں کیا جھک مارا جارہا تھا اور مذاکرات کے اختتام پر جو جو بیانیے جاری ہوئے تھے وہ ہنسی مذاق تھے؟۔ اگر اس بات کو سچ مان لیا جائے کہ مذااکرات کا چھٹا دور آنا، بیٹھنا اور چلے جانا ہی تھا تو پھر کامیابیوں اور کامرانیوں کا شور و غوغا کیوں مچا ہوا تھا۔

میں اس خدشے کا اظہار کرچکا تھا کہ موجودہ افغان حکومت اتنی آسانی سے اپنے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہو سکتی۔ عبوری حکومت کے قیام کا مطلب ہی حکومت کا خاتمہ ہے۔ وہ تمام گروہ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں وہ آپس میں شیر و شکر کیسے ہو سکتے ہیں۔ خدشہ اس بات کا تھا کہ جس طرح روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد افغانستان میں خوںریزی نہیں رک سکی تھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ متحرب گروہ اپنے سارے زخم بھول جائیں۔

کہا جارہا تھا کہ طالبان سے جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے البتہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد اس وقت سے شروع کریں گے جب امریکا اپنے انخلا کا شیڈول جاری کریگا لیکن اب امریکی نمائندہ خصوصی کا فرمانا ہے کہ “طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ہوئے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان رہنماؤں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم اس موقع پر ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا”۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر طے کیا کیا پایا؟۔ نہ انخلا پر بات ہوئی، نہ محفوظ انخلا والی بات طے پائی اور نہ ہی عبوری حکومت یا جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تو پھر ہوا کیا؟۔ اگر کچھ ہوا ہی نہیں تھا تو شادیانے کیوں بجائے گئے۔

مجھے یہ بات بھی اب تک سمجھ میں نہیں آئی کہ زلمے خلیل زاد کی آخر کتنی زبانیں اور کتنے منھ ہیں اس لئے کہ اسی تسلسل میں ان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ “طالبان اور امریکا کے درمیان باقی رہ جانے والے معاملات پر طالبان قیادت سے دوبارہ مذاکرات کئے جائیں گے”۔ جب چھٹے دور میں بھی کوئی بات ہوئی ہی نہیں تو “باقی” رہ جانے والے والے معاملات سے ان کی مراد کیا ہے؟۔ یہ جملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان سے کچھ نہ کچھ تو طے کر ہی لیا گیا ہے اور جو معاملات رہ گئے ہیں ان پر مزید بات چیت کی جائے گی۔

معامل یہ ہے کہ امریکا افغانستان کی دلدل میں گردن تک پھنس چکا ہے۔ وہ طالبان کی بات مانتا ہے تو موجودہ افغان حکومت اس کیلئے قیامت بن سکتی ہے اور اگر وہ موجودہ افغان حکومت کی باتیں مان لیتا ہے تو انخلا کے وقت طالبان کے ہاتھوں زک اٹھائے گا۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنی ہی افواج کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کرے تو پھر اس کی افواج میں عدم تحفظ کی وجہ سے بغاوت والی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ گویا امریکا کو نہ تو اگلے بن رہی ہے اور نہ ہی نگلے۔ وہ نہ تو موجودہ افغان حکومت سے دشمنی مول لے سکتا ہے اور نہ طالبان کی ناراضگی اس کے مفاد میں ہے اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ وہ نہ تو طے شدہ باتوں کو افغان حکومت سامنے رکھ سکتا ہے اور نہ ہی وہ اس پوزیشن میں ہے کہ طالبان سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کرے۔

افغانستان میں چلنے والی کشمکش کے عجیب عجیب پہلو سامنے آرہے ہیں جس پر نہ ہنستے بنتی ہے اور نہ روتے۔ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ “طالبان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا تو افغان عوام کا ساتھ دیں یا پھر دوسرے ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوں”۔ یہ بات تو طے ہے کہ افغان طالبان کسی صورت اس بات کیلئے تیار نہیں کہ وہ موجودہ افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں البتہ امریکا کے انخلا کے بعد ایسا کرنے کا اشارہ ضرور دیا گیا ہے۔ افغان صدر کی یہ بات بہت ہی مضحکہ خیز ہے کہ طالبان یا تو عوام کا ساتھ دیں یا پھر وہ غیر ملکوں کا آلہ کار بنیں۔ یہ بات یوں عجیب ہے کہ افغان صدر اس خوش فہمی میں کیوں مبتلا ہیں کہ افغان عوام کے وہی حقیقی نمائندے ہیں؟۔ نیز یہ کہ جو حکومت خود غیروں (امریکا) کی آلہ کار ہو وہ دوسروں کو ایسا طعنہ دیتی ہوئی اچھی نہیں لگتی اور وہ بھی بنا تحقیق۔ اپنے ہی بیان کے تسلسل میں اشرف غنی فرماتے ہیں کہ حکومت ملک میں 40سال سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور یہی خواہش افغان عوام کی بھی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی ضروری ہے”۔ گویا اشرف غنی اپنے تحفظ کیلئے امریکا کی موجودگی کو ضروی خیال کرتے ہیں۔

ان ساری باتوں کا نچوڑ یہی نکلتا ہے کہ اس وقت امریکا کی کیفیت ان مشرکین مکہ کی سی ہو کر رہ گئی ہے جن کے متعلق قرآن کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ “جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن جب مشرکین کے درمیان ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو مسلمانوں سے مذاق کر رہے ہیں”۔

پاکستان ہو یا وہ ممالک جو امریکا کے سہارے پر اپنی اپنی حکومتیں چلا رہے ہیں اور اسی پر انحصار کئے بیٹھے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ان ساری چال بازیوں کو سمجھیں اور خود انحصاری کی جانب قدم بڑھائیں۔ ملکوں اور ملکوں کے درمیان خلوص و محبت کا رشتہ نہیں مفادات کے رشتے ہوتے ہیں۔ جس طرح امریکا کو اپنے مفادات عزیز ہیں اسی طرح ہر ملک اور خاص کر پاکستان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ “سب سے پہلے پاکستان” نگاہوں کے سامنے رہے۔ اگر یہ نقطہ دھیان میں نہیں رہا تو پھر آگے تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here