عدالت عظمیٰ نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے گواہوں نے حلف پرغلط بیانی کی، کیس میں بہت زیادہ جھوٹ بولا گیا، سب گواہان کے بیانات میں واضح تضادات ہیں، اگر عام مقدمہ ہوتا تو گواہان کے خلاف کارروائی کرتے، بار ثبوت کا اصول 1987ء سے طے ہے، نظر ثانی میں ایک نقطے کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتے، اگر جرح میں وکیل سوال نہ پوچھے تو کیا ملزم کو پھانسی لگادیں۔
اس مختصر سی خبر میں متعدد چارجز ہیں جو لگائے گئے ہیں۔
عدالت کے خلاف بولنا جرم ہی نہیں بلکہ اس کو پاکستانی عدالت انصاف میں “توہین عدالت” سمجھا جاتا ہے اور توہین عدالت کرنے والے کو ایسی ایسی سزائیں سنائی جاتی ہیں کہ اس کی سات پشتیں تک عدالت یا اس کے حکم کے خلاف کوئی حرف تک اپنی زبان پر لانے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔
پہلا چارج تو یہ ہے کہ “گواہوں نے حلف پر غلط بیانی کی”۔ دوسرا چارج یہ کہ “بہت زیادہ جھوٹ بولا گیا”۔ تیسرا چارج یہ کہ “سارے گوہان کے بیان میں تضادات تھے”۔ بظاہر یہ “تین” چارجز ہیں لیکن جائزہ لیا جائے تو یہ ایک ہی چارج ہے جس کو تین مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
آئین اور قانون سے نابلد ہونے کی وجہ سے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں جو لفظ “چارج” استعمال کر رہا ہوں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا ایسا کہنا یا لکھنا بھی قانونی گرفت میں آتا ہے کہ میں کسی تبصرے کو چارج کہوں لیکن مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ کسی حد تک فرد جرم ہی ہے جو فیصلہ سنانے والے ججوں یا عدالت پر لگائی گئی ہے۔
وہ عدالت جس نے آسیہ بی بی کو سزائے موت تک سنادی وہ اتنی نااہل تھی کہ اسے اس بات کا تجزیہ کرنا ہی نہیں آتا تھا کہ وہ گواہوں کے سچ اور جھوٹ کو جان سکے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ وکلا جو مقدمے کی پیروی کررہے تھے وہ سب کے سب اتنے نااہل تھے کہ اس بات کا تجزیہ ہی نہ کرسکے کہ جو گواہان پیش کئے جارہے ہیں وہ واقعی سچ بول رہے ہیں؟۔ اگر موت جیسی سزا میں عدالتیں فیصلہ سناتے ہوئے احتیاط سے کام نہیں لیتی تو دیگر مقدمات میں ان کا معیار کیا ہوگا؟۔ کسی بے گناہ کی جان لے لینا اگر چھوٹی انگلی کا کام ہے تو پھر کیا اس سے بہتر وہ موت نہیں جو ماورائے عدالت ماردیئے جانے والوں کی بد نصیبی میں لکھ دی جاتی ہے۔ وہ کئی کئی مہینوں بار بار تو نہیں مرا کرتے۔ بس اچانک ان کو بڑے سے میدان میں گاڑیوں سے دوڑا دیا جاتا ہے اور شکاری ان پر گولیاں چلا کر ابدی نیند سلادیتے ہیں۔
اگر اس سارے ریمارکس کا دیانتداری سے جائزہ لیا جائے تو جوبات سامنے آتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ بظاہر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایک حقیقی مجرم کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے اپنی سے ذرا چھوٹی عدالت کے انصاف کی دھجیاں بکھیرکر رکھ دیں اور یہ سارے چارج ہائی کورٹ اور اس کے ججوں پر لگادیئے۔ گویا ہائی کورٹ میں کوئی بھی اس قابل نہیں تھا جو گواہوں کی حقیقت کو سمجھ پاتا۔ کیس کی نوعیت وہ جان سکتا اور ایسا فیصلہ سنا سکتا جو مبنی بر حقیقت ہوتا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدالت کسی کی زندگی چھین لینے تک کے فیصلوں میں تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اور آنکھیں بند کرکے فیصلے سنا سکتی ہیں تو ایسی ججوں اور وکلا کے خلاف کوئی سخت ترین کارروائی کیوں عمل میں نہیں آسکتی؟۔ کیا ججوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان کے عہدوں اور پیشوں سے فارغ نہیں کیا جانا چاہیے؟۔ کیا ایسے تمام وکیلوں کو جن کو قانونی پیچیدگیاں کو حل کرنا نہیں اتا ہو ان کو ہر قسم کی عدالتی کارروائیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نہیں روک دینا چاہیے۔ کیا جھوٹے گواہوں کو وہی سزا نہیں سنادینی چاہیے جو کسی بے گناہ کو سنائی گئی ہو؟۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ تمام مجبور اور بے کس افراد جو بصد مشکل ہائی کورٹ کی فیسیں بھرکر انصاف کی تلاش میں وہاں تک پہنچتے ہیں اور وہاں بھی وہ اپنا سب کچھ ہار جاتے ہیں اور ان کی حیثیت مزید آگے جانے کی نہیں ہوتی تو کیا ان کو سولی پر لٹک جانا چاہیے؟۔ اگر آسیہ بی بی کی پشت پناہی میں کچھ نادیدہ شخصیات نہیں پڑتیں تو وہ اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی۔ اگر یہ سچ ہے تو کتنی ہی بے گناہ بی بیاں اور بابے بے گناہ اپنی زندگیاں ہار چکے ہونگے؟۔
چیف جسٹس کے ان سارے چارجز کی روشنی میں جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری ہائی کورٹ تک کے فیصلے مبنی بر انصاف نہیں ہوتے تو پھر ان سے چھوٹی عدالتوں کا احوال کیا ہوگا؟۔ پھر یہاں ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ کیا عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلے سناتی ہے وہ عین انصاف ہوتے ہیں؟۔ کیا یہاں جو گوہان پیش ہوتے ہیں وہ زم زم نہائے ہوئے ہوتے ہیں اور آب کوثر ان کا مشروب ہوتا ہے؟۔ کیا وہ فوق البشر ہوتے ہیں اور ان سے غلط بیانی ہو ہی نہیں سکتی۔ جب عدالت عالیہ کے بہت سارے فیصلے ظلم کی تصویریں ہیں تو انھیں عدالتوں کے سینئر یا قابل ججز ہی تو عدالت عظمیٰ تک پہنچتے ہیں۔ جب تک وہ جھوٹی عدالتوں میں ہوتے ہیں “اہل” نہیں ہوتے لیکن جونہی وہ عدالت عظمیٰ کی دہلیز کو چھو لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ منصف اعلیٰ ہوجاتے ہیں۔
جو چیز سامنے آرہی ہے وہ یہی ہے کہ عدالت کا سارا نظام ہی لپیٹ دینے کے قابل ہے۔ جس نظام میں عمر نوح (ع)، صبر ایوب (ع) اور قارون کا خزانہ بھی کم پڑجائے اس نظام سے وہ “جرگاہ” ہزار درجے بہتر ہے جس میں سزائیں دنوں، مہینوں اور سالوں کی بجائے لمحوں اور سیکنڈوں میں سنادی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جرگوں کے فیصلے درست نہیں ہوا کرتے اور زیادہ تر بے گناہ اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا آسیہ کہ رہائی کو درست کہنا اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو غلط ثابت کرنا اور وہ بھی برسوں کے بعد اور وہ بھی لاکھوں روپوں کے اخراجات کے بعد کیا یہ نہیں ثابت کرتا کہ فیصلے عدالتوں میں بھی سب کے سب مبنی بر انصاف نہیں ہوتے۔ اگر یہ سب سچ ہے تو پھر فوری اور بروقت فیصلے بہتر نہیں؟۔
اگر اس فیصلے کی تفصیل میں جایا جائے تو پھر عدالت کوئی سی بھی ہو اس کا ہر منفی فیصلہ ظلم ہی قرار پائے گا۔ درخواست گزار قاری اسلام کے وکیل غلام مصطفی نے لارجر بینچ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا معاملہ مسلم امہ کا ہے، عدالت مذہبی اسکالر ز کو بھی معاونت کے لیے طلب کرے، جس پر چیف جسٹس نے فرمایا کہ کیا اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پر سزا دی جائے، عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پر دیا ہے، کیا ایسی شہادتیں نا قابل اعتبار نہیں، اگر عدالت نے شہادتوں کا غلط جائزہ لیا تو درستی کریں گے۔
یہاں بھی سارا قصوروار عدالت عالیہ ہی کو ہی ٹھہرایا جارہا ہے۔ صاف صاف کہا جارہا ہے کہ کیا جرم ثابت نہ ہونے پر فیصلہ سنایا جاسکتا ہے؟۔ جو عدالت کسی کا جرم ثابت نہ ہونے پر بھی موت کی سزا سناسکتی ہے یا عمر قید کی سزا دے سکتی ہے ان عدالت کو قائم رہنا چاہیے؟۔ اس ریمارکس کے بعد کیا ہائی کورٹوں کے وجود کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟۔
کہا جارہا ہے کہ عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پر دیا ہے؟۔ یہاں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ کیا آج تک ہمارے تحقیاتی ادارے شہادتوں اور اقراری بیانات کے علاوہ بھی کوئی اور ثبوت عدالتوں میں پیش کرتے رہے ہیں؟۔ ہمارے عدالتی نظام میں گواہوں کی گوہیوں کے علاوہ اور دھرا ہی کیا ہے۔ گواہوں اور گواہیوں کی بات اب اس قدر عام ہو چکی ہے کہ خود موجودہ چیف جسٹس صاحب ان کے خلاف “ڈیم” بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ وبا اس لئے عام ہے کہ جھوٹے گواہوں کو وہی سزائیں نہیں سنائی جاتیں جس کیلئے وہ قاضیوں اور عدالتوں پیش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ اسلام سے دوری ہے کیونکہ اسلام میں جھوٹے گواہ کیلئے وہی سزا ہوتی ہے جس کیلئے وہ قاضی کے سامنے پیش ہوتا ہے۔
عدالت عالیہ پر ایک چارج یہ بھی ہے کہ اگر اس نے گواہوں اور گواہیوں کا درست جائزہ لیا ہوتا تو آسیہ کے خلاف فیصلہ نہیں ہوتا۔ بات وہیں کی وہی آکر ختم ہوتی ہے کہ ہماری عدالت عالیہ درست فیصلے نہیں کرتی۔ جب عدالت عالیہ کے فیصلے ہی مشکوک ہیں تو چارج عدالت پر کیوں نہیں؟۔ عدالت عالیہ کو عدالت عظمیٰ میں کیوں طلب نہیں کیا جاسکتا؟۔
عدل کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کوئی بھی عدالت سے بڑا نہ ہو۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر کوئی فرد، بشمول عدالت کے ججز، وکلائے استغاثہ اور وکلائے صفائی اس کی دسترس سے باہر نہ ہوں۔
عدالت عظمیٰ نے اگر آسیہ کی رہائی کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو مسترد کیا ہے تو یقیناً اپنے تئیں انصاف سے کام لیا ہوگا لیکن انصاف کبھی ادھورا نہیں ہونا چاہیے اس لئے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ ان سارے ذمہ داران، بشمول عدالت عالیہ کے ججز، وکلا اور گواہان کو عدالت میں بلاکر نہ صرف ان کے خلاف فرد جرم عائد کرے گی بلکہ ان کو نشان عبرت بھی بنائے گی جو معصوموں کے خلاف سزائیں سناتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں پیش کرتے ہیں۔
