ایسے بنے گا نیا پاکستان؟

کسی بھی پرانی چیز کو نیا بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوا کرتا۔ پرانی چیز کے ساتھ کتنے ہی جتن کرلو، کتنی ہی لیپا پوتی کرلو، کتنا ہی مانجھ لو، کتنا ہی رگڑ رگڑ کر صاف کرو یا کتنی ہی ملمع سازی کرلو وہ نئی ہوکر نہیں دیتی بلکہ بوڑھی گھوڑی لال لگام والی بات ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی بجائے کسی چیز کو بالکل ہی نئے سرے سے تعمیر کیا جانا کہیں آسان ہوتا ہے۔ اس کے اخراجات میں کم آتے ہیں اور جب اس کی تعمیر مکمل ہوجاتی ہے تو ہر آنکھ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس میں سما جائے۔

ایک طریقہ جو کسی شے کو نیا کرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی بنیادوں کو بنیاد سے ہی اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور پھر نئے سرے سے اس کو تعمیر کیا جائے لیکن اس میں خرابی کا پہلو یہ ہے کہ وہ خود تو جدیدیت کا شاہکار بن جاتی ہے لیکن اس کے آس پاس کی ساری عمارتیں شرمندگی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ عمارت خود بھی اس لئے شرمندہ شرمندہ سی لگنے لگتی ہے کہ جس جگہ اسے تعمیر کیا گیا وہاں اس کا مقام تھا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کی بنیادوں تک کی بینخ کنی کے بعد دوبارہ تعمیر وقت اور دولت کے زیاں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

نیا پاکستان بنانے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری تھا کہ کیا اِسے اُس منظور شدہ نقشے کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا جس کی منظوری 23 مارچ 1947 کو بر صغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے دی تھی؟۔ اگر ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے نام پر جو خطہ زمین حاصل کیا گیا تھا اس کا حال کراچی کے کے چاروں جانب پھیلی ان بستیوں کی طرح ہے جو کسی بھی منصوبہ بندی کے بغیر ناجائز طریقے سے آباد کر لی گئیں ہیں۔ پاکستان کے نام پر حاصل ہونے والے خطہ زمین پر 71 سال گزرنے کے باوجود منظورشدہ نقشے کے مطابق عمارت تعمیر ہی نہیں کی گئی اور اب وہ عمارت منظور شدہ نقشے پر اس لئے بھی تعمیر نہیں کی جاسکتی کہ وہ نقشہ جس طول و عرض کیلئے بنایا گیا تھا اس کا آدھے سے زیادہ رقبہ اغیار کے قبضے میں ہے اور ان کے قبضے سے اسے واگزار کرانا اب کسی صورت ممکن نہیں۔

زمین کا ایک بہت بڑا حصہ ہاتھ سے نکل جانے کے باوجود بھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ زمین کے چھوٹے سے چھوٹے رقبے پر بھی ایسی عمارت کو تعمیر کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس عمارت میں یہ خوبی ہے کہ اس کو جہاں بھی تعمیر کردیا جائے گا اس کا شکوہ تمام عالم کو اس طرح شرما کر رکھ دے گا کہ پورا عالم اس کی وسعت میں سما جائے گا۔ یہ عمارت 15 صدی قبل مدینے میں تعمیر ہوئی تھی لیکن اس کی شان و شوکت کو دیکھ کر پوری دنیا اس کے زیر نگیں آگئی اور اس کی تعلیمات کا عَلَم آج بھی پوری دنیا میں لہرارہا ہے۔

اس عمارت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کا رنگ روپ کبھی نہ تو ماند پڑسکتا ہے اور نہ ہی یہ پرانی ہو سکتی ہے۔ انسانوں کی بنائی ہوئی جتنی بھی عمارتیں ہیں وہ عمر کی ایک حد رکھتی ہیں لیکن اس عمارت میں اللہ نے ایسی ہمیشگی رکھی ہے کہ یہ بعد اس قیامت بھی اِسی آن بان کے ساتھ قائم دائم رہے گی اس لئے کہ اس عمارت کا خالق، خالق کل کائینات ہے۔

پاکستان کو نیا بنانے کا نعرہ کوئی نیا نہیں ہے۔ نیا پاکستان بنانے کا سب سے پہلے نعرہ ذوالفقار علی بھٹو نے لگا تھا۔ نیا تو کچھ نہ ہو سکا البتہ بچے کچے پرانے پاکستان کا بھی حلیہ بگڑ کر رہ گیا۔ کوشش کی گئی کہ مسجد کو میخانہ بنا دیا جائے لیکن ان کو تو اس میں کامیابی نہ ہو سکی البتہ جو زمین “مسجد” کے نام پر حاصل کی گئی تھی، موجودہ حکومت اس کو میخانہ بنانے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا بد قسمت خطہ زمین ہے جس کے وجود سے لیکر تاحال حکمران اپنی مدت حکمرانی بڑھانے کیلئے کسی نہ کسی شکل میں “مذہب” کا سہارا لیتے آئے ہیں۔ پاکستان کو حاصل کرنے کیلئے تو کلمے کا سہارا لیا ہی گیا تھا، قیام کے بعد ہر حکمران نے اپنی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے بھی اسی کو سہارا بنایا۔ 1956 کے آئین میں “قراردادِ مقاصد” کی صورت میں مذہب سہارا بنایا گیا۔ ایوب خان کی ہر تقریر “بسم اللہ” سے شروع ہوا کرتی تھی۔ بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے کر شان اونچی کی۔ جنرل ضیاالحق پوری پوری سورتیں تلاوت کرتے رہے۔ جو جو بھی سیاسی تحریکیں چلیں انھوں نے مذہب کا ہی سہارا لیا یہاں تک کہ اب موجودہ حکومت بھی اسی مذہب کا سہارا “مدینے والی فلاحی” ریاست کا نام لیکر عوام میں اپنی مقبولیت کو عام کرتی نظر آرہی ہے۔

جب یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے عوام مذہب کی لڑی میں پروئے ہوے ہیں اور ہرعام و خاص کی دلی تمنا ہے کہ پاکستان ایک خالص اسلامی ریاست بنے تو پھر پاکستان کے حکمران آخر کس ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور کس لئے پاکستان کو اسلام سے دور رکھنے پر بضد ہیں۔

71 برس گزرنے کے باوجود کوئی ایک حکموت بھی ایسی نہیں آئی جو پاکستان کو وہ پاکستان بنا سکے جس کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا پاکستان ایک جنگل بن کر رہ گیا اور ہرجانب بے ہنگم، بے ترتیب، بد شکل اور بد صورت نظریاتی عمارتیں تعمیر ہونے کی وجہ سے کفر و شرک اور مکروفریب کی آماج گاہ بن کر رہ گیا۔

پاکستان میں توڑ پھوڑ کا طوفان مچاہوا ہے۔ اس طوفان کی زد میں بھی سب سے زیادہ کراچی آیا ہوا ہے۔ یہ ساری توڑ پھوڑ محض اس لئے ہے کہ کراچی کی خوبصورتی کو بحال کیا جاسکے۔ جس طرح کراچی کی ناجائز آبادیوں اور بازاروں کو بنیادوں سے اکھاڑ کر پھینکا جارہا ہے اگر اسی طرح پورے پاکستان کی ہر اس عمارت کو مسمار کردیا جائے جس نے پاکستان کے نظریہ وجود ہی کو برباد و بد ہیبت بنا کررکھ دیا ہے تو پاکستان کی وہ شکل نکل سکتی ہے جس کیلئے پاکستان وجود میں آیا تھا۔

جس پاکستان میں اسلام تو اسلام، عبادات ہی کو تہہ و بالا کرنے پر کمربستگی دکھائی جارہی ہو اس کے متعلق یہ سوچنا کہ یہ “مدینہ” جیسی ریاست بن جائے گا دیوانے کا خواب ہی لگتی ہے۔ جس پاکستان میں مساجد ڈھا دینا ریت کے گھروندوں کو ٹھوکر مار کرتوڑ دینے سے بھی آسان ہو وہاں مدینے جیسی ریاست کا دعویٰ ایک گھناؤنےمذاق کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

خبر ہے کہ رواں برس پاکستانیوں کے لیے مہنگا ترین حج ہوگا، حج اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں، حج اخراجات میں ایک لاکھ 56 ہزار روپے تک اضافہ کردیا گیا جبکہ حکومت نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے فی حاجی 45 ہزار روپے سبسڈی دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کی منظوری دے دی ہے نئی حج پالیسی کے مطابق پاکستان کے جنوبی علاقوں کے لیے حج اخراجات 4 لاکھ 26 ہزار روپے ہو گا۔ گزشتہ سال ان جنوبی علاقوں کے لیے حج اخراجات 2 لاکھ 70 ہزار روپے تھے۔اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے حج اخراجات میں ایک لاکھ 56 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال ان علاقوں کے لیے حج اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے تھے۔ نئی حج پالیسی کے تحت پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے حج اخراجات 4لاکھ 36ہزارروپے ہوں گے۔

وہ لوگ جو حج جیسے فریضے کو ادا کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے تو حج مشکل کردیا گیا بلکہ کم از کم 50 فیصد وہ افراد جو کسی نہ کسی طرح اس سال اتنی رقم پس انداز کرنے میں کامیاب ہو گئے ہونگے کہ حج کرسکیں، ان کیلئے شاید یہ صدمہ، صدمہ جاںکاہ ہی ثابت ہو اور وہ حج کی سعادت اب شاید ہی حاصل کر سکیں۔ اس کے برعکس ویزہ پالیسی اس درجہ نرم کردی گئی کہ جوں ہی کوئی پاکستان کے ایئر پورٹ چھوئے گا ویزے کو اپنا منتظر پائے گا۔ گویا حج مشکل لیکن اس نئے پاکستان میں کھیل کود اورسیروتفریح سہل بنائی جارہی ہے۔

اس نئے پاکستان کو کس کس مذاق سے گزرنا ہوگا اس کی ایک ہلکی سی جھلک اس خبر میں ملاحظہ کریں۔ ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار دوران تفتیش گاڑی پر فائرنگ سے مکرگئے اورنامعلوم موٹرسائیکل سواروں پر الزام لگادیا۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے تفتیش کی۔ جے آئی ٹی نے سوال کیا کہ گاڑی پر فائرنگ کس نے کی؟ جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے پہلے فائرنگ سے انکار کردیا۔ جے آئی ٹی نے ملزمان سے پوچھا کہ پھر کار میں سوار افراد کیسے ہلاک ہوئے؟ ملزمان نے کہاکہ موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے ملزمان سے سوال کیا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ اس پر بھی ملزمان نے فائرنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا، صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔

مذاق کی بھی حد ہوتی ہے۔ ذرا سی پوچھ گچھ میں ہی سی ٹی ڈی کے اہکاروں کی تضاد بیانی سامنے آرہی ہے۔ انکار اور اقرا ایک ہی سانس میں کیا جارہا ہے جو واقعی نیا پاکستان بنائے جانے کی جانب ایک پُرکارانہ قدم لگتا ہے۔

یہ اور اس جیسی نہ جانے کتنی حماقتیں ہیں جس کو سن سن کر اور دیکھ دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانے میں کسی بھی قسم کی دقت نہیں ہوتی کہ پاکستان کو کن خطوط پر نیا بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انھیں باتوں کو سامنے رکھ کر امیر جماعت اسلامی کا یہ کہنا درست ہی ہےکہ موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو تجربہ گاہ سمجھ رکھاہے جہاں وہ نت نئے تجربات کر رہے ہیں ۔ ہمارا خیال تھاکہ ان کے ساتھ ماہرین کی ایک ٹیم موجود ہے جو آتے ہی تمام مسائل کا حل نکال لے گی اور مشکلات ختم کر دے گی مگر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے 6 ماہ میں صرف ڈائریکشن ہی معلوم کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اب تک کوئی ڈائریکشن نہیں اور نہ انھیں سمجھ میں آرہا ہے کہ کیا کریں ۔ قرضے اور خیرات لینے کے بعد حکمران پھولے نہیں سمارہے اور بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔

امیر جماعت ہی نہیں بلکہ اب تو پاکستان کے سارے چینل ہی یک زبان نظر آتے ہیں۔ اس یکسانیت اور یگانگت کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ یو ٹرن پر یوٹرن اور وعدوں سے مسلسل انحراف ہے۔

ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اگر وہ پاکستان کو نئی جہت دینا چاہتی ہے تو پاکستان کے مقصد وجود کی جانب پلٹ آئے۔ اور پاکستان کے سارے آئین و قوانین کو اسی رنگ میں ڈھال لے جس کیلئے یہ خطہ زمین حاصل کیا گیا تھا ورنہ جان رکھے کہ ذلت و رسوائی دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا شدت سے انتظار کررہی ہے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here