نظریاتی سرحدیں نہیں تو سرحدیں نہیں

پاکستان کو نیا بنانے کے لئے یہ بات ضروری سمجھ لی گئی ہے کہ نظریہ پاکستان کو ہی لپیٹ کر رکھ دیا جائے۔ جب تک اس نظریہ کو لوگوں کے اذہان سے کھرچ کھرچ کر مٹا نہیں دیا جائے گا اس وقت تک اس پاکستان کو نئی شکل دی ہی نہیں جاسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی وہ قوتیں جو کسی نہ کسی شکل میں پاکستان میں حکمرانی کرتی چلی آ رہی ہیں یا حکمرانوں کے پیچھے اور سامنے کھڑی نظر آتی رہی ہیں وہ پاکستان (خطہ زمین) سے تو حد درجہ محبت رکھتی ہیں لیکن جس نظریہ کی بنیاد پر یہ ملک وجود میں آیا ہے اس سے اخلاص خدشات سے خالی نہیں۔ چار مرتبہ پوری شان و شوکت، آب و تاب اور طاقت و قوت کے ساتھ حکومت کرنے کے دوران اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کے باوجود بھی اس پاکستان کو نظریے کے اعتبار سے نہ تو مضبوط بنانے کی سعی و جہد نظر آئی اور ناہی اس ملک میں اسلام کے فروغ کیلئے کوئی نمایاں پیش رفت دیکھی گئی۔

سرحدیں وہی نہیں ہوتیں جو ایک خطہ زمین کو دوسرے خطہ زمین سے الگ کر دیتی ہیں اور جن کا تحفظ افواج ہی کیا کرتی ہیں۔ سرحدیں وہ بھی ہوتی ہیں جن پر ملک کی اساس ہوتی ہے خواہ اس کی بنیاد نسل، رنگ، زبان یا انسانوں کے تراشیدہ فلسفے ہوں یا مذاہب و نظریات۔ جب تک ممالک اپنی زمینی حدوں اور اپنے اپنے نظریات کی حدوں کا تحفظ کرتے رہتے ہیں قائم رہتے ہیں لیکن جونہی ان کی جانب سے غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں تباہی، بربادی اور ہلاکت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں اور مضبوط سے مضبوط بادشاہتیں ریزہ ریزہ ہوتی گئیں اور وہ طبقے جو پسے ہوئے اور کمزور تصور کئے جاتے تھے اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل بھی نہیں ہو سکیں گے، وہ دنیا کے طول و عرض پر چھاگئے اور مضبوط سے مضبوط سلطنتوں اور بادشاہتوں سے بھی کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور حکومتیں بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ عروج و زوال کی ان داستانوں کو کریدا جائے تو جو بات تحقیق شدہ سامنے آئے گی وہ زمینی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگی۔

71 سالہ تاریخِ پاکستان کے آئینے میں اگر جھانک کر دیکھا جائے تو ہمیں یہ بات جاننے اور اس حقیقت کو ماننے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کے ہم پاکستان کے وجود میں آنے کے فوری بعد سے تاحال یہ جدوجہد تو ضرور کرتے نظر آئے کہ اس کی زمینی سرحدوں کی حفاطت کریں لیکن جس بنیاد پر یہ ملک وجود میں آیا تھا یا جس نظریہ کی خاطر اس ملک کو بنایا گیا تھا اور انڈوپاک کے مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں اس کی سرحدوں کے تحفظ کی جانب نہ تو توجہ دی گئی اور نہ ہی اس کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

مجھے نہ تومحافظان پاکستان کے کسی رویے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس بات میں شک کہ اس بچے کچے پاکستان کی زمینی سرحدوں کی حفاظت دوسرے ممالک کی طرح ہمارے یہی محافظ کرتے آئے ہیں اور اگر وہ نہ ہوں یا نہ ہوتے تو پاکستان کا وجود نہ تو قائم رہتا اور نہ ہی رہ سکتا ہے لیکن اگر ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو جس طرح ملک کی زمینی سرحدوں کے تحفظ کا خیال رکھا گیا یا رکھا جارہا ہے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا خیال ذرہ برابر بھی نہ رکھا گیا جس کی وجہ سے ہم آدھے پاکستان سے تو محروم ہو ہی گئے ہیں باقی ماندہ بھی خطرناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے۔

اصولاً تو جس دن پاکستان وجود میں آیا اللہ کے قانون کا نفاذ اسی دن سے فرض ہوگیا۔ اس قانون کیلئے نہ تو کسی اسمبلی کی منظوری ضروری تھی اور نہ ہی اس کو ضبط تحریر کرکے منتخب ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور کرانا تھا۔ سارے قوانین اللہ کے تحریر شدہ تھے اور پاکستان بنایا ہی اسی قانون کو نافذ کرنے کیلئے تھا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس وقت کے سول حکمران اسے فوری طور پر نافذ کرنے میں ناکام رہے تھے تب بھی 1958 کے فوجی انقلاب کے بعد تمام تر اختیارت و قدرت رکھنے والے ادارے اورو منھ سے نکلے الفاظ کو قانون قرار دینے والے کوئی غیر مسلم تو نہیں تھے۔ جو اپنے منھ سے نکلے الفاظ کا نفاذ پاکستان کے کروڑوں عوام پر کرسکتے تھے وہ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل در آمد کیوں نہ کراسکے۔ 1958 کے بعد سے تا حال کسی نہ کسی صورت میں وہ سب ملک کی سیاسیت میں شریک ہیں لیکن آج تک اس بات کیلئے کوشاں نظر نہیں آئے کہ زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی مسلمان ہونے کے ناطے اللہ نے ان پر فرض کر رکھا ہے۔

ایک تو وہ قانون ہے جس کا نفاذ ہر مسلمان پر نہ صرف فرض ہے بلکہ ایسا نہ کرنا یا اس کیلئے کوشاں نہ رہنا بہر صورت کفر ہی ہے اور دوسرا 1973 کا آئین و قانون ہے جسے قرآن و سنہ کے احکامات کی روسشنی میں بنایا گیا ہے۔ اگر ایمان کی کمزوری کی سبب اللہ کے قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی سرزد بھی ہو رہی ہے تو وہ آئین جو اللہ کے احکامات کی روشنی میں وضع کیا گیا ہے کیا اس کی پاسداری بھی ضروری نہیں؟۔ کیا دنیا کا کوئی ملک بھی بنا آئین و قانون چلایا جا سکتا ہے؟۔

پاکستان کے آئین میں صاف صاف لکھ دیا گیا ہے کہ جو اللہ کے بنی (ص) کو آخری بنی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ جب آئین میں یہ بات درج کردی گئی ہے تو علی الاعلان کوئی فرد و بشر یہ کہے کہ “میں اس بات کو نہیں مانتا کہ جو بنی (ص) کو آخری بنی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں تو پھر بتا یا جائے کہ کیا لاکھوں انسانوں پر کھربوں روپے اس لئے خرچ کئے جاتے ہیں کہ وہ ملک کی صرف زمینی حدوں کی ہی حفاظت کریں؟۔ یہ تو بالکل اس طرح کا عمل ہوگا کہ کسی دینی درسگاہ کی دیواروں پر برجیاں بنا کر دینی دشمنوں سے تحفظ کیلئے بیٹھ جایا جائے اور اس بات سے غافل ہو جائیں کہ اللہ اور اس کے رسول (ص) کے احکامات کی تعلیم کی بجائے درسگاہ میں ناونوش کی محافل گرم ہورہی ہیں۔

شراب کو قانونی تحفظ دیا جارہا ہے، خاموشی۔ اسرائیل کے تسلیم کئے جانے پر بڑے بڑے مذاکرے ہو رہے ہیں، خاموشی۔ منشیات ایک خاص حد تک لیجانے کی اجازت دی جارہی ہے، خاموشی۔ اسرائیل کا جہاز آکر چلا جاتا ہے، خاموشی۔ اور اب حج مشکل اور یاترا سستی کی جارہی ہے لیکن خاموشی ہے کہ ٹوٹ کر نہیں دے رہی۔

حج کی رقم کو بے حد کرنے کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ صاحب استطاعت افراد پر فرض ہوتا ہے اس پر لوگوں کے ٹیکسوں کا پیسہ کیوں خرچ کیا جائے؟۔ علاج معالجے کیلئے پیسے کس کو خرچ کرنا چاہئیں؟، کیا یہ بڑے بڑے سرکاری ہسپتال عوام کے پیسوں سے نہیں چلائے جاتے؟۔ کیا اداروں کی تنخواہیں اور مراعات کیلئے آسمان سے پیسے برستے ہیں؟۔ کیا منتخب ارکان اسمبلی، سینٹ کے ارکان، وزرا، مشیران اور سفارتی نمائندوں کی تنخواہیں فرشتے ادا کرتے ہیں؟۔ کیا ملکی و غیرملکی دوروں کے اخراجات زمین سے اگلتے ہیں؟۔ ان سب کیلئے تو یہ سارا پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جانا جائز اور حلال ہے لیکن اگر حج جیسے فریضے کیلئے حکومت چند کروڑ روپے ادا کر کے لوگوں کا بوجھ کم کرے تو حج بھی حرام اور پیسہ بھی حرام۔

دلیل دی جارہی ہے کہ حکومت کے پاس جو بھی آمدنی آتی ہے وہ بینکوں میں رکھے جانے کی وجہ سے “سود” کا شکار ہوجاتی ہے اور سود کے پیسوں سے حج نہیں ہوتا۔ بات یہ بھی درست ہی ہے۔ لیکن اس کا کیا جائے ہمارے بینکنگ سسٹم کی بنیاد ہی سود پر ہے جس کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی حکومت بھی تیار نہیں لیکن حج کے موقعے پر رعایت دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو اللہ کے سارے احکامات یاد آجائیں تو کیا یہ منافقت کی حد نہیں۔ پھر کوئی یہ بھی بتائے کہ حج، پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کی تیاری کیا بینک کے توسط سے نہیں کی جاتی؟۔ جب بینکنگ سسٹم کی بنیاد ہی سود ہے تو حلال کے ساتھ کیا حرام شامل نہیں ہوجاتا۔ اگر اس باریکی کو سامنے رکھا جائے تو ایک ماچس کی تیلی بھی سود سے پاک نہیں۔ اس لئے یہ سارے معذورات عذر لنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس کا علاج اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ بینکنگ سسٹم کو سود سے پاک کیا جائے اور شراکت داری کا اصول اپنایا جائے۔

بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ حکومت بیرونی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے اور وہ بیرونی دباؤ کے تحت اسلام ہی کو لپیٹ دینے کے منصوبے پرکمربستہ ہے۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حکومت کافر اور مسلمانوں کے قاتل سکھوں کی “یاترا” کیلئے تو سرکاری خزانوں کے منھ تو کھول دیئے گئے ہیں لیکن مسلمانوں کیلئے حج جیسا فریضہ مشکل سے مشکل تربنایا جارہاہے اور اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ مسجدیں تک مسمار کرنا کوئی گناہ کاکام نہیں رہ گیا ہے۔

ملک کے حالات خراب ہوں تو آئین و قانون کو بالائے طاق رکھ کر جو ادارہ مارشل لا لگانے میں دیر نہیں کرتا وہ ادارہ نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے والوں کیلئے اس طرح بت بن کر کھڑا نظر آرہا ہے جیسے ان میں شامل کوئی ایک اہلکار بھی مسلمان نہیں۔ یہ ایک قابل غور طرز عمل ہے جو پاکستان کی سرحدوں کو بھی کسی وقت ملیا میٹ کر کے رکھ دے گا۔

میں ملک کے ان محافطوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جہاں وہ اس ملک کی زمینی سرحدوں کی حفاظت کرتے چلے آرہے ہیں اور آئین سے زیادہ ریاست کا تحفظ ضروری سمجھتے رہے ہیں، وہ حرکت میں آئیں اس لئے کہ اب سوال نظریہ پاکستان کے تحفظ کا ہے۔ اگر نظریہ پاکستان ہی مائینس ہو گیا تو اول تو اس ملک کا مقصد وجود ہی ختم ہو جائے گا اور اگر ملک بچ بھی کیا تو پھر سودان، ملائشیا، انڈونیشیا، ایران یا عراق کی طرح یہ ایک ملک ہی کہلائے گا اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ تو کہلا سکے گا نہ بن سکے گا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here