قریب کی نظریں خراب ہیں؟

ملازمت کا کچھ حصہ ڈیرہ بگٹی میں بھی گزرا۔ جہاں میں نے بلوچ بگٹیوں میں بہت ساری حیرت انگیز باتیں دیکھیں وہیں ان کے حیرت انگیز رویے بھی سامنے آئے۔ ایک حیران کن بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ میں نے وہاں کے عمر رسیدہ افراد کو بھی مناسب اردو بولتے ہوئے دیکھا جبکہ پوٹھوہاری علاقے میں بیشتر وہ افراد جو عمر والے ہیں وہ آج بھی اردو زبان میں بات کرتے ہوئے دقت محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور خصوصیت یہ دیکھی کہ وہ گالیاں نہ تو دیتے دیکھے گئے اور نہ ہی سننا برداشت کرتے دیکھا۔ اور سب سے زیادہ وہ جذبہ دیکھا جو اکبر بگٹی سے محبت کا تھا۔

میں نے دیکھا کہ وہاں کے مقامی بگٹی نظروں والی عینک نہیں لگایا کرتے تھے۔ میلوں دور کی چیزیں صاف دیکھ لیا کرتے تھے۔ میں نے ایک ایسے بگٹی کو جو پڑھنا نہیں جانتا تھا ایک فوٹو والا رسالہ دیا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ اب کیا کروں۔ میں نے اسے اپنی نظروں والی عینک دی تو وہ اچھل پڑا، کہنے لگا کہ واہ صاحب میں نے اس سے پہلے اتنے صاف چہرے والے فوٹو نہیں دیکھے تھے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس کی دور کی نظریں تو بالکل ٹھیک ہیں لیکن قریب کی نظریں کمزور ہو چکی ہیں اور احسا اس لئے نہیں ہو رہا کہ اسے پڑھنے لکھنے سے کوئی غرض نہیں تھی۔

اپنے بڑوں سے یا رہنماؤں سے کس کو لگاؤ، محبت اور عقیدت نہیں ہوتی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تحریک چلے اور تحریک کے ساتھ چلنے والے اپنے لیڈر کے کہے کو پتھر کی لکیر نہ سمجھیں۔

کسی بھی رہنما سے عقیدت پیروکاروں کو اندھا بنا دیتی ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اشتعال پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ اکبر بگٹی کو ماردیئے جانے کے بعد بگٹی قوم سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ مارنے والوں یا ان کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے قریب آ سکیں گے۔

یہی حال ذوالفقار علی بھٹو سے عقیدت رکھنے والوں کے ساتھ ہے۔ اگر دیانتدارانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پی پی پی نے پورے سندھ میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جو اہل سندھ کی عزت و توقیر بڑھا سکے اور ان کے مسائل میں کمی کا باعث ہو لیکن وہ آج تک اس لئے اس سے عقیدت رکھتے ہیں کہ ان کے تئیں بھٹو کے ساتھ ظلم ہوا اور اسے سیاسی مصلحت کے تحت تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ بھٹو کے نام کی شہرت ہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے زرداری کو اپنی آل کے ساتھ “بھٹو” کی پیوند کاری پر مجبور ہونا پڑا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بہت ساری تحاریک بہت زیادہ منفی پہلو رکھتی ہیں۔ اس منفی رویے کے پسِ پشت یہ ضروری نہیں کہ ریاست کا کوئی قصور ہی نہ ہو۔ شیخ مجیب الرحمن ہو یا پاچا خان، ایم کیو ایم ہو یا منظور پشتین کی پی ٹی ایم یا پھر وہ طالبان جن کو ریاست نے خود بنایا اور پھر انھیں اپنے ہی ہاتھوں تباہ و برباد کیا۔ یہ سب اور اس جیسی بہت ساری تحریکوں کے رویے منفی تھے بھی اور ہیں بھی لیکن کیا ان کے پیچھے ریاست کا کوئی ایک رویہ بھی غلط نہیں ہوا ہوگا؟۔ کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور رہی ہوگی جس کی وجہ سے ان کے اذہان میں ریاست کیلئے مخالفانہ سوچ نے قدم جمائے ہونگے۔ لاکھوں کروڑوں افراد ایسے ہی باغیانہ یا جارحانہ رویہ نہیں اپنا لیا کرتے۔

آج پاکستان سمیت پوری دنیا امن کی تلاش میں ہے اور دنیا کی ہر طاقت کو یہ احساس اچھی طرح ہوچلا ہے کہ طاقت بغاوتی یا جارحانہ سوچوں کو ختم کرنے کا واحد حل نہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، طالبان ہوں القائدہ ہو داعش ہو یا پھر پاکستان کے بلوچی، پٹھان، سندھی یا اہل کراچی، ان سب میں اگر جارحیت کی سوچوں کو ختم کرنا ہے تو صرف طاقت اس کا حل نہیں بلکہ ان کے ساتھ غیر امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔ ریاست کو یہ بات تسلیم کرنی پڑی گی کہ اس ملک کی سیاسی قوت ہمیشہ مثبت سوچ کی حامل رہی ہے۔ آج جو سوچ طاقت والوں کے اذہان میں جنم لے رہی ہے اور وہ بات چیت کے راستے پر چل نکلے ہیں، سیاسی قیادتیں ہمیشہ سے یہی کہتی رہی ہیں کہ معاملات کا حل سختی کی بجائے بات چیت کے ذریعے ڈھونڈا جائے لیکن طاقت کے بے جا استعمال سے معاملہ اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ شاید اب بات چیت کی بجائے پیچھے ہٹنے یا پھر مخالفوں کے خاتمے پر ہی ختم ہوسکے۔

مشرقی پاکستان کو قابو میں کرنے کا اور بے جا طاقت کے استعمال کے نتیجے کے بعد کچھ نہ سیکھنے کی وجہ سے ہم پاکستان کے حالات کو کسی حد تک اس مقام تک لے گئے ہیں جہاں اس کو سدھارنے میں اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اللہ نہ کرے ہم اپنا مزید نقصان نہ کرا بیٹھیں۔

اس وقت ملک میں منظور پشتین کی پی ٹی ایم ایک سلگتا ہوا اشو ہے۔

منظور پشتین کیا ہے اور اچانک اس کا نام بین الاقوامی سطح پر بھی لیا جارہا ہے۔ اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ سب بھی اس متشددانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو ایک عرصہ دراز سے پاکستان کے طول و عرض میں جاری ہیں۔ یہی رویہ اہل کراچی کیلئے بھی 1958 کے بعد سے جاری ہے اور مختلف ادوار میں ہر آنے والی حکومت نے ان کو عوامی یا عسکری طاقتوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ممکن ہے کچھ افراد کو یہ بات گراں گزرے لیکن میں پرویز مشرف کے دور کا حوالہ ضرور دونگا جس میں “طاقت” نے گلے لگایا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ ان کے ساتھ نرم رویے نے پاکستان اور کراچی کی صورت حال کوکیسے بدل کر رکھ دیا۔

ثابت یہ ہوا کہ شہنشاہیت دور کا مزاج آج کل کے دور میں کسی طور نہیں چل سکتا۔ طاقت کے ذریعے بظاہر حالات کو پرسکون بنایا تو جاسکتا ہے لیکن مستقل امن و امان کیلئے یہ ضروری ہے کہ سب کو سمجھا جائے اور ان کی عقل، سمجھ اور شعور کے مطابق ان سے ڈیل کی جائے۔

اگر ایک عسکری دور میں مناسب رویے سے کراچی کی سیاست میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ پورے پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا؟۔

بگٹی ہو یا دیگر قبائلی افراد۔ اہل کراچی ہوں یا بلوچی، سندھی یا پشتون، یہ سب سچے اور اچھے پاکستانی ہیں۔ اگر ان میں منفی سوچیں ابھررہی ہیں تو کیا ریاست کو اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت نہیں؟۔

کیا میاں نواز شریف، کیا زرداری، کیا بگٹیوں کا موجودہ نواب، کیا قبائلی سردار، کیا بلوچستان کے دیگر عمائدین اور کیا کراچی کی قیادت کرنے والے کبھی کسی گول میز کانفرنس میں بیٹھنے سے انکار کرتے رہے ہیں؟۔ کیا کسی بھی مشکل وقت میں میں وہ پاکستان کے خلاف گئے ہیں؟۔ کیا 1965 یا 1971 کی جنگ میں کوئی ایک بھی دشمنوں کی گود میں جاکر بیٹھا ہے؟۔ کیا سیلابوں اور آسمانی آفتوں میں ایک دوسرے کے مددگار نہیں بنے؟۔ کیا کشمیر کے زلزلے نے پوری قوم کو ہلاکر جگا نہیں دیا تھا؟۔ یہ سارے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصل میں قوم ایک ہی ہے بس اتنا ہے کہ پاکستان میں رہنے اور بسنے والی بہت ساری اقوام اور سیاسی و مذہبی گروہ اپنے اپنے جغرافیائی اور علاقائی مسائل کی وجہ سے اپنے اپنے کچھ معذورات رکھتے ہیں اور ان کا حل ریاست سے چاہتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے جب جب بھی ریاست نے ان پر توجہ دی ہے ان کے دل ریاست کیلئے کشادہ ہو گئے ہیں اور جب جب بھی ان کو نظرانداز کیا گیا ہے وہ بھی ریاست سے کچھ فاصلے پر جا کھڑے ہوئے ہیں البتہ جارحیت یا بغاوت کا رویہ صرف اور صرف طاقت کے استعمال کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے۔

کیا وہ بلوچی اور پشتون جو چالیس چالیس برس سے پہاڑوں پر چڑھے ہوئے تھے، اپنے ہتھیار ریاست پاکستان کے حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے؟۔ جب ریاست کسی سے بات چیت کرے گی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی دکھائے گی تو جارحیت کا جذبہ کیسے سرد نہیں پڑےگا؟۔

پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے پاکستان کی ساری پارٹیاں متحد ہوکر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ کیا فلسطین، کیا شام، کیا عراق، کیا افغانستان اور کیا کشمیر۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو نہ تو برداشت کرنا چاہیے اور نہ اہل پاکستان کو یہ قابل قبول ہوا ہے لیکن اس بات کا بہت افسوس ہے کہ پاکستان میں بسنے والے عوام، مذہبی اور سیاسی پارٹیوں اور ان کے سربراہوں یہاں تک کہ صاحب اقتدار و اختیار بھائیوں کی دور کی نظریں تو ہمیشہ سے بہت شفاف دکھائی دی ہیں لیکن سب کی قریب کی نظریں خراب ہی نہیں نہایت کمزور بھی ہیں جس کی وجہ سے انھیں پاکستان کے باہر تو دور دور کا نظر آجاتا ہے لیکن قریب کا بالکل بھی دکھائی نہی دیتا۔ لگتا ہے کہ جملہ قوم اور ادارے بگٹیوں کی طرح پڑھائی لکھائی سے بے بہرہ ہیں اسی لئے ان کو معلوم ہی نہیں کہ انھیں ریڈنگ گلاسز کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں مشرقی پاکستان میں کیا ہوتارہا؟، کراچی میں ایوبی دور سے تاحال کیاکیا ہو رہا ہے؟، طالبان اور القائدہ کے نام پر فضاؤں سے آگ برسائی گئی اور ایک گناہ گار کے پیچھے سیکڑوں معصوم مارے جاتے رہے، بلوچستان میں بے جا طاقت کا استعمال تاحال جاری ہے۔ سندھ میں 11 سال آپریشن کیا جاتا رہا۔ قبائلی علاقوں کو 70 سال تک علاقہ غیر کا نام دیا جاتا رہا۔ لال مسجد میں عورتوں اور بچوں تک کو شہید کردیا گیا۔ سڑکوں پر دہشتگرد کہہ کرجس کو چاہے ماردیا جاتا ہے۔ گھروں میں داخل ہوکر عزت و آبروؤں کو تارتار کرنا معمول ہے اور جعلی پولیس مقابلے میں قیدیوں کی ہلاکت تو پسندیدہ کھیل بن کر رہ گیا ہے۔

وہ تمام سیاسی، مذہبی اور جملہ سارے عوام جو پاکستان سے باہر ہونے والے ہر ظلم کو صاف صاف دیکھ رہے ہوتے ہیں، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنا کر اظہار یک جہتی کرکے پورے پاکستان کو اکھٹا کر لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کیا ان سب کی قریب کی نظریں بالکل ہی کمزور ہیں۔ ان کو اپنے ملک میں کسی بھی قوم، سیاسی قوت، قبائل اور نسل کے خلاف کہیں بھی کوئی ظلم و ستم نظر نہیں آتا؟۔ کیا کبھی ان کیلئے بھی قومی سطح پر کسی یک جہتی کی ضرورت نہیں؟۔ کیا ان کیلئے بھی اسی طرح انسانی ہاتھوں کی زنجیر نہیں بنائی جاسکتی؟۔

یاد رکھیں! دنیا بھر میں آپ کشمیر یا فلسطین پر ہونے والے مظالم پرجتنی بھی چاہیں آوازیں اٹھاتے رہیں لیکن اپنے ملک میں ہونے والے مظالم اور زیادتیوں پر بند نہ باندھ سکے تو دنیا کا کوئی ایک ملک بھی آپ کی آواز میں آواز ملانے کیلئے تیار نہ ہوگا بلکہ ہر صدا کے جواب میں یہی سننے کو ملے گا کہ “تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here