روس جب افغانستان میں داخل ہوا تو اس کے خلاف نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں بھی شدید ترین رد عمل پایا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی روس کی مداخلت کے خلاف نکل کھڑے ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو واپس اپنے ملک لوٹ جانا پڑا۔ جنگ کے دوران ان کو جونقصان اٹھانا پڑا اس کی کہانی الگ ہے لیکن اقتصادی بدحالی کی وجہ سے اسے اپنے ہی یونین میں آئی ہوئی کئی ریاستوں کو اپنے آپ سے الگ کرنا پڑا کیونکہ وہ اس قابل نہیں رہ گیا تھا کہ شامل ریاستوں کی کفالت کر سکے۔
کسی بھی بڑی طاقت کیلئے اس سے بڑی سبکی کی بات ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ اعتراف شکست کے بعد وہ مقبوضہ علاقوں سے نہ صرف راہ فرار اختیار کرے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسے اپنی ریاستوں کی حفاظت اور کفالت سے ہاتھ بھی اٹھانا پڑجائیں۔
دنیا جانتی ہے کہ روس کی اس جگ ہنسائی میں پاکستان کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر امریکا پشت پناہی نہ کررہا ہوتا تو پاکستان اور افغان جہادیوں کو کبھی اتنی بڑی کامیابی نصیب نہ ہوتی۔ میں اس دعوے کی نفی تو نہیں کرونگا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ روس کے خلاف جدوجہد کا آغاز کسی بھی بیرونی ملک کی مدد ،مرضی اورحمایت کے بغیر افغانیوں نے کردیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے جہادیوں نے بھی بھاری تعداد میں اس میں شرکت کی تھی لیکن یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ ڈھائی سال تک افغانی اور پاکستان سے گئے جہادی اپنے نہایت پرانے اور روایتی ہتھیاروں سے ہی روسی افواج کے خلاف نبرد آزما رہے۔ اگر ان کے پاس سب سے بڑا کوئی ہتھیار تھا تو وہ صرف اور صرف جذبہ جہاد تھا اور یہ عزم کہ کچھ بھی ہو وہ روس کو افغانستان میں اپنے قدم جمانے نہیں دیں گے۔ یہ بات بھی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ اس ڈھائی سالہ جدوجہد میں روس افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھا چکا تھا اور ایک بہت بڑی طاقت ہونے کے باوجود وہ ان چھوٹی چھوٹی بندوقوں والوں کے ہاتھوں بے بسی کی ایک تصویر بنا ہوا تھا۔ ان کا یہی جذبہ جہاد دنیا کی دیگر ایسی اقوام کو جو کسی آزاد ملک پر اغیار کا قبضہ گوارہ نہیں کرتیں تھیں، حوصلہ ملا اور وہ روس کو سبق سکھانے کیلئے اس جنگ کا حصہ بنیں جس میں امریکا بہت نمایا ں ہے۔ امریکا کے پاس نہ تو پیسوں کی کمی ہے اور نہ ہی خطرناک جنگی ہتھیاروں کی۔ یہ بات تو طے ہے کہ امریکا کی اس جنگ میں شرکت مسلمان دوستی میں تو ہوہی نہیں سکتی تھی بلکہ اسی کے وسیع تر مفاد کا کوئی نہ کوئی پہلو اس میں شامل رہا ہوگا۔ امریکا جانتا تھا کہ روس کا اگلا ہدف پاکستان ہی ہوگا اس لئے کہ ایک طویل مدت سے روس گرم سمندروں کی تلاش میں تھا اور افغانستان کے بعد پاکستان کی جانب پیش قدمی گرم پانیوں کے حصول کے علاوہ کسی اور مقصد کیلئے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ گرم پانیوں تک رسائی کا مطلب اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں تھا کہ وہ ہر لحاظ سے ایک طاقتور ترین ملک بن جاتا جس کو امریکا کس طرح گوارہ کر سکتا تھا۔ پاکستان، امریکا اور افغانستان میں موجود ساری جہادی تنظیموں کا مفاد اسی میں تھا کہ وہ امریکا کی شرکت کو قبول کرلیں اور وہ جنگ کا حصہ بنے ورنہ روس جیسے کسی ملک سے کمزور ملک کا تادیر ڈٹے رہنا کسی بھی بڑی تباہی کا سبب بن سکتا تھا۔
یہاں تک تو امریکا کی شرکت بہر صورت پاکستان، افغانستان اور جہادی تنظیموں کیلئے بہت ضروری تھی لیکن جب امریکا نے نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر قبضہ کیا تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ امریکا کے خلاف اسی طرح جہاد کو کیوں جاری نہیں رکھا گیا اور اسی جذبے سے کیوں نہیں لڑا گیا جس طرح روس کے خلاف لڑا گیا تھا۔ وہ جہادی جن کا تعلق پاکستان اور خاص طور سے پختون قوم سے تھا ان کو بھی امریکا کے خلاف جنگ سے دور رکھا گیا اور خود پاکستان کی اعلیٰ قیادت بھی ایسا کرنے میں مانع رہی۔ اگر پاکستان اپنی گزرگاہیں اور ایئربیسز ان کے حوالے نہ کرتا اور جہادیوں کیلئے رکاوٹیں کھڑی نہ کرتا تو امریکا کا بھی وہی حشر ہو سکتا تھا جو روس کا ہوا تھا لیکن اندازوں اور فیصلوں کی غلطی پاکستان کیلئے ایک ایسے عذاب کا سبب بن گئی جس سے چھٹکارہ بہت مشکل نظر آرہا ہے۔
کئی ماہ سے پاکستان اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح افغانستان پر سکون ملک بن جائے اس لئے کہ افغانستان میں امن اتنا ہی ضروری ہے جتنا پاکستان میں امن و امان کا بہتر ہونا۔ پاکستان اور امریکا ایک طویل جنگ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امن صرف خوفناک ہتھیاروں کے زور پر ہی قائم نہیں کیا جاسکتا۔ سب کو مل بیٹھ کر کوئی ایسا فارمولا بنانا چاہیے جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے چنانچہ پاکستان ہی کی کوششوں سے افغان طالبان کے کئی دور امریکا کے ساتھ ہوئے لیکن اب تک کی صورت حال کوئی بہت امید افزا نہیں۔ ایک جانب اگر افغان طالبان کو قائل کرلینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو دوسری جانب موجودہ افغان حکومت کیلئے افغان طالبان کی شرائط قابل قبول نہیں ہوتیں۔
یہاں اکثر لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ افغان سرزمین پر روس کو تاریخی شرمندگی اور ہزیمت کا سامنا رہا ہے۔ روس کو جو نقصان اور ہزیمت ماضی میں پاکستان کی وجہ سے اٹھانی پڑی تھی تو کیا وہ اپنے زخموں کو بھول گیا ہوگا؟۔ کیا اس کو نہیں معلوم کہ اسے یہ نقصان پاکستان، پاکستانی جہادیوں اور امریکا کی وجہ سے اٹھانا پڑا تھا۔ اب جبکہ امریکا افغانستان میں مار کھانے کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ جانے کی تیاری کررہا ہے تو کیا روس کے پرانے زخم ہرے نہیں ہورہے ہونگے اور کیا وہ پہلے افغانستان سے اور پھر پاکستان سے اپنا پرانا حساب چکانے کیلئے اپنے پنجے اور منقار تیز نہیں کررہا ہوگا۔ کیا گرم پانیوں کا حصول اب بھی اس کا منتہائے نظر نہیں ہوگا؟۔
میں اپنی تحریروں میں متعدد بار ان خدشات کا اظہار کرتا رہا ہوں اور اب ان خدشات کے خدوخال بہت واضح ہونا شروع ہوتے جارہے ہیں۔
ایک خبر کے مطابق روسی دارلحکومت ماسکو کے پریزیڈنٹ ہوٹل میں طالبان اور افغان حکومت کے سیاسی مخالفوں میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ مذاکرات کا آغاز طالبان مذاکراتی وفد کے سربراہ کی دعا سے ہوا۔ جبکہ افغان حکومت مخالف نمائندوں نے طالبان مذاکراتی وفد کی امامت میں دعا مانگی۔ حکومت مخالف شخصیات میں سابق صدر حامد کرزئی، گلبدین حکمت یار، حکمت کرزئی، عطا محمد نور اور شاہ نواز تانائی سمیت چالیس لوگ طالبان کے ساتھ بات چیت میں شریک ہوئے۔ شاہ نواز تانائی نجیب اللہ کی حکومت میں وزیر دفاع اور چیف آف آرمی سٹاف رہ چکا ہیں۔ اور موصوف وہی شخص ہیں جو کسی زمانے میں اسلام آباد پر اسکڈ میزائل پھینکنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے کابل کے اندر ہی اسکڈ میزائل داغنے کی کوشش کی اور اپنے دوست اور صدر نجیب اللہ کے خلاف ناکام بغاوت کر دی۔ اور اپنی جان بچانے کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاکستان پہنچے، پناہ حاصل کی اور کئی سال تک پاکستان میں رہے۔
یہ بات اس جانب ایک واضح اشارہ ہے کہ روس اپنے زخم بھولا نہیں ہے اور وہ اپنے ماضی اور اس کی غلطیوں کو دور کرکے کسی وقت بھی اپنے زخموں کا حساب طلب کرنے افغانستان میں داخل ہو سکتا ہے۔ خبروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ افغانستان امریکا کے جانے کے بعد شاید اسی حالت میں واپس آجائے جس حالت میں وہ روس کے چلے جانے کے بعد آگیا تھا۔ خبریں ہیں کہ اشرف غنی نے ان مذاکرات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغانستان کی بہتری کے لئے نہیں ہیں۔ اور روس سے یہ شکوہ کیا کہ اس نے طالبان سے افغان حکومت کی براہ راست بات چیت کرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ لیکن روس اب حالات سے سبق سیکھ چکا ہے کہ وہ ماضی کی طرح افغانستان میں اقلیت پر مبنی کوئی کٹھ پتلی حکومت نہ بنائے گا نہ اس میں دلچسپی رکھے گا۔ بلکہ اُس حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے گا جو اکثریت پر مشتمل اور عوام کی نمائندہ ہو۔ اور یہی واحد راستہ ھے جس سے روس کے معاشی، دفاعی اور سٹرٹیجک مفادات حاصل ہو سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اشرف غنی کی عملداری بہادر شاہ ظفر کی طرح صدارتی محل تک محدود ہو چکی ہے۔ افغان فوج اور پولیس کا مورال اس وقت انتہائی نچلی سطح پر ہے اور اشرف غنی امریکا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جلدی میں افغانستان نہ چھوڑ کر جائے۔
بظاہر روس افغانستان میں داخل نہ ہونے کا عذر یہی پیش کررہا ہے کہ وہ اب کسی ایسی حکومت کا ساتھ نہیں دیگا جو عوامی حمایت سے محروم ہو اور اقلیت کی نمائندہ ہو لیکن اس کے پاس ایسا کیا پیمانہ ہے جس سے وہ اس دعوے کی تصدیق کر سکے کہ اصل میں افغانستان کے عوام کیا چاہتے ہیں اور ان کی رائے یا حمایت کس کے ساتھ ہے۔
میرے اندازے اور اور خیال کے مطابق یہ سب معذورات لنگ ہیں ورنہ روس اپنے مفادات کے حصول کیلئے کسی وقت بھی افغانستان میں داخل ہو سکتا ہے لیکن ایسا وہ اسی وقت کرسکے گا جب امریکا روس سے چلا جائے گا۔
پاکستان اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ روس کے افغانستان میں آجانے سے اس کیلئے کیا کیا خطرات ہو سکتے ہیں اس لئے دیکھا گیا ہے کہ وہ روس سے اپنے تعلقات کا جائزہ لیتا ہوا نظر آرہا ہے۔
یہاں پاکستان کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ روس بظاہر پاکستان کے خلاف کسی سخت رویے کا اظہار نہیں کرے لیکن افغانستان پر اپنے پنجے گاڑ لینے کے بعد اس کا پاکستان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانا معجزہ ہی ہو سکتا ہے اس لئے پاکستان جو بھی کردار ادا کرے بہت سوچ سمجھ کر کرے کیونکہ بقول طارق عزیز (نیلام گھر) اب مزید “غلطی کی کوئی گنجائش نہیں”۔
