مجھے نہیں کھانا یہ آلو گوشت اور پلاؤ ولاؤ فیضی کھانے کی میز پر بیٹھا کھانے کو دیکھ کر برا سا منہ بنا کر کہنے لگا اسکا روز کا یہ ہی معمول تھا کوئ کھانا وہ خوش ہوکر نہیں کھاتا بلکہ اپنی مرضی کا ہی بازار سے منگانے کی ضد کرتا گھر میں پیسے کی فروانی تھی اب بچے جو فرمائش کرتے جو اکثر ہی اور بچے کرتے لیکن فیضی تو ہر روز ہی نخرے کے کرتا کھانے میں تو وہ فوری منگایا جاتا یہ سوچ کر کہ کوئی بھوکا تو نہیں رہے کھالیں اپنی مرضی کا ہی چلو کوئی بات نہیں اور یوں آج بھی کھانا پیناا اسی طرح کھا پی کے سب فارغ ہوئے ۔
اسکول میں دسمبرکی چھٹیاں بھی ہوگئیں تھیں بچے بڑے خوش تھے کہ خالہ اور انکے بچے بھی ساتھ ہی دو چار دن رہنے کےلئے انکے گھر آرہے تھے ۔اسکے بعد ان لوگوں کو بھی اپنی دادو کے گھر رہنے جانا تھا جہاں دو پھوپھو اور تین چچاؤں کے گھر بھی قریب قریب ہی تھےتو وہاں تو دن بہت مزے سے گزرتے۔
فروا بیگم صبح اٹھ کر ناشتے کے بعدکھانے کی تیاری میں لگ گئی تھیں کہ انکی بہن سویرا کو بچوں کے ساتھ دوپہر تک آنا تھا۔ آج تو بچے بھی جلدی اٹھ گئے تھے اور ویسے بھی بچے اسکول کی چھٹیوں میں کہاں دیر تک سوتے ہیں چاہے رات کتنی دیر میں سوئیں ۔
فروا بیگم سب کاموں سے فارغ ہوکر بچوں کو کپڑے وغیرہ بدل کر تیار رہنے اور خودبھی تیار ہو کر اب انتظار میں تھیں کہ گھر کے دروازے پر گھنٹی بجی، بڑا بیٹا سبحان گیٹ کی طرف بھاگا اور چھوٹے بچے بھی اور اپنی خالہ اور انکے بچوں کو اپنے جھرمٹ میں گھر میں لاتے ہوئے بڑے خوش نظر آرہے تھے ۔کچھ ہی دیر بعد سب لوگ دوپہر کے کھانے پر جمع ہوگئے۔
آج کی صبح بہت سہانی تھی سارے ہی بچے رات دیر تک سونے کےباوجود فجر کی نماز کیلیے اٹھ کردوبارہ سوئے نہیں اور وہ سب بابا کے ساتھ مل کر قریب ہی کے پارک میں واک کرنے نکل گئے گھر واپس آئے تو بابانے حلوہ پوری بھی لے لی،گھرمیں سب ایک ساتھ بیٹھ کرناشتہ کرنے لگے لیکن حسب معمول فیضی کے کا پھر منہ بننا شروع ہوچکا تھا، امی بابا اسے بہلانے اور سمجھانے میں لگ گئیں کہ مہمان کیا کہیں گے، لیکن خالہ جان کل سے اب تک یہ بات نوٹ کررہی تھیں کہ انکی بہن کے گھر کھانے کی فروانی ہونے کے باوجود سب بچوں میں خاص فیضی میں بہت نخرے تھے وہ خوش ہوکر کچھ نہیں کھاتے اور ماں باپ بلا چوں چرا ںکے انکی فرمائشیں پوری کرتے ہیں جبکہ انکے بچے ہر چیز بڑے شوق سے بغیر نخروں کے کھاتے تھے خیرناشتہ سے فارغ ہوکر سویرا خالہ اپنا موبائل لے کر ایک طرف بیٹھ گئیں اور معمول کے مطابقفلسطین کے بارے میں سوشل میڈیادیکھنے لگیں اور ساتھ ہی انکے بچے بھی ان کے پاس بیٹھ کر اس پر تبصرے اور دکھ اور افسوس سے دیکھ کر انکے لئے دعائیں کرتے۔
فیضی سبحان اور انکی بہن صنوبر بھی انکے ساتھ بیٹھنے لگے اور سب دیکھ اور سن کر حیران بھی ہوتے وہ تو انجان ہی تھے، فلسطین پر ہونے والے قیامت خیز اسرائیلیوں کے ظلم اور انکو بھوکا رکھنے ان تک پہنچنے والی کھانے پینے کی اشیاء کو روکنا اور ہسپتالوں پر بمباری ،کوئی جائے پناہ نہیں تھی اور یہ مظلوم اسلامی ممالک اور اپنے مسلمان بھائیوںسے ہر طرح کی مدد اور ان ظالموں سے نجات کے طلب گار ہونے کے لیئے التجائیں کرتے ہیں لیکن سب اپنی دنیا میں مگن ،بے فکر اور خاموش ہیں سوائے کچھ حساس لوگوں کے ۔
آج واحد صاحب کے خاندان نے بھی ان ہوش رباء باتوں پر غور کیا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ تو ان مظلوموں کے لئے خود کوئی درد محسوس کرسکےاورنہ بچوں کو احساس دلایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لئے کیسا حق ہے۔ یا د رکھنا چاھیئے کہ اپنی زندگی کی آسائشوں میں مگن رہ کر اپنے مسلمان بھائیوں کے دکھ درد کو نہیں بھولیں بلکہ اسے محسوس کریں ۔ جس طرح سویرا اور انکے بچوں میں ہے۔
