بچوں کے ذہن میں کثرت سے سوالات پائے جاتے ہیں۔ ان کے معصوم و نامعقول سوالات کے جوابات بہت ہی عقل مندی اور تحمل سے دینے چاہیے۔ہم سے بچے چھوٹے چھوٹے سوالات پوچھتے ہیں۔یہ ان کے سوالات ہمیں بے معنیٰ و بے مقصد نظر آتے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں بالکل عار نہیں ہے کہ ہمیں ان کے سوالوں کا مقصد ہی سمجھ میں نہیں آتا، اسی لیے ہم انہیں خاموش رہنے کو کہتے ہیں اس پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں ’’ تمہیں توکچھ نہیں آتا‘‘ ،’’تم تو کچھ نہیں جانتے ‘‘،’’تم کواتنی سے بات بھی نہیں معلوم‘‘،ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں ان کے سوالات کو ایک رخ اور سمت دینا چاہیے۔اگر بچہ سوال نہیں پوچھ رہا ہے توہمیں خود اس سے سوال پوچھنے چاہیے۔ اگر بچہ سوال نہیں پوچھ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یاتو بچہ بات سمجھ گیا ہے یا پھر بچہ کا ذہن تشکیک کا شکار ہے۔ بچے سوال کیوں نہیں کرتے؟ ہمیں نہ صرف اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ بچوں کے سوالات کے تشفی بخش جوابات بھی دینے ہوں گے۔
ایک بچہ اپنے باپ سے سوال کرتا ہے کہ’’ اسے امتحان میں کم نمبر کیوں ملے ؟
باپ نے کہا ’’تم نے پڑھائی کم کی ہے اسی لیے نمبر بھی کم ملے ہیں۔ آئندہ زیادہ محنت سے پڑھوگے تو ان شاء اللہ نمبر بھی اچھے ملیں گے‘‘۔ بچے نے اگلی بار زیادہ محنت کی اور اچھے نمبر حاصل کیے۔ پھراگلی بار اس نے اور زیادہ محنت سے پڑھائی کی لیکن کم نمبر حاصل ہوئے۔ بچے نے والد سے پوچھا کہ میں نے بہت زیادہ محنت سے پڑھائی کی، پھر بھی مجھے مطلوبہ نمبر نہیں ملے، ایسا کیوں ہوا؟ باپ نے جھنجھلاکر کہا،’’یہ تمہاری قسمت ہے، اور کیا؟‘‘
بچے سے تمہاری قسمت کہنا یہ اس کے سوال کا درست جواب نہیں ہے۔اس کا درست جواب ہونا چاہیے کہ ’’بیٹے یہ میں نہیں جانتا۔‘‘ آئو ہم دونوں مل کر اس کی وجہ تلاش کر تے ہیں‘‘۔جب بچے کو معلوم ہوتاہے کہ اسے جواب تلاش کرنا ہے اسی وقت اس کی فکری صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور اس میں فکری عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔
بچوں میں ذہانت کے فروغ کے لیے ان کے فکر ی سوتوں کو مہمیز کیاجائے! بچوں میں ذہانت کے فروغ سے مراد ان میں سوچنے کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔جب ہم بچوں میں تفکر و تدبر کی حوصلہ افزائی کا کام انجام دیتے ہیں اسی لمحے ان میں ذہانت کے فروغ کا عمل شروع ہوجاتا ہے اوران کی ذہانت میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔فکر و تدبر اور سوچنے کے عمل کو مہمیز کرنے کے کئی طریقے ہیں جو بچوں کے بائیں دماغ کو اور بعض اوقات دائیں دماغ کو فعال ومتحرک بناتے ہیں۔
دماغ و ذہانت کا فروغ اختیار کردہ فکر و تدبر کے انداز و طریقہ کار پر منحصر ہوتا ہے۔جن میں سب سے آسان طریقہ بچوں سے سوالات کرنا ہے۔جب بچے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے لگتے ہیں تو پھر یہ کوشش ان کے ذہن اور ذہانت کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔بچوں میں فکر و تدبر کے طریقوں کو بلا کسی تاخیر و ترددکے رواج دیا جانا چاہیے۔
ایک باپ نے اپنے بیٹے سے ایک سادے سے سوال کا جواب مانگا ’’جب ہم فریج کا دروازہ کھولتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ فریج کے اندر لگا ہوا بلب ( لائٹ) روشن(کھلا) ہے، کیا فریج کادرواز بند کرنے کے بعد بھی یہ بلب جلتا(آن)رہتا ہے؟‘‘
جواب پانے کے لیے لڑکے نے فریج کے دروازے کو کم از کم پچاس(50) بار کھولا اور بند کیا۔جب کہ ایک اور گھر میں بچے کو صرف ایک بار ہی فریج کا دروازہ کھولنے پر ڈانٹ پڑی ’’کیوں فریج کا دروازہ کھول رہے ہو؟‘‘
پہلے گھر میں گھر کے سبھی افراد بچے کو فریج کھولتے اور بند کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔کسی نے بھی اس کو نہ روکا اور نہ ٹوکا۔ جس کی وجہ سے بچے کی توانائی اور تجسس کو ایک نئی سمت ملی اوربچے کوکوشش کرتے ہوئے اپنے سوال کا جواب بھی مل گیا۔
ہم اپنی بے جا روک ٹوک سے بچوں کے تجسس کو ہلا ک نہ کریں۔روک ٹوک اس وقت بہتر ہے جب کسی حادثے یا نقصان کا احتمال ہو۔
باپ کے گھر آتے ہی بچہ خوش ہوکر بولا’’بابا،آپ نے پوچھا تھا کہ فریج کا دروازہ بند ہونے پر بھی کیا فریج کے اندر کا بلب روشن رہتا ہے؟ ۔بابا،ایسا نہیں ہے ‘‘۔
جب ہم فریج کا درواز کھولتے ہیں تو لائٹ آن ہوتی ہے اورلائٹ تب جلتی ہے جب ہم فریج کا درواز کھولتے ہیں اور پھر جب ہم فریج کا درواز بند کردیتے ہیں تو لائٹ بھی بند ہوجاتی ہے۔‘‘
باپ نے انجان بن کر پوچھا بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ’’آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں۔‘‘ بچے نے فریج کے دروازے کو کھول کر اور بند کرکے کئی تجربے کیے ۔اس نے باپ سے کہا بابا آپ قریب آکر دیکھیں نا۔اس نے دکھایا کہ فریج کا درواز بند ہوتے وقت فریج کے اندر لائٹ بند ہوجاتی ہے۔ ’’بابا کیا آپ سمجھ گئے ‘‘۔بچہ پر جوش انداز میں اپنے باپ کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔بچے کی ذہنی نشوونما اس کے تفکر اور اظہار سے ہویدا تھی۔ بچے کو جواب مل چکا تھا۔
جن چیزوں کو ہم سادہ اور روزمرہ کے معمولات سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں اُن کے بارے میںبچوں کے احساسات بہت مختلف ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ سوال ہیں جس سے ان کاپہلی بار سامناہورہا ہوتا ہے۔
’’ بچوں کی ذہنی نشوونما بیشتر موقعوں پر ان کے ذہن میں موجود سوالات کی مرہون منت ہوتی ہے۔‘‘اکثر بچوں کے پاس کوئی سوال نہیں ہوتاکیونکہ وہ اکثر’’ایسا ہی ہے‘‘ سوچتے ہوئے اپنی زندگی گزاردیتے ہیں۔
بچوں کی ذہانت کی نشوونما میں سب سے اہم شئے ان سے سوال پوچھنا اور سوالات کے جوابات ڈھونڈنے پر انہیں مائل کرنا ہے۔
جب ہم بچوں سے سوال پوچھیں تو اس وقت توجہ سے دیکھیں کہ وہ کس طرح ہمارے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔کئی مرتبہ ہم ان کے جواب دینے کے طریقے سے ان کی سوچ ،سمجھ کو پڑھ لیتے ہیں۔
بچوں کی ذہانت میں اضافے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب ہے بچے کی سوچ کو مہمیز کرنا ،اسے آگے بڑھانا۔ غور وفکر اورسوچنے کے کئی طریقے ہیں۔ہمارا ذہن ہمارے انداز فکر کے مطابق ترقی کرتا ہے۔ وہ باپ جو اپنی بیٹیوں کو سبزی خریدنے لے جایا کرتا تھا اسے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی چھوٹی بیٹی جمع و تفریق کے سوالات بہتر طریقے سے حل کررہی ہے۔ اس کا حساب کتاب غلطیوں سے پاک، درست اور بہتر ہے۔ اس کی بڑی بیٹی بھی حساب کتاب بہتر میں ہے۔وہ اس کے علاوہ بھی دیگر چیزوں کے بارے میں معلومات رکھتی ہے جیسے لیموں رسیلے ہیں، سبزیاں اچھی ہیں ،کدو چھوٹا ہے۔ بعض ترکاریاں دوسری ترکاریوں سے زیادہ تازہ ہیں۔ ایک عورت تازہ سبزیاں فروخت کررہی ہے تو دوسری عورت کی سبزیاں تازہ نہیں ہیں۔
باپ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی چھوٹی بیٹی دائیں دماغ سے زیادہ اپنے بائیں دماغ کو استعمال کر رہی ہے۔ وہ حساب کتاب کی بات کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کونسی سبزی پہلے خریدی گئی اور کونسی بعد میں۔ حالانکہ چھوٹی بیٹی سے زیادہ تر بائیں دماغ کی سرگرمیاں کا اظہار ہورہا تھا لیکن دائیں دماغ کی سرگرمیاں بھی وہ بہتر طریقے سے انجام دے رہی تھی جیسے سبزیوں کا معیار، ٹماٹر کا رنگ وغیرہ۔ ان باتوں سے معلوم ہوا کہ چھوٹی بیٹی بائیں اور بڑی بیٹی دائیں دماغ والی صلاحیتوں کی حامل ہے۔ دماغ کا بایاں حصہ منطقی اور زبان (اظہار) سے منسلک ہوتا ہے جب کہ دایاں دماغ زیادہ تخلیقی یاتجریدی حساب کتاب انجام دیتا ہے۔
ان مثالوں کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ والدین کو جب اپنے بچوں کے غالب دماغ(وہ دائیں دماغ کو یا بائیں دماغ کو زیادہ استعمال کرتے ہیں) کا علم ہوجاتا ہے تو بچوں کی رہنمائی ان کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔
بچوں کے دماغ کے دونوں حصوں کو یکساں استعمال میں لانا چاہیے ۔اس سے انہیں اپنی عملی زندگی میں مددملتی ہے۔جانے انجانے میں ہم کئی بار اپنے بچوں کو ان کی فطری صلاحیتوں کے خلاف چلنے کو کہتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ نئی باتیں، نئی حقائق ،نئے جملے نہیں سیکھ پاتے اور اپنے نقطہ نظر اور جوہر ذاتی کو گنوا بیٹھتے ہیں۔
ہم جب بچوں سے سوالات پوچھتے ہیں،ان کی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون مشقیں فراہم کرتے ہیں تب ان میںدماغ کے استعمال کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ ان مشقوں اور سرگرمیوں سے ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ بچوں کے ذہن پر کس قسم کے خیالات حاوی ہیں اور ان کے سوچنے کا انداز کیا ہے۔
