اسلام نے عورت کو بلند مقام و مرتبہ اور عزت دینے کے ساتھ ساتھ حیا اور وقار بھی عطا کیا ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حیا ایمان کا حصہ ہے ۔ ” دین اسلام میں حیا کے ذریعے بہت سی خرابیوں کو ختم کرکے عورت کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ عورت کی عزت آبرو اور حیا کی مثال ایسی ہے جیسے کہ سیپ میں چھپا خوبصورت قیمتی موتی ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو نازک آبگینے قرار دیا، عورت کے تحفظ و تقدس کے لیے اسے حصار نکاح اور چادر اور چہار دیواری کی محفوظ پناہ گاہ عطا کی،
پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے ۔ اس ملک کی بنیاد کلمہ لا الہ الااللہ یعنی دین اسلام پرہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہماری میڈیا انڈسٹری یہ بات فراموش کرچکی ہے، عجیب وغریب حقیقی زندگی کے برعکس لا یعنی غیر اخلاقی قسم کے ڈراموں سے اسلامی معاشرے کی دھجیاں اڑانے ہماری اقدار و روایات کو پامال کرنے میں تلی ہوئی ہے۔ اسلام نے عورت کو ڈھکا چھپا کر رکھا ہے ۔ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ ” اپنی زینت کی حفاظت کریں ۔” کیونکہ حیا ہی عورت کا بہترین زیور ہے ۔ ” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات و صحابیات کی سیرت کو پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت حیادار اور اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے والی تھیں۔ آج ہماری نوجوان نسل ’’حیا‘‘ کی اہمیت سے نا آشنا ہے ۔
ہمارے بچوں نے ڈرامے اور فلم کے اداکاروں کو اپنا ائیڈیل بنا دیا ہوا ہے۔ مسلمان اور کافر معاشرے کا نمایاں فرق ہی حیا کا کلچر ہے۔ مسلمانوں کو اپنے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر جو ڈرامے دکھائے جا رہا ہے انہیں دیکھ کر بحیثیت مسلمان بہت شرم محسوس ہوتی ہے، شراب نوشی سگریٹ نوشی رقص کی محفلیں وغیرہ بھی دکھائی جاتی ہیں۔ بغیر دوپٹے، ماڈرن نامکمل و تنگ لباس، ایسے ڈرامے دیکھ کر جوان لڑکیاں اب سرعام بغیر دوپٹوں میں سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔ کیا مسلمان ایسے ہوتے؟ بہت سےٹی وی ڈراموں کاسر ہے نہ پیر ، صرف وقت کا ضیاع ہی ہوتا ہے۔ بے حیائی پر مبنی ہنسی مذاق اور گفتگو، اشتہارات وغیرہ دیکھ کر نوجوان نسل بگڑتی نظر آتی ہے۔
انسانوں کے درمیان نیتوں اور دل کے ارادوں کا حجاب میں رہنا ایک نعمت ہے۔ گھر اور گھر کے کمروں کے در و دیوار کا حجاب بھی نعمت عظمی ہے، اور وہ حجاب جو اللہ نے اپنے بندے کے عیبوں پہ ڈال رکھا ہے وہ حجاب کتنی بڑی نعمت ہے۔ پرائیویسی کا تصور حقیقت میں دوسروں سے پس پردہ رہنا ہے۔ کسی بھی عمل کو راز میں رکھنے کی تمنا حجاب ہی ہے۔ محبوب کے حسن کا کمال دراصل اس کا حجاب میں رہنا ہے جب حسن و جمال بے نقاب ہوا تو وہ یہ جلوہ جانا ختم ہو گئی معلوم یہ ہوا کہ جستجوئے رخ جانا ہی رومانی احساس ہے۔ حجاب ایک رویہ ہے، ایک تہذیب ہے پورا فلسفہ زندگی ہے جو سوچ سے لے کر عمل تک اور جسم سے روح تک کلام کرتا ہے۔
مالک یوم الدین سے ہماری دعا ہے کہ ہمارے عیبوں پر حجاب قائم رکھئے گا، ہماری نظروں اور اپنے وجہہ کریم کے درمیان سے حجاب اٹھا دیجئے گا، بے شک آپ رؤف رحیم ہیں۔
بیٹیوں کا زیور ہے حجاب
مسلمان بیٹی اوڑھ لو حجاب
