حقیقی ملکیت

آپ لوگوں نے کبھی گاڑی میں پہلی نشست پر بیٹھے ایک تنخواہ دار ڈرائیور کو دیکھ کر یہ محسوس کیا ،کہ وہ بلا شبہ اس گاڑی کا مالک تو نہیں ہوتا مگر وہ مالکانہ حقوق ضرور رکھتا ہے۔ گاڑی اس کے بغیر چل نہیں سکتی۔ کتنی چل سکتی ہے یا اس میں چلنے کی کتنی طاقت ھے اس کا تعین بھی وہی کر سکتا ہے ۔ گاڑی کو کب ٹھیک کروانا ہے اور کب اس میں پیٹرول ڈالنا ہے یہ بھی اس ڈرائیور کا ہی کام ہے۔اگرچہ یہ سب وہ اپنے روزگار کے لئے کرتاہے اور اس کی اسکو تنخواہ بھی ملتی ہے۔مگر ایک عرصے تک اگر ہم کسی بھی انسان کے لئے کام کریں وہ جس سے بھی تعلق رکھتا ہو اس سے لگاؤ ہو جانا ایک فطری عمل ہےاور یہ عمل تب شدت اختیار کر لیتا ہے جب آپ اس کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہیں۔میں نے بہت سے ڈرائیور حضرات کو اپنی گاڑیوں سے بہت مانوس دیکھا ہے۔ اس کی صفائی ستھرائی کے سلسلے میں وہ بہت محتاط رہتے ہیں۔

یہاں میرے اس موضوع پر تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا کسمپرسی ہے کہ ایک چیز جس کا آپ مکمل خیال رکھیں اور وہ آپ کے بغیر چل بھی نہیں سکتی مگر آپکو اس کے مالک ہونے کا کوئی اختیار نہیں۔آپ اس کو چلانے کے حقدار ہو سکتے ہیں مگر اسکے بارے میں فیصلہ لینے لے سزاوار نہیں ہو سکتے۔ یہ کسی بھی عمل کا کیسا امتزاج ہے کہ آپ پہلی نشست پر براجمان ہیں اور آپ منزل پر لے جانے والے مقررہ وقت کےواحد ذی نفس ہیں مگر آپ اس کے حاکم نہیں بن سکتے۔اس گاڑی کا مالک آپکی محنت وصول کرنے کے بعد آپکو کچھ بھی کہنے کا اختیار رکھتا ہے ۔وہ منزل تک پہنچنے کے لئے اسی ڈرائیور کا محتاج بھی ہے مگر اس کو ایک سیکنڈ میں اس سفر سے بیگانہ بھی کر سکتا ہے۔

دراصل ہم انسان بھی اپنی اپنی زندگی میں ایسے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی رشتے کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ جہاں مالکانہ حقوق تو نہیں رکھتے مگر وہ رشتہ ہمارے بغیر چل نہیں سکتا۔

مگر اس رشتے کے ڈرائیور اور گاڑی کے ڈرائیور میں فرق یہ ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور تنخواہ لیتاہے مگر ہم اپنی تمام تر توانائی دینے کہ باوجود بھی بدلے میں کچھ نہیں مانگ سکتے اور گاڑی کا مالک کچھ بھی کہنے کا مجاز ضرور ہوتا ہے مگر ڈرائیور سب سہنے کا پابند ہو ایسا ضروری نہیں ہے۔ مگر کبھی کبھی زندگی میں ایسا نہ چاہتے ہوئے بھی ہم خود کو ذمہ داریوں کا اور رشتے کی وابستگی سے خود کو اس کا اسیر کر لیتے ہیں۔ جو کم از کم کسی حد تک درست نہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آپ جو بھی ڈرائیور ہو رشتے کے یا گاڑی کے اشارے پر رکنا اس کی پیروی بہت ضروری ہے چاہے آپکا مالک اس سے خوش ہو یا نہ ہو مگریہ آپکے اور ساتھ چل رہی دوسری گاڑی کے تحفظ کیلئے بہت ضروری ہے۔ کچھ بھی ہو ممکن ہو تو اپنی ذات کے لیے کچھ حدود کا تعین کریں تا کہ گاڑی کے مالک نہ سہی مگر کوئی کبھی بھی آپکو پہلی نشست پر بیٹھنے اور منزل پہ پہنچانے پر آپکو مالک جیسی عزت سے ضرور نوازیں۔