غالباً ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ڈیپ اسٹیٹ ہے۔
اسوقت مجھے شدید غصہ آیا تھا پھر جب میں نے حقائق جانے تو مجھے یہ لفظ بہت چھوٹا سا لگا۔
ارمغان کا باپ پچھلے تیس سال سے اسمگلنگ اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں، اسکا 24 سال کا بیٹا منشیات، منی لانڈرنگ، عالمی بینک فراڈ، اغوا برائے تاوان، جعلی شناختی کارڈ اور چھوٹی عمر کی بچیوں کے ریپ میں ملوث ہے لیکن نادرا اور ایجنسیاں سو رہی ہیں۔
اداکار ساجد حسن کا بیٹا کراچی میں منشیات کا ہول سیلر تاجر ہے ایجنسیاں خراٹے لے رہی ہیں۔
چوبیس سالا مصطفے عامر ایک عرصے سے نان کسٹم گاڑیاں اور منشیات کے عالمی دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں (اور اسکا باپ کسٹم کا ایک آفیسر رہا ہے)۔
اس ملک میں افغانی ہیروئن اور اسلحہ ان کو لا لا کر بیچ رہے ہیں۔
ایران سے ہزاروں بیرل پیٹرول پشاور لاہور کراچی میں پیٹرول پمپوں پر فروخت ہورہا ہے ظاہر ہے ڈھائی سو چیک پوسٹیں کراس کرکے آتا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ منشیات پیٹرول کیسے آتا ہے ؟؟
کیا ارباب اقتدار ارباب اختیار جنرل جج سیاستدانوں کمشنرز پولس افسران کو نہیں معلوم کہ سامان کہاں سے آتا ہے ؟؟؟ ظاہر ہے انہیں انکا حصہ مل جاتا ہے جو دبئی میں جائیدادیں بنانے کے کام آتا ہے۔
ایک طوائف جب پول کھولتی ہے تو وہ خود ننگی نہیں ہوتی بلکہ تمام اشرافیہ کو ننگا کرتی ہے۔
مصطفے قتل کیس میں ملوث ارمغان کی پیشی کے موقع پر جج بھی نظریں نہیں ملاتا ریمانڈ میں توسیع روک دیتا ہے جیسے ارمغان سے ادھار لے رکھا یو یا بیٹی دے رکھی ہو۔ اس دوران اعلیٰ پولیس افسران شواہد مٹانے میں مصروف رہے ۔
نجانے کراچی میں ارمغان جیسے کتنےمنشیات اور فراڈ کے ڈیلرز موجود ہیں۔
کراچی لاہور اسلام آباد کی سڑکوں پر روزانہ درجنوں ویگوز ستر ستر کروڑ کی نان کسٹم پیڈ بم پروف گاڑیاں (جن پر مشکوک پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز بیٹھے نظر آتے ہیں جو سائرن بجاتی اور چیختی چنگھاڑتی کہ ہٹو بچو ورنہ کچل دیئے جاؤ گے) اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ نتاشا نامی بزنس کلاس عورت جو بنا لائسنس گاڑی چلا رہی تھی چھ افراد کو کچل ڈالا،،، عدالتیں اسکا کچھ بھی نہیں اکھاڑ سکیں۔ حکومت سوتی رہی اور وہ عدالت انصاف کے مونہہ پر پیسہ پھینک کر باعزت رہا بھی ہوگئی حالانکہ اگر کسی پاکستانی کے پاس لائسنس نہ ہو تو اسے روڈ پر سرعام تشدد کیا جاتا ہے۔
کراچی میں اگر ڈمپر کسی موٹر سائیکل سوار کو کچل دے تو وہ جلا دیا جاتا ہے،،،مگر نتاشا کی گاڑی کو مکمل تحفظ دیا بلکہ اسکو رینجرز نے سامنے مارکیٹ سے لاکر جوس بھی پلایا۔
ایک عالمی سروے کے مطابق دوبئی کی ستر فیصد اکانومی پاکستانی کرپشن کے پیسے پر کھڑی ہے، اگر کوئی ایماندار حکومت
یہ پیسہ مانگ لے تو پورا دوبئی کنگال ہوجائے ۔ سندھ کے اس گوٹھ کی مانند ہوجائے گا
جہاں صرف بھٹو زندہ ہے،
مگر سوال یہ ہے کہ پیسہ کون واپس لائے
جرنیل ؟؟؟ جن کے اپنے بچے دوبئی میں بیٹھے ہیں جہاں انکے اپنے اکاؤنٹس ہیں یا امریکہ میں پیزوں کی دکانیں ہیں
سیاست دان ؟؟؟
بیورو کریٹس ؟؟؟
اعلیٰ پولیس حکام ؟؟؟
ججز ؟؟؟
اسٹیبلشمنٹ ؟؟؟
ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک عورت کو زنا کے جرم میں سنگسار کرنے کی سزا ہوئی عورت کو باندھ دیا گیا، لوگوں نے اسکو مارنے کے لئے پتھر اٹھا لئے،، اس عورت نے چیخ کر کہا ! مجھے پہلا پتھر وہ مارے جس نے زنا نہ کیا ہو،،،
اب سوال یہ ہے کہ دبئی سے پیسہ کون واپس لائے گا ؟؟؟ یہاں تو سبھی چور اُچکے ہیں، ڈاکو ہیں، رہزن ہیں
بس لیپ ٹاپ آٹا چینی اور بے نظیر انکم اسکیم کے تحت چند ہزار بانٹے جاؤ،، مگر شعور مت دینا۔
کیونکہ شعور مل گیا تو عوام ان حرامیوں کے حلق سے اپنا پیسہ نکال لے گی۔
لیکن خوش آئند بات ہے کہ ان کی اگلی کئی نسلیں دبئی امریکہ سوئیٹزلینڈ میں مزید عیاشیاں کرسکتے ہیں کیونکہ ابھی اس قوم میں شعور آنے میں کافی صدیاں باقی ہیں۔
