مومن مثلِ شجر طیبہ

دورہ قرآن میں جب شجر طیبہ اور شجر خبیثہ کی مثال آئی تو یہی اصول عمل کے لیے لیا شجر طیبہ بننا ہے مثال کھجور کے درخت سے کہ جو دنیا سے لیتا کم ہے اور دنیا کو دیتا ذیادہ ہے مثلا سارا سال پھل دیتا ہے تپتی دھوپ وصحرا و ریگستان میں اگ جاتا ہے سایہ دیتا ہے،زمین سے اضافی پانی جو سیم و تھور کا سبب ہوتا ہے اسے کم کرتا ہے زمین میں گہر جڑیں پھیلا کر اپنے لیے خودہی پانی کا بندوبست کرلیتا ہے، اسکے پتے دستی پنکھے چٹائیاں ٹوکریاں بنانے کے کام آتے ہیں پھل کھجور قدرتی مٹھاس، مکمل غذائیت اور آئرن سے بھرپور گٹھلی بھی فائدہ مند بے شمار اقسام و ذائقے لیے ہوئے ہے یہ جنت کی نعمت ہے۔

مومن کی مثال بھی ایسی ہی ہے ہمیں کھجور کے درخت کی مانند کی مومنانہ اوصاف یعنی خود مشکلات جھیل کر دوسروں کو فائدہ دینے کا طرز عمل اپنانا ہے۔ سبحان اللہ ۔ شجر خبیثہ زقوم کا کانٹے دار، بے سایہ بے فائدہ درخت، جس سے نکلنے والا مادہ کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے، یہ جہنم کے لوگوں کا کھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شجر طیبہ کے مثل بنائے اور شجر خبیثہ بننے سے دور رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

اسکے لیے ہمیں دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے کے مصداق قرآن و سنت کے علم کی طلب کے ساتھ اخلاص نیت سے ان تعلیمات پر عمل کرکےشجر طیبہ بننے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لانی ہے۔