رب کائنات نے انسان کی تخلیق نر اور مادہ کی صورت میں کرکے دنیا کے اس رشتے کی بنیاد رکھی جو انتہائی انمول ہے یہ وہ رشتہ ہے کہ جس کو قرآن میں رب کریم نے یوں مخاطب کیا.. : سورة النساء آیت نمبر 1 میں،،،،
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾ *
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا،اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالٰی تم پر نگہبان ہے ۔
یہ وہ رنگ ہیں آنگن کے کہ جس کی بنیاد ہی اس کے رب نے ایک دوسرے کی تسکین اور نسل انسانی کو پھیلانے کے لیے رکھی تھی آج کے معاشرے نے اسے پامال کر کے رکھ دیا۔
مرد کو معاش میں کھپا دیا اور عورت کو زندگی کی آسائش میں لیکن یہاں پر بھی ختم نہیں ہوتی جہالت اس سے آگے یہ کہ اب عورت اپنی مرضی کے نعرے بلند کرتی نظر آتی ہے جو کبھی گھر کی آرائش اور اولاد کی پرورش کی فکر میں گم ہوتی تھی آج اسے me time زیادہ عزیز ہوگیا ہے اور مرد تو وہ معاش میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے پھر گھریلوں تسکین نہ ملنے کی صورت میں غصہ اور تیش میں آکر چیخنا چلانا اس کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے زوجیت کے اس جوڑے کی اولاد انتہائی انتشار کا شکار معاشرے میں غلط کردار کی حامل بنتی نظر آرہی ہے انتہائی ذہنی مسائل سے بھرے گھر عموما بگاڑ کا سبب بنتے ہیں ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟
اس کی بنیادی وجہ مغربی ہتھکنڈے ہیں جو نہ صرف میڈیا کے ذریعے ڈراموں کی صورت میں ، بلکہ ایسے ایجنڈ اور گروہ ہمارے معاشرے میں اتارے جارہے جو اس بنیاد کو کچلنے کی سازش میں لگ چکے ہیں دنیا میں موجود وہ تنظیمیں جو یہود و نصاریٰ کے لیے کام کر رہی ہیں ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج مسلمان معاشرہ ہے اور اس کو شکست ایک ہی صورت میں ہوسکتی ہے کہ ان کی بنیاد کو ہی کمزور کردیا جائے۔
آج سے پہلے اسلامی معاشرہ ایسے ہی مستحکم تھا کہ اس میں موجود ہر فرد اپنے حصے کا کام کر رہا تھا اور دنیا میں غالب نظر آتا تھا لیکن جیسے ہی یہود کی عقل نے ہوش پکڑے اس نے الومیناٹی، صیہونی اور فری میسن کی شکل میں معاشروں میں بگاڑ پیدا کیا اور نسل انسانی پر حملہ کیا جس کی واضح مثال یورپ ہے آج ان کی حکومت تو مضبوط ہے لیکن معاشرہ مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور اور اب وہ مسلم معاشرے کے در پر ہیں اس منصوبے پر تمام قومیں ان کا ساتھ دے رہی ہیں بالکل اسی حدیث کے مفہوم کی پیشن گوئی کے مطابق کہ تمام قوموں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر صحابہ نے پوچھا کیا مسلمان تعداد میں کم ہونگے فرمایا نہیں تعداد میں کثیر ہونگے لیکن حیثیت سمندر میں جھاگ برابر۔۔
آج واضح نظر آتا ہے کہ ہمارے مرد و زن ہر اس گمراہ راستے کا سفر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو گھروں کو تباہ کررہی ہے۔
اللہ ربی ہمارے گھروں کو جوڑ کر رکھے ہمیں ایک دوسرے کا بہترین ساتھی بنا دے ۔۔۔آمین
