چیٹ جی پی ٹی

یوں تو انٹرنیٹ پر معلومات سرچ کرنے کے لیے متعدد سرچ انجن موجود ہیں لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے گوگل نے اس حوالے سے اپنی اجارہ داری قائم رکھی ہوئی ہے۔تاہم گذشتہ برس کے آخر میں لانچ ہونے والے تہلکہ خیز چیٹ باٹ کی بے پناہ مقبولیت کے باعث اب بظاہر اسے بھی خطرہ درپیش ہے۔

 چیٹ جی پی ٹی ایک مصنوعی ذہانت سے لیس اوپن اے ائی چیٹ بوٹ ہے جسے نومبر 2022 میں تیار کیا گیا۔ اسے اوپن اے ائی بوٹ کے جی پی ٹی 3.5 اور جی بی ٹی 4 گروپ کے بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) کے اوپر بنایا گیا ہے اور نگرانی اور جواب سیکھنے والی دونوں تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے اسے بہتر بنایا گیا ہے۔

ChatGPT کو 30 نومبر 2022 کو ایک پروٹو ٹائپ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا۔ اس نے معلومات کے بہت سے شعبوں میں اپنے تفصیلی جوابات اور واضح جوابات کی وجہ سے دنیا کی توجہ حاصل کی۔  تاہم، اس کی ناہموار حقائق کی درستگی کو ایک اہم خرابی کے طور پر شناخت کیا گیا ۔  ChatGPT کے اجراء کے بعد، OpenAI کی قدر کا تخمینہ امریکی ڈالر29بلین 2023 میں لگایا گیا۔ جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ صارفین نے چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے صارفین کو ان کے سوالات کے متنازع جوابات بھی مل سکتے ہیں اور اس کا رویہ کچھ معاملات میں متعصبانہ بھی ہو سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ یو بی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صادق علی خان سے ہم نے سوال کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کیا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں اور ہم اس سے کس طرح فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جسکے جواب میں انکا کہنا تھا کہ:

“چیٹ جی پی ٹی اوپن اے ائی کمپنی نے2015میں لانچ کیا جو کہ اس کا فرسٹ ورژن تھا۔اور یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیس چیٹ بوٹ ہے۔ چیٹ بوٹ ہم زیادہ تر اس وقت ڈیویلپ کرتے ہیں جب ہم اس سے سیلف لرننگ کے ذریعے سوال جواب چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس سافٹ وئر کواستعمال کرتے ہوئے اس کا جواب دے۔اگر ہم اس کے فوائد کی بات کریں تو اس کے فائدے بہت سے ہیں جیسے کہ یہ سیلف لرننگ ٹول ہے کہ جو بھی سوال ہم اس سے کرنا چاہیں اپنی صحت کے حوالے سے، کاروبار کے حوالے سے، اسسائنمنٹس کے حوالے سے، صحت کے حوالے سے یا بزنس کے حوالے سے یہ اپ کو فوراً اس کا جواب دیتا ہے”۔

اس وقت سوشل میڈیا پر نوجوان طلبا اے آئی چیٹ بوٹ سے سب سے زیادہ خوش ہیں کیونکہ اب انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کا کام کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے امریکی ریاست نیویارک کی جانب سے اسکولوں میں چیٹ جی پی ٹی پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ بچے صرف اسی پر انحصار کرتے ہوئے کام نہ کریں۔

چیٹ جی پی ٹی دراصل کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر بنائے سافٹ ویئرز میں تازہ ترین اضافہ ہے جسے کمپنی کی جانب سے جینرویٹو پری ٹرینڈ ٹرانسفورمر یا جی پی ٹی کہا جا رہا ہے۔

کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم صارفین سے فیڈ بیک حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اس نظام میں بہتری لائی جا سکے”۔

چیٹ جی پی ٹی سے اگر آپ کوئی بھی سوال پوچھیں تو یہ آپ کو اس حوالے سے ایک مفصل اور بہتر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چاہے آپ اس سے کوئی نظم لکھوائیں یا اپنے اسکول کی اسائنمنٹ میں رہنمائی حاصل کریں، یہ سافٹ ویئر آپ کو اکثر مایوس نہیں کرے گا۔

چیٹ جی پی ٹی کے ایک پچھلے ورژن کو انسانوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایلون مسک کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ کے مطابق اس نظام کو ٹوئٹر کے ڈیٹا کے ذریعے بھی سیکھنے کا موقع دیا گیا تھا۔

 اوپن اے آئی کے بانی اراکین میں ٹیسلا اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک بھی شامل تھے تاہم اب وہ اس کے بورڈ میں شامل نہیں جبکہ انہوں نے بعد میں لکھا کہ انہوں نے ’فی الحال‘ ڈیٹا کی رسائی روک دی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے نتائج نے اکثر افراد کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا ہے۔

 اوپن اے آئی چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کی ایک ٹویٹ میں چیٹ جی پی ٹی کی خامیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس میں بہتری لانے کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

سیم آلٹمین کا کیا گیا ٹوئٹ: اوپن اے آئی کے بانی کا ایک جگہ یہ بھی کہنا تھا کہ اس چیٹ فارمیٹ میں مصنوعی ذہانت کو ’سوالات پوچھنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے، غلط سوچ کو چیلنج کرنے اور غیر مناسب سوالات کو مسترد کرنے کی بھی آزادی ہوتی ہے۔

میشیبل نامی ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ سے منسلک صحافی مائیک پرل نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے متنازع باتیں اگلوانا مشکل ہے۔

مائیک پیرل نے لکھا کہ ’اس کا دقیانوسی باتوں سے گریز کرنے کا نظام بہت مؤثر ہے۔‘

تاہم اوپن اے آئی نے خبردار کیا ہے کہ “چیٹ جی پی ٹی کبھی کبھار بظاہر درست محسوس ہونے والے لیکن غلط اور متنازع جوابات لکھ دیتا ہے”۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس ماڈل کو مزید محتاط ہونے کی ٹریننگ دیں تو پھر یہ ان سوالوں کے جواب دینے سے بھی گریز کرتا ہے جن کے درست جوابات اسے معلوم ہوتے ہیں۔

جب ہم نے اس آرٹیکل کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے بات کی تو اس نے انکشاف کیا کہ “وہ ایک محتاط انداز میں انٹرویو دینے والا سافٹ ویئر ہے جو اپنی بات کو انگریزی میں واضح اور درست انداز میں بتا سکتا ہے”۔

جب ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان لکھاریوں کی نوکریوں کو خطرہ ہے تو اس کا جواب نفی میں تھا۔ اس نے کہا کہ “میری طرح کے مصنوعی ذہانت کے نظام لکھاریوں کو لکھنے اور سوچنے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن یہ اس لکھاری پر ہے کہ وہ اس حوالے سے حتمی چیز کیا بناتا ہے”۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام کے معاشرتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ:

“اس حوالے سے اندازہ لگانا مشکل ہے”۔

چیٹ جی پی ٹی کی سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت کے بعد متعدد صارفین یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اس میں گوگل کا متبادل بننے کی صلاحیت ہے۔

دیگر صارفین نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اب صحافیوں کی نوکریوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ٹاؤ سینٹر فار ڈیجیٹل جرنلزم کی ایملی بیل اس بارے میں پریشان ہیں کہ کہیں پڑھنے والے اس سے دھوکا نہ کھا بیٹھیں۔

ہم نے جب کراچی یونیورسٹی کے شعبہ یو بی آئی ٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صادق علی خان سے یہ سوال پوچھا کہ چیٹ جی پی ڈی کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ:

“سب سے بڑا نقصان جو اس وقت ٹیچرز کمیونٹی اور ریسرچ کے طلبہ دیکھ رہے ہیں وہ یہ کہ طلبہ نے اسے کاپی پیسٹ ٹول کے طور پر استعمال شروع کر دیا ہے۔ طلبہ اب اپنے دماغ کا زیرو فیصد استعمال کرتے ہوئے پورے پورے اسسائنمنٹس، آرٹیکلز، تھیسز وغیرہ چند منٹوں میں حاصل کر لیتے ہیں۔ دراصل اس میں ہوتا یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کو اکٹھا کر کے نالج بیس جواب تیار کرتا ہے کیونکہ اس میں اے آئی بیس الگورتھم موجود ہے تو یہ تمام ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ہمارے مطلب کا جواب چند منٹوں میں ہمیں دے دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے اب ہم کتابوں سے بہت دور جاتے جا رہے ہیں”۔

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ اب چیٹ باٹ کے ذریعے انٹرنیٹ پر موجود حالیہ معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

اس سے قبل مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلنے والے اس نظام کی ٹریننگ ستمبر 2021 سے پہلے والی معلومات پر کی گئی تھی۔

اس تبدیلی کے باعث کچھ پریمیم صارفین چیٹ باٹ سے حالاتِ حاضرہ سے متعلق سوالات پوچھ سکیں گے تاہم اوپن اے آئی کے مطابق یہ سہولت جلد عام صارفین تک بھی پہنچا دی جائے گی۔

اوپن اے آئی نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کے چیٹ باٹ جلد صارفین سے گفتگو بھی کر پائے گا۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں کہ اب تک چیٹ جی پی ٹی انٹرنیٹ کو سرچ کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکی تھی تاہم ایک اہم وجہ کمپیوٹنگ پر آنے والے اخراجات ہیں۔ یہ عموماً کہا جاتا ہے کہ ہر سوال کے اوپن اے آئی کو کچھ سینٹس دینے پڑتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس پر موجود محدود ڈیٹا تحفظ کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی انٹرنیٹ پر موجود غیر قانونی یا خطرناک مواد کو کسی سوال کے جواب میں شائع نہیں کر سکتا۔ جب چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا گیا کہ اسے صارفین کو تازہ ترین معلومات تک رسائی دینے میں اتنا وقت کیوں لگا تو اس نے تین جواب دیے۔

اس کا کہنا تھا کہ “ایک تو یہ کہ لینگوج ماڈلز بنانے میں بہت وقت لگتا ہے اور اس کے لیے متعدد افراد کی ضرورت ہوتی ہے، تازہ ترین معلومات کا استعمال کرنے سے ممکنہ طور پر غیر مستند معلومات سامنے آسکتی تھیں اور تازہ ترین معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں پرائیویسی اور قواعد کے مسائل بھی درپیش تھے خاص طور پر ایسے مواد کو بغیر اجازت استعمال کرنا جس کے کاپی رائٹ موجود نہ ہوں”۔

چیٹ جی پی ٹی نئے فیچر اے آئی سیکٹر کو درپیش بڑے مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس کو اچھے طریقے سے استعمال کرنے کے لیے شاید تھوڑی نرمی کرنے کی ضرورت پڑے لیکن اس صورت میں یہ ٹیکنالوجی غلط استعمال کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ مزید خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔