بابا کا بچپن صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں گزرا جو اب پاکستان کا حصہ ہے، بابا اپنے بچپن کی یادوں کو اکثر ہم سے شئیر کرتے تھے۔
بابا نے اپنے آبائی شہر کے بارے میں بتایا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے وہاں ہندو آبادی اکثریت میں تھی اور یہ ہندو بڑے ساہکار اور تقریبا پورے کاروبار پر چھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے نہ صرف وہ متکبر ساہکار اپنے سےکم ہندوؤں کو نچلی اور کمتر ذات سمجھتے تھے بلکہ مسلمانوں کو بھی حقیرسمجھتے اگر کوئی مسلمان بچہ بھی ان کے قریب سے گزر جاتا اورغلطی سے اس کا ہاتھ یا لباس کا کچھ حصہ ان کو چھو جاتا تو نفرت سے انہیں دھتکارتے، اور فورا غسل کرنے کے لیے گھر کی طرف دوڑتے کہ اس مسلے (مسلمان نے) مجھے ناپاک کردیا (حالانکہ انکی غلاظت اور ناپاکی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے )
اسکول جاتے ہوئے اکثر بچوں کو تو سردی کے موسم میں شرارت سوجھتی اور جان بوجھ کر کسی ہندو کے بازو کو ہاتھ لگا کر گزر جاتے تھے تاکہ وہ سردی میں جاکر غسل کرے، خیر یہ تو بچوں کی شرارت تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ مسلمان ان کے درمیان احساس کمتری، کا شکار اور ڈرے سہمے رہتے تھے کہ کہیں یہ ہمیں نقصان نہ پہنچائیں، یہی صورتحال پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ تھی اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو الگ اسلامی ریاست کی اشد ضرورت تھی اس لئے پورے ہندوستان کے مسلمان جدوجہد آزادی کا حصہ بن گئے، بابا جب کراچی میں سندھ مدرستہ السلام میں پڑھتے تھے اس وقت آزادی کی تحریک بڑے زوروں پر تھی بابا اور سندھ مدرستہ اسلام کے اور بھی شاگرد کراچی میں ہونے والے قائداعظم کے جلسوں میں شرکت کرنا لازمی سمجھتے تھے، اس وقت تمام مکتبہ فکر کے ساتھ نوجوان نسل بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھی،(ان کے جوش وجذبے ذکر کرتے ہوئے بابا خود بھی پرجوش ہوجاتے تھے اوران کی آنکھوں میں ایک چمک آجاتی تھی) آخر سب کی جدوجہد سے علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر ملی، ہندوستان سے لٹے پٹے خاندان جب اس دھرتی پاک پر پہنچے تو سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن گئے محبتوں کے نئے رشتوں میں اس طرح جڑ گئے گویا وہ سب خوبصورت تسبیح کے دانے ہوں سبحان اللہ
بغیر تعصب اور نفرتوں کے ،بالکل اسطرح جیسے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورے جسم کو درد پہنچتا ہے، اس طرح پاکستان کے چاروں صوبوں میں بسنے والے ان مہاجرین کے ساتھ ایک جان دو قالب ہوگئے، اور اس طرح پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا، معرفت وجود میں انے والی یہ اسلامی ریاست حقیقت میں اسلام کا مضبوط قلعہ بنتی جارہی تھی ایٹمی طاقت بننے کے بعد دنیائے اسلام میں اسکی اہمیت مزید بڑھ گئی یہی چیز آج دشمنان اسلام کو کھٹک رہی ہے جس کے لئے وہ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور چالیں چل رہے ہیں جس کے لئے وہ مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں، وطن عزیز میں اندرونی طور پر تعصب اور نفرت پھیلائی جارہی ہے، شطرنج کے مہروں کی طرح کچھ نفوس کو استعمال بھی کیا جا رہا ہے جو اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے ان کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں لیکن محب وطن پاکستانی آج بھی ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں، رب العزت اس اسلام کے قلعے پاکستان کو دشمنان اسلام کے ہر شر سے محفوظ رکھے، اور دھرتی پاک سدا سلامت رہے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
آج اس وطن عزیز کو انہی جذبوں، حوصلوں، خلوص نیت اور آپس میں اخوت ویکجہتی کی ضرورت ہے جو آزادی کی شمع جلانے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر کے حصول کے لئے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے جذبات میں پیوست تھی،
وہ وقت آنے والا ہےکہ پاکستان کی عوام جاگ اٹھی ہے ایک پرچم تلے جمع ہورہی ہے اسلامی قیادت ہی ہمارے اس خواب کو حقیقت میں تعبیر کی طرف لے جائے گی۔ان شاءاللہ
