قیادت کیسے قیادت‘‘ تیارکرتی ہے’’

پانچ جنوری بعد نماز عشاء برادرمحترم سیدعبدالباسط شکیل صاحب مالک ہدیٰ پبلی کیشنز حیدرآباد دکن سے شرف نیاز حاصل ہوا۔ ملی و ملکی صورت حال اوردیگر مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شکیل بھائی ایک اعلیٰ ظرف اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں۔ اردو کتابوں کی طباعت واشاعت کے سلسلے میں آپ کے ادارے کو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ہرملاقات میں آپ کی شخصیت کاکوئی نہ کوئی پہلو ابھر کر سامنے آہی جاتا ہے۔ آپ کے محتاط رویے اور بامقصد گفتگو سے کوئی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آپ کی گفتگو ترغیب وتحریک اور تاثیر سے بھری ہوتی ہے۔

ہم محوے گفتگو ہی تھے کہ محمد اظہر الدین صاحب معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، تلنگانہ کی تشریف آوری نے گفتگو کو ایک نیا رخ دے دیا۔ محمد اظہر الدین صاحب علمی،ملی اور سماجی و سیاسی حلقوں میں اپنے اخلاص،دردمندی اور صلہ رحمی کی وجہ سے ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔نام اور شہرت سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ اقامت دین اور ملی خدمات میں موصوف کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کے دھیمے اورشفیق لہجے سے دل پگھلتے ہیں۔ اظہربھائی نے اپنے تحریکی تجربات کی روشنی میں بتایا کہ تحریکات کی اثر و نفوذ پذیری میں کس طرح امیر و مامور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بد سے بدتر حالات میں بھی مقاصد اور اہداف سے رو گردانی جائز نہیں ہے۔

اظہر بھائی نے بتایا کہ مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ، مولانا شفیع مونس ؒ، مولانا عبدالرزاق لطیفیؒ،مولاناعبدالعزیزؒ اور مولانا سراج الحسن ؒ نے کس طرح سے آندھیوں میں چراغ روشن کیے تھے۔سخت سے سخت حالات میں بھی ان کے پائے استقامت میں ذرہ برابرفرق نہیں آیا۔مولاناابواللیث اصلاحی ندویؒ کی زندگی امیر و مامور کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ ایک جیدعالم دین،بلندپایہ دانشور اور تحریک اسلامی کے ایک عظیم قائد تھے۔ مولانا 1948میں جماعت اسلامی ہند کے امیر مقرر ہوئے۔ آپ 1948سے1972 اور1981 سے 1990 تک جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے۔آزادی کے بعد سخت اور صبر آزما حالات میں تحریک اسلامی کے قافلے کو سنبھالا۔ ملت اسلامیہ ہندکی بروقت اورصحیح رہنمائی کی سعی وجستجوکی۔ آپ نے تحریک اسلامی کے ایک چھوٹے سے پودے کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ایک سایہ دار ثمرآور درخت میں تبدیل کردیا۔

قابل غور پہلو یہ ہے کہ مولانا 1948سے 1972 لگاتار چوبیس سال جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے۔ جب1972 میں آپ امارت کے بوجھ سے سبکدوش ہوئے تب جماعت کے دفتر واقع راجدھانی دہلی سے اپنے گاؤں چاند پٹّی کے لیے رخت سفر باندھا۔ رفقاء جانتے تھے کہ اگر وہ انہیں ریلوے اسٹیشن تک چھوڑنے آئیں گے تو وہ منع کردیں گے۔ رفقاء خاموشی سے آپ کو بتائے بغیرآپ کو رخصت کرنے ریلوے اسٹیشن پہنچے۔آپ حسب ضرورت نمائندگان کے اجلاس میں شریک ہوتے اور اپنے مشوروں سے تحریک کی سمت و رفتار کو جہت عطا کرتے۔ قیام چاند پٹّی کے دوران رفقاء جب مولانا سے تحریکی معاملات پرخط و کتابت کرتے تو آپ اسے امیر جماعت سے رجو ع کرنے کا مشورہ دیتے۔ اپنے تجربات اور دانش و بینش کو آپ نے نئے امیر کے لیے کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ اطاعت امیر کی روشن مثال قائم کی۔ مولانا نے دنیا کی گرد بھی اپنے دامن پرنہیں پڑنے دی۔ کہاں دارالحکومت دلّی کی شہرت و منصب بھری زندگی اور کہاں گاؤں کی گمنام زندگی۔ لوگ حیران تھے کہ کیسے مولانا نصف صدی سے زیادہ عرصہ رام پور اور دلّی جیسے بڑے شہر میں گزارنے کے بعد کس شان بے نیازی سے دامن جھٹک کر واپس اپنے گاؤں (چاند پٹّی) چلے آئے۔

آج بھی دیہات میں رہنا نہایت مشکل کام ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ایک بڑی جماعت کا تعلیم یافتہ، شہرت یافتہ عظیم قائد امارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوکر ایک ایسے گاؤں میں نو سال زندگی گزارتا ہے جہاں کسی قسم کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔1981 میں آپ کے کندھوں پر پھر سے امارت کی بھاری ذمہ داری ڈالی گئی۔ جب آپ کا انتخاب عمل میں آیا اس وقت آپ اپنے گاؤں چاندپٹّی میں تھے۔کہا جاتا ہے کہ مولانا عبدالعزیزؒ اور دیگر رفقاء نے چاندپٹّی پہنچ کر آپ کو امارت کی ذمہ داری قبول کرنے پرآمادہ کیا اورمرکزی دفتر لے آئے۔

اب اس قدرسخت تربیت ذات کاتصور بھی محال ہے۔ ہمارے اسلاف کی زندگیاں تقویٰ،خداترسی اور کسرنفس سے مملو تھی۔جنہیں دیکھ کراللہ یاد آجاتا تھا۔سابق صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین نے مولانا کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’مولاناابواللیث ندوی کودیکھ کرقرون اولی کے صحابہ یاد آجاتے ہیں‘‘۔

اظہر بھائی نے ایک بڑی اہم بات بتائی کہ جب 1981 میں مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ کا انتخاب عمل میں آیا آپ نے اس وقت سراج الحسنؒ کو (جو آپ کے بعد امیر جماعت مقرر ہوئے) سارے ملک کادورہ کرتے ہوئے ہر رکن جماعت سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے ان کے جذبات و احساسات سے واقفیت حاصل کرنے کی اہم ذمہ داری سونپی۔ مولانا سراج الحسنؒ لگا تارنو،دس سال تک اس مہم میں مصروف رہے۔اظہر بھائی نے بتایا کہ جب سراج الحسنؒ حیدرآباد تشریف لائے تو مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے اظہر بھائی کو ساتھ رکھتے تھے، لیکن جب کسی رکن جماعت سے ملاقات کرنا ہوتا اس وقت اظہر بھائی یا کسی اور کو بھی اپنے ساتھ نہیں رکھتے تھے بلکہ انہیں اس بات کی خبرتک نہیں ہونے دیتے تھے۔ اظہر بھائی نے بتایا کہ کئی بار مولانا سراج الحسنؒ کو ارکان کی برہمی اور شدید جذبات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔جس کا آپ نے بڑے تحمل سے سامناکیا۔اس سارے عمل کے ذریعے ہر رکن جماعت قیادت سے جڑگیا۔ قیادت ارکان کے احساسات وجذبات سے باخبر ہوئی۔ قیادت نے رفقاء کے احساسات کو بڑی سنجیدگی سے سنا اوران کے مشوروں اورتجاویز کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔امیر و مامور کے درمیان حائل اجنبیت کی دیوار گرگئی۔

مولانا ابواللیث ندوی ؒ نے اپنے اس مدبرانہ عمل سے مستقبل کی ایک موثر قیادت کو تیار کیا۔ امیر و مامور میں ایک اٹوٹ وابستگی کو راہ دی اور ثابت کردیا کہ کس طرح ایک مثالی قائد مستقبل کی قیادت کو تیار کرنے میں حکمت اور دانشوری سے کام لیتا ہے۔تحریک اسلامی شخصیت پرستی کی مخالف ضرور ہے لیکن یہ قدرشناسی کے جذبے سے عاری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کاروان حق کے اس قافلے میں شریک ہرفردکی حفاظت فرمائے۔ انہیں استقامت عطا فرمائے۔اقامت دین کے لیے اپنی طاقت،توانائی اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ تحریک اسلامی کی حفاظت فرمائے۔آمین۔

فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔