خوشحالی ہمارامقدربن سکتی ہے؟

چین کی اقتصادی ترقی کا آغاز 1978ء میں ہوا جب چینی حکمران ڈینگ ژیاوپنگ نے چین کی معیشت کو عالمی سطح پر کھولنے کی پالیسی شروع کی۔ اس پالیسی کا مقصد تھا کہ چین اپنے داخلی مسائل سے نجات پائے اور بیرونی دنیا سے تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کرے۔ اس کے بعد چین نے اپنی معیشت کو مختلف مراحل میں تبدیل کیا، جیسے کہ صنعتی ترقی، معیشت کا آزادانہ کاروباری ماڈل اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا۔چین کی تیز ترین ترقی کا ایک اہم حصہ اس کا صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہے۔ چین نے اپنی صنعتوں کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی میں جدت لانے کے لئے کثیر سرمایہ کاری کی۔ چین کے بڑے شہر جیسے شنگھائی اور بیجنگ نے عالمی سطح پر خود کو مضبوط اقتصادی مرکز کے طور پر منوایا۔چین کی ترقی کا ایک اور اہم پہلو اس کا تجارتی اثر و رسوخ ہے۔ چین نے عالمی تجارتی معاہدوں میں اپنی شمولیت کے بعد اپنی معیشت کو مزید مستحکم کیا۔ چین نے آزادانہ تجارتی پالیسی اپنائی اور دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے تجارتی تعلقات کو بڑھایا۔چین نے اپنے اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مائیکرو معیشتی پالیسیوں کو بھی مستحکم کیا۔ جیسے کہ چین نے اپنے مالیاتی نظام کو بہتر بنایا، غربت میں کمی کی، اور ہنر مند مزدوروں کی تربیت پر خاص توجہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے اپنے شہریوں کے معیارزندگی کو بہتر بنانے کے لئے صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں پر سرمایہ کاری کی۔

چین نے عالمی تنظیموں جیسے کہ اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا اور مختلف عالمی مسائل پر اثر انداز ہوا۔ اقتصادی طاقت کی بدولت چین کو عالمی سیاسی معاملات میں بھی اہم مقام حاصل ہوچکا ہے۔چین نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی کا پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے،اس شعبے میں بہت سی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ مضرماحولیاتی اثرات کو کم کیاجاسکے۔ چین نے 2060 ء تک کاربن نیوٹرل ہونے کامنصوبہ بنایاہے، جو دنیا بھر کے ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔چین کا معاشی ماڈل ان ممالک کے لئے ایک نمونہ ہے جو تیز تر ترقی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس ماڈل نے ثابت کیا ہے کہ ترقی کے لئے صنعتی بنیاد پر توجہ مرکوز کرنا، عالمی تجارت میں شراکت داری بڑھانااور حکومت کی حکمت عملی سے معیشت کو فروغ دینا ممکن ہے۔ چین کی تیز ترین ترقی دنیا کے لیے ایک متاثر کن مثال بن چکی ہے۔

دوسروں کے اندورنی معاملات میں عدم مداخلت اورکسی کیلئے خطرہ بنے بغیرتیزترین ترقی کی جومثال چین کی حکومت اورعوام نے مل کرقائم کی ہے پاکستان کواس سے فائدہ اُٹھاناچاہیے ۔خوش قسمتی سے چین پاکستان کا ہمسایہ بھی ہے گہرادوست بھی اوربے شمارمنصوبوں میں شراکت داربھی ہے۔چین کی ترقی سے سبق سیکھ کرہمیں اپنے لیے نئی راہیں تلاش کرنی چاہیے جن میں پاکستان کوچین کاتعاون بھی میسرآسکتاہے۔

ہمارے لیے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ چین کاہرشخص اپنے شعبے میں بھرپورمہارت ،محنت اورلگن سے کام کرتاہے جوپورے ملک کی ترقی کاباعث بنا۔اس بات میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ جب افراداپنے شعبے میں مہارت حاصل کرکے محنت اورلگن سے کام کرتے ہیں تونہ صرف ذاتی طورپرفائدہ حاصل کرتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی تیزترین حصہ ڈالتے ہیں ،اس سلسلہ میں حکومتوں کی جانب سے جامع پالیسیوں اوراقدامات کی عدم دستیابی کی صورت کسی بھی ملک کے عوام کی محنت اورمہارت کے فوائد پوری طرح حاصل نہیں ہوتے یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے سبب ملک ترقی میں پیچھے رہ جاتے ہیں،ہم پاکستانی بھی اپنے اپنے شعبے میں مہارت حاصل کریں،محنت ،لگن کے ساتھ کام کریں اورحکومت ساتھ دے توخوشحالی ہمارامقدربن سکتی ہے۔آزاداورخومختارمعاشی پالیسی کوآگے بڑھانے کیلئے دوسرے ممالک کے اندونی معاملات میں عدم مداخلت کارویہ اختیاکرنااوراپنے معاملات میں دوسروں کی مداخلت سے بچناانتہائی اہم ہے۔

ہمارے سامنے چین کی مثال موجودہے لہٰذاہمیں فوری طورپرچینی پالسیوں کوکاپی کرکے تیزی کے ساتھ اقدامات اُٹھانے چاہیے ۔حکومت بغیرتاخیرکیے جدید صنعتی اورزرعی ٹیکنالوجی کے ساتھ چینی ماہرین کے زیرنگرانی پاکستانی محنت کشوں کی تربیت کااہتمام کرے۔تعلیم کے شعبے میں بھی چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے پاکستانی محنت کشوں کوچین بھیجاجائے اورچینی محنت کشوں کوپاکستان بلایاجائے تودونوں اطراف سیکھنے کے مواقع میسرآسکتے ہیں۔