خوشیوں کی قدردانی

میرا بڑا بیٹا راحت مجھے کہنے لگا امی کیسا وقت آگیا ہے کہ بچے کسی بھی موقع پر بڑی سے بڑی خوشی ملنے پربھی خوشی کا اظہار ویسے نہیں کرتے جیسے ہم کرتے تھے نئے کپڑے اور جوتے آپ لوگ ہمارے لئے لاتے تو ہم اتنے خوش ہوتے تھے کہ دل چاہتا ابھی پہن لیں آپ ہمارے لئے ایک کہانی کی کتاب بھی لاتی تو دل باغ باغ ہو جاتا تھا لیکن آج کے بچے اف ۔ چاہے ماں باپ انکے لئے جو بھی کریں لیکن لگتا ہے وہ زیادہ خوش نہیں ہوئے جیسا کہ ہم ہوتے تھے۔

میرے بیٹا جو خود بھی دو بچوں کا باپ ہے اسنے کچھ غلط نہیں کہا۔آج مجھے تقریبا چاروں طرف یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے ماں باپ دونوں اپنے بچوں کو ہر طریقے سے خوش کرنے میں مصروف ہیں لیکن بچے کچھ ہی دیر مشکل سے خوش ہوتے ہیں پھر دوسری فرمائش سامنے لاتے ہیں ،میں اپنے چار سالہ پوتے محمد ارحم کے لئے ایک قیمتی کھلونالائی ،دیکھ کر بہت خوش ہوا کہنے لگا دادو شکریہ یہ بہت اچھا ہے۔ اسکی خوشی دیکھ کر مجھے بھی اطمینان ہوا کہ شکر اسے میرا تحفہ پسند آیا۔ دو گھنٹوں کے بعد وہ میرے کمرے میں میرا دیا ہوا کھلونا لیکر آیا اور کہا یہ زیادہ اچھا نہیں ہے آپ مجھے دوسرا کھلونا لاکر دیں،یہ صرف محمد ارحم کی بات نہیں بلکہ آج مجھے چاروں طرف یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔

مجھے اپنا بچپن یاد آگیا ماشاءاللہ ہمارا تعلق ایک نہایت خوشحال گھرانے سے تھا لیکن ہر چھوٹی چھوٹی خوشی کو دل سے محسوس کرتے تھے بلکہ اسکا بھرپور طریقے سے اظہار بھی کرتے تھے _۔

عید سے ایک ہفتے پہلے ہی عید کے کپڑے دیکھ کر ساری رات خواب میں بھی وہی کپڑے پہنے خوشیاں مناتے نظر آتے۔ چاند رات کوچچا ہم بہنوں کو چوڑیاں پہنوانے کے لئے بازار لیکر جاتے جسکی خوشی ہم دودن پہلے ہی سے اپنے اندر محسوس کرتے _اور پھر وہ چوڑیاں مہندی لگائے ہوئے ہاتھ ساری رات خوابوں میں جھلملاتے نظر آتے مشکل سے اماں کے کہنے پر دو تین گھنٹے سوتے کہ جلدی سے صبح ہو جائے اور ہم عید کے نئےکپڑے پہنیں، پھر دادا جان کی دی ہوئی عیدی جو ایک ایک روپیہ ہوتی تھی اس پر دل سے خوشی کا احساس ہوتا تھا اس پر مزید مکھن اماں کا یہ جملہ لگاتا تھا کہ تم لوگ کتنے خوش قسمت ہو کہ دادا تمہیں عیدی دیتے ہیں، اس جملے پر ہماری گردن مزید اکڑ جاتی تھی _ شاید اس خوشی کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اماں اکثر ہم بہن بھائیوں کے سامنے کہتی تھی کہ شکر الحمدللہ اللہ نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے کہ ہمارے بچے اور ہم اچھا کھاتے پیتے ہیں زندگی کی بہت سی آسائشیں ہمارے بچوں کو حاصل ہیں جس سے ہمارے آس پاس بہت سے لوگ محروم ہیں _یہ ہمیں ملنے والی خوشی پر مطمئن ہونے کی بڑی وجہ تھی ،اسی طرح باوجود خوشحال آسودگی کے اماں ہماری جائز خواہشات میں سے بھی دو پوری کرتی تو ایک کو مثبت انداز میں نظر انداز بھی کردیتی تھی یہ فارمولا میں نے بھی استعمال کیا الحمدللہ شاید یہی وجہ تھی کہ آج میرے بڑے بیٹے نے بھی یہی کہا کہ ہم ہر چھوٹی چھوٹی خوشی کو بھی بھرپور انداز میں انجوائے کرتے ہیں ۔

یقینا ہمارے بزرگوں کا ہمیں یہ احساس دلانا کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ یہ خوشی ہمیں ملی ہے جسکی وجہ سے ہم بچپن میں اس خوشی کی دل سے قدر کرتے تھے بلکہ اظہار بھی کرتے تھے ویسے تو بچے کی تمام ضروریات کو ماں باپ کی خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ پورا کریں لیکن کبھی کبھار ایک آدھ کو مثبت انداز سے ٹالنا بھی چاہیے تاکہ انہیں اس کی قدر بھی ہو، شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی اپنے بچپن کی ان ملی ہوئی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو یاد کرکے خوش ہوتے ہیں اور اکثر اپنے بچوں سے بھی شیئر کرتے ہیں جسکا احساس میرے بیٹے کے دل میں بھی تھا _۔