شخصی آزادی

ارقم، میز سے کتابیں سمیٹتے ہوئے میں نے اپنے بیٹے کو آواز دی۔ ابھی آیا ! اس نے قدرے بے نیازی سے جواب دیا۔ وہ غالباً اپنے کسی سوال کو حل کرنے کی تک و دو میں تھا۔ مجھے چونکہ بازار جانا تھا تو اسی عجلت میں، میں غصے سے اسکی جانب چلی گئی ۔”تم نے سنا نہیں میں آواز دے رہی ہوں اور تم سن نہیں رہے۔ میں رکے بغیر بول رہی تھی ۔ ماما میری بات تو سنیں ارقم نے التجایہ لہجے میں کہا میں پڑھ رہا تھا سب کتابیں ارد گرد تھیں بس آخری سوال مکمل ہونے والا تھا سوچا مکمل کر کے آپ کی طرف آتا ہوں۔ میں جو ابھی بھی غصے میں تھی اس کے ارد گرد بکھری کتابیں دیکھ کر اپنی جلدبازی کا ادراک کر چکی تھی۔ اچھا اچھا ٹھیک ہے میں نے جلدی بات ختم کی۔ چلو ادھر آؤ اور یہ دیکھو میں دوبارہ موضوع گفتگو پر واپس پلٹی۔ جی بتائیں اس نے کہا۔ یہ کمرہ میں نے تمھارے لئے مختص کیااب تم یہاں اپنی مرضی سے اسکو استعمال کر سکتے ہو۔ ایک انتہائی خوشی سے بھرپور چہرے کے ساتھ اس نے بےیقینی سے پوچھا کیا واقعی!!! میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہمارا گھر کافی چھوٹا تھا بیٹی کی شادی اور ارقم کے والد کی وفات کے بعد اب ایک کمرہ یکسر خالی تھا جس میں اکثر گھر کی فالتو اشیاء کے ساتھ بیٹی کے جہیز کا ضروری سامان ہوتا تھا اب میں نے جب صاف کیا تو کمرہ تقریباً خالی ہو گیا اس لئے ارقم کو دے دیا۔ ارقم تو جیسے ہوا میں تھا میں اس کمرے کو ایسے رکھوں گا یہ چیز لاؤں گا وہ نکال دوں گا۔ بس اس نے تو یک دم سب سوچ لیا۔

اسکی خوشی دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ کس چیز کی خوشی ہے؟ کمرہ ملنے کی؟ یا با اختیار ہونے کی؟ کسی بھی عمل میں شخصی آزادی کا ہونا آپکو با اختیار بناتا ہے۔ با اختیار ہونا کس کو نہیں پسند ہوتا کبھی کبھی مادی اشیاء پر بااختیار ہونا تو ہماری شخصیت کو پر اعتماد بنا دیتا ہےمگر اگر یہی اختیار ہمیں رشتوں پر ہو۔ اگر چیزوں کی طرح ایک کمرے کی طرح ہم رشتوں پر با اختیار ہوں تو ایک بہت بڑی ذمہ داری ہم پہ عائد ہو جاتی ہے۔ اس اختیار کا صحیح استعمال ہر کوئی نہیں کر سکتا ۔ کوئی ہم پہ منحصر ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہم جواب دہ ہیں اپنے لاگو کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے لئے، اس سب میں آپ کو دوسروں کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھنا ہوتا ہے جو عام طور پر رکھا نہیں جاتا۔ ایک کمرے میں رکھے سامان میں ردوبدل ہو سکتا مگر ایک مکمل انسان میں ردوبدل کرنا اسکی مرضی کے مخالف اور با اختیار ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھانا اخلاقیات کی کمزور ترین سطح ہے۔

کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ با اختیار ہونا زندگی میں کتنا معنی رکھتا ہے۔ جو شخص ہر اختیار رکھتا ہو اسکو ادراک ہی نہیں ہوتا کہ جن افراد پر اسکا اختیار ہے وہ اپنی شخصی آزادی کو کھو کر کتنے گھٹن کا شکار ہے۔

کیسے آپ کسی کے نگران بن کر سکوں سے سو جاتے ہیں۔ کبھی اپنے کمرے کو اپنے مطابق بنا کر بھی وہ مکمل نہیں لگتا کیونکہ اس میں کسی اور کا مشورہ درکار ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی کے کچھ الفاظ اس کمرہ کا حلیہ بدل دیں کیونکہ اگر کسی چیز کے مالک ہیں آپ تو ضروری نہیں اسکے متعلق لیے گئے تمام فیصلے درست ہوں۔ کسی چیز یا انسان اگر آپ پہ منحصر ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ ان سے انکی شخصی آزادی چھین لیں اور اپکو احساس تک نہ ہو۔

اپنا کمرا اچھا بنانے کے لئے چیزوں کی ضرورت کے ساتھ اسکی سجاوٹ کا بھی خیال رکھیں یہ نہ ہو کہ چیز سجی رہ جائے اور اسکی ضرورت نہ پڑے یا ضرورت کی چیز اچھی طرح سے جگہ متعین نہ کی ہویا سب کیا ہو مگر کس کو کہاں رکھنا ہے اسکی سمجھ نہ ہو تو اگر آپکو اپنا کمرہ بنانا ہے تو اسکو متعین کرنے کا شعور بھی سیکھنا پڑے گا۔