ماں کا دودھ انمول تحفہ

جس طرح ایک تعلیم یافتہ ماں ایک مہذب معاشرے کی ضامن ہے اسی طرح ایک تندرست اور توانا بچہ بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ ماں کا دودھ نومولود بچے کے لئے خالق کائنات کی جانب سے ایک انمول اور گرانقدر تحفہ ہے۔ اللہ تعالی نے بچے کی خوراک کا اس کی پیدائش سے ہی بندوبست کر دیا اور ماں کے دودھ کی صورت میں ایسا قدرتی تحفہ عطا کیا جس کا نعم البدل ناممکن ہے۔

ماں کا دودھ وہ واحد خوراک ہے جو خاص طور پر بچے کے لئے معدنیات، پروٹین، وٹامنز اور فیٹی ایسڈز کے بہترین اجزا سے بھرپور ہوتا ہے، قرآن پاک میں سورہ بقرہ میں شیر خوار بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانے کا حکم دیا گیا لیکن دنیا میں ترقی کے رحجانات کے ساتھ مائوں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا رحجان بھی کم ہوا ہے۔ پاکستان نیشنل نیوٹریشن کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک گھر میں نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ نہیں پلایا جاتا جبکہ اڑتالیس فیصد مائیں صرف پانچ ماہ تک بچوں کو اپنادودھ پلاتی ہیں۔ سندھ میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں یہ شرح سب سے کم ہے۔

جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فقط ماں کا دودھ ہی بچے کی تمام  غذائی ضروریات پوری کرتا ہے، بچے کی پیدائش کے فورا بعد ہی بریسٹ فیڈنگ کروانی چاہیے، عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق ماں کو چاہیے کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے میں نومولود کو اپنا دودھ پلائے نیز بچہ جتنی بار بھی دودھ پئیے اسے نہ روکا جائے۔ نومولود کو پہلی بار دودھ پلانے کے لئے تجربہ کار نرسز یا گھر کی بڑی بوڑھیوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ایک آدھ بار کی کوشش سے بچہ خود ہی اپنی دلچسپی ظاہر کرتا ہے اور فیڈ لینا شروع کر دیتا ہے، نومولود کا ماں کے ساتھ جلد ازجلد جسمانی رابطہ جسے ’’کینگرو نگہداشت‘‘ بھی کہا جاتا ہے بچے کو ماں کا دودھ پینے کی جانب نہ صرف راغب کرتا ہے بلکہ اسے گرماہٹ اور تحفظ کا احسساس بھی دلاتا ہے بعض اوقات بچہ پیٹ بھر جانے کے بعد بھی ماں سے چمٹا رہتا ہے خاص طور پر اس وقت جب وہ تنہائی، خوف یا درد محسوس کر رہا ہویہ عین فطرت کے مطابق ہے اور اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی اکثریت دس سے پندرہ منٹ دونوں جانب سے دودھ پیتی ہے تاہم اگر کوئی بچہ ہر جانب سے تیس منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک دودھ پئیے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے ضرورت کے مطابق دودھ نہیں مل رہا۔

بچے کے لئے ماں کے دودھ کی بہت افادیت ہے، ماں کے دودھ میں کچھ ایسے انیٹی باڈیز موجود ہوتے ہیں جو بچے میں پیدا ہونے والے انفیکشن کے مقابلے میں مداخلت کی سب سے زیادہ قوت رکھتے ہیں۔ ماں کا دودھ غذایئت سے بھرپور ہوتا ہے اس میں وہ تمام نعمیتں موجود ہیں جو بچے کی نشو ونما کے  لئے ضروری ہیں۔ ماں کا دودھ ہر وقت اور مفت دستیاب ہے جبکہ ڈبے کا دودھ مہنگا ہوتا ہے۔

جب بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے تو ماں اور بچے کے درمیان ایک گہرا تعلق استوار ہوجاتا ہے ماں اور اس کے بچے کے جسم کے درمیان چودہ سینٹی میٹر کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس طرح ننھا سا بچہ اپنی ماں کے چہرے کو فورا پہچان لیتا ہے۔ دودھ پلانے سے بچے کا پیٹ بھرا رہتا ہے اور وہ مطمئن ہو کر اچھی نیند لیتا ہے، بریسٹ فیڈنگ سے بچے کو آنتوں کی بیماریوں سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر بھی کافی مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ایگزیما، الرجی، دمہ کے علاوہ ذیابیطس ٹائپ ون اور ٹو سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر ایسے مادے ہوتے ہیں جو شیر خوار بچوں کو سکون دیتے ہیں۔

خسرہ، چکن پوکس، تشنج، خناق، کالی کھانسی اور انفلوائزا جیسی بیماریوں سے بھی ماں کا دودھ تحفظ دیتا ہے، جو بچے ماں کے دودھ پر پرورش پاتے ہیں ان کا آئی کیو لیول اور دماغی صحت باقی بچوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ پینےوالے بچوں کا جسمانی وزن بھی نارمل رہتا ہے۔ بچے کو چھ ماہ کی عمر سے پہلے کوئی ٹھوس غذا نہیں دینی چاہیے۔ ماں کا دودھ بچے کو اچانک ہونے والی موت سے بھی محفوظ رکھتا ہے جسے سڈن انفینٹ ڈیتھ سینڈروم کہا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ماں کا دودھ پلانے سے سالانہ سات لاکھ سے زائد بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، ان میں زیادہ تر چھ ماہ سے کم عمر کے بچےشامل ہیں۔ بریسٹ فیڈنگ کا فائدہ دودھ پلانے والی مائوں کو بھی ہوتا ہے ۔ دودھ پلانے والی مائیں جسمانی طور پر صحت مند رہتی ہیں اور پیدائش کے بعد تیزی سے وزن میں کمی بھی لا سکتی ہیں۔ بچے کو دودھ پلانے سےروزانہ تقریبا پانچ سو اضافی کیلوریز خرچ ہوتی ہیں۔

بوتل کے ذریعے دودھ پینے والے بچوں میں پیٹ درد کی تکلیف بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔ پھر بوتل سے دودھ پیتے وقت، سر نیچا ہونے کی وجہ سے اکثر دودھ کان میں چلا جاتا ہے جو انفیکشن کا باعث بنتا ہے ۔

ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ ایکشن اور یونیسف کے مشترکہ تعاون سے ہر سال دنیا بھر میں یکم تا سات اگست کو ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کا ہفتہ منایا جاتا ہے پہلی بار انیس سو بانوے میں دنیا کے ایک سو بیس ممالک میں یہ ہفتہ منایا گیا۔ ماں کے دودھ کی اہمیت اور افادیت بہت زیادہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ کمیونٹی کی سطح پر آگاہی پروگرام تشکیل دئیے جائیں جن میں ماں اور بچے کی صحت پر روشنی ڈالی جائے، حکومتی ادارے اور غیر سرکاری تنظمیں اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں اور میڈیا پر بھی تشہیری مہم چلائی جائے جس میں یہ بتایا جائے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند ماں اور صحت مند بچے پر ہے، خواتین کو اس سلسلے میں آگاہی فراہم کی جائے کہ ایک صحت مند نسل کے پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلائیں، ڈبے اور بوتل کے دودھ پر انحصار کم سے کم کیا جائے تاکہ نئی نسل بیماریوں سے محفوظ رہ سکے۔