حرمتِ رمضان اوررمضان ٹرانسمیشن

رمضان المبارک کی فضیلت وحرمت کا خیال رکھنا ہمارے لئے بہت اہم ہے اس ماہ مبارک کے تقدس کو مدنظر رکھ کر اپنے معاملات زندگی کو برقرار رکھنا بھی بہت ضروری اور اہم ہے ،کیونکہ اس ماہ مبارک کی ہر گھڑی امت مسلمہ کے لئے حصول اجر وثواب کا ذریعہ ہے۔

اس ماہ مبارک میں تو روزے دار کو کچھ جائز امور سے بھی پرہیز کرنے کا حکم ہے یہاں تک کہ سحری سے افطار تک کسی بے روزہ دار کا کھلے عام سب کے سامنے کھانا پینا بھی غیر اخلاقی فعل تصور کیا جاتا ہے اور اسے روکا گیا ہےکہ اس ماہ مبارک کے تقدس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اس اسلامی ریاست کے ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمشن کے نام پر جو بیکار اور لہو ولہب سےبھرپور نشریات پیش کی جارہی ہیں وہ اس ماہ مقدس کا تمسخر اڑانے اور تماشے کے کچھ نہیں ، میں یہاں اینکرز کو تنقید کا نشانہ نہیں بنارہی ہوں بلکہ رمضان المبارک کے حوالے سے پیش کی جانے والی ان نشریات میں علمائے کرام اور سنجیدہ افراد کو بھی موقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رمضان المبارک کے حوالے سے پیش کئے جانے والی نشریات میں جو کچھ عوام کو دکھایا جارہا ہے اسے کسی طرح بھی رمضان ٹرانسمشن کا نام دینا سراسر ناانصافی اور غلط ہے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ،دیکھا جائے تو ناظرین میں سے اکثریت اس قسم کی نشریات پر اعتراض اور تنقید کرتی نظر آتی ہے ،لیکن متعلقہ چینلز اور انکے زمہ داران پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔

ایسی نشریات رمضان المبارک کے تقدس اور حرمت کے بالکل خلاف ہیں اور ایسی نشریات اسلام کے نام پر دھوکہ اور فریب ہے جس سے خصوصاً نئی نسل پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ، کم ازکم رمضان ٹرانسمشن کا نام دے کر دین اسلام کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خواتین ایسے پروگرام پسند فرماتی ہیں تو یہ بات سراسر غلط ہے میری کئی خواتین سے اس سلسلے میں بات ہوئی جنہوں نے ایسی نشریات، ان کی اینکرز اور مدعو کئے جانے والے خاص مہمان افراد پر برہمی کا اظہار کیا کہ دین کے نام پر کیا تماشا کیا جارہا ہے،اس لئے دین اسلام کی حرمت اور تقدس ماہ رمضان المبارک کو مد نظر رکھ کر ان نشریات کو بند کیا جانا چاہیئے۔