حلب، خبریں اور تجزیے۔ ماضی قریب کے جھروکے سے

                عالم اسلام اس وقت دشوار ترین دور سے گزررہا ہے۔ ہرجانب مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ مسلمانوں کو خون بہانے میں کوئی غیر نہیں ہیں مسلمان ہی ہیں۔ کہنے کو تو ہر مسلمان یہی کہتا نظر آرہا ہے کہ غیر ملکی و غیرمسلم طاقتیں مسلمانوں کا خون بہانے میں شریک ہیں۔ کہنے والے غلط بھی نہیں کہہ رہے لیکن سامنے کی بات یہ ہے کہ غیرملکی طاقتیں ہوں یا سازشیں، ان کا ہتھیار مسلمان ہی ہیں۔ ایک جانب اُن قوتوں کا سب سے مہلک حرب جنگ خود مسلمان ہیں اور دوسرے جانب وہ اپنے ایسے تمام ہتھیار جو اب ان کیلئے کسی کام کے نہیں رہ گئے ہیں وہ انھیں جنونی مسلمانوں کے ہاتھوں نہایت مہنگے داموں فروخت کرکے اپنے آپ کو امیر سے امیر کرکے مسلمانوں کی دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہوش آکے نہیں دے رہا ہے اور وہ دھوکے پر دھوکا اٹھائے جا رہے ہیں۔

                روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب سے 20 ہزار شہریوں کا انخلا ممکن ہوا جبکہ دو دنوں میں مجموعی طور پر 50 ہزار افراد شہر سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ آزاد ذرائع سے اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے انخلا کی تصدیق کرنا ناممکن ہے لیکن جنگ میں شدت آنے کے بعد وہاں سے ہزاروں لوگ پناہ کی تلاش میں سرکاری علاقوں کی طرف نکل آئے۔ آبادی کا انتقال بے شک اپنے لحاظ سے محفوظ مقامات کی جانب ہی ہو رہا ہوگا لیکن جو بات سوچنے اور غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں “محفوظ مقام” کی تعریف کیا ہے؟ کیا جنگ میں کسی بھی مقام کو محفوظ تصور کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ محفوظ مقام پر آجانے کے باوجود بھی، خوراک، ادویات، ضروریات زندگی کے لحاظ سے دیگر اشیا کی عدم فراہمی کے بعد زندگیوں کی حفاظت ممکن ہو سکے گی؟۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ محفوظ مقامات پر بھی زندگی کو مکمل طور پر محفوظ سمجھ لینا خوش گمانی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔

                یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ شامی فوج نے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب شہر کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے قتل کیے جانے کے خوف کی وجہ سے کئی باغی جنگجو ہتھیار نہیں ڈال رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ علاقے میں موجود باغی اسی وقت ہتھیار ڈالیں گے جب حکومتی افواج پیش قدمی کریں گی۔ پیرس میں شام کی صورتحال پر ہونے والی ایک الگ کانفرنس میں شریک امریکی وزیر خارجہ نے شام اور اتحادی ملک روس پر زور دیا ہے کہ جیسے جیسے شامی افواج حلب میں پیش قدمی کر رہی ہیں وہ اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ اب اندازہ لگائیں کہ جو وصف کبھی مسلمانوں کا ہوا کرتا تھا کہ جب وہ کسی فتح کئے گئے شہر میں داخل ہوتے تھے تو کوئی ایک جان بھی ان سے غیر محفوظ نہیں ہوا کرتی تھی، علاوہ وہ افراد جو مقابلے پر آمادہ ہوتے تھے۔ آج یہ نوبت آگئی ہے کہ ایک غیر مسلم امریکی ان کو یہ ہدایت دے رہا ہے کہ وہ پیش قدمی کی صورت میں کوئی ظالمانہ قدم نہ اٹھائیں۔

                باخبر درائع بتاتے ہیں کہ شام میں مشرقی حلب کا دو تہائی حصہ اب حکومت افواج کے زیرِ کنٹرول آ گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ شام کی خواہ موجودہ حکو مت ہو یا وہ جن کو باغی کہا جارہاہے، ہر دو جانب مسلمان ہی ہیں اگر ان دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک ہے تو دونوں ہی کلمہ گو ہیں۔ کون حق پر ہے اور کس کو باطل تصور کیا جائے، اس کا فیصلہ یا تو دونوں کے ضمیر کر سکتے ہیں یا پھر اللہ ورنہ تو دونوں ہی ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے جنون میں ہی مبتلا نظر آتے ہیں ۔ فرق ہے تو بس اتنا ہی ہے کہ ایک ابھی برسر اقتدار ہے اور اپنے اقتدار کی بقا اور طوالت کی جنگ لڑرہا ہے اور دوسرا اس پر قبضہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ ان دونوں کے بیچ نظریہ کہیں گم ہوا نظر آتا ہے۔

                جنگ جب خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے اور زندگیا غیر محفوظ ہوجاتی ہیں تو جان و مال کی حفاظت مقدم ہو جاتی ہے چنانچہ لوگ اپنی زندگی بچانے کی فکر میں ہر اس مقام کی جانب بھاگ جانے پر مجبور ہوجاتے ہیںجہاں انھیں تحفظ کا احساس ہو۔ اسی سلسلے میںاقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ حلب میں جاری لڑائی کے تیز ہونے اور پھیلنے کے خدشے کے باعث وہاں سے ہزاروں افراد کے نقل ماکانی کا امکان ہے۔

                جنگ جوں جوں طوالت اختیار کرتی جاتی ہے اس کے مدوجزر میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ جنگ میں شریک اگر کئی فریق ہوں تو ہر آنے والا دن نئی کہانی سنارہا ہوتا ہے۔ ایک اطلاعات کے مطابق مشرقی حلب میں حکومت کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں دباو بڑھنے کے بعد بعض باغی دھڑے نئے فوجی اتحاد کے قیام پر رضامند ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہے کہ شام میں تقریباً دس مسلح گروہ ہیں جو اس معاہدے میں شامل ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ ان کے زیر انتظام باقی علاقوں کا بہتر انداز میں دفاع کر سکیں گے۔اطلاعات کے مطابق مشرقی حلب میں حکومت کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں دباو بڑھنے کے بعد بعض باغی دھڑے نئے فوجی اتحاد کے قیام پر رضامند ہو گئے ہیں۔خیال کیا جا رہے کہ شام میں تقریباً دس مسلح گروہ ہیں جو اس معاہدے میں شامل ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ ان کے زیر انتظام باقی علاقوں کا بہتر انداز میں دفاع کر سکیں گے۔

                گو کہ حلب کی گلی کوچوں اور محلوں میں ہونے والی لڑائی کی صحیح صورت حال کے بارے میں معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کی لڑائی میں باغیوں کے ہاتھوں سے بڑا علاقہ نکل گیا ہے اور ماضی میں جس علاقے پر وہ قابض تھے اس میں سے صرف دو تہائی حصہ ان کے ہاتھوں میں رہ گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم سیرئن ابزرویٹری کا کہنا ہے کہ دس ہزار کے قریب لوگ یا تو سرکاری فوج کے زیر قصبہ علاقوں میں چلے گئے ہیں یا کرد وںکے زیر اثر شمالی ضلع میں منتقل ہو گئے ہیں۔مہاجرین کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے ترجمان سکاٹ کریگ نے بی بی سی کو بتایا کہ مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ان ڈھائی لاکھ افراد میں ایک لاکھ کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سٹیفن او برائن نے کہا کہ چھ دن قبل حلب پر شروع ہونے والی بمباری میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

                اگر اس ساری صورت حال کا بغور جائزہ لیا جائے تو بیشتر اسلامی ممالک اس وقت عملاً دو دو ریاستوں میں تقسیم نظر آئیں گے۔ بیشتر ممالک میں باغیوں نے اپنے ہی ملک کے بڑے بڑے صوبوں یا علاقوں پر اپنی اپنی پوزیشنیں اتنی مستحکم کی ہوئی ہیں کہ ان پر ایک دوسرے ملک کا گمان ہوتا ہے۔ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو اس کی یہ بہت بڑی بھول ہے اس لئے کہ جن طاقتوں نے یہ آگ بھڑکائی ہے وہ اسے کبھی سرد نہیں ہونے دیں گے۔ نائن الیون کے بعد جس منصوبہ بندی کے ساتھ اس آگ کو بھڑکایا گیا ہے اگر مسلمان اس بات پر لمحہ بھر کیلئے غور کرلیں تو یہ بات سمجھ لینا اتنا مشکل نہیں اس مشکل اور آزمائش میں ڈالے بغیر امریکہ یا یورپ کا اپنے اپنے ممالک میں سکون سے رہنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ذرا غور کریں کہ اس دن سے لیکر آج تک مسلم ممالک میں جتنے خود کش حملے ہوئے ہیں اور اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں جتنے حملے ہوئے ہیں اگر اس کا عشرہ عشیر بھی یورپ یا امریکہ میں ہوجاتا تو وہ لوگ کب کا دہشت اور خوف کا شکار ہوکر مر چکے ہوتے اس لئے ان ممالک نے یہی بہتر سمجھا کہ ان ساروں کو آپس میں الجھادو جس میں وہ ابھی تک بہت حد تک کامیاب ہیں۔ ایک جانب تو ہزاروں خود کشوں کو وہ اپنے اپنے ممالک میں پھٹنے سے بچانے میں کامیاب ہیں، دوسری جانب وہ انھیں ایک دوسرے پر قیامت بناکر ایک دوسرے پر ہی پھاڑے ڈالنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے قابل تلف ہتھیاروں کو مہنگے داموں فروخت کرکے مالی منفعت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہیں۔ انھیں یہ ساری کامیابیاں بنا کسی رکاوٹ حاصل ہو رہی ہیں۔

                پاکستان جو کسی حد تک ان بڑی تباہیوں سے محفوظ نظرآتا تھا، اب اسی غارمذلت و تباہی کی جانب بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ادارے آپس میں ٹکراو کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ریاست کا سب سے بڑا اور اہم ترین ستون کہ جس کے بغیر ریا ست کا تصور ہی ممکن نہیں یعنی “حکومت” پوری ریاست میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ جس ریاست میں حکومت ہی کو استحکام حاصل نہ ہو وہاں دیگر اداروں کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے اس کا اندازہ ہر پاکستانی کو بہت اچھی طرح ہونا چاہیے مگر افسوس

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here